Infrastructure
بھارت کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑی: سبز اور پائیدار ریل نقل و حمل کی جانب ایک اہم پیش رفت
प्रविष्टि तिथि:
16 JUL 2026 12:33 AM
|
ہائیڈرجن سے چلنے والی ریل نقل وحمل کی جانب پیش رفت
|
بھارتی ریلوے، ہائیڈروجن سے چلنے والی صاف، ماحول دوست اور پائیدار نقل و حمل کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی دنیا بھر میں فوسل ایندھن پر مبنی ریل انجنوں کے متبادل کے طور پر ایک امید افزا حل بن کر ابھری ہے۔ بھارت کی پہلی دیسی ساختہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑی اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ ایسا انجن ہے جو ہائیڈروجن کی مدد سے خود اپنی بجلی پیدا کرتا ہے۔17 جولائی 2026 کو افتتاح کے بعد ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی یہ ریل گاڑی باقاعدہ طور پر اپنی خدمات کا آغاز کرے گی۔ اسے شمالی ریلوے کے جند–سونی پت ریلوے سیکشن پر چلایا جائے گا۔ اس منصوبے میں جدید محرکہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ہائیڈروجن کے ذخیرہ، ایندھن کی فراہمی اور آپریشن سے متعلق خصوصی بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہے۔ یہ منصوبہ بھارت میں صاف ستھری ریل نقل و حمل کے عملی امکانات کا مظاہرہ کرے گا۔
آزمائشی منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا یہ اقدام جدت طرازی کے لیے بھارتی ریلوے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ توانائی کی بہتر کارکردگی اور ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔اس منصوبے کے ساتھ بھارت ان چند ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل نقل و حمل پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں جرمنی، جاپان، چین اور امریکہ شامل ہیں۔ چونکہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے یہ منصوبہ قیمتی عملی تجربہ فراہم کرے گا، جو مستقبل میں ریلوے کے شعبے میں ہائیڈروجن سے چلنے والی نقل و حمل کے مزید استعمال کی راہ ہموار کرے گا۔
|
بھارت کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑی کی جھلک
|
ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑی کا یہ منصوبہ ریسرچ، ڈیزائن اینڈ اسٹینڈرڈز آرگنائزیشن (آر ڈی ایس او) کی تیار کردہ منظور شدہ ڈیزائن اور تکنیکی وضاحتوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ مکمل طور پر بھارت میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا یہ منصوبہ آتم نربھر بھارت کے وژن کی عملی عکاسی کرتا ہے۔
جند- سونی پت سیکشن پر ہائیڈروجن سے چلنے والی ریلی گاڑی کی اہم خصوصیات
- 10 ڈبوں پر مشتمل ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی ریل گاڑی۔
- 1200 کلو واٹ صلاحیت کے ہائیڈروجن فیول سیل محرکہ نظام سے چلنے والی۔
- زیادہ سے زیادہ 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے کی منظوری، جبکہ اس کی ڈیزائن رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
- تقریباً 2,600 مسافروں کی گنجائش۔
- ڈیزائن کے مرحلے سے لے کر نمونہ (پروٹو ٹائپ) تیار کرنے تک مکمل طور پر ملک میں تیار کی گئی۔
- یہ ریل گاڑی جند جنکشن، گوہانہ جنکشن اور سونی پت کو آپس میں جوڑتے ہوئے درمیان کے اسٹیشنوں کو بھی خدمات فراہم کرے گی۔
- مجوزہ اسٹاپس میں جند سٹی، پانڈو پِنڈارا جنکشن، للت کھیڑا ہالٹ، بھمبیوا، ایساپور کھیڑی ہالٹ، بٹانہ ہالٹ، کھنڈرائی ہالٹ، رابراہ ہالٹ، لاتھ ہالٹ، موہانہ، بروَاسنی ہالٹ اور سونی پت نیو شامل ہیں۔

|
ٹرین تیار کرنے کے پیچھے کی ٹیکنالوجی
