PIB Backgrounder
پردھان منتری کھنج شیتر کلیان یوجنا (پی ایم کے کے کے وائی)
کان کنی کے فوائد ان لوگوں تک پہنچانا جو اس کی قیمت چکاتے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 SEP 2026 6:03PM by PIB Delhi
جائزہ
معدنیات، ملک کا ایک اہم قومی وسائل ہیں۔ ان کے انخلاء سے آمدنی حاصل ہوتی ہے، صنعتوں کو فروغ ملتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم، جن اضلاع میں کان کنی ہوتی ہے، وہاں کے لوگوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ بے دخلی، آلودگی اور روایتی ذرائع معاش کی محرومی وہاں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔
بھارت نے ان برادریوں تک کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ پہنچانے کے لیے ایک خصوصی نظام قائم کیا ہے۔ یہ نظام ضلعی معدنی فاؤنڈیشنوں (ڈی ایم ایف)کے ذریعے کام کرتا ہے۔ ڈی ایم ایف کان کنی کی لیز رکھنے والوں سے قانونی طور پر مقررہ حصہ وصول کرتے ہیں۔ پردھان منتری کھنج شیتر کلیان یوجنا (پی ایم کے کے کے وائی)، جو 17 ستمبر 2015 کو شروع کی گئی تھی، ان فنڈز کو زمینی سطح پر فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی رہنمائی کرتی ہے۔
اسکیم کے بارے میں
کان کنی سے متاثرہ ہر علاقے میں سماجی اور بنیادی ڈھانچے کی کم از کم معیاری سہولیات ہونی چاہئیں۔ پردھان منتری کھنج شیترکلیان یوجنا (پی ایم کے کے کے وائی) قومی مفاد میں ایسے علاقوں اور وہاں کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس اسکیم پر عمل درآمد ضلعی معدنی فاؤنڈیشنوں (ڈی ایم ایف) کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایکٹ کے تحت انہیں حاصل ہونے والے فنڈز استعمال کیے جاتے ہیں۔
کانوں اور معدنیات (ترقی و ضابطہ کاری) ایکٹ، 1957 کے تحت ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ڈی ایم ایف سے متعلق ضوابط میں پی ایم کے کے کے وائی کو شامل کریں۔ اسکیم کے لیے نظرثانی شدہ رہنما خطوط جنوری 2024 میں جاری کیے گئے تھے۔ ان میں منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے ایک تازہ ترین طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے۔
مقاصد
- کان کنی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر عمل درآمد کرنا۔ یہ کام ریاستوں اور مرکز کے جاری پروگراموں کی تکمیل کرتے ہیں۔
- مقامی لوگوں کے ماحول، صحت اور سماجی و اقتصادی حالات پر کان کنی کے منفی اثرات کو کم سے کم کرنا۔ اس میں کان کنی کے دوران اور اس کے اختتام کے بعد مرتب ہونے والے اثرات بھی شامل ہیں۔
- متاثرہ آبادی کے لیے طویل مدتی اور پائیدار ذرائع معاش کو یقینی بنانا۔
ضلعی معدنی فاؤنڈیشن: ادارہ جاتی بنیاد
ضلعی معدنی فاؤنڈیشن (ڈی ایم ایف) کی فراہمی کانوں اور معدنیات (ترقی و ضابطہ کاری) ایکٹ، 1957 میں 2015 کی ترمیم کے ذریعے کی گئی۔ ڈی ایم ایف غیر منافع بخش ٹرسٹ ہیں، جن کا مقصد کان کنی سے متعلق سرگرمیوں سے متاثرہ افراد اور علاقوں کے مفاد میں کام کرنا ہے۔ اس کے دائرے میں کان کنی سے متاثرہ ہر ضلع شامل ہے۔ ڈی ایم ایف کا انتظام متعلقہ ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے۔ ڈی ایم ایف کے لیے فنڈ ضلع کی سطح پر جمع کیا جاتا ہے۔ اب تک 23 ریاستوں کے 656 اضلاع میں ڈی ایم ایف قائم کیے جا چکے ہیں۔ ہر ریاست نے اپنے ڈی ایم ایف کے لیے الگ قواعد وضع کیے ہیں۔
درج فہرست اور قبائلی علاقوں کے لیے حفاظتی اقدامات
کان کنی سے متعلق سرگرمیوں کے اثرات ملک کے کم ترقی یافتہ اور دور دراز علاقوں پر زیادہ پڑتے ہیں۔ ان سے کمزور طبقات، بالخصوص درج فہرست قبائل، بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان علاقوں اور برادریوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور ان کے مفادات کا خاص خیال رکھا جائے۔ ضوابط وضع کرتے وقت ریاستی حکومت درج فہرست اور قبائلی علاقوں کے انتظام سے متعلق آئینی دفعات پر عمل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پنچایتوں (درج فہرست علاقوں تک توسیع) ایکٹ، 1996 اور درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگل کے باشندوں (جنگلاتی حقوق کی منظوری) ایکٹ، 2006 کی دفعات کی بھی پابندی کی جاتی ہے۔
