• Sitemap
  • Advance Search
Infrastructure

مینوفیکچرنگ میں تیزی: خود انحصارہندوستان کی تعمیر

प्रविष्टि तिथि: 14 AUG 2026 19:46 PM

 

تعارف

ہندوستان اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے، ایسے میں ملک کا مینوفیکچرنگ شعبہ خود انحصار اور ترقی کے ایک ستون کے طور پر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران میک ان انڈیاکے وژن کے تحت کی جانے والی اہم اصلاحات نے صنعتی شعبے کو نئی شکل دی ہے اور ملک کو ایک عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کیا ہے۔ دفاعی سازوسامان، ٹیکسٹائل، ادویات، طبی آلات اور بھاری مشینری اب عالمی معیار کے مطابق تیار کی جا رہی ہیں، جو ملکی اور بین الاقوامی دونوں منڈیوں کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔ اس رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے حکومت نے پیداوار سے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی)، پی ایم گتی شکتی،نیشنل لاجسٹکس پالیسی، بھاویا، اور الیکٹرانکس و ایم ایس ایم ای شعبوں کے لیے پروگراموں سمیت کئی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔

ہندوستان کے مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا

مینوفیکچرنگ شعبہ اب مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 16-17 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے اور 2 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ کارکنوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ نظرثانی شدہ سیریز کے مطابق، مستقل قیمتوں پر مینوفیکچرنگ کی مجموعی اضافی قدر (جی وی اے) کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر)، 23-2022 کی بنیادی قیمتوں کی بنیاد پر، 23-2022 سے26-2025 کے دوران 10.88 فیصد رہی ہے۔ جولائی 2026 میں اشیا کی برآمدات 44.24 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ ایک سال قبل یہ 36.98 ارب امریکی ڈالر تھیں، جب کہ جون 2026 میں مینوفیکچرنگ پیداوار میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ مینوفیکچرنگ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے والے ایک مرکزی محرک کے طور پر ابھر رہا ہے۔

 

بھارت کی دفاعی صنعت میں تبدیلی: خود انحصاری سے عالمی برآمدات تک

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کی دفاعی صنعت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ہدف پر مبنی پالیسیوں، مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری اور خود انحصاری کو فروغ دینے کی مضبوط کوششوں نے ملک کو دفاعی سازوسامان کے ایک اہم پیداواری اور برآمدی ملک میں تبدیل کر دیا ہے۔

اہم حقائق:

  • مالی سال 2025-26 میں مقامی دفاعی پیداوار کی مالیت ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ مالی سال کی 1,54,071 کروڑ روپے اور مالی سال 2014-15 کی 46,429 کروڑ روپے کی پیداوار کے مقابلے میں 15.6 فیصد اضافہ ہے۔
  • دفاعی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ 2013-14 کے 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 38,424 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
  • بھارتی دفاعی مصنوعات اب 80 سے زائد ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں، جو گزشتہ 12 برسوں کے دوران 5,500 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
  • مالی سال 2025-26 میں دفاعی سرکاری شعبے کی کمپنیوں اور دیگر سرکاری اداروں نے مجموعی دفاعی پیداوار میں تقریباً 76 فیصد حصہ ڈالا، جبکہ نجی شعبے کا حصہ بڑھ کر 24 فیصد ہو گیا، جو صنعت کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
  • مئی 2026 تک دفاعی امور کے محکمہ اور محکمہ دفاعی پیداوار کی جانب سے پانچ پانچ، مجموعی طور پر 10 مثبت مقامی کاری فہرستیں جاری کی گئیں، جن میں 5,521 اشیا شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کو مزید فروغ ملا ہے۔
  • سریجن ڈیفنس ایکوپمنٹ امپاورمنٹ پلیٹ فارم (ڈی ای ای پی) ایک ڈیجیٹل ذخیرہ ہے جو مقامی دفاعی سازوسامان کی خریداری کو فروغ دیتا ہے۔ مئی 2026 تک اس پر 41000 سے زائد فروخت کنندگان اور 2.7 لاکھ مصنوعات درج تھیں، جس سے ملکی سپلائی چین کو مزید مضبوطی ملی ہے۔

ہندوستان کے الیکٹرانکس شعبے کو فروغ

بھارت تیزی سے الیکٹرانکس کی پیداوار کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرا ہے اور پیداوار و برآمدات، دونوں شعبوں میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔ قومی الیکٹرانکس پالیسی، ایس پی ای سی ایس، ای ایم سی 2.0 اور پی ایل آئی جیسی مسلسل نافذ کی جانے والی پالیسیوں نے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس) جیسی اسکیموں نے بھارت کے الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اینڈ مینوفیکچرنگ (ای ایس ڈی ایم) ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے ترقی اور مسابقت کو فروغ ملا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں الیکٹرانکس کی پیداوار 11.32 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 13.11 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی، جو سالانہ بنیاد پر 15.8 فیصد اضافہ ہے۔

اشاریہ

2014-15

2025-26

نمو

الیکٹرانکس سامان کی پیداوار

~ 1.9 لاکھ کروڑ روپے

~ 13.11 لاکھ کروڑ روپے

7 بار

الیکٹرانکس اشیاء کی برآمدات

~ 38000 کروڑ روپے

~ 4.24 لاکھ کروڑ روپے

11 بار

موبائل فون کی پیداوار

~ 18000 کروڑ روپے

~ 6.27 لاکھ کروڑ روپے

33 بار

موبائل فون کی برآمدات

~ 1500 کروڑ روپے

~ 2.59 لاکھ کروڑ روپے

165 مرتبہ

 

سیمیکون مینوفیکچرنگ

بھارت کا سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرنا، الیکٹرانکس کے شعبے میں مسلسل کی جانے والی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ سیمیکون انڈیا پروگرام (سیمیکون 1.0) کو دسمبر 2021 میں 76,000 کروڑ روپے کی مالی لاگت کے ساتھ منظوری دی گئی تھی۔ اس پروگرام کا مقصد ملک میں سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ کا ایک مضبوط مقامی ماحولیاتی نظام تیار کرنا تھا۔ اسی بنیاد کو آگے بڑھاتے ہوئے جولائی 2026 میں سیمیکون 2.0 کو 1,27,500 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی ہے۔

سیمیکون انڈیا پروگرام 1.0 کے تحت پیش رفت

جولائی 2026 تک 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کے ساتھ 12 مینوفیکچرنگ یونٹوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک مربوط گیلیم نائٹرائڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ان یونٹوں سے توقع ہے کہ صارفین کے برقی آلات، صنعتی الیکٹرانکس، آٹوموبائل، پاور الیکٹرانکس، ٹیلی مواصلات اور ایرو اسپیس سمیت مختلف شعبوں میں چِپس کی ضروریات پوری ہوں گی۔

منظور شدہ 12 تجاویز میں سے تین کمپنیوں، مائیکرون، کینز اور سی جی سیمی نے پہلے ہی تجارتی پیداوار شروع کر دی ہے۔ ایک اور کمپنی کے 2026 میں کام شروع کرنے کی توقع ہے، جس سے بھارت میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔

ہندوستان میں موبائل مینوفیکچرنگ کا عروج

بھارت کے موبائل فون مینوفیکچرنگ شعبے نے تیزی سے ترقی کی ہے، جس سے ملکی پیداوار، برآمدات اور مقامی قدر میں اضافے کو تقویت ملی ہے۔

