کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکز اور ریاست کی شراکت داری کے ماڈل کے ذریعے  این آئی سی ڈی پی کے تحت صنعتی ٹاؤن شپ کی ترقی

حکومت نے قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام کے تحت 20 صنعتی مراکز کو منظوری دی؛ صنعتی راہداری کی ترقی کے لیے 16,172.95 کروڑ روپے منظور

عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ چار صنعتی راہداری منصوبے مکمل؛ باقی منصوبوں کے کام میں تیزی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 AUG 2026 3:20PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام (این آئی سی ڈی پی) کے تحت ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشترکہ طور پر قائم خصوصی مقصد کے اداروں (ایس پی وی) کے ذریعے صنعتی ٹاؤن شپ تیار کر رہی ہے۔ منصوبے کی ترقی کی سرگرمیوں میں ریاستی حکومت کی ترجیحات کے مطابق صنعتی مراکز کی نشاندہی، اس کے بعد تصوراتی ماسٹر پلان اور ترقیاتی منصوبہ تیار کرنا، نیز ریاستی حکومت سے ماحولیاتی منظوری اور تفصیلی ڈیزائن منصوبے کی منظوری حاصل کرنا شامل ہے۔ اس کے بعد ہی منصوبے کو منظوری کے لیے زیرِ غور لایا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت زمین کی فراہمی شکل میں اپنا تعاون فراہم کرتی ہے جبکہ مرکزی حکومت ایکویٹی اور/یا قرض کی صورت میں اپنا حصہ فراہم کرتی ہے۔

مرکزی حکومت نے قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام(این آئی سی ڈی پی) کے تحت مجموعی طور پر 20 صنعتی مراکز کو منظوری دی ہے۔ ان میں سے 12 منصوبوں کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران منظوری دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔

صنعت اور اندرونی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے صنعتی راہداری منصوبوں کی ترقی کے لیے قومی صنعتی راہداری ترقی و عمل درآمد ٹرسٹ (این آئی سی ڈی آئی ٹی) کو 16,172.95 کروڑ روپے کی رقم منظور کرکے جاری کی ہے۔ این آئی سی ڈی آئی ٹی نے قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف صنعتی مراکز/منصوبوں کی ترقی کے لیے منصوبہ جاتی خصوصی مقصدی اداروں کو مزید 14,569.97 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔

این آئی سی ڈی آئی ٹی کی جانب سے منظور شدہ منصوبوں کے لیے منصوبہ جاتی خصوصی  مقصد والے اداروں کو جاری کی گئی رقم کی ریاست وار اور منصوبہ وار تفصیلات ضمیمہ-IIمیں دی گئی ہیں۔

قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام کے تحت منظور شدہ 20 منصوبوں میں سے چار منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری 16 منصوبوں کی موجودہ صورتِ حال ضمیمہ سوم میں دی گئی ہے۔ کسی بھی منصوبے کے لیے انجینئرنگ، خریداری اور تعمیر (ای پی سی) ٹھیکیدار کی تقرری کی حقیقی تاریخ سے منصوبے کی تکمیل کی مجموعی مدت 36 سے 48 ماہ مقرر کی گئی ہے۔

صنعتی شہر/مرکز کے اندر سڑکوں، پانی کی فراہمی، پانی کی نکاسی اور بجلی کی تقسیم سمیت اندرونی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر متعلقہ منصوبہ جاتی خصوصی مقصد والےادارے کے مقرر کردہ انجینئرنگ، خریداری اور تعمیر (ای پی سی) ٹھیکیداروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ بڑے پیمانے پر پانی کی فراہمی، بجلی، ٹیلی مواصلات اور سڑکوں جیسی بیرونی رابطہ بنیادی سہولتوں کا پردھان منتری گتی شکتی قومی ماسٹر پلان (این ایم پی) پورٹل پر جامع نقشہ سازی اور جانچ کی گئی ہے۔ ان کاموں کو متعلقہ ریاستی خصوصی مقصدی ادارے کی جانب سے ریاستی محکموں/مرکزی ایجنسیوں سے مشاورت کے بعد ایس ایچ اے/ایس ایس اے کی شرائط کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔

درج ذیل اجزا ان چار مکمل شدہ منصوبوں میں تیار کیے گئے ہیں:

نمبر شمار

ریاست

نوڈ

تیار کیے گئے بنیادی ڈھانچے کے اجزا

i

گجرات

دھولرا اسپیشل انویسٹمنٹ ریجن(ڈی ایس آئی آر)

  • سڑکیں اور بنیادی سہولیات
  • انتظامی عمارت
  • پانی کا حصول اور ترسیل
  • پانی صاف کرنے کا پلانٹ
  • سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ
  • مشترکہ فضلے کے علاج کا پلانٹ
  • بجلی کا بنیادی ڈھانچہ
  • اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی سہولیات

ii

مہاراشٹر

شیندرا-بڈکن انڈسٹریل ایریا (ایس بی آئی اے)

iii

اتر پردیش

انٹیگریٹڈ انڈسٹریل ٹاؤن شپ - گریٹر نوئیڈا (آئی آئی ٹی- جی این)

iv

مدھیہ پردیش

انٹیگریٹڈ انڈسٹریل ٹاؤن شپ - وکرم صنعت پوری (آئی آئی ٹی-وی یو ایل)

 

منصوبوں کے نفاذ میں تیزی لانے اور انہیں بروقت مکمل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جاتے ہیں:

  • ایک اعلیٰ سطحی نگرانی کا ادارہ باقاعدگی سے این آئی سی ڈی آئی ٹی کی سرگرمیوں اور صنعتی راہداری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتا ہے۔
  • ڈی پی آئی آئی ٹی، این آئی سی ڈی آئی ٹی کے ذریعے، ریاستی حکومتوں، متعلقہ اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے افسران کے ساتھ ان منصوبوں کی ترقی کی باقاعدگی سے نگرانی کرتا ہے۔
  • خطرات کو کم کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں اور متعلقہ محکموں کے ساتھ تال میل کے ذریعے تمام ضروری ضابطہ جاتی اور قانونی منظوری بروقت حاصل کی جاتی ہے۔
  • مختلف سطحوں پر منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جاتی ہے اور جہاں ضرورت ہو، ضروری پالیسی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
  • منصوبوں کے نفاذ میں تیزی لانے، رکاوٹوں کو دور کرنے اور بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے پراگتی اور پی ایم جی پورٹلز سے بھرپور استفادہ کیا جاتا ہے۔
  •  
  • ANNEXURE-I

 

Sl.No

State

Name

Project approval year

1

Uttarakhand

IMC at Khurpia

August, 2024

2

Punjab

IMC at Rajpura

3

Maharashtra

Dighi Port Industrial Area

4

Kerala

Palakkad Industrial Area

5

Rajasthan

Jodhpur Pali Marwar Industrial Area

6

Haryana

IMC at Hisar

7

Uttar Pradesh

IMC at Agra

8

IMC at Prayagraj

9

Bihar

IMC at Gaya

10

Andhra Pradesh

Orvakal Industrial Area

11

Kopparthy Industrial Area

12

Telangana

Zaheerabad Industrial Area

  •  
  •  
  • ANNEXURE-II
  •  

Sl.

No

State

Name

Project Cost

(in crore)

Funds released

(in crore)

1.

Gujarat

Dholera Special Investment Region (DSIR)

2784

Equity - 2784

2.

Maharashtra

Shendra-Bidkin Industrial

Area (SBIA)

7947

Equity - 3000

Dighi Port Industrial Area

5469

Equity - 701.13

3.

