PIB Backgrounder
ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے ذریعے حکمرانی کو بااختیار بنانا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 6:20PM by PIB Delhi
ایک مربوط اور شہری مرکزیت رکھنے والے بھارت کی تعمیر
ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے ذریعے ، بھارت میں حکمرانی کے نظام میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ جو عوامی خدمات پہلے بڑے پیمانے پر کاغذی کارروائی اور سرکاری دفاتر میں حاضری پر منحصر تھیں، وہ اب مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے دستیاب ہیں۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ، ڈی پی آئی نے غیر معمولی پیمانے پر شہریوں، حکومتوں اور اداروں کو ایک دوسرے سے جوڑا ہے۔ اس نے حکمرانی کے نظام کو تیز تر، شفاف اور شہریوں کی ضروریات کے تئیں زیادہ جواب دہ بنا دیا ہے۔
ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ، بھارت کی اقتصادی ترقی کا بھی ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت اب بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 12 سے 14 فی صد تعاون دے رہی ہے اور آئندہ دہائی کے دوران ، اس کے 20 فی صد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اسٹیٹ آف انڈیا کی ڈیجیٹل اکانومی رپورٹ 2026 کے مطابق، بھارت اب دنیا کی پانچویں سب سے بڑی ڈیجیٹل معیشت اور جی 20 ممالک میں چوتھی سب سے بلند درجہ بندی رکھنے والی معیشت ہے۔ بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے، ایسے میں ڈیجیٹل حکمرانی کا مسلسل پھیلاؤ عوامی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنا رہا ہے، اقتصادی مواقع پیدا کر رہا ہے اور وکست بھارت کے ویژن کو آگے بڑھا رہا ہے۔
بھارت میں ڈیجیٹل طور پر خود کفیل بننے کے سفر کے اہم سنگِ میل
الیکٹرانکس مینو فیکچرنگ : بھارت کے خود کفیل بننے کے عمل کا فروغ

میک اِن انڈیا کے ویژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، بھارت الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بن کر ابھرا ہے۔ پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم، الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس)، انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) اور موڈیفائیڈ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز (ای ایم سی 2.0) سمیت اہم اقدامات نے ، بھارت میں مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنایا ہے۔
- الیکٹرانکس کی پیداوار میں 7 گنا اضافہ: الیکٹرانکس کی پیداوار 15-2014 ء میں 1.9 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 26-2025 ء میں 13.11 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی۔
- الیکٹرانکس کی برآمدات میں 11 گنا اضافہ: اسی مدت کے دوران الیکٹرانکس کی برآمدات 38,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 4.24 لاکھ کروڑ روپے ہوگئیں۔
- برآمدات کا تیسرا سب سے بڑا شعبہ: الیکٹرانک اشیاء اب بھارت کی برآمدات کی تیسری سب سے بڑی قسم بن گئی ہیں، مالی سال 26-2025 ء میں ، ان کی برآمدات 47.96 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
- روزگار اور خواتین کی شرکت: الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا ماحولیاتی نظام تقریباً 25 لاکھ ملازمتوں کو سہارا دے رہا ہے، جن میں خواتین افرادی قوت کا تقریباً 30 فی صد ہیں۔
|
بھارت کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تعمیر
مرکزی کابینہ نے ، بھارت کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 1.27 لاکھ کروڑ روپے کے مالیاتی حجم کے ساتھ سیمی کون 2.0 کو منظوری دی۔ آئی ایس ایم 1.0 کے تحت 1.64 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 12 سیمی کنڈکٹر یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں سے تین مراکز میں پہلے ہی تجارتی پیداوار شروع ہو چکی ہے، جب کہ ایک اور یونٹ کے اس سال کام شروع کرنے کی توقع ہے۔
|
موبائل فون: ترقی کا ایک اہم محرک

- موبائل مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز: بھارت اب دنیا میں موبائل فون تیار کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ مالی سال 15-2014 ء میں موبائل فون بھارت کی برآمدات کی 153ویں سب سے بڑی شے تھی، جو مالی سال 26-2025 ء میں بڑھ کر ، بھارت کی سب سے بڑی برآمدی مصنوعات بن گیا ہے ۔
- موبائل فون کی پیداوار میں 33 گنا اضافہ: پیداوار 15-2014 ء میں 18,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 26-2025 ء میں 6.27 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی۔
- موبائل فون کی برآمدات میں 165 گنا اضافہ: اسی مدت کے دوران ، برآمدات 1,500 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2.59 لاکھ کروڑ روپے ہوگئیں۔
- روزگار اور خواتین کی شرکت: موبائل مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 12 لاکھ ملازمتوں میں سے تقریباً 70 فی صد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے۔
ٹیلی مواصلات کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری
- ٹیلی فون کنکٹیویٹی: ٹیلی فون کنکشنز کی تعداد 2014 ء میں 93.3 کروڑ سے بڑھ کر جون ، 2026 ء کے اختتام تک 134.8 کروڑ سے تجاوز کرگئی۔
- ٹیلی ڈینسٹی میں اضافہ: ٹیلی ڈینسٹی 2014 ء میں 75.23 فی صد سے بڑھ کر جون ، 2026 ء کے اختتام تک 94.31 فی صد ہوگئی۔
- وائرلیس موبائل صارفین: جون ، 2026 ء میں فعال وائرلیس موبائل صارفین کی تعداد 1201.06 ملین تک پہنچ گئی۔
انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کنکٹیویٹی

- انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں چار گنا اضافہ: انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 2014 ء میں 25.15 کروڑ سے بڑھ کر مارچ ، 2026 ء کے اختتام تک 109.2 کروڑ سے تجاوز کرگئی۔
- سستے موبائل ڈیٹا کی سہولت: وائرلیس ڈیٹا کی قیمت 2014 ء میں 308 روپے فی جی بی سے نمایاں طور پر کم ہوکر 2026 ء میں 7.51 روپے فی جی بی ہوگئی، جس سے ڈیجیٹل خدمات مزید سستی اور قابلِ رسائی ہوگئی ہیں۔
- موبائل براڈ بینڈ کی رفتار: اوکلا کے عالمی اسپیڈ ٹیسٹ انڈیکس کے مطابق، موبائل براڈ بینڈ کی اوسط ڈاؤن لوڈ رفتار مارچ ، 2022 ء میں 13.67 ایم بی پی ایس سے بڑھ کر دسمبر ، 2025 ء میں 132.00 ایم بی پی ایس ہوگئی۔
- ملک گیر 5 جی توسیع: اب تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 99.9 فی صد اضلاع میں 5 جی خدمات دستیاب ہیں۔ جون ، 2026 ء میں 5 جی بیس ٹرانسیور اسٹیشنز (بی ٹی ایس) کی تعداد بڑھ کر 5.63 لاکھ ہوگئی۔
- دیہی موبائل کنیکٹیویٹی میں توسیع: بی ایس این ایل اور دیگر آپریٹرز کے ذریعے اب مجموعی طور پر 6.31 لاکھ دیہات کو 4 جی خدمات سے جوڑ دیا گیا ہے۔
- بھارت نیٹ اقدام کے تحت کنیکٹیویٹی: جون ، 2026 ء تک 2.21 لاکھ گرام پنچایتیں خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، جنہیں 8.5 لاکھ روٹ کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر کیبل کے ذریعے معاونت حاصل ہے۔
- پی ایم-وانی: پی ایم-وانی عوامی ڈیٹا دفاتر اور دیگر ماحولیاتی نظام کے شراکت داروں کے تقسیم شدہ نیٹ ورک کے ذریعے سستے عوامی وائی فائی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ 28 فروری ، 2026 ء تک ملک بھر میں 4 لاکھ سے زیادہ ہاٹ اسپاٹس انسٹال کیے جاچکے ہیں۔ مئی ، 2026 ء میں متعارف کرائی گئی نئی اصلاحات کے تحت کیو آر کوڈ پر مبنی تصدیق، 15، 30 اور 60 منٹ کے وائی فائی پلانز اور ہاٹ اسپاٹس کے لیے معیاری نام متعارف کرائے گئے ہیں۔
|
بھارت 6 جی کے دور کی تیاری کر رہا ہے
