Social Welfare

ایشین گیمز 2026

प्रविष्टि तिथि: 06 OCT 2026 17:28 PM

نئی دہلی سے آئیچی-ناگویا تک ہندوستان کا سفر

 

ایشین گیمز 2026 پر ایک نظر

ایشین گیمز، جسے ایشیاڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ ایشیا کا کھیلوں کا سب سے بڑا مقابلہ ہے، جو ہر چار برس میں ایک بار منعقد ہوتا ہے۔ ان کا انعقاد اولمپک کونسل آف ایشیا (او سی اے) کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس میں فی الحال 45 ممالک یا خطے حصہ لیتے ہیں۔ 20ویں ایشین گیمز کا انعقاد 19 ستمبر سے 4 اکتوبر 2026 تک جاپان کے آئیچی-ناگویا میں ہوا۔ امیجن ون ایشیا یعنی ”ایک ایشیا کا تصور“ ان کا سرکاری نعرہ تھا۔ ٹوکیو (1958) اور ہیروشیما (1994) میں منعقدہ ایشین گیمز کے بعد یہ تیسرا موقع تھا، جب جاپان نے ایشین گیمز کی میزبانی کی۔

یہ اہم کھیلوں کا مقابلہ16 دن تک جاری رہا، جس میں عالمی معیار کے سخت اور سنسنی خیز مقابلے ہوئے۔ اس میں کھیلوں کی غیر معمولی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کو ملا اور 43 کھیلوں اور 71 اور ایونٹس(زمروں) میں مقابلے ہوئے۔ ان کھیلوں کے دوران 469 دلچسپ مقابلوں میں مجموعی طور پر 1,407 تمغے پیش کیے گئے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261006172950_73147d.jpg

ایشین گیمز کے ساتھ ساتھ جاپان 18؍ اکتوبر سے 24 اکتوبر 2026 تک آئیچی-ناگویا میں پانچویں ایشین پیرا گیمز کی بھی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے، جب جاپان پیرا گیمز کی میزبانی کر رہا ہے۔

ایشین گیمز 2026 کے لوگومیں پوشیدہ پیغام

سرکاری لوگو (نشان)کے رنگ اور ڈیزائن میں مقامی اور ثقافتی اہمیت کو کھیلوں کی حرکیات کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ اس کی خمیدہ لکیریں جوش و توانائی کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ مرکز میں موجود جامنی، سنہری اور سبز لکیریں عوام کو متحد ہوکر روشن سرخ سورج کی جانب آگے بڑھنے کے منظر کو اجاگر کرتی ہیں، جو اولمپک کونسل آف ایشیا (او سی اے) کی سرکاری علامت ہے۔ جامنی رنگ آئیچی کے صوبائی پھول آئرس کی نمائندگی کرتا ہے؛ سنہری رنگ کن شاچی کی علامت ہے، جو ناگویا قلعے کی چھت پر نصب مشہور سنہری شیر مچھلی نما آرائشی مجسمے ہیں؛ جبکہ سبز رنگ آئیچی-ناگویا کے مضبوط ماحولیاتی شعور کی عکاسی کرتا ہے، جسے ایکسپو 2005 آئیچی، سی او پی10 اور تعلیم برائے پائیدار ترقی(ای ایس ڈی) پر یونیسکو کی عالمی کانفرنس جیسے اہم عالمی پروگراموں کے ذریعے فروغ ملا ہے۔ اس نشان میں ایشیا، آئیچی اور ناگویا کے ناموں کے ابتدائی حروف بھی شامل ہیں: ’’اے‘‘ کو جامنی خمیدہ لکیر اور مرکزی لکیر میں، جبکہ ’’این‘‘ کو جامنی اور سنہری رنگوں میں دکھایا گیا ہے۔

 

ایشین گیمز 2026 کا سرکاری مسکٹ

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261006173012_ff9c80.png

20ویں ایشین گیمز کا مسکٹ ’’ہونوہون‘‘ کھلاڑیوں کے جوش و جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کا نام جاپانی لفظ ’ہونوہو‘ سے ماخوذ ہے، جو جاپانی زبان میں شعلے کے لیے استعمال ہونے والے لفظ کی اصل سے منسلک ہے۔ اس کا ڈیزائن شچی ہوکو سے متاثر ہے، جو ناگویا قلعے کی نمایاں علامتوں میں سے ایک اور آئیچی-ناگویا کا محافظ دیوتا مانا جاتا ہے۔