|
ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی ہائیڈروجن کے ذریعے ہونے والے کیمیائی عمل سے بجلی پیدا کرتی ہے۔ اس کا بنیادی توانائی کا ذریعہ پروٹون ایکسچینج میمبرین فیول سیل (پی ای ایم ایف سی) ہے۔ یہ ایسا فیول سیل ہے جو ہائیڈروجن اور آکسیجن کے درمیان پروٹون منتقل کرنے والی پرفلورو سلفونک ایسڈ (پی ایف ایس اے) پولیمر جھلی کے ذریعے کیمیائی عمل سے بجلی پیدا کرتا ہے۔اس عمل کے نتیجے میں صرف آبی بخارات اور حرارت بطور ضمنی پیداوار خارج ہوتے ہیں۔ ہائیڈروجن ایک انتہائی زیادہ توانائی رکھنے والا ایندھن ہے، جس کی توانائی 120 میگا جول فی کلوگرام ہے، جبکہ ڈیزل کی توانائی 43 میگا جول فی کلوگرام ہوتی ہے۔ اس کی دیکھ بھال نسبتاً کم درکار ہوتی ہے اور اس کا کاربن اخراج بھی محدود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں ریل نقل و حمل کے لیے ہائیڈروجن کو سب سے صاف اور ماحول دوست محرکہ ٹیکنالوجی تصور کیا جاتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کی معاونت کے لیے بھارتی ریلوے نے اس سے متعلق خصوصی بنیادی ڈھانچہ بھی قائم کر لیا ہے۔

ہائیڈروجن سے متعلق بنیادی ڈھانچہ
ملک کا سب سے بڑا ریلوے ہائیڈروجن اسٹوریج اور ایندھن بھرنے کا مرکز جند، ہریانہ میں قائم کیا گیا ہے۔ اس مقامی طور پر تیار کی گئی سہولت میں ایک وقت میں تقریباً 3,000 کلوگرام ہائیڈروجن کی ذخیرہ اندوزی کی جا سکتی ہے، جو ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑیوں کی خدمات کی معاونت کرے گی۔ پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسوز سیفٹی آرگنائزیشن (پی ای ایس او) نے اس مرکز کو ضروری لائسنس جاری کر دیا ہے، جس میں اس مقام پر کمپریسڈ ہائیڈروجن گیس کے ذخیرہ اور فراہمی کی اجازت شامل ہے۔ ہائیڈروجن کے اس مکمل نظام کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جن میں این ایف پی اے-2 (نیشنل فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن) اور آئی ایس او 19880 سیریز (بین الاقوامی تنظیم برائے معیار بندی) شامل ہیں۔ پورے نظام کا ایک آزاد تیسرے فریق کے ذریعے حفاظتی جائزہ بھی لیا گیا، جو جرمنی کے معروف تکنیکی معائنہ اور تصدیقی ادارے ٹی یو وی سوڈ نے انجام دیا۔
یہ ریل گاڑی دو ہائیڈروجن ڈرائیونگ پاور کارز (ڈی پی سی) اور آٹھ ٹریلر کوچز (ٹی سی) پر مشتمل ہے۔ ہر پاور کار میں فیول سیلز، لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل ایف پی) بیٹریاں اور ہائیڈروجن ذخیرہ کرنے والے سلنڈر نصب کیے گئے ہیں۔قابلِ اعتماد آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے اس مرکز میں درج ذیل سہولیات فراہم کی گئی ہیں:
- ہائیڈروجن سے ایندھن بھرنے کے لیے ہائیڈروجن کمپریشن نظام۔
- مؤثر اور مسلسل کارکردگی کے لیے تکنیکی معاونت اور ضروری اضافی پرزے۔
- ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متبادل کمپریسر۔
یہ مربوط بنیادی ڈھانچہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑیوں کے محفوظ، مؤثر اور قابلِ اعتماد آپریشن کو یقینی بناتا ہے۔

|
محفوظ آپریشنز کو یقینی بنانا
|
ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑیوں کے محفوظ اور مؤثر آپریشن کے لیے بھارتی ریلوے نے ایک جامع آپریشنل اور حفاظتی نظام قائم کیا ہے۔ متعدد آزاد حفاظتی نظام ہائیڈروجن کے ذخیرے، منتقلی اور استعمال کے ہر مرحلے کی مسلسل نگرانی، جانچ اور حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔
عملی تیاریاں
- معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پیز) ، باقاعدہ حفاظتی آڈٹ اور مقررہ حفاظتی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں۔
