کابینہ
انٹرنیشنل فنانشیل سروسیز سینٹرز اتھارٹی بل 2019 کو لوک سبھا میں پیش کرنے کو کابینہ کی منظوری
प्रविष्टि तिथि:
20 NOV 2019 10:36PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں منعقدہ کابینہ کمیٹی نے انٹرنیشنل فنانشیل سروسیز سینٹرزاتھارٹی 2019 بل جو کہ 12 فروری 2019 کو راجیہ سبھا میں پیش کئے جانے کے بعد سے وہاں زیر التوا تھا، اسے واپس لینے کو اورپارلیمنٹ کے رواں اجلاس کے دوران انٹرنیشنل فنانشیل سروسیز سینٹر اتھارٹی بل 2019 کو لوک سبھا میں پیش کرنے کو اپنی منظوری دے دی ہے۔
فوائد:
بینک کاری اور کیپٹل مارکیٹ اور بیمہ سیکٹر س فی الحال آئی ایف ایس سی میں مختلف ریگولیٹروں یعنی آر بی آئی، ایس ای بی آئی اور آئی آر ڈی اے آئی کے ذریعہ ضابطہ بند کئے جاتے ہیں۔ آی ایف ایس سی میں کاروبار کی فعال نوعیت کے لئے اعلیٰ معیاری کا ضابطہ بند تال میل ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لئے آئی ایف ایس سی میں مالی سرگرمیوں کی موجودہ ضابطہ بندی میں وضاحتوں اور بار بار کی ترمیمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
آئی ایف ایس سی میں مالی خدمات اور مصنوعات کی تیاری کے لئے مخصوص ضابطہ جاتی مداخلتوں کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے مالی منڈی میں شرکت کرنے والوں کو عالمی معیار کا ریگولیٹری ماحول مہیا کرانے کے لئے ہندوستان میں آئی ایف ایس سی کے لئے مرکزی مالی ریگولیٹر کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔
مزید برآں ایز آف ڈوئنگ بزنس یعنی کاروبار میں آسانیاں باہم پہنچانے کے تناظر میں بھی یہ لازمی ہوگیا ہے۔ یونیفائڈ اتھارٹی ہندوستان میں آئی ایف ایس سی کے مزید فروغ اور عالمی سطح پر رائج بہتر طریقہ کار کو اپنانے کے لئے ضروری مدد بھی فراہم کرے گا۔
پس منظر:
مرکزی کابینہ نے 6 فروری 2019 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں پارلیمنٹ میں بین الاقوامی مالی خدمات مراکز اتھارٹی بل 2019 پیش کرکے تمام مالی خدمات کو ضابطہ بند کرنے کے لئے ایک یونیفائڈ اتھارٹی کے قیام کو اپنی منظوری دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی خزانہ کے وزیر مملکت کے ذریعہ 12 فروری 2019 کو راجیہ سبھا میں انٹرنیشنل فنانشیل سروسیز سینٹرز اتھارٹی بل پیش کیاگیا تھا۔
لوک سبھا سکریٹریٹ نے یہ بتایا ہے کہ آئین کی دفعہ 117(1) کے تحت اس مالی بل کو آئین کی دفعہ 117(1) اور 274(1)کے تحت صدر جمہوریہ کی سفارشات کے مطابق لوک سبھا میں پیش کیا جانا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن ۔ش س۔ ع ر۔
U-5274
(रिलीज़ आईडी: 1592848)
आगंतुक पटल : 116