 

 

1951 کے پہلے ایشین گیمز: ہندوستان کا بانی کردار

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261006173024_2432e2.png


ابتدا سے ہی ایشین گیمز کے ساتھ ہندوستان کا تعلق  رہاہے، جب اس کے پہلے ایڈیشن کا انعقاد 1951 میں نئی دہلی میں کیا گیا تھا۔ یہ انعقاد دوسری عالمی جنگ کے بعد ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر اور مضبوط بنانے کی کوششوں کے پس منظر میں ہوا، جب ایشیا کے کئی خطے حال ہی میں نوآبادیاتی تسلط سے آزاد ہوئے تھے۔ ایشیائی کھیلوں کے ایک مقابلے کا تصور ہندوستان نے اس مقصد سے پیش کیا تھا کہ اتحاد کا مظاہرہ کیا جا سکے اور جنگ کے باعث متاثر ہونے والے ایشیائی ممالک کے باہمی تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنایا جا سکے۔ ایشین گیمز کا خیال سب سے پہلے ہندوستان کے لیے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے رکن پروفیسر جی ڈی سوندھی نے پیش کیا تھا۔ ایشین گیمز کے انعقاد کی تجویز پہلی مرتبہ 1947 ءمیں نئی دہلی میں منعقدہ ایشیائی ممالک کی ایک کانفرنس میں پیش کی گئی تھی اور اس کا نام ایشین گیمز رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پہلے ایشین گیمز کا انعقاد مارچ 1951 میں نئی دہلی میں ہوا۔ صدرجمہوریہ ہندڈاکٹر راجندر پرساد نے نیشنل اسٹیڈیم میں ان کھیلوں کا افتتاح کیا۔ پہلے ایڈیشن میں گیارہ ممالک نے 489 کھلاڑیوں کو بھیجا، جنہوں نے چھ کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس سال تمغوں کی جدول میں جاپان کے بعد ہندوستان دوسرے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد سے یہ کھیل اب ایک بڑے عالمی مقابلے کی شکل اختیار کرچکا ہے، جو کھیلوں کے ذریعے دوستی کو فروغ دیتا ہے اور تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتاہے۔

آئیچی-ناگویا 2026 میں ہندوستانی دستہ

ہندوستان نے ایشین گیمز 2026 میں اب تک کے اپنے سب سے بڑے کثیر کھیلوں کے دستوں میں سے ایک کو میدان میں اتارا، جس میں 36 کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں 501 کھلاڑیوں پر مشتمل دستہ شامل تھا۔ اس دستے میں 300 سے زیادہ کھلاڑی پہلی مرتبہ ایشین گیمز میں حصہ لے رہے تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261006173047_4974e7.jpg

ٹیم کی روانگی سے قبل 8 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں ایک شاندار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مرکزی وزیر کھیل  ڈاکٹر منڈاویہ، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن(آئی او اے) کی صدر ڈاکٹر پی ٹی اوشا اور چیف ڈی مشن سہ دیو یادو نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہندوستانی دستے کی سرکاری جرسی کی بھی رونمائی کی گئی۔ اس تقریب کا انعقاد انڈین اولمپک ایسوسی ایشن نے کیا تھا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261006173101_c7d378.jpg

ڈاکٹر منڈاویہ (درمیان) نے انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر پی ٹی اوشا (دائیں) اور سکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ (بائیں) کے ساتھ ایشین گیمز 2026 سے قبل ہندوستانی دستے کی سرکاری جرسی کی رونمائی کرتےہوئے۔

تصویر کا ماخذ: وزارت امور نوجوانان و کھیل

مورخہ19؍ ستمبر 2026 کو افتتاحی تقریب میں اولمپکس  میں دو تمغے جیت چکی منو بھاکر اور کبڈی کھلاڑی پون سہراوت نے ہندوستانی دستے کی قیادت کرتے ہوئے مارچ پاسٹ کیا۔

آئیچی-ناگویا 2026 میں ہندوستان کی طلائی تمغوں کی شاندار کامیابی

ایشین گیمز-2026 میں ہندوستان نےشاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے21؍طلائی تمغے جیتے۔ نشانہ بازی اور ٹیم مقابلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی اس کامیابی کا نمایاں پہلو رہی۔ سب سے زیادہ 5 طلائی تمغےتیر اندازی سے آئے، جبکہ نشانہ بازی اور مکے بازی میں ہندوستان نے 3، 3 طلائی تمغے حاصل کیے۔