- دہلی کے شکور بستی میں واقع دیکھ بھال کا مرکز ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے تیار کر دیا گیا ہے۔
- اہم آپریشنز کی ذمہ داری تربیت یافتہ اور تصدیق شدہ عملہ سنبھالے گا۔
- ابتدائی مرحلے میں تکنیکی ماہرین ریل گاڑی کے ساتھ موجود رہیں گے۔
- ہائیڈروجن سے ایندھن بھرنے کے نظام کی 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن مسلسل نگرانی کی جائے گی۔
حفاظتی اقدامات
- ہائیڈروجن کی پیداوار، ذخیرہ اور ایندھن بھرنے کی سہولیات پر ہائیڈروجن رساؤ کا پتہ لگانے والے آلات نصب کیے گئے ہیں۔
- مسلسل نگرانی کے ساتھ شعلے کا پتہ لگانے والے آلات بھی نصب کیے گئے ہیں۔
- حفاظتی سینسرز کا باقاعدگی سے معائنہ اور صفائی کی جائے گی۔
- ریل گاڑی میں مسلسل وینٹیلیشن کا نظام ہر وقت ہوا کی روانی برقرار رکھتا ہے۔
- اگر حرارت، شعلہ یا دھواں جیسی کوئی غیر معمولی صورتحال سامنے آئے تو نظام خودکار طور پر ہائیڈروجن کی فراہمی بند کر سکتا ہے۔
- لوکو پائلٹ کے کیبن میں ایک خصوصی ہنگامی نظام فراہم کیا گیا ہے، جس کی مدد سے ضرورت پڑنے پر ریل گاڑی کو محفوظ مقام تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
- لوکو پائلٹ کے سامنے نصب اسکرین پر پورے نظام کی کارکردگی اور حالت کی معلومات ہر وقت دستیاب رہتی ہیں۔
- محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے معائنہ اور دیکھ بھال کا باقاعدہ شیڈول مقرر کیا گیا ہے۔
|
پائیدار ریل نقل وحمل کی جانب پیش قدمی
|
ہائیڈروجن سے چلنے والی یہ ریل گاڑی محض ایک نئی ٹرین سروس کا آغاز نہیں، بلکہ مستقبل میں ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑیوں کے آپریشن کے لیے درکار نظام، بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی صلاحیت کی مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔یہ منصوبہ ہائیڈروجن ٹیکنالوجی، آپریشنل طریقۂ کار اور دیکھ بھال کے نظام کی عملی جانچ اور توثیق میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بڑے پیمانے پر ہائیڈروجن سے چلنے والی نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے ضروری تکنیکی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنائے گا۔یہ اقدام قومی گرین ہائیڈروجن مشن اور خالص صفر کاربن اخراج (نیٹ زیرو) کے قومی اہداف کے حصول میں بھی معاون ہے۔ بھارتی ریلوے کی مسلسل جدیدکاری کے ساتھ یہ منصوبہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ریل گاڑیوں کو وسیع پیمانے پر اپنانے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے اور ایک زیادہ پائیدار، محفوظ اور مضبوط نقل و حمل کے نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
وزارت ریلوے
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201556®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2265781®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2285240®=48&lang=1
https://rdso.indianrailways.gov.in/railwayboard/uploads/directorate/stat_econ/2024/Indian%20Railways%20Annual%20Report%20%26%20Accounts%202022-23%20ENGLISH.pdf
اطلاعات ونشریات کی وزارت
https://www.facebook.com/inbministry/videos/indias-first-hydrogen-powered-train-is-set-to-redefine-rail-travel-clean-green-a/813246554362679/
پی ڈی ایف دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں :
ش ح۔ ع ح۔ خ م
(तथ्य सामग्री आईडी: 150781)
आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments