سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت

خواتین کو منشیات سے نجات دلانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 JUL 2019 4:59PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 16 جولائی  2019/سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت  نے  2008 میں منشیات کے  استعمال   کی حد اور اس کے   طرز عمل  کے متعلق  ایک  قومی  جائزہ (نیشل سروے) کا اہتمام  کیا۔  نیشنل ڈرگ  ڈپینڈنٹس  ٹریٹمنٹ سینٹر  (این ڈی ڈی ٹی سی)،آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سائنسیز  (ا ے آئی آئی ایم ایس)  نئی دہلی کو   اس قومی   جائزے کے تکنیکی اور  سائنسی پہلوؤں کی   قیادت  کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔

جائزے کی رپورٹ  سے  یہ بات   سامنے آئی کہ  ہندستان میں    طرز عمل   کو متاثر کرنے والی    منشیات     اور منشیات کا  استعمال    کرنے والے  لوگوں کی  ایک بڑی تعداد   کا تعلق   آبادی کے سبھی گروپوں سے ہے  لیکن   منشیات  کے  استعمال  سے  ہونے والے  امراض  زیادہ تر   بالغ مردوں میں پائےجاتے ہیں۔  رپورٹ کے مطابق  10 سے 75 سال  کی تقریباً 90 لاکھ  خواتین  شراب  کا استعمال کرتی ہیں۔  40 لاکھ خواتین    بھانگ یا  اس سے تیار  اشیا   اور 20 لاکھ خواتین  افیم   یا اس سے تیار اشیا ء کا استعمال کرتی ہیں۔

وزارت  مرکزی  زمرے کی   ایک اسکیم   نافذ  کرتی ہے  تاکہ     شراب اور منشیات  کے  غلط استعمال  کو  روکنے میں  مدد مل سکے   ، جس کے تحت   اہل  غیر سرکاری تنظیموں،  پنچایتی راج اداروں ،  شہری     بلدیاتی اداروں   وغیرہ   کو   مالی  مدد  فراہم کی جاتی ہے  تاکہ وہ    نشے کے عادی لوگوں کے لئے مربوط باز آباد کاری  مراکز   (آئی آر  سی اے) چلا سکیں  اور  ان کا  رکھ رکھاؤ کرسکیں۔  فی الحال وزارت ملک میں تقریباً   461 آئی آر سی اے کو  تعاون دیتی ہے   جن میں سے   4 خواتین کےلئے   مخصوص ہیں۔

مزیدبرآں   نیشنل ایکشن پلان   فور  ڈرگ ڈیمانڈ ریڈکشن  (این اے پی ڈی ڈی آر) کی  سرگرمیوں  کے تحت   اسپتالوں او ردیگر   اداروں میں  خواتین کو منشیات سے  نجات  دلانے والے   مرکز  قائم کئے جاسکتے ہیں یا انہیں  مد د دی جاسکتی ہے۔  

یہ اطلاع  سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت  جناب  رتن لال کٹاریہ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 م ن۔ م م  ۔ ج۔

U- 3165


(ریلیز آئی ڈی: 1579023) وزیٹر کاؤنٹر : 63
یہ ریلیز پڑھیں: English