ٹیم مقابلوں میں بھی ہندوستان کا غلبہ رہا۔ کرکٹ، ہاکی اور کبڈی میں ہندوستان نے 2، 2 طلائی تمغے جیتے۔ نمایاں کارکردگی میں مردوں کی کرکٹ ٹیم کی فائنل میں پاکستان کے خلاف 19 رنز سے فتح، مردوں کی ہاکی ٹیم کی ملیشیا کو1-5سے شکست دے کر براعظمی خطاب کا دفاع اور مردوں و خواتین دونوں کے کبڈی مقابلوں میں طلائی تمغے جیتنا شامل رہا۔

اس کے علاوہ کشتی (2)، ایتھلیٹکس (1) اور گولف (1) میں سنہری کامیابی حاصل ہوئی۔ان کھیلوں میں ہندوستان  نے مجموعی طور پر 21 طلائی تمغے جیتے۔ یہ کارکردگی براعظمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی مضبوط، متوازن اور ہمہ جہت صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔

ایشین گیمز 2026 میں ہندوستان کے تمغوں کی مجموعی تعداد

کھیل کے لحاظ سے تفصیل

کھیل

طلائی

نقرئی

کانسے

کل

ایتھلیٹکس

1

9

14

24

نشانے با زی

3

8

4

15

تیر اندازی

5

2

2

9

مکے بازی

3

0

3

6

کشتی

2

2

2

6

اسکواش

0

2

3

5

سیلنگ

0

1

2

3

کرکٹ

2

0

0

2

ہاکی

2

0

0

2

کبڈی

2

0

0

2

گولف

1

1

0

2

ویٹ لفٹنگ

0

1

0

1

ووشو

0

1

0

1

بیڈمنٹن

0

0

1

1

کُراش

0

0

1

1

مکسڈ مارشل آرٹس

0

0

1

1

روئنگ

0

0

1

1

سیپاک ٹیکرا

0

0

1

1

سافٹ ٹینس

0

0

1

1

ٹیبل ٹینس

0

0

1

1

کل

21

27

37

85

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261006173144_f60bb1.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image008_20261006173158_ad27bb.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image009_20261006173209_d90f2f.jpg

آئیچی-ناگویا 2026 ایشین پیرا گیمز میں ہندوستان کی شرکت

آئیچی-ناگویا 2026 ایشین پیرا گیمز 18 سے 24 اکتوبر 2026 تک جاپان میں منعقد ہوں گے۔ ان کھیلوں ایشیا کی 45 قومی پیرا لمپک کمیٹیوں کے تقریباً 3,000 کھلاڑیوں کی شرکت متوقع ہے۔ ان کھیلوں میں پیرا کھیلوں کے 18 مقابلے شامل ہوں گے۔

ہندوستان ان کھیلوں میں اپنی تسلیم شدہ قومی پیرا لمپک کمیٹی، پیرا لمپک کمیٹی آف انڈیا کے ذریعے شرکت کرے گا۔ یہ ایشین پیرا گیمز میں ہندوستان کی پانچویں شرکت ہوگی۔ اس سے قبل ہانگژو 2022 ایشین پیرا گیمز میں ہندوستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے29؍طلائی سمیت ریکارڈ 111 تمغے جیتے تھے۔ ان 111 تمغوں میں خواتین کھلاڑیوں نے 40 تمغوں کے ساتھ 36 فیصد حصہ ڈالا تھا۔ اس سے قبل ہندوستان نے 2010 کے ایڈیشن میں 14، 2014 میں 33 اور 2018 میں 72 تمغے اپنے نام کیے تھے۔

 

بنیادی سطح سے عالمی میدان تک: کھیلوں کے فروغ کے لیے ہندوستان کی پالیسی اقدامات

کھیلو بھارت نیتی

حکومت نے یکم جولائی 2025 کو ہندوستان کی قومی کھیل پالیسی کھیلو بھارت نیتی شروع کی۔ اس کا مقصد ایک مضبوط، جامع اور کارکردگی پر مبنی کھیلوں کا نظام تشکیل دینا ہے۔ پالیسی میں تربیت اور کھیلوں کی سہولیات کے معاملے میں دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ تربیت کے اخراجات کم کرنے کے لیے عوامی شمولیت اور شراکت داری پر زور دیا گیا ہے۔ پالیسی کا ہدف 2036 کے اولمپکس میں اعلیٰ کارکردگی حاصل کرنا ہے۔ اس کے تحت قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت کھیلوں کو اسکولی تعلیم سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین، قبائلی برادریوں اور معذور افراد کی کھیلوں میں شرکت کی بھی حمایت کی گئی ہے۔

