• Sitemap
  • Advance Search
Infrastructure

پی اے آئی ایم اے این اے(پیمانہ): اعداد و شمار پر مبنی بنیادی ڈھانچے کی حکمرانی کو مضبوط بنانا

प्रविष्टि तिथि: 10 AUG 2026 11:52 AM

پی اے آئی ایم اے این اے(پیمانہ)- ایک جائزہ

بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مؤثر نگرانی بروقت تکمیل، شفافیت اور بہتر حکمرانی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت  پیمانہ (قومی تعمیر کے لیے منصوبوں کی جانچ، بنیادی ڈھانچے کی نگرانی اور اعداد و شمار کا تجزیہ) کو 25 ستمبر 2025 کو بھارت میں مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے ایک ویب پر مبنی پلیٹ فارم کے طور پر شروع کیا گیا۔ اس پلیٹ فارم نے پہلے سے رائج او سی ایم ایس-2006 (آن لائن کمپیوٹرائزڈ مانیٹرنگ سسٹم) کی جگہ لی ہے۔وزارتِ شماریات و پروگرام عمل درآمد کی جانب سے تیار کردہ پیمانہ کے ذریعے 150 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ لاگت والے مرکزی شعبے کے جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔

وزارتِ شماریات و پروگرام عمل درآمد نے 8 جولائی2026 کو پیمانہ-کریپ نامی ایک ماڈیول شروع کیا ہے، جس نے محکمہ فروغِ صنعت و اندرونی تجارت کے مربوط منصوبہ نگرانی پورٹل کی جگہ لی ہے۔ اسے آگے چل کر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے مرکزی ذخیرۂ معلومات کے طور پر ترقی دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ پرگتی (فعال حکمرانی اور بروقت عمل درآمد)، پی ایم جی اور دیگر جائزہ نظاموں کے لیے منصوبوں سے متعلق معلومات بعد ازاں اسی نظام کے ذریعے حاصل اور تازہ کی جائیں گی۔

20 سے زائد وزارتیں، محکمے اور عمل درآمد کرنے والے ادارے پیمانہ-کریپ پر منصوبوں سے متعلق معلومات باقاعدگی سے براہِ راست اعداد و شمار درج کرکے یا اے پی آئی (ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس) کے ذریعے تازہ کرتے ہیں۔

فی الحال پیمانہ پورٹل کے منصوبہ نگرانی شعبے کو محکمہ فروغِ صنعت و اندرونی تجارت کے مربوط منصوبہ نگرانی پورٹل/انڈیا انویسٹمنٹ گرڈ کے ساتھ اے پی آئی کے ذریعے اعداد و شمار کے تبادلے کے نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ پیمانہ پر موجود 60 فیصد سے زائد منصوبوں کی معلومات متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے انتظامی معلوماتی نظام یا ویب پلیٹ فارم سے اے پی آئی کے ذریعے خودکار طور پر تازہ کی جا رہی ہیں۔

منصوبوں کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پیمانہ نے بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی کی نگرانی میں بھی اپنا دائرۂ کار وسیع کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مخصوص کارکردگی نگرانی ڈیش بورڈ قائم کیا گیا ہے۔ 16 اپریل 2026 کو شروع کیے گئے اس ڈیش بورڈ کے ذریعے مختلف اہم ذیلی شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی کو متعدد اشاریوں کی جامع بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔یہ اقدام اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی اور شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔

کارکردگی کی نگرانی ڈیش بورڈ ایک نظر میں

کارکردگی کی نگرانی کا ڈیش بورڈ بنیادی ڈھانچے کے اہم شعبوں سے متعلق کارکردگی کے اشاریوں کو ایک متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے۔ یہ اشاریے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی جانب سے فراہم یا شائع کیے جانے والے سرکاری اعداد و شمار سے مرتب کیے جاتے ہیں اور دستیاب تازہ ترین معلومات کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً ان میں تازہ کاری کی جاتی ہے۔ ڈیش بورڈ ان اعداد و شمار کو متحرک بصری خاکوں اور تجزیاتی آلات کے ذریعے پیش کرتا ہے، جس سے صارفین مختلف شعبوں کی کارکردگی میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں اور رجحانات کی نگرانی اور جائزہ لے سکتے ہیں۔

