Social Welfare
نوجوانو ں کو بااختیاربنانا اور ہندوستان میں تبدیلی
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 13:11 PM
وکست بھارت @2047 کے لیے امرت پیڑھی
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی والے ممالک میں شامل ہے، جہاں تقریباً 65 فیصد شہریوں کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران حکومت نے تعلیم، ہنرمندی، روزگار، کاروبار، کھیل، صحت اور شہری شراکت داری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو وسعت دی ہے تاکہ آبادی کے اس فائدے کو ترقی کے ثمرات میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ تمام کوششیں مل کر امرت پیڑھی کو وِکست بھارت @2047 کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنا رہی ہیں۔
مائی بھارت: نوجوانوں کی قیادت میں ترقی کا پلیٹ فارم
اس وژن کے مرکز میں ’میرا یوا بھارت‘ ہے، جسے اکتوبر 2023 میں 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ ٹیکنالوجی سے لیس یہ پلیٹ فارم رضاکارانہ خدمات، عملی تجربے سے سیکھنے، قیادت، ہنرمندی، کریئر میں معاونت اور شہری شراکت داری کو ایک ہی ملک گیر نظام میں یکجا کرتا ہے۔
- قومی سطح پر پھیلتا ہوا پلیٹ فارم – جولائی 2026 تک 2.22 کروڑ سے زائد نوجوان رضاکارانہ خدمات، عملی تجربے سے سیکھنے، قیادت، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع کے لیے اس پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
- بڑے پیمانے پر رضاکارانہ خدمات – 1.52 لاکھ سے زائد رضاکارانہ مواقع نوجوانوں کو کمیونٹی سروس، ماحولیاتی سرگرمیوں، ثقافتی اقدامات اور عوامی پروگراموں میں حصہ لینے کے قابل بناتے ہیں۔
- عملی تجربے کے ذریعے سیکھنے کا موقع – 24,900 سے زائد عملی تجرباتی پروگراموں نے نوجوانوں کو حکمرانی، صحت، میڈیا، ٹیکنالوجی اور عوامی خدمات سے جوڑا ہے۔
ڈیجیٹل شمولیت اور شہری شرکت
- وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026 – ملک گیر کوئز کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا۔ اس مکالمے میں 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 78 بیرون ملک مقیم نوجوان بھی شامل ہوئے اور ضلع وار ڈیٹا بیس کے لیے 6,000 نوجوان رہنماؤں کی شناخت کی گئی۔
- قومی خدمت اسکیم (این ایس ایس) – رضاکاروں کی تعداد 15-2014 میں 34.09 لاکھ سے بڑھ کر26-2025 میں 38.90 لاکھ ہو گئی۔
تعلیم: رسائی، معیار اور مستقبل کے لیے تیاری
تعلیمی نظام میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسے مزید لچک دار، ڈیجیٹل اور جدت پر مبنی بنایا گیا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں سیکھنے والے کو مرکز میں رکھا گیا ہے اور اسکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کے قابل ہونے کے درمیان ربط قائم کیا گیا ہے۔
- دنیا کے سب سے بڑے اسکولی نظاموں میں سے ایک –ہندوستان میں 14.67 لاکھ اسکول ہیں، جن میں 24.72 کروڑ طلبہ زیرتعلیم ہیں اور 1.02 کروڑ سے زیادہ اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
- تعلیم جاری رکھنے میں بہتری – ثانوی سطح پر اسکول چھوڑنے کی شرح 14-2013 میں 14.54 فیصد سے کم ہو کر26-2025 میں 7 فیصد رہ گئی ہے۔
- ڈیجیٹل کلاس رومز – 26-2025 تک 1.49 لاکھ سے زیادہ اسکولوں کو آئی سی ٹی اور ڈیجیٹل اقدامات کے تحت شامل کیا گیا۔ مارچ 2026 تک 1.76 لاکھ سے زیادہ اسمارٹ کلاس رومز اور 1.79 لاکھ آئی سی ٹی لیبارٹریوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
- اٹل ٹنکرنگ لیبز – 10,000 سے زیادہ لیبارٹریوں نے 1.1 کروڑ سے زائد طلبہ اختراع کاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور 16 لاکھ سے زیادہ منصوبوں کی معاونت کی۔
اعلیٰ تعلیم اور اختراع
- داخلوں میں اضافہ – اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کے داخلوں کی تعداد 15-2014 میں 3.4 کروڑ سے بڑھ کر24-2023 میں 4.5 کروڑ ہو گئی؛ خواتین کے داخلوں میں15-2014کے مقابلے میں 42.2 فیصد اضافہ ہوا اور 2023-24 میں یہ تعداد 2.2 کروڑ تک پہنچ گئی۔
- ادارہ جاتی ترقی
- انکیوبیشن اور تحقیق – 85 اٹل انکیوبیشن مراکز نے 32,000 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور 2,900 سے زیادہ اسٹارٹ اپس کو تعاون فراہم کیا ہے۔
لچک دار تعلیمی نظام اور ڈیجیٹل رسائی
- قومی کریڈٹ فریم ورک – 700 سے زیادہ یونیورسٹیوں اور 7,500 سے زائد ملحقہ کالجوں نے قومی کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف) کو اپنایا ہے۔