  • بھارت میں استعمال ہونے والے 99.2 فیصد موبائل فون اب ملک میں ہی تیار کیے جاتے ہیں۔
  • بھارت حجم کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک ہے۔
  • بھارت 2014 سے موبائل فون کے خالص درآمد کنندہ کے بجائے خالص برآمد کنندہ ملک بن گیا ہے۔
  • بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ (ایل ایس ای ایم) کے لیے پی ایل آئی اسکیم نے موبائل فون مینوفیکچرنگ کے پورے ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم )میں تقریباً 96,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔
  • مالی سال 2023-24 میں مقامی قدر میں اضافہ 23 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ پیداوار اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
  • مالی سال 2025-26 میں اسمارٹ فونز بھارت کی سب سے زیادہ برآمد کی جانے والی انفرادی شے بن گئے اور انہوں نے پیٹرولیم، قیمتی پتھروں اور زیورات کو پیچھے چھوڑ دیا۔

موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم:

اس اسکیم کو 15 جولائی 2026 کو 62,500 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی۔ اس کا مقصد پیداوار میں اضافہ،گھریلو قدر میں اضافے، سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی مسابقتی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ یہ پانچ سالہ اسکیم مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2030-31 تک جاری رہے گی۔ اس کے تحت 2.25 فیصد سے 5 فیصد تک مراعات فراہم کی جائیں گی، جبکہ مقامی سطح پر خریداری، بھارتی برانڈز، ڈیزائن اور تحقیق و ترقی کے لیے اضافی مدد بھی دی جائے گی۔

ہندوستان کی دوا سازی میں برتری: مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں وسعت

ہندوستان عالمی دوا سازی کی صنعت میں حجم کے لحاظ سے تیسرے اور قدر کے لحاظ سے گیارہویں نمبر پر ہے۔ دنیا کی 20 فیصد جنیرک ادویات اور ویکسین کی ایک بڑی مقدار فراہم کرکے یہ دنیا بھر میں سستی صحت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پیداوار، برآمدات اور ملکی سطح پر اختراعات میں مسلسل ترقی نے ایک قابل اعتماد عالمی سپلائر کے طور پر اس کی حیثیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔

اہم حقائق:

  • 2024-25میں اس شعبے کا سالانہ کاروبار 4.72 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
  • اس شعبے کے تحت تین پی ایل آئی اسکیموں کا مجموعی بجٹ 25360 کروڑ روپے ہے اور ان کے تحت 51997 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
  • ان اسکیموں کے تحت مجموعی فروخت 3.88 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جس میں 2.43 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی برآمدات شامل ہیں۔
  • 218 فعال دواسازی اجزا (اے پی آئی)، اہم ابتدائی مواد (کے ایس ایم) اور ادویاتی درمیانی مصنوعات کے ساتھ ساتھ 57 طبی آلات کی پیداواری صلاحیت قائم کی گئی ہے، جن میں سی ٹی، ایم آر آئی، الٹراساؤنڈ اور اہم طبی امپلانٹس شامل ہیں۔
  • طبی آلات کی برآمدات 2019-20 میں 26915 کروڑ روپے سے بڑھ کر 25-2024میں 42360 کروڑ روپے ہو گئیں۔ اسی عرصے کے دوران ملکی مینوفیکچرنگ 28000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 41500 کروڑ روپے ہو گئی۔
  • بلک ڈرگ پارکس کے فروغ کی اسکیم:اس اسکیم کو 2020 میں تین بلک ڈرگ پارکس قائم کرنے کے لیے منظوری دی گئی تھی، جن میں عالمی معیار کا مشترکہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا تاکہ بلک ادویات کی مینوفیکچرنگ کی لاگت کم کی جا سکے۔ مالی سال 2022-23 میں آندھرا پردیش، گجرات اور ہماچل پردیش میں تین پارکس کو منظوری دی گئی۔
  • بایوفارما شکتی (اسٹریٹیجی فار ہیلتھ کیئر ایڈوانسمنٹ تھرو نالج، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن) اسکیم:اس اسکیم کا اعلان مرکزی بجٹ27-2026 میں کیا گیا، جس کے تحت آئندہ 5 برسوں کے لئے 10000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یکسٹائل اور ملبوسات کا فروغ: عالمی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ

بھارت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت ملک کے اہم ترین مینوفیکچرنگ شعبوں میں سے ایک ہے۔ یہ زراعت کے بعد روزگار فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے، جو 4.5 کروڑ سے زائد افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے اور ایم ایس ایم ای پر مبنی صنعتی ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔

ہندوستان کو اس شعبے میں کئی قدرتی اور ساختی فوائد حاصل ہیں، جن میں خام مال کی مضبوط بنیاد، مکمل ویلیو چین کے لیے مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں اور ایک وسیع ملکی منڈی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور کپاس کے دھاگے کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

  • ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا قومی جی ڈی پی میں تقریباً 2 فیصد، مینوفیکچرنگ جی وی اے میں 11 فیصد اور اشیا کی برآمدات میں 9 فیصد حصہ ہے۔
  • مالی سال 2025 میں ہندوستان نے 37.7 ارب امریکی ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کیں۔ عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں ہندوستان کا حصہ 4.1 فیصد رہا، جس کے باعث وہ عالمی سطح پر ٹیکسٹائل کا چھٹا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا۔
  • حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل کے لیے پی ایل آئی اسکیم، پی ایم مترا پارکس، قومی تکنیکی ٹیکسٹائل مشن، ٹیکسٹائل برآمدات کے فروغ کا مشن، قومی فائبر مشن اور حال ہی میں اعلان کردہ کپاس کی پیداواریت کے لیے مشن جیسے اقدامات سے مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور اس شعبے کی مسابقتی صلاحیت بہتر کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

بھارت کا بحری شعبے کو فروغ: جہازوں اور کنٹینرز کی تیاری

بحری شعبے میں ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر بھارت کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے کئی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔

 

ستمبر 2025 میں ملکی جہاز سازی کی صلاحیت، بحری شعبے کے لیے مالی مدد اور ہنرمندی کے فروغ کو مضبوط بنانے کے لیے 69,725 کروڑ روپے کے ایک جامع پیکیج کا اعلان کیا گیا۔ اس پیکیج کے تین اہم اجزا ہیں:

جہاز سازی کی ترقی کی اسکیم (ایس بی ڈی ایس)

  • اس اسکیم کے لیے 19989 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس کا مقصد ہندوستان کی سالانہ جہاز سازی کی صلاحیت کو 45 لاکھ مجموعی ٹن (جی ٹی) تک بڑھانا ہے۔
  • گرین فیلڈ جہاز سازی کے کلسٹروں کو مرکز اور ریاست کے درمیان 50:50 کی شراکت داری پر مبنی خصوصی مقصدی ادارے کے ذریعے مشترکہ بحری اور اندرونی بنیادی ڈھانچے کے لیے 100 فیصد سرمایہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے گا۔
  • موجودہ جہاز سازی کے کارخانوں کو توسیع اور جدید کاری کے لیے 25 فیصد سرمایہ جاتی مدد فراہم کی جائے گی، جس کے تحت ڈرائی ڈاکس ، جہاز اٹھانے کے نظام، تیاری کی سہولیات اور خودکاری کے نظام سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
  • آندھرا پردیش، گجرات اور تمل ناڈو میں نئے گرین فیلڈ جہاز سازی کلسٹر قائم کرنے کی تجویز ہے۔ تین براؤن فیلڈ توسیعی پروجیکٹوں کو بھی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔

بحری ترقیاتی فنڈ(میری ٹائم ڈیولپمنٹ فنڈ)

  • بحری ترقیاتی فنڈ کے تحت بحری شعبے میں طویل مدتی مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے 25,000 کروڑ روپے کا سرمایہ مختص کیا گیا ہے۔ اس میں 20,000 کروڑ روپے کا بحری سرمایہ کاری فنڈ شامل ہے، جس میں حکومت کی 49 فیصد حصص داری ہوگی۔ اس کے علاوہ 5,000 کروڑ روپے کا سود پر مراعاتی فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد جہاز سازی کے کارخانوں کے لیے قرض لینے کی لاگت کم کرنا ہے۔