کارکردگی کی نگرانی کے ڈیش بورڈ کی اہم خصوصیات

  • کارکردگی کی نگرانی کا ڈیش بورڈ ایک جامع اشاریاتی نظام پر مبنی ہے، جسے قومی ادارۂ سرکاری مالیات و پالیسی سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام بنیادی ڈھانچے کی2022 کی ہم آہنگ جامع فہرست (ایچ ایم ایل)سے ہم آہنگ ہے، جو محکمہ اقتصادی امور(ڈی ای اے) نے جاری کی ہے۔ یہ فہرست بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کی قومی درجہ بندی کا معیار ہے اور پالیسی معاونت، سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی اور مالیاتی سہولیات سے متعلق فوائد کے لیے اہل شعبوں کی نشاندہی میں استعمال ہوتی ہے۔
  • پہلے سے رائج اشاریوں کے ساتھ تکرار سے بچنے کے لیے کارکردگی کے اشاریوں کو مزید منظم اور مربوط کیا گیا ہے۔ ان میں صنعتی پیداوار (آئی آئی پی) کا اشاریہ اور آٹھ بنیادی صنعتیں شامل ہیں۔
  • تفصیلی اشاریاتی نظام بنیادی ڈھانچے کے چھ ذیلی شعبوں پر مشتمل ہے۔ یہ شعبے بجلی، شہری ہوابازی، مواصلات، ریلوے، سڑکیں اور بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں ہیں۔
  • کارکردگی کی نگرانی کے ڈیش بورڈ میں اب 165 اشاریے شامل کر دیے گئے ہیں۔ اس میں54 نئے اشاریوں کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی کی نگرانی کا دائرہ اور جامعیت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
  • ایک متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کے ہر شعبے کی الگ الگ کارکردگی کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ یہ پالیسی سازوں، محققین اور متعلقہ فریقوں کے لیے متحرک بصری پیش کش اور زمانی سلسلے کے تجزیے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • مرکزی ڈیش بورڈ بنیادی ڈھانچے کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کا ایک جامع تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس سہولت سے مختلف شعبوں کے باہمی تجزیے کو مزید تقویت ملتی ہے۔
  • موجودہ نظام میں شعبہ وار کارکردگی کا اندازہ شرحِ نمو کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔ اس میں منتخب شعبوں کے سال بہ سال، ماہ بہ ماہ اور مجموعی نمو، مقررہ اہداف اور پیداواری صلاحیت کے استعمال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

 

16 جولائی 2026 تک ذیلی شعبوں کے لحاظ سے کارکردگی کے اشاریوں کی تقسیم

شمار نمبر

انفراسٹرکچر سب سیکٹر

اشارے کی کل تعداد

1

شہری ہوا بازی

31

2

سڑکیں

8

3

بجلی

14

4

بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں

62

5

مواصلات

13

6

ریلوے

37

کل

165

 

 

نگرانی کے نئے اور بہتر طریقۂ کار

نئے اور بہتر طریقۂ کار کے تحت صرف شعبہ جاتی پیداوار کا جائزہ لینے کی بجائے بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی کو مختلف جہتوں سے جانچا جاتا ہے۔ اس میں درج ذیل پہلو شامل ہیں: رسائی: یہ جانچتی ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کتنی وسیع سطح پر دستیاب ہیں۔معیار: بنیادی ڈھانچے کی افادیت اور قابلِ اعتماد ہونے کا جائزہ لیتی ہے۔مالی لاگت اور آمدنی: بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی وسائل کی تقسیم اور ان کے استعمال کا جائزہ لیتی ہے۔استعمال: یہ جانچتا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کو اس کے مقررہ مقصد کے لیے کتنی مؤثر اور بہتر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔قابلِ استطاعت: یہ طے کرتی ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی سہولیات عوام کے لیے معاشی طور پر قابلِ رسائی ہیں یا نہیں۔ اشاریوں کی مذکورہ درجہ بندی سے بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی کا جائزہ محض پیداوار کی پیمائش تک محدود نہیں رہتا بلکہ مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ جامع انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ اس سے باخبر پالیسی فیصلے کرنے اور ضرورت کے مطابق مؤثر اقدامات وضع کرنے میں مدد ملتی ہے۔

 

شراکت داروں کو شامل کرنا

متعلقہ وزارتوں اور محکموں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کی پیش رفت کے بارے میں باقاعدگی سے تازہ معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ معلومات پیمانہ کے ذریعے تیار کیے جانے والے اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہ تجزیاتی معلومات ان شعبوں کی نشاندہی میں مدد دیتی ہیں جہاں منصوبوں پر عمل درآمد میں خصوصی توجہ اور بروقت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • ماہانہ جائزہ اجلاسوں اور دیگر ذرائع سے مسلسل باہمی رابطہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے کارکردگی کے اشاریوں سے متعلق بروقت معلومات فراہم ہوتی ہیں، جس سے شواہد پر مبنی نگرانی کو مزید تقویت ملتی ہے۔
  • ہر متعلقہ وزارت اور محکمے کو اپنی ضرورت کے مطابق تیار کردہ ڈیش بورڈ تک رسائی کے لیے لاگ اِن معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ براہِ راست پورٹل پر جا کر اپنے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