ریکارڈ مالی تعاون

مرکزی بجٹ27-2026 میں وزارت کھیل کے لیے ریکارڈ 4,479.88 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم 14-2013 میں مختص کیے گئے 1,219 کروڑ روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مرکزی کابینہ نے27-2026 سے31-2030 تک کے لیے نظرثانی شدہ کھیلو انڈیا اسکیم کو بھی منظوری دے دی ہے۔ قومی کھیل فیڈریشنوں کے لیے تعاون سمیت اس کے لیے مجموعی طور پر 36,441 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صرف کھیلو انڈیا کے لیے27-2026 میں 924.35 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل22-2021 سے26-2025 تک اس اسکیم کے لیے 3,790.50 کروڑ روپے مختص تھے۔ بجٹ میں کھیلوں کا سامان تیار کرنے کے لیے بھی 500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں صلاحیتوں کی تلاش

کھیلو انڈیا بنیادی سطح پر کھیلوں کے فروغ کا اہم پروگرام ہے۔ جولائی 2026 تک اس کے تحت 1,067 کھیلو انڈیا مراکز قائم کیے جا چکے تھے۔ اس کے علاوہ 3,176 کروڑ روپے کی لاگت سے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے 349 نئے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ کھیلو انڈیا کے 2,745 کھلاڑیوں کو کوچنگ، کھیلوں کا سامان، طبی سہولیات اور ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ 2018 سے اب تک کھیلو انڈیا کھیلوں میں 63,000 سے زیادہ کھلاڑی حصہ لے چکے ہیں۔

کھیلو انڈیا رائزنگ ٹیلنٹ آئیڈینٹی فکیشن (کےآئی آر ٹی آئی)پہل کے تحت 9 سے 18 سال کی عمر کے بچوں میں کھیلوں کی صلاحیتوں کی نشاندہی اور انہیں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اس کے 174 ٹیلنٹ اسیسمنٹ مراکز اعداد و شمار پر مبنی طریقہ کار استعمال کرتے ہیں، جس کے ذریعے منصفانہ اور اہلیت پر مبنی انتخاب کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

اعلیٰ سطح کے کھلاڑیوں کی معاونت

ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم(ٹی او پی ایس یعنی ٹاپس) ہندوستانی کھلاڑیوں کو معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت بیرون ملک تربیت، بین الاقوامی مقابلوں، تربیتی کیمپوں اور خصوصی کھیلوں کے سامان کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے۔ کھلاڑیوں کو50,000 روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ ترقیاتی گروپ میں شامل جونیئر کھلاڑیوں کو ماہانہ 25,000 روپے دیے جاتے ہیں۔ اپریل 2026 تک ٹاپس کے تحت 55 کور ایتھلیٹس، 62 پیرا کور ایتھلیٹس اور 140 ترقی یافتہ کھلاڑیوں کو معاونت حاصل ہے، جبکہ ہاکی کے67 کور ایتھلیٹس بھی اس میں شامل ہیں۔ ٹاپس نے ٹوکیو 2020 اور پیرس 2024 اولمپک کھیلوں میں ہندوستان کے تمغوں کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

 

تعلیم، فٹنس اور کھیلوں میں منصفانہ مقابلہ

منی پور کے امپھال میں نیشنل اسپورٹس یونیورسٹی 2018 میں قائم کی گئی تھی۔ یہاں کھیلوں کی سائنس، ٹیکنالوجی، انتظام اور کوچنگ کے شعبوں میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔

فٹ انڈیا موومنٹ لوگوں کو فٹنس کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ پارلیمنٹ نے اگست 2025 میں نیشنل اسپورٹس گورننس بل منظور کیا۔ اس کے تحت کھیلوں کی تنظیموں کو تسلیم کرنے کے لیے نیشنل اسپورٹس بورڈ کے قیام کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ کھیلوں سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے نیشنل اسپورٹس ٹریبونل قائم کیا جائے گا۔