Uttar Pradesh

Integrated Industrial Township – Greater Noida

(IIT-GN)

1714

Equity - 617.20

Multi Modal Logistics Hub (MMLH) at Dadri & Multi

Modal Transport Hub (MMTH) at Boraki

3907

Equity - 853.05

IMC at Prayagraj

658

Equity - 323.09

IMC at Agra

1812

Equity – 2.50

4

Madhya Pradesh

Integrated Industrial

Township – Vikram Udyogpuri (IIT-VUL)

808

Equity - 55.93

Debt – 83.70

5

Haryana

Integrated Multi-Modal Logistics Hub – Nangal Chaudhary (IMLH- NC)

1029

Equity - 211.63

Debt – 212.15

IMC at Hisar

4,680

Equity - 2.45

6

Rajasthan

Jodhpur Pali Marwar Industrial Cluster (JPMIA)

922

Equity - 327.69

7

Andhra Pradesh

Krishnapatnam Industrial

Area

2,139

Equity - 533.86

Orvakal Industrial Area

2,786

Equity - 500.26

Kopparthy Industrial Area

2,136

Equity - 500.20

8

Karnataka

Tumakuru Industrial Area

1,701

Equity - 586.74

9

Kerala

Palakkad Industrial Area

3,805

Equity - 936.96

10

Uttarakhand

IMC at Khurpia Farm

1,265

Equity – 405.46

11

Punjab

IMC at Rajpura Patiala

1,367

Equity - 215.60

12

Bihar

IMC at Gaya

1,339

Equity - 134.72

13

Telangana

Zaheerabad Industrial Area

2,360

Equity - 536.23

 

ANNEXURE-III

 

S.

No.

Name of Project & Corridor

Area (acre)

Status

1

Krishnapatnam, Andhra Pradesh - CBIC

2,006

EPC contractor appointed in Feb’ 2024.

2

Tumakuru, Karnataka - CBIC

1,736

EPC contractor appointed in Feb’ 2023.

06 industrial plots admeasuring 250 acres allotted.

3

Integrated Multi-Modal Logistics Hub – Nangal Chaudhary

(IMLH-NC), Haryana - DMIC

886

Project to be executed on PPP basis.

External connectivity works (road, power and external rail connectivity) are complete.

Project appraised by PPPAC in July, 2025.

The locomotive trial run to check the fitness of all tracks has been completed in June 2026.

4

Multi Modal Logistics Hub (MMLH)- Uttar Pradesh - DMIC

825

Project to be executed on PPP basis.

Tender re-floated for appointment of concessionaire in July 2026.

 

Multi Modal Transport Hub (MMTH) - Boraki, Uttar Pradesh - DMIC

358

The project declared as a Special Railway Project by Ministry of Railway in Dec 2024.

Engineering Scale Plan (ESP) for Boraki station-Development approved by NCR in May, 2025 for

finalization of master plan, cost estimates, appointment of EPC contractor.

5

Dighi,

Maharashtra

-

6,056

Execution of SHA & SSA:

 

DMIC

 

 

 

Completed. Incorporation of SPV: Completed.

6

Jodhpur

Pali

Marwar

1,577

 

Industrial

 

Cluster

 

Programme Manager for New Cities (PMNC)

 

(JPMIA) - Rajasthan

 

onboarded except Prayagraj.

7

Rajpura, Punjab - AKIC

1,099

EPC onboarded for 10 projects.

8

Khurpia, Uttarakhand

1,002

 

- AKIC

 

 

9

Prayagraj, Uttar

351

 

 

Pradesh - AKIC

 

 

10

Gaya, Bihar - AKIC

1,670

 

11

Kopparthy, Andhra

2,595

 

 

Pradesh - VCIC

 

 

12

Orvakal,

 

Andhra

2,621

 

 

Pradesh - HBIC

 

 

13

Zaheerabad,

3,245

 

 

Telangana - HNIC

 

 

14

Palakkad, Kerala –

1,710

 

 

CBIC extn.

 

 

15

Hisar, Haryana - AKIC

2,988

Execution of SHA & SSA:

Completed. Incorporation of SPV: Completed. PMNC onboarded.

16

Agra, Uttar Pradesh - AKIC

1,058

Matter awaiting clearance from the Supreme Court on account of falling under the Taj

Trapezium Zone (TTZ).

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ معلومات وزارتِ تجارت و صنعت کے وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

**** *****

 

 

 

UR-1798

(ش ح۔ م ع ن ۔ ج)


(ریلیز آئی ڈی: 2297522) وزیٹر کاؤنٹر : 47
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी