نیتی آیوگ
نیتی آیوگ کی طرف سے ’’سرمایہ کاری موافقت اشاریہ‘‘ پر مبنی رپورٹ جاری
بھارت کے سرمایہ کاری کے نظام کو مضبوط بنانا: بھارت کی ترقی کی داستان میں ریاستوں کا کلیدی کردار
سرمایہ کاری موافقت اشاریہ: سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریاستی سطح کی اصلاحات کا معیار مقرر کرنے، انہیں مؤثر بنانے اور ان کی رفتار تیز کرنے کا ایک پیمانہ
ترقی یافتہ ریاست @2047 اور مضبوط ریاستی سرمایہ کاری کے نظام کے ذریعے ترقی یافتہ بھارت کے ویژن کو آگے بڑھانا
سرمایہ کاری میں سہولت کے لیے اعداد و شمار پر مبنی حکمتِ عملی
प्रविष्टि तिथि:
17 JUL 2026 6:11PM by PIB Delhi
جولائی 2024 میں منعقدہ نیتی آیوگ کی نویں گورننگ کونسل کی میٹنگ میں وزیرِ اعظم نے نیتی آیوگ کو ہدایت دی تھی کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ضروری اہم پالیسیوں، پروگراموں اور طریقۂ کار پر مشتمل سرمایہ کاری موافق منشور تیار کیا جائے۔ اس کے بعد مرکزی بجٹ 2025–26 میں سرمایہ کاری موافقت اشاریہ تیار کرنے کا اعلان کیا گیا، تاکہ اصلاحات کو فروغ دے کر اور ریاستوں میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر کے مسابقتی اور اشتراکی وفاقیت کے جذبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اسی سلسلے میں نیتی آیوگ نے ’’سرمایہ کاری موافقت اشاریہ ‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ایک منظم اور اعداد و شمار پر مبنی فریم ورک پیش کیا گیا ہے۔ اس فریم ورک کے ذریعے یہ جانچا جائے گا کہ ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، اسے فروغ دینے اور برقرار رکھنے میں کس حد تک مؤثر ہیں۔ اس اشاریے میں سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے اہم پالیسی، ادارہ جاتی، ضابطہ جاتی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے، اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے سرمایہ کاری کے ماحول کا تقابلی تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گرچہ قومی سطح کی اصلاحات معاشی ترقی کے لیے مجموعی پالیسی سمت متعین کرتی ہیں، تاہم سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل میں ریاستی حکومتوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ مضبوط بنیادی ڈھانچہ، مؤثر ضابطہ جاتی نظام، مستحکم ادارے اور قابلِ اعتماد پالیسیوں کے ذریعے ہی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ریاستی سطح پر سرمایہ کاری کے ایسے مضبوط نظام کی تشکیل بھارت کی عالمی مسابقت بڑھانے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بلند معاشی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ سرمایہ کاری موافقت اشاریہ کا مقصد بہترین طریقۂ کار اختیار کرنے اور مسلسل اصلاحات کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں مسابقتی اور اشتراکی وفاقیت کو فروغ دینا اور ترقی یافتہ بھارت 2047 کے ویژن کو عملی جامہ پہنانا ہے۔
سرمایہ کاری موافقت اشاریہ کیوں اہم ہے
گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارت نے مسلسل معاشی ترقی کی ہے اور اب ترقی یافتہ بھارت 2047 کے ویژن کے تحت ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی سمت گامزن ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ضروری ہوگا، جس میں نجی سرمایہ کاری کو صنعت کاری، اختراع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور طویل مدتی معاشی ترقی کا بنیادی محرک تصور کیا جا رہا ہے۔
گرچہ مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات مجموعی پالیسی اور معاشی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں، لیکن سرمایہ کاری کے فیصلے بالآخر ریاستی سطح پر کاروباری ماحول کے معیار سے متاثر ہوتے ہیں۔ صنعتی اراضی کی دستیابی، معیاری طبعی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، ضابطہ جاتی نظام کی مؤثریت، ادارہ جاتی صلاحیت اور پالیسیوں کا استحکام سرمایہ کاری کی کشش کے اہم عوامل ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل میں ریاستوں کے مرکزی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری موافقت اشاریہ (آئی ایف آئی) ایک منظم، شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی فریم ورک کے طور پر تیار کیا گیا ہے، تاکہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے سرمایہ کاری کے نظام کا معروضی معیار مقرر کیا جا سکے۔
سرمایہ کاری موافقت اشاریہ (آئی ایف آئی) صرف ریاستوں کی کارکردگی کی درجہ بندی تک محدود نہیں، بلکہ یہ اصلاحات کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ یہ اشاریہ ریاستوں کی مضبوطیوں کی نشاندہی کرتا ہے، بہتری کے شعبوں کو اجاگر کرتا ہے، بہترین طریقۂ کار اپنانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ریاستوں کے درمیان باہمی تجربات سے سیکھنے کے عمل کو فروغ دیتا ہے۔ صحت مند مسابقت اور اشتراکی وفاقیت کو تقویت دے کر اس اشاریے کا مقصد سرمایہ کاری کے ماحول میں مسلسل بہتری لانا اور بھارت کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پسندیدہ عالمی منزل کے طور پر مزید مضبوط بنانا ہے۔
فریم ورک اور طریقۂ کار
سرمایہ کاری موافقت اشاریہ ملک کی تمام 28 ریاستوں اور8 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کا احاطہ کرتا ہے اور سرمایہ کاری کی کشش کا درج ذیل آٹھ ستونوں کی بنیاد پر جائزہ لیتا ہے:
