زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

ایم ایس پی کے تحت فصلوں کی حصولیابی

प्रविष्टि तिथि: 04 JAN 2019 7:59PM by PIB Delhi

نئیدہلی، 4جنوری2019،        زراعت  اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے وزیر مملکت  جناب گیجندر سنگھ شخاوت نے  آج راجیہ سبھا میں  اطلاع دیتے ہوئے  بتایا ہے کہ زرعی مارکیٹنگ ایک ریاستی موضوع ہے اور متعلقہ ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے متعلقہ ریاستوں کے قواعد وضوابط کے مطابق زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کے لئے آسانیاں فراہم کرتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے کسی کاشتکار کے ذریعہ کم از کم امدادی قیمت کے سلسلے میں کتنی مقدار کی پیداوار فروخت کی جارہی ہے،  اس سلسلے میں کوئی اعداد و شمار جمع کرنے کا کام یا مخصوص مطالعہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کاشتکار بیچولیوں کے توسط سے اور  مجبوری کے تحت کتنی زرعی اشیا کی فروخت کرتا ہے، اس کی بھی کوئی تفصیل دستیاب نہیں ہے تاہم نیشنل سیمپل سروےآفس (این ایس ایس او) وقتاً فوقتاً زرعی کنبوں کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہتا ہے تاکہ ملک کے دیہی حصوں میں زراعت پر منحصر کنبوں کی صورتحال کا جامع جائزہ فراہم کیا جاسکے۔ ایسا حالیہ سروے  این ایس ایس او کے ذریعہ جنوری 2013 سے دسمبر 2013 کے دوران کیا گیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ صارفین کے اخراجات، آمدنی اور پیداواری اثاثوں، قرض داری، زراعت کے طور طریقوں اور ترجیحات وغیرہ کے سلسلے میں اطلاعات حاصل کی جاسکیں۔ وسائل کی دستیابی، ٹکنالوجی ترقیات سے آگاہی اور زراعت ، فصل وغیرہ سے متعلق جدید تکنالوجی  تک رسائی اور تکنالوجی ترقیات سے آگاہی، فصل بیمہ اور کم از کم امدادی قیمت یعنی ایم ایس پی کے سلسلے کی آگاہی حاصل کرنا بھی  اس سروے کا حصہ تھا۔

کاشتکاروں کو بہتر مارکٹنگ سہولتوں کی فراہمی  کی غرض سے حکومت نے ایک نیا ماڈل جاری کیا ہے۔  اپریل 2017 میں زرعی پیداوار اور مویشی مارکٹنگ (فروغ اور سہولت) ایکٹ 2017 متعارف کرایا گیا تھا تاکہ ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے اسے اختیار کرسکیں۔ اس ایکٹ میں شامل تجاویز، کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کو مسابقتی اور منفعت بخش قیمتوں پر  منڈی میں فروخت کرنے کے لئے متبادل مارکیٹنگ چینل  فراہم کرنے کی بات کرتی ہیں۔

دستیاب کم وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور قیمت اور مارکیٹنگ میں اثر پذیر غیر یقینی صورتحال کے اثرات کو کم کرنے کے لئے حکومت نے ایک ترقی پسند اور آسانی فراہم کرنے والا نمونہ ایکٹ بھی فراہم کرایا ہے جسے مئی 2018 میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ مذکورہ نمونہ کانٹریکٹ فارمنگ ایکٹ  پیداوار کے  پہلے سے لیکر فصل کٹنے کے بعد تک اور دیگر تمام امور پر احاطہ کرتا ہے اور زرعی پیداوار اور مویشیوں پر بھی احاطہ کرتا ہے۔

 

U- 121


(रिलीज़ आईडी: 1558730) आगंतुक पटल : 39