- اکیڈمک بینک آف کریڈٹس – 3,123 اداروں کو اس نظام میں شامل کیا جا چکا ہے اور 35.27 کروڑ سے زیادہ اپار آئی ڈیز جاری کی جا چکی ہیں، جس سے طلبہ اپنے کریڈٹس محفوظ کرنے، منتقل کرنے اور استعمال کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ (12 اگست 2026 تک(
- سویم(ایس ڈبلیو اے وائی اے ایم) – 12 اگست 2026 تک اس پلیٹ فارم پر 20,370 سے زیادہ کورسز دستیاب ہیں اور 6.5 کروڑ سے زائد داخلے درج کیے جا چکے ہیں۔
- دکشا(ڈی آئی کے ایس ایچ اے) – پورے ہندوس میں 342 کورسز میں 19.06 کروڑ داخلےریکارڈکیے گئے، 15.02 کروڑ کورس مکمل کیے گئے اور 13 کروڑ سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔ (12 اگست 2026 تک)
ہنرمندی اور روزگار کے لیے اہلیت
حکومت نے اپنی ہنرمندی کے فروغ کی مہمات کے ذریعے 6 کروڑ سے زیادہ افراد کو بااختیار بنایا ہے۔ اسکل انڈیا مشن نے تربیت کے نظام کو محض بنیادی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے سے آگے بڑھاتے ہوئے طلب پر مبنی ماڈل کی جانب منتقل کیا ہے، جسے صنعت، اپرنٹس شپ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے مربوط کیا گیا ہے۔
- بے روزگاری میں کمی – بے روزگاری کی شرح 2014 میں 7.71 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 4.2 فیصد رہ گئی۔
- پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) – 2015 سے اب تک اس اسکیم کے چار مراحل کے تحت 1.64 کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ پی ایم کے وی وائی میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈرونز، الیکٹرانکس، سبز توانائی اور مستقبل سے متعلق دیگر شعبوں میں صنعت سے منسلک تربیت شامل ہے، جس کے ساتھ عملی کام کا تجربہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
- جن شکشن سنستھان – مارچ 2026 تک 36.48 لاکھ افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔
- قومی اپرنٹس شپ فروغ اسکیم (این اے پی ایس) – مارچ 2026 تک 54.41 لاکھ سے زیادہ اپرنٹس کو شامل کیا جا چکا ہے۔
- اسٹارٹ اپ انڈیا – اسٹارٹ اپس کی تعداد 2014 سے پہلے تقریباً 350 تھی، جو اگست 2026 تک بڑھ کر 2.47 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام بن گیا ہے۔
- وزیر اعظم کی انٹرن شپ اسکیم – 12 اگست 2026 تک وزیر اعظم کی انٹرن شپ اسکیم کے تحت 31 شعبوں میں 1,64,902 انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔
- پی ایم-سیٹو – اکتوبر 2025 میں 60,000 کروڑ روپے کے تخمینہ بجٹ کے ساتھ شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد صنعت کی شراکت داری اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق کورسز کے ذریعے 200 مراکز اور 800 ذیلی مراکز کے تحت 1,000 سرکاری صنعتی تربیتی اداروں کو جدید بنانا ہے۔
- 2014 سے 2025 کے درمیان صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) کی تعداد 9,977 سے بڑھ کر 14,688 ہو گئی؛ داخلوں کی تعداد 9.5 لاکھ سے بڑھ کر 14.7 لاکھ ہو گئی؛ قومی ہنر مندی تربیتی اداروں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 33 ہو گئی؛ اور تربیت کاروں کی تربیت کے اداروں کی تعداد 11 سے بڑھ کر 120 ہو گئی۔
کھیل اور فٹنس
ہندوستان نے کھیلوں کے لیے ایک منظم نظام تشکیل دیا ہے، جس کا آغاز مقامی سطح پر صلاحیتوں کی شناخت سے ہوتا ہے اور اعلیٰ کارکردگی کے لیے معاونت تک پھیلا ہوا ہے۔ کھیلوں کو تیزی سے ایک قابلِ عمل پیشے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے کوچنگ، بنیادی ڈھانچے، سائنسی تربیت اور مقابلوں میں شرکت کے تجربے کی مدد حاصل ہے۔
- کھیلو انڈیا کا بنیادی ڈھانچہ – اس اسکیم کے تحت 3,176 کروڑ روپے مالیت کے 349 بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جبکہ 1,067 کھیلو انڈیا مراکز اور 267 اکیڈمیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 2,745 کھلاڑیوں کو بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
- کھیلو انڈیا گیمز – 2018 سے اب تک نوجوانوں، یونیورسٹی، سرمائی، پیرا، ساحلی، آبی کھیلوں اور قبائلی کھیلوں کے مقابلوں میں 63,000 سے زیادہ کھلاڑی حصہ لے چکے ہیں۔
- اعلیٰ سطح کے کھلاڑیوں کے لیے معاونت – ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹاپس) کے تحت 51 ؍کور گروپ، 52 پیرا کور گروپ اور 130 دیولپمنٹ ایتھلیلٹس (ترقیاتی زمرے کے کھلاڑی )کو معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ بنیادی اور ترقیاتی زمرے کے کھلاڑیوں کو بالترتیب 50,000 روپے اور 25,000 روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔
- سرمایہ کاری میں اضافہ – ازسرِنو تشکیل دی گئی کھیلو انڈیا اسکیم اور قومی کھیل فیڈریشنوں کے لیے بڑھائی گئی معاونت کے لیے27-2026 سے 31-2030کی مدت کے دوران مجموعی طور پر 36,441 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صحت اور بہبود
نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ احتیاطی صحت کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔ حکومت کے مختلف پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کے لیے موزوں صحت خدمات، ذہنی صحت سے متعلق مشاورت، منشیات کے استعمال کے مضر اثرات سے متعلق بیداری اور جامع بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی کو وسعت دی گئی ہے۔
- نوعمروں کی صحت – نوعمروں کے لیے دوستانہ صحت مراکز (اے ایف ایچ سی) کی تعداد15-2014 میں 6,619 سے بڑھ کر22-2021 میں 7,203 ہو گئی۔ اسی مدت کے دوران طبی اور مشاورتی خدمات حاصل کرنے والے نوعمروں کی تعداد 39 لاکھ سے بڑھ کر 82 لاکھ ہو گئی؛ 25-2024میں نومبر 2024 تک 97.67 لاکھ نوجوان ان مراکز میں رجسٹر ہو چکے تھے۔
- ذہنی صحت – 12 اگست 2026 تک ٹیلی-مانس نے 53 مراکز کے ذریعے 43.70 لاکھ سے زیادہ کالز نمٹائی ہیں، جنہیں 23 رہنمائی اداروں اور پانچ علاقائی رابطہ مراکز کی معاونت حاصل ہے۔
- منشیات کے استعمال کی روک تھام – 12 اگست 2026 تک نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت 30.05 کروڑ سے زیادہ افراد تک رسائی حاصل کی گئی، جن میں 11.86 کروڑ نوجوان شامل ہیں۔ تعلیمی اداروں میں 28.56 لاکھ سے زیادہ سرگرمیاں منعقد کی گئی ہیں، جبکہ 28.29 لاکھ سے زیادہ افراد کو علاج اور بحالی کی معاونت فراہم کی گئی ہے۔
تبدیلی کی ایک دہائی
بارہ برس کی مسلسل اور مختلف شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری نے ہندوستان کے نوجوانوں میں قابلِ پیمائش تبدیلی لائی ہے۔ زیادہ تعداد میں نوجوان تعلیم جاری رکھ رہے ہیں، صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر حاصل کر رہے ہیں، باقاعدہ روزگار اختیار کر رہے ہیں، کاروبار قائم کر رہے ہیں، سماجی زندگی میں حصہ لے رہے ہیں اور کھیلوں کے اعلیٰ ترین مقابلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔
یہ تبدیلی مواقع تک رسائی سے مواقع کے حصول کی جانب، شرکت سے قیادت کی جانب اور نوجوانوں کو محض مستفید ہونے والوں سے ترقی کے شریک تخلیق کار بننے کی جانب منتقلی کی عکاس ہے۔ پالیسیوں، اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے؛ اب امرت پیڑھی اسے وکست بھارت @2047 کی جانب آگے بڑھا رہی ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Education
https://udiseplus.gov.in/#/en/home
https://dashboard.udiseplus.gov.in/report2026/static/media/UDISE+2025_26_Booklet_nep.94ceae1e8c2210549d21.pdf (pg 29)
https://www.dohe-education.gov.in/static/uploads/2026/07/426440f1daac445265cdea027ae6a00d.pdf (pg 1)
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297090®=48&lang=2
https://www.abc.gov.in/
https://swayam.gov.in/
https://diksha.gov.in/data/
Ministry of Social Justice and Empowerment
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241240®=48&lang=2
https://www.dosje.gov.in/organisation/nasha-mukt-bharat-abhiyaan/
Ministry of Personnel, Public Grievances, and Pensions
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1929384®=3&lang=2
Ministry of Commerce and Industry
https://www.startupindia.gov.in/
Ministry of Corporate Affairs
https://pminternship.mca.gov.in/login/
Ministry of Health and Family Welfare
https://sansad.in/getFile/annex/258/AS147.pdf?source=pqars
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2024/dec/doc20241228477601.pdf
https://telemanas.mohfw.gov.in/telemanas-dashboard/#/
PIB Backgrounders
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=159409&ModuleId=3®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?id=150695&NoteId=150695&ModuleId=16®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158887&ModuleId=3®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2256476®=3&lang=2
NITI Aayog
https://aim.gov.in/aic.php
Click here to see PDF
PIB Research
******
UR-2663
(ش ح۔ م ع ن ۔ ت ع)
(तथ्य सामग्री आईडी: 150977)
आगंतुक पटल : 19
Provide suggestions / comments