بھارت 6 جی ویژن کا مقصد 2030 ء تک بھارت کو 6 جی ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل کرنا ہے، جس کے لیے مقامی تحقیق، دانشورانہ ملکیت، معیارات کی تیاری اور اگلی نسل کی ٹیلی کام اختراعات پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔
|
یو پی آئی: بلارکاوٹ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو تقویت

یو پی آئی ، دنیا بھر میں حقیقی وقت میں ہونے والی ادائیگیوں کے تقریباً 50 فی صد لین دین کا احاطہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ لین دین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا حقیقی وقت ادائیگی کا نظام بن گیا ہے۔
- لین دین کا حجم: مالی سال 26-2025 ء میں یو پی آئی کے ذریعے 24,161.69 کروڑ لین دین کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 314.23 لاکھ کروڑ روپے رہی۔
- بھارت کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگی نیٹ ورک: یو پی آئی 55.49 کروڑ سے زیادہ افراد، 6.5 کروڑ تاجروں اور 731 بینکوں کو ایک ہی پلیٹ فارم سے جوڑتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگی نظام بن گیا ہے۔
- بھارت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں یو پی آئی کا حصہ: مالی سال 26-2025 ء میں ، بھارت میں حجم کے لحاظ سے ہونے والے ڈیجیٹل ادائیگی کے لین دین میں یو پی آئی کا حصہ 85 فی صد رہا۔
- ماہانہ لین دین میں زبردست اضافہ: یو پی آئی کے ذریعے ہونے والے لین دین کی تعداد 2016 ء میں ایک ماہ میں 0.01 کروڑ سے بڑھ کر 2025 ء تک ایک ماہ میں 2,000 کروڑ سے زیادہ ہوگئی، جو پورے بھارت میں اس کے تیزی سے بڑھتے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔
- یو پی آئی کی عالمی سطح پر توسیع: اب 11 غیر ملکی ممالک میں ، جن میں کمبوڈیا، سنگاپور، متحدہ عرب امارات، فرانس، ماریشس وغیرہ شامل ہیں، یو پی آئی کو ادائیگی کے لیے قبول کیا جاتا ہے۔
- ڈیجیٹل تجارت کے لیے کھلا نیٹ ورک (او این ڈی سی) : او این ڈی سی مختلف پلیٹ فارموں کے ذریعے خریداروں اور فروخت کنندگان کو جوڑتے ہوئے ایک کھلا ڈیجیٹل تجارتی ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہا ہے۔
- جون ، 2026 ء تک اس کے 20 کروڑ سے زیادہ خریدار، 5 لاکھ فروخت کنندگان موجود تھے، یہ 1,000 شہروں میں فعال تھا اور ہر ماہ تقریباً 90 لاکھ لین دین کیے جارہے تھے۔
- ای سَرَس اور انڈیا ہینڈ میڈ کے ساتھ اس کے انضمام نے 11 سے زیادہ خریدار ایپس کے ذریعے اپنی مدد آپ گروپوں، بُنکروں اور دستکاروں کے لیے منڈی تک رسائی کو وسعت دی ہے، جب کہ سہایک واٹس ایپ بوٹ 5 زبانوں میں چھوٹے کاروباروں کی مدد کرتا ہے۔
- گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) : جی ای ایم نے سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف، مؤثر اور کاغذ سے پاک بنا کر اس میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔
- جون ، 2026 ء تک جی ای ایم نے مجموعی طور پر 18.4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی مجموعی تجارتی مالیت (جی ایم وی) ریکارڈ کی، جس میں مالی سال 26-2025 ء کے دوران 5 لاکھ کروڑ روپے شامل ہیں، جب کہ 11 لاکھ سے زیادہ ایم ایس ایم ایز کو سرکاری منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنایا گیا۔
- سوایت (اسٹارٹ اَپ رَن وے فار وِیمن اینڈ یوتھ-لیڈ انٹرپرائزز) اقدام: یہ اقدام جی ای ایم کے ذریعے اسٹارٹ اَپس، خواتین اور نوجوانوں کی قیادت والے کاروباری اداروں کو براہِ راست سرکاری خریداروں تک رسائی فراہم کرکے جامع سرکاری خریداری کو فروغ دیتا ہے۔
- مالی سال 26-2025 ء تک خواتین کی قیادت والے کاروباری اداروں نے مجموعی طور پر 83,323 کروڑ روپے اور اسٹارٹ اَپس نے 54,005.8 کروڑ روپے کی مجموعی آرڈر مالیت ریکارڈ کی، جو اس اقدام کی بڑھتی ہوئی رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔
ای-گورننس کے اقدامات، جو حکومت سے شہریوں تک خدمات میں انقلابی تبدیلی لا رہے ہیں
- ڈیجی لاکر: ڈیجی لاکر محفوظ ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے کاغذی دستاویزات کی جگہ لے رہا ہے۔ 31 جولائی ، 2026 ء تک اس پلیٹ فارم پر 72 کروڑ سے زیادہ صارفین رجسٹر ہوچکے ہیں اور 934 کروڑ سے زائد دستاویزات جاری کی جاچکی ہیں۔
- اُمنگ: اُمنگ سرکاری خدمات کے لیے ایک واحد ڈیجیٹل دروازے کے طور پر ابھرا ہے۔ 2017 ء میں 166 خدمات سے بڑھ کر 23 جولائی ، 2026 ء تک اس پلیٹ فارم پر 2,585 خدمات دستیاب ہوگئی ہیں۔ لین دین کی تعداد بھی 4.6 کروڑ سے بڑھ کر 23 جولائی 2026 ء تک 798 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے، جو ڈیجیٹل خدمات کے وسیع پیمانے پر استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔
- آدھار: آدھار نے محفوظ اور فوری ڈیجیٹل تصدیق کے لیے ایک قابلِ اعتماد بایو میٹرک شناختی پلیٹ فارم قائم کیا ہے۔ آدھار کے اجرا کی تعداد 11-2010 ء میں 0.42 کروڑ سے بڑھ کر جولائی ، 2026 ء تک 145 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔
- کامن سروس سینٹرز: کامن سروس سینٹرز حکومت سے شہریوں تک (جی ٹو سی) ای-خدمات کی فراہمی کے لیے زمینی سطح پر رسائی کے مراکز فراہم کرتے ہیں، جس سے سرکاری دفاتر جانے کی ضرورت کم ہوگئی ہے۔ جون ، 2026 ء تک پورے بھارت میں 5.16 لاکھ سے زیادہ کامن سروس سینٹرز فعال تھے۔
- براہِ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی ) : آدھار سے منسلک ڈی بی ٹی کے ذریعے 56 وزارتوں کی 318 اسکیموں کے تحت فلاحی فوائد براہِ راست مستحقین کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے جاتے ہیں۔ ملک بھر میں ڈی بی ٹی کے ذریعے 52 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ منتقل کیے جاچکے ہیں۔ مزید پڑھیں: ڈیجیٹل انڈیا
تعلیمی رسائی کو فروغ دینے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارم
- دِکشا: دِکشا نصاب سے منسلک تعلیمی مواد، کیو آر کوڈ والی درسی کتابیں، اساتذہ کی تربیت اور قابلِ رسائی تعلیمی وسائل فراہم کرتا ہے۔ 10 اگست ، 2026 ء تک اس کے 2.35 کروڑ رجسٹرڈ صارفین اور روزانہ 3.58 لاکھ فعال صارفین تھے۔
- سویم: سویم نویں جماعت سے پوسٹ گریجویٹ سطح تک مفت کورسز فراہم کرتا ہے۔ 10 اگست ، 2026 ء تک اس پلیٹ فارم پر مختلف شعبوں میں 20,000 سے زیادہ کورسز موجود تھے اور مجموعی طور پر 6.5 کروڑ سے زیادہ داخلے ہوچکے تھے۔
- سویم پربھا: یہ جی سیٹ-15 سیٹلائٹ کے ذریعے 40 ڈی ٹی ایچ چینلز پر معیاری تعلیمی پروگرام 24 گھنٹے نشر کرتا ہے، جس سے طلباء انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر بھی تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
- پی ایم ای-ودیا: پی ایم ای-ودیا دِکشا، سویم، سویم پربھا، کمیونٹی ریڈیو اور تعلیمی ٹیلی ویژن کو یکجا کرکے بلا تعطل اور جامع تعلیم میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
- آٹو میٹڈ پرماننٹ اکیڈمک اکاؤنٹ رجسٹری (اے پی اے اے آر - اَپار): اَپار طلباء کو تعلیمی ریکارڈ محفوظ کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے ایک منفرد ڈیجیٹل تعلیمی شناخت فراہم کرتا ہے۔ جون ، 2026 ء تک 33.74 کروڑ سے زیادہ اے پی اے اے آر - اَپار آئی ڈیز تیار کی جاچکی تھیں۔
|
امتحانات میں دھوکہ دہی کے خلاف ایک مضبوط نظام
31 جولائی ، 2026 ء کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا عوامی امتحانات (غیر مناسب طور طریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026، سخت سزاؤں اور مقررہ مدت کے اندر انصاف کی فراہمی کے طریقۂ کار کی تجویز پیش کرتا ہے۔ بل کے تحت انفرادی طور پر جرم کرنے والوں کو 5 سے 10 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی، خدمات فراہم کرنے والوں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ اور 8 سال کی پابندی عائد کی جائے گی، جب کہ منظم امتحانی دھوکہ دہی کے گروہوں کو 7 سے 10 سال تک قید اور کم از کم 10 کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ تحقیقات 2 ماہ کے اندر مکمل کرنا ضروری ہوگا، فردِ جرم داخل کیے جانے کے 3 ماہ کے اندر مقدمے کی سماعت مکمل کرنی ہوگی، جب کہ ہائی کورٹ میں دائر اپیلوں کا داخلہ منظور ہونے کے 3 ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔
|
بھارت کی ڈیجیٹل افرادی قوت کو تقویت دینا
- فیوچر اسکلز پرائم: یہ پلیٹ فارم سیکھنے والوں کو آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے میں ضروری جدید ترین مہارتوں سے لیس کرتا ہے۔ 10 اگست ، 2026 ء تک ڈیجیٹل مہارتوں کے لیے اس پلیٹ فارم پر 34 لاکھ سے زیادہ صارفین رجسٹرڈ تھے۔
- اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ – سِدھ ) : ایس آئی ڈی ایچ ہنرمندی، ڈیجیٹل تعلیم اور روزگار کے مواقع کو ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کرتا ہے۔ 2 اگست ، 2026 ء تک اس پر 20.10 ملین رجسٹریشن ہوچکے تھے، 3,643 اپنی رفتار سے مکمل کیے جانے والے کورسز دستیاب تھے اور 10 لاکھ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جاچکے تھے۔
- نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (این آئی ای ایل آئی ٹی - نیلیٹ) : این آئی ای ایل آئی ٹی - نیلیٹ 56 مراکز اور پورے بھارت میں 9,000 سے زیادہ شراکت دار اداروں کے ذریعے کمپیوٹر کے بنیادی تصورات سے آگاہی (اویئر نیس اِن کمپیوٹر کنسیپٹس - اے سی سی) اور کمپیوٹر کے بنیادی تصورات کا کورس ( کورس آن کمپیوٹر کنسیپٹس - سی سی سی) سمیت ڈیجیٹل خواندگی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگرام دستیاب کراتا ہے۔ گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران 31.92 لاکھ سے زیادہ امیدواروں کو تربیت دی جاچکی ہے۔
- انڈیا اے آئی مشن: انڈیا اے آئی مشن ، مصنوعی ذہانت کی تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور ذمہ دارانہ طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کو مضبوط بنا رہا ہے۔ انڈیا اے آئی کوش جیسے اقدامات کے ذریعے اسکولوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کو فروغ دیا جارہا ہے۔ مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھارت میں تبدیلی
بھارت کا بڑھتا ہوا ڈیجیٹل عروج
بھارت کا ڈیجیٹل عروج شہریوں، کاروبار اور اداروں کے حکومت اور معیشت کے ساتھ تعامل کے طریقے کو تبدیل کر رہا ہے۔ تیزی سے پھیلتا ہوا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام تیز تر خدمات، زیادہ شفافیت اور وسیع تر رسائی کو ممکن بنا رہا ہے۔ ڈیجیٹل پبلک بنیادی ڈھانچہ اختراع، کاروباری سرگرمیوں اور جامع ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں اور بھارت کی عالمی ڈیجیٹل موجودگی مضبوط ہورہی ہے۔ ڈیجیٹل صلاحیتیں حکمرانی کو زیادہ جواب دہ، مؤثر اور شہری مرکزیت کا حامل بھی بنا رہی ہیں۔ یہ تبدیلی ٹیکنالوجی کو اقتصادی مواقع اور سماجی ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ بنانے میں مدد دے رہی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ پیش رفت ڈیجیٹل طور پر با اختیار اور وکست بھارت کی مضبوط بنیادیں استوار کر رہی ہے۔
حوالہ جات
وزارت مواصلات
الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت
وزارتِ خزانہ
پی آئی بی بیک گراؤنڈر
وزارت تجارت اور صنعت
ڈیجیٹل انڈیا پہل
بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کی صورتِ حال 2026
Empowering Governance through Digital Infrastructure
Click here to see pdf
........................................................................................................
) ش ح –م م - ع ا )
U.No. 2804
(ریلیز آئی ڈی: 2305055)
وزیٹر کاؤنٹر : 4