 

بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی ( جون 2026 تک کے اعداد وشمار)

  • جون 2026 تک 17 مرکزی وزارتوں اور محکموں کے تحت 1,847 جاری منصوبوں کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ ان منصوبوں کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 40.54 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • ان منصوبوں پر اب تک 21.97 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جو نظرثانی شدہ مجموعی لاگت کا تقریباً 54.18 فیصد بنتا ہے اور منصوبوں پر مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
  • متعدد منصوبے تکمیل کے اعلیٰ مراحل میں پہنچ چکے ہیں۔ تقریباً 709 منصوبوں (39 فیصد) میں 80 فیصد سے زیادہ حقیقی پیش رفت ہو چکی ہے، جبکہ تقریباً 337 منصوبوں (19 فیصد) میں 80 فیصد سے زیادہ مالی پیش رفت درج کی گئی ہے۔
  • نقل و حمل اور رسد کا شعبہ جاری منصوبوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔ اس شعبے میں 1,341 منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت 22.32 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ یہ ملک میں بہتر رابطہ کاری اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر خصوصی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
  • جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں 769 بڑے منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں ہر منصوبے کی لاگت 1,000 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہے۔ ان منصوبوں کی مجموعی مالیت30.51 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • اس کے علاوہ 1,078 اہم منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں ہر منصوبے کی لاگت 150 کروڑ سے 1,000 کروڑ روپے کے درمیان ہے۔ ان منصوبوں کی مجموعی مالیت 5.10 لاکھ کروڑ روپے ہے۔

 

بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں وزارت/محکمے کے لحاظ سے پیش رفت

  • سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کی وزارت کے پاس منصوبوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ1,022 منصوبوں (55 فیصد) پر عمل درآمد کر رہی ہے، جن کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 9.89 لاکھ کروڑ روپے (24 فیصد) ہے۔
  • وزارتِ ریلوے255 منصوبوں (14 فیصد) پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 8.69 لاکھ کروڑ روپے (21 فیصد) ہے۔
  • وزارتِ کوئلہ 121 منصوبوں (7 فیصد) پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ ان منصوبوں کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 2.22 لاکھ کروڑ روپے (6 فیصد) ہے۔
  • مزید چار وزارتیں اور محکمے بھی قابلِ ذکر تعداد میں منصوبوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔
  • وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس105 منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے، جن کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 4.33 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • وزارتِ بجلی98 منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے، جن کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 5.71 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت 50 منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے، جن کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 3.65 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • محکمہ آبی وسائل، دریائی ترقی اور گنگا  کی احیاء 40 منصوبوں پر عمل درآمد کر رہا ہے، جن کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 2.04 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • دیگر 156 منصوبے (8 فیصد) شامل ہیں، جن کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 4.02 لاکھ کروڑ روپے (10 فیصد) ہے۔ یہ منصوبے اعلیٰ تعلیم، شہری ہوابازی، اسٹیل، مواصلات، محنت و روزگار، بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں، صحت و خاندانی بہبود، کان کنی، صنعت و اندرونی تجارت کے فروغ اور کھیل سمیت مختلف وزارتوں اور محکموں کے تحت جاری ہیں۔

اعداد وشمار پر مبنی حکمرانی کی جانب

پیمانہ پورٹل میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے مرکزی ذخیرۂ معلومات کے ماڈیولز کے ساتھ 150 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ لاگت والے مرکزی شعبے کے منصوبوں کا مجموعی جائزہ پیش کرنے والی رپورٹیں اور ڈیش بورڈ، نیز کارکردگی کی نگرانی کا ڈیش بورڈ شامل ہیں۔ یہ تمام سہولیات شفافیت، کارکردگی اور جواب دہی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گی۔ ان معلومات کو باقاعدگی سے تازہ کیے جانے سے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ یہ نظام شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرتا ہے اور بہتر معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کوشش ملک بھر میں پائیدار اور سب کو شامل کرنے والی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دیتی ہے۔

 

حوالہ جات:

شماریات اور پروگرام کےعمل درآمد کی وزارت (ایم او ایس پی آئی)

https://paimana-proj.mospi.gov.in/ReportPage

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286550&reg=%203&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2285365&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226267&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2252587&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244898&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2277758&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290413&reg=48&lang=1

 

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں

************

 

 ش ح ۔ا ک۔ش ت

UN-NO-1740

(तथ्य सामग्री आईडी: 150821) आगंतुक पटल : 13


Provide suggestions / comments
इस विश्लेषक को इन भाषाओं में पढ़ें : English , हिन्दी , Bengali , Assamese , Kannada , Malayalam , Telugu , Manipuri