- بنیادی ڈھانچہ
- کاروباری ماحول
- iii. وسائل
- iv. حکومتی پالیسیاں
- ضابطہ جاتی سہولت
- مالیاتی استحکام
- ماحولیاتی پائیداری
سرمایہ کاری موافقت اشاریہ (آئی ایف آئی) کا فریم ورک ایک جامع، منظم اور مشاورتی عمل کے ذریعے تیار کیا گیا ہے، جس میں عالمی اور ملکی سطح پر سرمایہ کاری کی درجہ بندی کے مختلف طریقۂ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس فریم ورک میں 84 اشاریے شامل ہیں، جن کی بنیاد ثانوی اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے بنیادی سروے سے حاصل ہونے والے تاثرات پر بھی رکھی گئی ہے۔
اہم نتائج اور ریاستوں کی درجہ بندی
مجموعی اسکور کی بنیاد پر ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو کارکردگی کے لحاظ سے چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:
- اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستیں (50سے زائد اسکور)
- سرِفہرست ریاستیں (45تا 50 اسکور)
- ابھرتی ہوئی کارکردگی والی ریاستیں (40یا اس سے زیادہ لیکن 45 سے کم اسکور)
- ترقی کی متلاشی ریاستیں (40سے کم اسکور)
مجموعی جائزے کے مطابق گجرات، مہاراشٹر، تمل ناڈو، گوا اور اوڈیشہ سرمایہ کاری موافقت اشاریہ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ 15 ریاستوں کو سرِفہرست ریاستوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جبکہ ابھرتی ہوئی کارکردگی والی ریاستوں اور ترقی کی متلاشی ریاستوں کے زمروں میں آٹھ، آٹھ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔
بھارت کے وفاقی نظام میں پائے جانے والے تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کا جائزہ تین ہم پلہ گروپوں میں بھی لیا گیا ہے، جن میں بڑی ریاستیں، پہاڑی اور شمال مشرقی ریاستیں، نیز مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اور شہری ریاستیں شامل ہیں۔ اس طریقۂ کار میں جغرافیائی حالات، معاشی حجم اور انتظامی پس منظر کے فرق کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے، تاکہ تقابلی جائزہ زیادہ بامعنی، منصفانہ اور حقیقت پر مبنی ہو۔
بڑی ریاستوں میں گجرات نے پہلا مقام حاصل کیا، جبکہ مہاراشٹر اور تمل ناڈو بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ یہی تینوں ریاستیں مجموعی اشاریے میں بھی سرفہرست رہیں۔ پہاڑی اور شمال مشرقی ریاستوں کے زمرے میں اتراکھنڈ پہلے، آسام دوسرے اور ہماچل پردیش تیسرے مقام پر رہا۔ شہری ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے زمرے میں گوا نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ دہلی اور چنڈی گڑھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر رہے۔
ریاستی جائزوں سے حاصل ہونے والی اہم معلومات
رپورٹ میں ہر ریاست اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس میں سرمایہ کاری موافقت اشاریہ کے مختلف ستونوں کی بنیاد پر ان کی کارکردگی کا جامع تجزیہ شامل ہے۔ ان جائزوں میں ہر ریاست کی کارکردگی کا موازنہ اُن ہم پلہ ریاستوں سے کیا گیا ہے جن کے جغرافیائی اور انتظامی حالات یکساں ہیں، تاکہ نتائج کو مقامی حالات کے تناظر میں بہتر انداز سے سمجھا جا سکے۔
ہر ریاستی جائزے میں ان اہم اشاریوں اور معاون عوامل کو نمایاں کیا گیا ہے جو ریاست کی کارکردگی کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اُن شعبوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مزید پالیسی توجہ کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں سرمایہ کاروں کے تاثرات پر مبنی سروے کے نتائج بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ کاروباری اداروں کے عملی تجربات کی حقیقی تصویر سامنے آ سکے۔ معروضی اعداد و شمار اور سرمایہ کاروں کی آرا کو یکجا کرکے ریاستی سرمایہ کاری کے نظام کا متوازن، جامع اور شواہد پر مبنی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
یہ ریاستی جائزے پالیسی سازوں کے لیے ایک عملی رہنما کے طور پر تیار کیے گئے ہیں، تاکہ وہ ترجیحی بنیادوں پر اصلاحات کا تعین کر سکیں، ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اپنی کارکردگی کا اپنے ہم پلہ علاقوں سے موازنہ کر سکیں، اور سرمایہ کار مختلف ریاستوں کی خوبیوں، مواقع اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
اس طرح سرمایہ کاری موافقت اشاریہ کو محض ایک وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی درجہ بندی کی مشق کے طور پر نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک اصلاحاتی ذریعہ کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو وقت کے ساتھ ریاستوں کو اپنے سرمایہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں رہنمائی فراہم کرے گا۔ مرکز، ریاستوں، صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل تعاون کے ذریعے اس اشاریے کا مقصد ایسا سرمایہ کاری کا ماحول تشکیل دینا ہے جو زیادہ شفاف، قابلِ اعتماد اور مضبوط ہو، بھارت کی حیثیت کو سرمایہ کاری کی ایک پسندیدہ عالمی منزل کے طور پر مزید مستحکم کرے، اور جامع، پائیدار اور طویل مدتی معاشی ترقی کو فروغ دے۔
مکمل رپورٹ یہاں دیکھی جا سکتی ہے: https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-07/Investment-Friendliness-Index.pdf
*****
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-97
(रिलीज़ आईडी: 2285921)
आगंतुक पटल : 48