 

آئیچی-ناگویا سے آگے: اولمپکس میں ہندوستان کا طویل سفر

آئیچی-ناگویا 2026، لاس اینجلس 2028 اولمپکس اور اس کے بعد کے مقابلوں کے لیے ہندوستان کے وسیع تر کھیلوں کے روڈ میپ کا حصہ ہے۔ رواں برس ہندوستان کے 500 سے زائد کھلاڑیوں میں سے 300 سے زیادہ پہلی مرتبہ ایشین گیمز میں حصہ لے رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی یہ بڑی تعداد ہندوستانی کھیلوں میں موجود بڑھتی ہوئی صلاحیت اور مضبوط ہوتی ہوئی نئی صف کی عکاسی کرتی ہے۔

حکومت نے ملک بھر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 36,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری پر مشتمل 10 سالہ منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد 2036 سے بہت پہلے عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی مضبوط موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔ وزارت کھیل نے فیڈریشنوں، ریاستوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو شامل کرتے ہوئے مربوط اور ہمہ گیر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔

آئیچی-ناگویا میں ہندوستان کی21؍طلائی سمیت 85 تمغوں کی شاندار کارکردگی، ملک کے کھیلوں کے سفر میں ایک اور اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔روایتی طور پر مضبوط کھیلوں کے ساتھ ابھرتے ہوئے کھیلوں میں بھی شاندار کارکردگی نے لاس اینجلس 2028 اولمپکس اور طویل مدتی کھیلوں کے اہداف کے لیے ہندوستان کی تیاریوں کو مزید تقویت دی ہے۔

حوالہ جات

وزارت امور نوجوانان و کھیل

https://yas.gov.in/sites/default/files/Asian_Games_sanction_for_coaches_and_suppor_ staff.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2307999&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1972615&lang=2&reg=48&utm

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2149334&reg=48&lang=2

ایشین گیمز 2026 کی سرکاری ویب سائٹ


https://www.aichi-nagoya2026.org/history-of-the-games/

https://www.aichi-nagoya2026.org/official-mascot/

https://www.aichi-nagoya2026.org/games-emblem-slogan-core-graphics/

اولمپک کونسل آف ایشیا کی سرکاری ویب سائٹ

https://oca.asia/games/111-aichi-nagoya-2026.html?utm

https://oca.asia/news/7738-asia-ready-to-shine-as-aichi-nagoya-to-host-historic-20th-asian-games.html?utm

پیرا لمپک کمیٹی آف انڈیا کی سرکاری ویب سائٹ

https://www.paralympicindia.com/aichi-nagoya-asian-para-games-2026

بین الاقوامی پیرا لمپک کمیٹی

https://www.paralympic.org/news/aichi-nagoya-2026-celebrates-100-days-go-until-asian-para-games

https://www.paralympic.org/news/aichi-nagoya-host-2026-asian-para-games

حکومت جاپان

https://www.gov-online.go.jp/hlj/en/january_2026/january_2026-08.html

تعلیمی مواصلاتی کنسورشیم

https://cec.nic.in/webpath/curriculum/Module/BPED/Paper01/9/downloads/script.pdf

نیوز آن اے آئی آر

https://newsonair.gov.in/manu-bhaker-tajinderpal-singh-toor-named-indias-flagbearers-for-asian-games-2026/

https://newsonair.gov.in/20th-asian-games-officially-opened-at-mizuho-park-athletic-stadium-in-japan/

https://newsonair.gov.in/india-gears-up-for-2028-olympics-with-strategic-preparations-union-minister-mansukh-mandaviya/

https://newsonair.gov.in/indian-contingent-for-asian-games-2026-receives-grand-send-off-in-new-delhi/

https://newsonair.gov.in/rajya-sabha-takes-up-national-sports-governance-and-anti-doping-amendment-bills-2025/

پی آئی بی بیک گراؤنڈر

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154856&ModuleId=3&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293849&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154601&ModuleId=3&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293849&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154856&ModuleId=3&reg=48&lang=2

پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں

 

*****

ش ح ۔م ع ن۔  ف ر

U. No.4741

(तथ्य सामग्री आईडी: 151087) आगंतुक पटल :


Provide suggestions / comments
इस विश्लेषक को इन भाषाओं में पढ़ें : English , हिन्दी , Assamese , Bengali , Malayalam , हिन्दी