فاؤنڈیشن کے لیے فنڈز کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے
کان کنی کی لیز رکھنے والوں کو نکالی گئی معدنیات کی مقدار کے تناسب سے اس کے عوض ایک مقررہ رقم ادا کرنا ہوتی ہے، جسے رائلٹی کہا جاتا ہے۔ ضلعی معدنی فاؤنڈیشن (ڈی ایم ایف) کے لیے مالی تعاون کی شرح درج ذیل مقرر کی گئی ہے:
- 12.01.2015 کو یا اس کے بعد دی گئی کان کنی کی لیز یا پروسپیکٹنگ لائسنس کم کان کنی کی لیز کے سلسلے میں رائلٹی کا 10 فیصد۔
- 12.01.2015 سے پہلے دی گئی کان کنی کی لیز کے سلسلے میں رائلٹی کا 30 فیصد۔
فنڈز کہاں خرچ کیے جاتے ہیں
پی ایم کے کے کے وائی کے فنڈز کا استعمال ایک مقررہ طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے، جس میں ترجیحی فلاحی ضروریات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے درمیان توازن قائم رکھا جاتا ہے۔
اعلی ترجیح والے شعبے: کم از کم 70 فیصد فنڈز
- پینے کے پانی کی فراہمی۔
- ماحولیات کا تحفظ اور آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات۔
- صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم۔
- خواتین اور بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی فلاح و بہبود۔
- ہنر مندی کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔
- صفائی ستھرائی اور رہائش۔
- زراعت اور مویشی پروری۔
دیگر ترجیحی شعبے: زیادہ سے زیادہ 30 فیصد فنڈز
- بنیادی ڈھانچے کی ترقی۔
- آبپاشی۔
- توانائی اور آبی ذخائر کے علاقے کی ترقی۔
- کوئی بھی ایسا دیگر اقدام جس سے کان کنی والے اضلاع میں ماحولیاتی معیار بہتر ہو۔
زمینی سطح پر پیش رفت
عمل درآمد کا پیمانہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ اب تک 4.70 لاکھ سے زیادہ منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کی مجموعی مالیت ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ ان میں سے 2.92 لاکھ سے زیادہ منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ مزید 78,809 کام زیر عمل ہیں، جن کے لیے 30,512 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی جا چکی ہے، جو جولائی 2026 تک کے اعداد و شمار ہیں۔
|
منصوبے کی حیثیت
|
منصوبوں کی تعداد
|
رقم (کروڑ روپے)
|
|
منظور شدہ
|
4,70,020
|
1,09,938
|
|
مکمل شدہ
|
2,92,156
|
49,973
|
|
جاری
|
78,809
|
30,512 (عزائم)
|

کان کنی سے متاثرہ اضلاع کے لیے برابر کا حصہ
معدنی وسائل ملک کی ملکیت ہیں، اس لیے ان کے فوائد اُن لوگوں تک بھی پہنچنے چاہئیں جو کان کنی کے انخلا کے اثرات برداشت کرتے ہیں۔ڈی ایم ایف-پی ایم کےکےوائیکے ذریعے ان فوائد کو کان کنی سے متاثرہ علاقوں میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
جیسے جیسے اس منصوبے پر عمل درآمد مزید مؤثر ہوگا، متاثرہ برادریوں کو اپنی زمین کے نیچے موجود معدنی دولت سے زیادہ منصفانہ حصہ مل سکے گا۔ اس طرح کان کنی قومی ترقی اور مقامی فلاح و بہبود، دونوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھ سکتی ہے۔
حوالہ جات
کانوں کی وزارت
https://mines.gov.in/webportal/content/about-dmfpmkkky
https://mines.gov.in/admin/download/6a895eaeb2fd21787387566.pdf
https://ibm.gov.in/writereaddata/files/10172016123146MR.pdf
قومی ڈی ایم ایف پورٹل
https://dmfindia.mines.gov.in/login
فنانس کمیشن آف انڈیا
https://fincomindia.nic.in/asset/doc/commission-reports/12th-FC/reports/eng/Chapter%2013.pdf
مہاراشٹر کی حکومت
https://mahakhanij.maharashtra.gov.in/district-mineral-foundation.aspx
وزارت خزانہ
https://ies.gov.in/arthapedia/concept/district-mineral-foundation-dmf
https://ies.gov.in/arthapedia/concept/pradhan-mantri-khanij-kshetra-kalyan-yojana-pmkkky
Pradhan Mantri Khanij Kshetra Kalyan Yojana (PMKKKY)
******
ش ح۔ ع ح ۔ ر ب
U.NO: 3862
(ریلیز آئی ڈی: 2313092)
وزیٹر کاؤنٹر : 19