امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دہشت گردی کے خلاف مودی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایک اور اہم اقدام کرتے ہوئے، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی رہنمائی میں وزارت داخلہ نے مزید 23 افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے

مودی حکومت بھارت اور اس کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر دہشت گرد نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے: داخلہ و امداد باہمی کےمرکزی وزیر جناب امت شاہ

یہ نامزد دہشت گرد ،بھارت مخالف سرگرمیوں، دہشت گرد انہ حملوں، دہشت گردی کو فروغ دینے، اسلحہ کی اسمگلنگ، سرحد پار دراندازی، دہشت گرد تنظیموں کی معاونت، فنڈ جمع کرنے اور دہشت گردوں کی بھرتی جیسے جرائم میں ملوث رہے ہیں

ان 23 دہشت گردوں میں 17 پاکستانی اور 6 بھارتی شہری شامل ہیں، جو پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دے رہے ہیں

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دہشت گردوں کے مالیاتی نیٹ ورک، نقل و حرکت، بھرتی کی صلاحیت اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے میں اہم ثابت ہوگا

प्रविष्टि तिथि: 04 JUL 2026 12:38PM by PIB Delhi

دہشت گردی کے خلاف مودی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایک اور اہم اقدام کرتے ہوئے، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی رہنمائی میں وزارت داخلہ نے مزید 23 افراد کو غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔داخلہ وامداد باہمی کےمرکزی وزیر جناب امت شاہ نے وزارت داخلہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت بھارت اور اس کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر دہشت گرد نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہاکہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے وزارت داخلہ نے آج کالعدم تنظیموں سے وابستہ 23 خطرناک دہشت گردوں کو غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت دہشت گرد قرار دیا ہے۔ یہ افراد بھارت مخالف سرگرمیوں، دہشت گردانہ حملوں، دہشت گردی کو فروغ دینے، اسلحہ کی اسمگلنگ، سرحد پار دراندازی، دہشت گرد تنظیموں کی معاونت، فنڈز جمع کرنے اور دہشت گردوں کی بھرتی جیسے جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج دہشت گرد قرار دیے گئے 23 افراد میں 17 پاکستانی شہری اور 6 بھارتی شہری شامل ہیں۔ تاہم یہ تمام افراد اس وقت پاکستان اور پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر (پی او کے) سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت بھارت اور اس کے عوام کے تحفظ کے لیے ہر دہشت گرد ماڈیول کو ختم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق ان افراد کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دینے سے نہ صرف ان کے مالیاتی نیٹ ورک، نقل و حرکت، بھرتی کی صلاحیت اور دہشت گردی سے وابستہ سرگرمیوں پر مؤثر روک لگانے میں مدد ملے گی بلکہ دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام  کو کمزور کرنے میں بھی یہ فیصلہ اہم ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے ملک دشمن اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو ایک سخت اور واضح پیغام بھی جائے گا۔

وزارت نے کہا کہ اس فیصلے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانونی، تفتیشی اور انسدادی کارروائیوں میں باہمی تعاون مزید مؤثر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے سال 2019 میں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ، 1967 (یواے پی اے) میں ترمیم کے بعد اب تک مجموعی طور پر 57 افراد کو اس قانون کی دفعہ 35 کے تحت چوتھے شیڈول میں دہشت گرد کے طور پر نامزد کیا ہے۔

اب مرکزی حکومت نے مزید 23 افراد کو بھی مذکورہ قانون کے چوتھے شیڈول میں دہشت گرد کے طور پر شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

