ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ماحولیات نے ایم او ای ایف سی سی اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے کے لیے’نرنتر‘ پلیٹ فارم پر میٹنگ کی صدارت کی


ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی ترقی کے لیے متوازن پالیسی بنانا ضروری ہے۔ ترقی کے لیے حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال میں’نرنتر‘ اہم کردار ادا کر سکتا ہے:جناب بھوپیندریادو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 JAN 2026 5:35PM by PIB Delhi

ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندریادو نے پیر کے روز ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی)کے تحت اداروں کے ایک پلیٹ فارم نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ایپلی کیشن آف نیچرل ریسورسز ٹو ٹرانسفارم ، ایڈاپٹ اینڈ بلڈ ریزیلینس(این آئی آر اے این ٹی اے آر) یعنی ’نرنتر‘کے اجلاس کی صدارت کی جس کا مقصد ہم آہنگی اور تعاون کو بہتر بنانا ہے ۔

قدرتی وسائل کی اسٹریٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ آج کی جغرافیائی سیاست بڑی حد تک قدرتی وسائل اور ان کے استعمال پر منحصر ہے ۔  انہوں نے کہاکہ’’ہماری طاقت ہمارے قدرتی وسائل ، خاص طور پر حیاتیاتی وسائل میں مضمر ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کہ ہندوستان نے مینوفیکچرنگ ، ڈیٹا ، سافٹ ویئر اور دیگر صنعتی شعبوں میں ترقی کی ہے ، زندگی کی چار ضروریات یعنی خوراک ، دوا ، توانائی اور تیل بالآخر قدرتی وسائل سے حاصل کئے جاتے ہیں ۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان میں قدرتی وسائل کا ایک بڑا ذخیرہ ہے انہوں نے کہا کہ جی بی پنت نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہمالیائی ایکولوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سسٹین ایبل کوسٹل مینجمنٹ جیسے ادارے تعاون اور تال میل کے ذریعے اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی بی پنت نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہمالیائی ایکولوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سسٹین ایبل کوسٹل مینجمنٹ جیسے ادارے تعاون اور تال میل کے ذریعے اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جناب بھوپیندریادو نے کہا کہ ان وسائل کے متوازن ، موزوں اور دانشمندانہ استعمال کی ضرورت ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ملک کو’’ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی ترقی کے لیے متوازن پالیسی‘‘ بنانی چاہیے ۔

مرکزی وزیر جناب بھوپیندریادونےکہا کہ’ نرنتر‘ کے چار ورٹیکل تحقیق ، نتائج کی تشخیص اور ان کے حتمی استعمال کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔  انہوں نے ہندوستان کے حیاتیاتی وسائل کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ پلیٹ فارم ترقی کے لیے ان کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔

آب و ہوا کی تبدیلی کے چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے جناب بھوپیندریادو نے کہا کہ گلیشیئر کم ہو رہے ہیں اور ’’ہمالیہ جیسے اہم ماحولیاتی نظام میں ترقی کو متوازن ہونا چاہیے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جی بی پنت نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہمالیائی ایکولوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سسٹین ایبل کوسٹل مینجمنٹ جیسے ادارے تعاون اور تال میل کے ذریعے اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جناب بھوپیندریادو نے کہا کہ ایم او ای ایف سی سی کو قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استحصال کو روکنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں معاون ہونا چاہیے ۔  انہوں نے مزید کہا کہ ترقی اور تحفظ کے لیے پالیسی سازی کا معیشت پر وسیع اثر پڑتا ہے۔انہوں نے  مزیدکہا کہ’نرنتر‘ کو تین پہلوؤں تحقیق، پالیسی سازی میں اس کا کردار اور آگے بڑھنے کا راستہ پر توجہ  مرکوز کرنی چاہیے۔ کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندریادو نے قابل افراد کے ساتھ ادارے کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کا ایک چھوٹا گروپ کوششوں کو مربوط کرنے اور خلا کو دور کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

اختتامی تقریر کرتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ’ نرنتر ‘پلیٹ فارم سے بامعنی نتائج حاصل کرنے کے لیے بہتر ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ ’’پوری حکومت‘‘ کا نقطۂ نظر ضروری ہے ۔

5.jpg

6.jpg

7.jpg

****

 

 

 (ش ح –م ح۔اش ق)

U. No. 471

 


(ریلیز آئی ڈی: 2213886) وزیٹر کاؤنٹر : 35
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी