Rural Prosperity

وکست بھارت ۔ جی رام جی

प्रविष्टि तिथि: 24 OCT 2026 11:52 AM

وکست بھارت۔ روزگار اورآجیو یکامشن (دیہی)کے  لیے گارنٹی

دیہی روزگار اور ترقی کے لیے ایک نیا لائحۂ عمل

’’وکست  بھارت @ 2047‘‘ کے وژن کے مطابق، ’’و کست بھارت — روزگار اور ذریعۂ معاش(آجیویکا) کی ضمانت کا مشن (دیہی)‘‘ (وی بی-جی رام جی) دیہی ترقی کے شعبے میں ایک اہم اصلاح ہے۔ وی بی-جی رام جی ایکٹ، 2025، یکم جولائی 2026 کو نافذ ہوا۔ اسے ملک کے تمام دیہی علاقوں میں کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے۔ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (منریگا) سے وی بی-جی رام جی کی جانب منتقلی بلا رکاوٹ اور ہموار رہی۔ اس نئے نظام کے نفاذ میں معاون ڈیجیٹل نظام آغاز ہی سے فعال ہیں۔

یہ قانون ان تمام دیہی گھرانوں کو ہر مالی سال میں 125 دن کے بامعاوضہ روزگار کی قانونی ضمانت فراہم کرتا ہے، جن کے بالغ ارکان غیر ہنر مند دستی کام کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہوں۔ اس کا مقصد ایک خوش حال اور بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل دیہی بھارت کے لیے بااختیار بنانے، ترقی، ہم آہنگی اور تمام مستحقین تک فوائد کی مکمل رسائی کو فروغ دینا ہے۔ یہ چار اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے: آبی تحفظ، دیہی بنیادی ڈھانچہ، ذریعۂ معاش سے متعلق بنیادی ڈھانچہ اور شدید موسمی واقعات کے مقابلے کی صلاحیت۔

یہ ایکٹ مربوط اور مکمل کوریج پر مبنی منصوبہ بندی کے ذریعے حکومت کے ہمہ گیر نقطۂ نظر کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے۔ اس کا بنیادی مرکز ’’وکاس گرام پنچایت منصوبوں‘‘ (وی جی پی پی) کی تیاری ہے۔ یہ منصوبے گرام پنچایتوں کی مختلف ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک مربوط لائحۂ عمل فراہم کرتے ہیں۔

وکست گرام پنچایت منصوبوں (وی جی پی پی )کے ذریعے نچلی سطح سے اوپر کی جانب منصوبہ بندی کا تصور

 

وکست گرام پنچایت منصوبے (وی جی پی پی)، وی بی-جی رام جی کے تحت ایک اہم ادارہ جاتی اصلاح ہیں۔ ان کے ذریعے نچلی سطح پر شراکتی، شواہد پر مبنی، مکمل کوریج اور باہمی ہم آہنگی پر مبنی منصوبہ بندی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

وی جی پی پی مقامی ضروریات کو دیہی ترقی کی منصوبہ بندی کا مرکز بناتے ہیں۔ یہ گرام سبھا اور گرام پنچایت کی فعال شرکت سے تیار کیے جاتے ہیں۔ گرام سبھا منصوبوں کے لیے ضروری سفارشات اور منظوری فراہم کرتی ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے گاؤں کے باشندے اپنی حقیقی ترقیاتی ضروریات، موجودہ اثاثوں اور ترقیاتی خلا کی نشان دہی کرکے ترجیحات کے مطابق اقدامات طے کر سکتے ہیں۔

وی جی پی پی کا طریقۂ کار

شراکتی منصوبہ بندی: گرام پنچایتیں، گرام سبھا کی شرکت سے، مقامی ضروریات کے مطابق اقدامات کی نشان دہی کرتی اور انہیں ترجیح دیتی ہیں۔

اثاثوں کی نقشہ سازی: اس عمل کا آغاز گرام پنچایت میں موجود اثاثوں، بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی فراہمی میں موجود خلا کی جامع فہرست تیار کرنے سے ہوتا ہے۔

موجودہ اثاثوں شمولیت: اس فہرست میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے تحت تعمیر کیے گئے اثاثے بھی شامل ہوتے ہیں۔

جغرافیائی معلوماتی نظام پر مبنی منصوبہ بندی: جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس)، یکت دھارا، پی ایم گتی شکتی اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع منصوبہ بندی کے عمل میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ جغرافیائی اور غیر جغرافیائی معلومات مقامی ضروریات اور موجودہ اثاثوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شواہد پر مبنی اور مربوط منصوبہ بندی میں معاون ہوتی ہیں۔

ضروریات اور دستیاب وسائل کے درمیان فرق کا جائزہ: ان پلیٹ فارموں سے حاصل ہونے والی معلومات مکانی منصوبہ بندی اور اثاثوں کی بہتر نقشہ سازی میں مدد دیتی ہیں اور ایک ہی نوعیت کے کاموں کی تکرار سے بچاتی ہیں۔ ان کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی کمی، ترقیاتی ترجیحات اور ممکنہ اقدامات کی بھی نشان دہی کی جاتی ہے۔

حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان ہم آہنگی: وی جی پی پی مختلف اسکیموں، محکموں اور متعلقہ فریقوں کے وسائل اور سرگرمیوں کو یکجا کرکے گاؤں کی مربوط ترقی کے لیے حکومت کے ہمہ گیر نقطۂ نظر کو فروغ دیتے ہیں۔

مختلف سطحوں پر انضمام: وی جی پی پی کو بلاک، ضلع، ریاست اور قومی سطحوں پر مربوط کیا جاتا ہے۔ ان مربوط منصوبوں سے ’’ وکست بھارت کا قومی دیہی بنیادی ڈھانچے کا مجموعہ (نیشنل رورل انفراسٹرکچر اسٹیک ‘‘ کی تشکیل میں مدد ملتی ہے۔

قابلِ اجازت کام: وی جی پی پی کے لائحۂ عمل میں چار بنیادی شعبوں کے تحت 318 اقسام کے قابلِ اجازت کاموں کی نشان دہی کی گئی ہے۔

وی جی پی پی کے عمل کا مقصد روزگار سے متعلق اثاثوں کی تخلیق، بہتر بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور سرکاری اسکیموں کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے دیہات کی مربوط ترقی کو فروغ دینا ہے۔

وی بی-جی رام جی:زمینی سطح پر پیش رفت

ملک میں یکم جولائی 2026 کو اس کے نفاذ کے بعد سے 24 ستمبر 2026 تک وی بی-جی رام جی کے تحت نمایاں پیش رفت درج کی گئی ہے۔

  • فعال کارکنان: مالی سال 2026-27 میں 10.88 کروڑ
  • تعمیر کیے گئے اثاثے: 2.83 لاکھ
  • فراہم کردہ افرادی دن: 31.69 کروڑ سے زیادہ
  • خواتین کی شرکت: مالی سال 2026-27 میں 61.65 فیصد
  • طلب کے مطابق روزگار فراہم کیا گیا: تقریباً 2.23 کروڑ دیہی گھرانوں کے 2.81 کروڑ سے زیادہ افراد کو
  • زیر عمل کام: 97.17 لاکھ
  • مستقبل میں روزگار کی طلب پوری کرنے کے لیے منظور شدہ کام: 73.24 لاکھ
  • فعال کام کی جگہیں: تقریباً 20.16 لاکھ
  • ملک بھر میں کام کرنے والی گرام پنچایتیں: تقریباً 2.31 لاکھ
  • براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے لین دین: مالی سال 2026-27 میں 3.76 کروڑ
  • اجرت کی اوسط شرح: 300 سے 450 روپے یومیہ
  • جاری کیے گئے دیہی روزگار گارنٹی کارڈوں کی مجموعی تعداد: 15.17 کروڑ

مالیاتی پیش رفت

مالی سال 2026-27 کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو عبوری طور پر 93,841 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس میں سے 25,880 کروڑ روپے کی ابتدائی بنیادی منظوری (مدر سیکشن)، پہلی قسط کے طور پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے جاری کی گئی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت اور بہتر حکمرانی

وی بی-جی رام جی کے نفاذ میں ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کارکنوں کی تصدیق، نگرانی، ادائیگیوں اور شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ روزگار کو پائیدار اثاثوں کی تخلیق اور دیہی ترقی سے بھی مربوط کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل تصدیق: ای-کے وائی سی (الیکٹرانک اپنے صارف کو جانیں) اور کارکنوں کی حاضری چہرے کی شناخت اور بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے درج کی جاتی ہے۔ اس سے شفافیت، جواب دہی اور تصدیق کی صحت اور اعتبار میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

کاموں کی ڈیجیٹل نگرانی: جغرافیائی محلِ وقوع کے اندراج (جیو ٹیگنگ)، ڈیجیٹل پیمائش، الیکٹرانک پیمائشی کتابوں (ای-ایم بی) اور موبائل پر مبنی نگرانی کے ذریعے کاموں کے نفاذ کے مختلف مراحل کی نگرانی کی جاتی ہے۔

ڈیجیٹل ادائیگیاں: براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے اس نظام کے تحت ادائیگیوں کو سہل بنایا جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی: مقامی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبہ بندی، حقیقی وقت کے ڈیش بورڈز (ریئل ٹائم ڈیش بورڈز)  اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تجزیاتی نظام نگرانی، رپورٹنگ اور اصلاحی اقدامات میں معاون ہوتے ہیں۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور صلاحیت سازی: مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارم، شہریوں کی شرکت کے پلیٹ فارم اور بڑے پیمانے پر صلاحیت سازی کے اقدامات نفاذ کے عمل کو مزید مؤثر بناتے ہیں۔

نچلی سطح پر دیہی ترقی

وی بی-جی رام جی روزگار، شراکتی منصوبہ بندی اور دیہی ترقی کو ایک مربوط نظام میں یکجا کرتا ہے۔ وکست گرام پنچایت منصوبوں (وی جی پی پی) کے ذریعے گرام پنچایتیں مقامی ضروریات کی نشان دہی کرتی ہیں، موجودہ وسائل اور اثاثوں کی نقشہ سازی کرتی ہیں اور ترقیاتی کاموں کو ترجیحات کے مطابق ترتیب دیتی ہیں۔

ٹیکنالوجی، باہمی ہم آہنگی اور ڈیجیٹل نظام نفاذ کے عمل کو بہتر بنانے کے ساتھ شفافیت اور جواب دہی کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔ یہ لائحۂ عمل روزگار کو پائیدار اثاثوں کی تخلیق سے جوڑتا ہے، ذریعۂ معاش کو بدلتے حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے اور دیہی ترقی کو مربوط انداز میں فروغ دیتا ہے۔

حوالہ جات
دیہی ترقی کی وزارت

https://vbgramg.dord.gov.in/vbgramg/home.aspx

https://vbgramg.dord.gov.in/vbgramg/WriteReaddata/data/Draft_Framework_for_Viksit_Gram_Panchayat_Plan_(VGPP)_RGVS-2026_26.06.2026.pdf

https://vbgramgrep.dord.gov.in/VBGRAMG/vbgramg_ataglance/At_a_glance.aspx

پی آئی بی بیک گراؤنڈرز

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2259691&reg=48&lang=2

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

*****

UR-6630

(ش ح۔اس ک  )

(तथ्य सामग्री आईडी: 151138) आगंतुक पटल : 8


Provide suggestions / comments
इस विश्लेषक को इन भाषाओं में पढ़ें : English , हिन्दी