نمبرشمار

نام

1

مسعود الیاس کشمیری @ مفتی مسعود الیاس @ مسعود الیاس @ ابو محمد @ ایم مسعود الیاس

2

محمد مصدق @ ڈاکٹر @ عبد المنان @ سجاد @ حمزہ @ واحد خان

3

مفتی محمد اصغر خان @ ابو سعد @ سعد جمی

4

حافظ عبدالشکور @ قاری ضرار

5

عبداللہ جہادی @ شاہنواز @ الحجامہ

6

فردوس احمد بٹ

7

غلام فرید @ گلشن کمار @ فرید

8

ہارون رشید گنائی @ شونو

9

بلال احمد میر @ احمد بھائی

10

عابد قیوم لون

11

نذیر احمد گجر @ ابو منازل

12

عبدالرؤف @ حافظ عبدالرؤوف @ حافظ عبدالرؤوف @ حافظ عبدالرؤوف

13

اشفاق احمد @ اشفاق احمد

14

حافظ خالد ولید @ حافظ خالد نائک @ خالد ولید

15

مولانا امداد اللہ مکی @ مولانا امداد @ امداد بھائی @ مولانا امداداللہ

16

مولانا سیف اللہ خالد @ ولی ول @ محمد سلیم @ واجد

17

محمد یعقوب @ ابو سمامہ @ سمامہ الیاس @ وارث علی

18

مولانا یوسف طیبی @ محمد یوسف

19

اویس فیروز @ اویس احمد میر @ اویس فیروز میر

20

قاری یعقوب شیخ @ قاری محمد یعقوب شیخ @ یعقوب شیخ @ قاری شیخ محمد یعقوب @ محمد یعقوب

21

رانا افتخار @ رانا ولید عاطف @ رانا افتخار حیدر @ رانا افتخار احمد @ حیدر خان

22

وسیم نور جٹ @ قاری وسیم

23

محمد شہید فیصل @ استاد @ مہندس @ ذاکر

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

1. مسعود الیاس کشمیری عرف مفتی مسعود الیاس، مسعود الیاس، ابو محمد، ایم۔ مسعود الیاس پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہے۔ اسے مولانا مسعود اظہر کا قریبی معتمد اور کشمیر میں دراندازی کا اہم رابطہ کار بتایا جاتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی اور دہشت گردی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے میں سرگرم رہا ہے۔ اس پر اپریل 2022 میں جموں کے سنجواں علاقے میں پی ڈی پی دفتر کے قریب ناکہ پارٹی پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

2. محمد مصدق عرف ڈاکٹر، عبد المنان، سجاد، حمزہ، واحد خان پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہے۔ اسے لیسیاکوٹ سیکٹر کا لانچنگ کمانڈر قرار دیا گیا ہے، جو سرحدی سرنگوں کے ذریعے دراندازی کراتا ہے۔ اس پر ڈرون کے ذریعے بھارت میں اسلحہ اور گولہ بارود بھیجنے کا الزام ہے۔ حکومت کے مطابق وہ ایودھیا کے آر جے بی کمپلیکس، ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر اور پانی پت کی آئی او سی ایل ریفائنری جیسے حساس مقامات کی ریکی میں بھی ملوث رہا ہے۔

 

3. مفتی محمد اصغر خان عرف ابو سعدیا سعد جمی پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہے۔ اسے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں جیشِ محمد کا امیر اور اس کے عسکری ونگ کا سربراہ بتایا گیا ہے۔ اس پر جموں کے نگروٹا میں بھارتی فوجی کیمپ پر دہشت گرد حملے کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ حکومت کے مطابق وہ مظفرآباد میں دہشت گردوں کو جہادی اور عسکری تربیت دینے کے لیے تربیتی کیمپ بھی چلاتا ہے۔

4. حافظ عبدالشکور عرف قاری جرار پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) اور حرکت المجاہدین (ایچ یو ایم) سے وابستہ ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے نگروٹا فوجی کیمپ پر حملے کے لیے سامبا-کٹھوعہ سیکٹر سے تین پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی کرائی۔ حکومت کے مطابق وہ 1995-96 کے دوران افغان جنگ میں بھی شریک رہا اور آئی ایس آئی کی معاونت سے دہشت گرد انہ سرگرمیوں کا رابطہ کار ہے۔ وہ جیشِ محمد کی شوریٰ کونسل کا بھی رکن بتایا جاتا ہے۔

5. عبداللہ جہادی عرف شہنوازعرف الحجّامہ پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہے۔ اسے مفتی اصغر خان کا شریکِ سازش قرار دیا گیا ہے، جو شمالی کشمیر میں دہشت گردوں کی دراندازی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس پر حکومتِ ہند کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کا بھی الزام ہے۔ حکومت کے مطابق وہ کپواڑہ اور بارہمولہ اضلاع میں واقع متعدد لانچنگ کیمپوں کا انتظام سنبھالتا رہا ہے۔

6. فردوس احمد بھٹ بھارتی شہری ہے، تاہم اس کا موجودہ پتہ پاکستان بتایا گیا ہے۔ وہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ 2018 میں قانونی سفری دستاویزات کے ذریعے واگھہ سرحد پار کرکے پاکستان گیا تھا۔ اسے لشکرِ طیبہ کا لانچنگ کمانڈر قرار دیا گیا ہے، جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار غیر ملکی دہشت گردوں کی نقل و حرکت کے لیے محفوظ راستے فراہم کرتا ہے۔ اس پر اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو اسلحہ فراہم کرنے اور جنوبی کشمیر کے نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کے لیے اکسانے کا بھی الزام ہے۔

7. غلام فرید عرف گلشن کمار پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق اس نے 2001 سے 2005 تک پاکستانی فوج میں خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں ستمبر 2008 میں بنگلہ دیش کے راستے غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوا، دسمبر 2008 میں جموں سے گرفتار ہوا اور جولائی 2019 میں اسے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔

8. ہارون رشید گنئی عرف شنو بھارتی شہری ہے، تاہم اس کا موجودہ پتہ پاکستان بتایا گیا ہے اور وہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ مارچ 2018 میں قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان گیا اور وہاں لشکرِ طیبہ میں شامل ہو گیا۔ اس پر کشمیر کے نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے اور اوور گراؤنڈ ورکرز کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کا الزام ہے۔

9. بلال احمد میر عرف احمد بھائی بھارتی شہری ہے، تاہم اس کا موجودہ پتہ مظفرآباد (پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر) بتایا گیا ہے۔ وہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر سے مقامی کشمیری نوجوانوں کو جہاد کے لیے اکساتا ہے اور کشمیر وادی میں اسلحہ، گولہ بارود اور رسد کی غیر قانونی ترسیل کے نیٹ ورک کے انتظام میں براہِ راست ملوث ہے۔

10. عابد قیوم لون بھارتی شہری ہے، تاہم اس کا موجودہ پتہ پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر (پی او کے) بتایا گیا ہے۔ وہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ فروری 2020 میں اٹاری چیک پوسٹ کے ذریعے پاکستان گیا اور واپس نہیں آیا۔ اس پر جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی، لشکرِ طیبہ کے لیے فنڈز جمع کرنے اور لائن آف کنٹرول کے راستے پاکستان سے بھارت میں بڑے پیمانے پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام ہے، جس سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردانہ  سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

11. نذیر احمد گجر عرف ابو منازل بھارتی شہری ہے، تاہم اس کا موجودہ پتہ اسلام آباد (پاکستان) بتایا گیا ہے۔ وہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ 2006 میں لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر   چلا گیا تھا۔ اس پر ڈوڈہ اور کشتواڑ میں دہشت گرد سرگرمیوں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے مقامی نوجوانوں کی بھرتی اور ڈرون کے ذریعے سامبا اور آر ایس پورہ سیکٹروں میں اسلحہ اور گولہ بارود پہنچانے کا الزام ہے۔