 جہاز سازی مالی امدادی اسکیم (ایس بی ایف اے ایس)

  • ایس بی ایف اے ایس کے تحت لاگت کے نقصانات کو دور کرنے اور مالی اعانت، صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 24736 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے رہنما خطوط 26 دسمبر 2025 کو جاری کیے گئے تھے۔

کنٹینر مینوفیکچرنگ امدادی اسکیم (سی ایم اے ایس)

سی ایم اے ایس کا اعلان مرکزی بجٹ  27-2026 میں ملکی کنٹینر مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو وسعت دینے اور عالمی کنٹینر سپلائی چین میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

  • سی ایم اے ایس کے تحت پانچ برسوں کے لئے 10000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • سی ایم اے ایس کا ہدف سالانہ 7.5 لاکھ ٹی ای یو تک کی ملکی پیداواری صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ یہ موجودہ صلاحیت سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔
  • جولائی 2026 میں ہندوستان نے اے پی مولر–مرسک کے لیے ملک میں تیار کردہ اپنا پہلا برآمدی و درآمدی مال بردار کنٹینر تیار کرکے روانہ کیا۔ اس کنٹینر کی نقاب کشائی دادری، اتر پردیش میں واقع مرسک-کونکور ان لینڈ کنٹینر ڈپو میں کی گئی۔

آٹوموبائل: مینوفیکچرنگ کی مضبوطی

  • بھارت کی آٹوموبائل صنعت مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیتوں اور آٹو پرزہ جات کے وسیع ماحولیاتی نظام کی بنیاد پر ترقی کر رہی ہے۔ یہ دو پہیہ اور تین پہیہ گاڑیوں کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے، جبکہ مسافر اور تجارتی گاڑیوں کے لیے عالمی سطح پر تیسری سب سے بڑی منڈی ہے۔ یہ شعبہ برقی نقل و حرکت کے فروغ کی جانب بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جسے برقی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال اور حکومت کے مختلف اقدامات سے تقویت مل رہی ہے۔
  • یہ شعبہ پورے ہندوستان میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر 3 کروڑ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔
  • گاڑیوں کی پیداوار مالی سال 21-2020 میں 2 کروڑ 26 لاکھ 50 ہزار یونٹس سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 3 کروڑ 10 لاکھ 30 ہزار یونٹس ہو گئی۔ مالی سال 15-2014 سے مالی سال 2024-25 کے درمیان مجموعی پیداوار میں تقریباً 33 فیصد اضافہ ہوا۔
  • آٹوموبائل اور آٹو پرزہ جات کی صنعت کے لیے پی ایل آئی اسکیم:اس اسکیم کو ستمبر 2021 میں 25938 کروڑ روپے کے مالی اخراجات کے ساتھ منظوری دی گئی تھی۔ یہ اعلیٰ قدر والی جدید آٹوموٹیو ٹیکنالوجی کی حامل گاڑیوں اور مصنوعات کو فروغ دیتی ہے۔ مارچ 2026 تک اس کے تحت 44326 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی۔ اسی مدت کے دوران 67820 روزگار بھی پیدا ہوئے۔
  • پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم:ستمبر 2024 میں شروع کی گئی اس اسکیم کے لیے 10900 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ برقی نقل و حرکت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے تحت تقریباً 28.30 لاکھ برقی گاڑیوں کے لیے مراعات فراہم کی جاتی ہیں، جن میں برقی دو پہیہ، برقی تین پہیہ، برقی ٹرک، برقی بسیں اور برقی ایمبولینس شامل ہیں۔ 14028 برقی بسوں کے لیے 4391 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 14000 برقی بسیں پہلے ہی تعینات کی جا چکی ہیں۔ پورے ہندوستان میں برقی گاڑیوں کے عوامی چارجنگ اسٹیشنوں کے لیے بھی 2000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ہندوستان میں سولر پی وی مینوفیکچرنگ: تیز رفتار ترقی اور توسیع

  • بھارت کے شمسی پی وی مینوفیکچرنگ شعبے نے تیزی سے وسعت اختیار کی ہے، جس سے ملک میں سولرسیلز اور ماڈیولز کی مقامی پیداوار کو مضبوطی ملی ہے۔ ملک کی مقامی پی وی مارکیٹ کی مالیت تقریباً 32,400 کروڑ روپے ہے اور توقع ہے کہ 2030 تک اس میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
  • مالی سال23-2022 سے مالی سال 30-2029 کے درمیان ملکی پی وی منڈی کے 17 سے 20 فیصد مرکب سالانہ شرح نمو سے بڑھنے کی توقع ہے۔
  • منظور شدہ ماڈلز اور مینوفیکچررز کی فہرست (اے ایل ایم ایم) میں درج سولر ماڈیولز کی پیداواری صلاحیت اگست 2025 میں 100 گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔ یہ 2014 میں تقریباً 2.3 گیگاواٹ تھی۔
  • مارچ 2025 میں سولر سیل کی مینوفیکچرنگ صلاحیت 25 گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔ یہ صلاحیت 2014 میں 1.2 گیگاواٹ سے بھی کم تھی۔
  • حکومت نے اعلیٰ کارکردگی والے سولر پی وی ماڈیولز کی مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم متعارف کرائی۔ اس اسکیم کے تحت دو مرحلوں میں مجموعی طور پر 24000 کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی گئی اور 48 گیگاواٹ کی مربوط پی وی پیداواری صلاحیت مختص کی گئی۔
  • مالی سال 2024-25 میں پی وی کی برآمدات مالی سال 2017-18 کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ رہیں۔ پی ایل آئی اسکیم کے تحت سیل سے ماڈیول تک بڑھائی گئی مینوفیکچرنگ صلاحیت نے اس ترقی میں مدد کی۔

آگے کا راستہ

بھارت کا مینوفیکچرنگ شعبہ آج صنعت کے مختلف حصوں میں مسلسل پیش رفت، بڑھتی ہوئی صلاحیت اور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ پالیسیوں کی مسلسل حمایت اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس بنیاد کو سال بہ سال مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ نئی پیداواری صلاحیتوں کے مکمل طور پر فعال ہونے کے ساتھ یہ شعبہ عالمی سطح پر اپنے کردار کو مزید وسعت دینے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ آنے والے برسوں میں وسیع تر مواقع، زیادہ قدر پیدا کرنے اور ایک مضبوط خود انحصار معیشت کی تعمیر کی امید ہے۔

حوالہ جات:

صنعت و تجارت کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2230621®=3&lang=1

شماریات اور پروگرام کے نفاذ  کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2298236®=48&lang=2

الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2291171®=48&lang=2

مرکزی کابینہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284789®=48&lang=1

کیمیکل اور کھاد کی وزارت: فارماسیوٹیکل کا محکمہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244474®=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286949®=48&lang=1

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2294248®=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288924®=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209139®=3&lang=2

ٹیکسٹائل کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286960®=48&lang=2

شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290419®=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2298236®=48&lang=2

بھاری صنعتوں کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2298052®=48&lang=2

نیتی آیوگ:

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2298965®=48&lang=1

پریس انفارمیشن بیورو:

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2278107®=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2234442®=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2273854®=48&lang=2

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ش آ۔ن م۔

U-2415

(तथ्य सामग्री आईडी: 150960) आगंतुक पटल : 47


Provide suggestions / comments
इस विश्लेषक को इन भाषाओं में पढ़ें : English , Bengali , Malayalam , Assamese , हिन्दी