12. عبدل رؤوف عرف حافظ عبدل رؤوف یاحافظ عبدالرؤف، پاکستانی شہری ہے اور لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی)، جماعت الدعوۃ (جے یو ڈی) اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ 1999 سے لشکرِ طیبہ کی اعلیٰ قیادت کا رکن ہے اور حافظ سعید کی براہِ راست نگرانی میں کام کرتا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن اور المدینہ ویلفیئر ٹرسٹ جیسے فلاحی اداروں کی آڑ میں لشکر کے لیے بین الاقوامی سطح پر مالی وسائل اور عوامی حمایت حاصل کرتا رہا ہے۔ امریکہ اسے خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد (ایس ڈی جی ٹی) قرار دے چکا ہے۔

13. اشفاق احمد عرف اسحاق احمد پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ سال 2000 میں جیشِ محمد میں شامل ہوا اور بہاولپور میں تنظیم کے شعبہ حدیث اور الرحمت ٹرسٹ (جیش کا فلاحی شعبہ) کا انچارج ہے۔ اسے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر   میں جہادی تربیت دی گئی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ فضائیہ اسٹیشن پر حملے کے دوران استعمال ہونے والے پاکستانی موبائل نمبروں کے صارفین میں اس کا نام بھی شامل تھا۔

 

14. حافظ خالد ولید عرف حافظ خالد نائک، خالد ولید پاکستانی شہری ہے اور لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور جماعت الدعوۃ (جے یو ڈی) سے وابستہ ہے۔ وہ لشکر کے سربراہ حافظ محمد سعید کا داماد ہے اور 2003 سے تنظیم کی مرکزی مشاورتی کمیٹی کا رکن رہا ہے۔ حکومت کے مطابق وہ جون 2016 میں پامپور حملے کا مرکزی منصوبہ ساز تھا، جس میں سی آر پی ایف (سی آر پی ایف) کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اگست 2012 میں اسے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

15. مولانا امداد اللہ مکی عرف مولانا امداد، امداد بھائی، مولانا امداداللہ پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ جیش کے قیدیوں سے متعلق ونگ (شعبۂ اسیران) کا امیر اور تنظیم کے قانونی امور کا سربراہ ہے۔ اسے مولانا مسعود اظہر اور اس کے نائب مفتی عبدالرؤوف اصغر کا قریبی ساتھی بتایا گیا ہے۔ اس پر جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ حقیقی وقت  میں رابطہ رکھنے کا الزام ہے۔

16. مولانا سیف اللہ خالد عرف ولی اُل، محمد سلیم، واجد پاکستانی شہری ہے اور لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ (پی ایم ایم ایل) سے وابستہ ہے۔ وہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا جنرل سیکریٹری ہے اور اس سے قبل ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) کا صدر رہ چکا ہے۔ حکومت کے مطابق اس نے لشکرِ طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے متعدد شعبوں، جن میں شعبۂ تشہیر اور دعوت و اصلاح ونگ شامل ہیں، کی سربراہی کی ہے۔ امریکہ نے اپریل 2018 میں اسے عالمی دہشت گرد (ایس ڈی جی ٹی) قرار دیا تھا۔

17. محمد یعقوب عرف ابو سمامہ، سمامہ الیاس، وارث علی پاکستانی شہری ہے اور لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ اس وقت اسلام آباد (چھٹہ بختاور) سے لشکر کے آپریشنل کمانڈر کے طور پر سرگرم ہے۔ اس پر کشمیر وادی میں سرگرم لشکر کے دیگر ارکان کو بھارت میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے مالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ اس کے خلاف سری نگر کے سی آئی کشمیر پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت مقدمہ درج ہے۔

18. مولانا یوسف طیبی عرف محمد یوسف پاکستانی شہری ہے اور لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور جماعت الدعوۃ (جے یو ڈی) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ تنظیم کی مرکزی قیادت کا رکن ہے اور اس وقت دعوت و اصلاح ونگ سے وابستہ ہے۔ وہ ماضی میں کراچی میں قائم جامعہ الدراسات الاسلامیہ ٹرسٹ (جے اے ڈی آئی اے ٹی) کا انچارج رہ چکا ہے۔ فی الحال وہ لاہور کے القدسیہ اسلامک سینٹر سے وابستہ ہے اور پنجاب کے سرگودھا مرکز میں جمعہ کے خطبات دیتا ہے۔

 

19. اویس فاروق عرف اویس احمد میر، اویس فاروق میر بھارتی شہری ہے اور لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ اپریل 2018 میں بھارتی پاسپورٹ پر واہگہ سرحد کے راستے پاکستان گیا اور وہاں لشکرِ طیبہ میں شامل ہو گیا۔ جنوری 2023 میں اس کے بھائی فرزان فیروز کو سری نگر پولیس نے تقریباً 450 گرام ہیروئن (جس کی مالیت تقریباً 9.95 لاکھ روپے بتائی گئی) اور لشکرِ طیبہ کے لیٹر پیڈ کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ اس کے خلاف این آئی اے (این آئی اے) کی پلوامہ  عدالت نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 82 کے تحت انہیں مفرور قرار دیتے ہوئے اشتہاری حکم جاری کیا ہے۔

21. رانا افتخار عرف رانا ولید عاطف، رانا افتخار حیدر، رانا افتخار احمد، حیدر خان پاکستانی شہری ہے اور لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) اور جماعت الدعوۃ (جے یو ڈی) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ لشکرِ طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کا انتہائی قریبی ساتھی اور کشمیر میں تنظیم کی سرگرمیوں کے مالی امور کا مرکزی منتظم ہے۔ اس پر تنظیم کے شعبۂ اسیران کی ذمہ داری بھی ہے، جو مارے گئے یا بھارتی جیلوں میں قید دہشت گردوں کے اہلِ خانہ کی دیکھ بھال سے متعلق کام کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق 1993 میں جموں و کشمیر کے مینڈھر سیکٹر میں ایک جھڑپ کے دوران زخمی ہونے پر اسے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 2004 تک بھارتی جیل میں قید رہا۔

22. وسیم نور جاٹ عرف قاری وسیم پاکستانی شہری ہے اور جیشِ محمد (جے ای ایم) سے وابستہ ہے۔ حکومت کے مطابق وہ جیشِ محمد کا ایک لانچنگ کمانڈر ہے، جو کوٹلی سیکٹر کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ اس پر 22-2021 کے دوران ڈرون کے ذریعے بھارتی علاقے میں اسلحہ اور گولہ بارود گرانے کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسے اکتوبر 2008 میں سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا اور وہ 2012 سے 2015 تک جموں کی کوٹ بھلوال سینٹرل جیل میں قید رہا، جہاں سے رہائی کے بعد اسے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔

23. محمد شہید فیصل عرف استاد، مہندس، ذاکر پاکستانی شہری ہے، جو حکومت کے مطابق اصل میں بھارتی شہری تھا اور اس وقت راولپنڈی میں سرگرم ہے۔ اسے لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی)، القاعدہ اور داعش (آئی ایس آئی ایس) سے وابستہ بتایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق وہ 2012 کے بنگلورو میں  لشکرِ طیبہ  کاسازشی معاملہ اور 2013 کے ناندیڑ لشکرِ طیبہ کیس کا مرکزی منصوبہ ساز اور ہینڈلر تھا، جن میں دائیں بازو کے سیاست دانوں اور صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی سازش کی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ 2013 میں دہشت گرد فرحت اللہ غوری کی مدد سے پاکستان فرار ہو گیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق وہ رامیشورم کیفے دھماکہ کیس (2024)، منگلورو ککر دھماکہ اور الہند داعش ماڈیول کیس میں آن لائن ہینڈلر کے طور پر بھی ملوث رہا ہے۔ حکومت کے مطابق وہ سوشل میڈیا اور یوٹیوب و ٹیلی گرام چینلز (جیسے "صوت الحق") کے ذریعے بھارت مخالف اور جہادی ویڈیوز نشر کرکے نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کے لیے سرگرم ہے۔

 

 

*****

ش ح۔ ع ح۔م ش

 


(रिलीज़ आईडी: 2281474) आगंतुक पटल : 46
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Odia , English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Punjabi , Gujarati , Tamil