کوئلے کی وزارت
کوئلے کی تقسیم میں وقت کے ساتھ تبدیلی: الاٹمنٹ سے نیلامی تک، بھارت کی ترقی کو توانائی فراہم کرنے کا سفر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 5:14PM by PIB Delhi
جس بجلی کے ہر یونٹ سے ہمارے گھروں میں روشنی ہوتی ہے، اس کے پیچھے ایک طویل سفر کارفرما ہوتا ہے۔
کسی گھر میں بتی جلنے، کسی فیکٹری میں مشینری چلنے یا اسٹیل یا سیمنٹ پلانٹ میں پیداوار شروع ہونے سے پہلے ہی سرگرمیوں کا ایک بہت بڑا سلسلہ شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
بھارت میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیچھے ایک اور اہم کہانی بھی ہے: کان سے صارف تک کوئلے کا سفر اور تقسیم کا وہ نظام جو اس سفر کو جاری رکھتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) نے اس پورے نظام کو نئی شکل دی ہے۔ ایک ایسا نظام جو پہلے بڑی حد تک روایتی لنکیج (نامزدگی کی بنیاد پر الاٹمنٹ) کے ذریعے چلتا تھا، اب طویل مدتی فراہمی کی یقین دہانی، مسابقتی نیلامیوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور زیادہ لچک پر مبنی ایک وسیع تر نظام میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ہر صارف کے لیے ایک الگ ذریعہ فراہمی
آج سی آئی ایل مختلف ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متنوع ذرائع فراہمی کے ذریعے صارفین کو کوئلہ فراہم کرتی ہے۔
بجلی کے شعبے کے لیے فیول سپلائی ایگریمنٹس(ایف ایس اے) طویل مدتی کوئلے کی دستیابی کی بنیاد بنے ہوئے ہیں۔ 2017 میں شکتی پالیسی متعارف کیے جانے اور 2025 میں اس میں ترمیم کے بعد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لیے کوئلے کی الاٹمنٹ میں زیادہ شفافیت اور مسابقت آئی ہے۔
بجلی کے شعبے سے باہر کے صارفین کے لیے 2016 میں متعارف کرائی گئی لنکیج نیلامیوں نے سیمنٹ، اسٹیل، اسپنج آئرن، کیپٹو پاور اور دیگر صنعتوں کے لیے طویل مدتی کوئلے کی فراہمی یقینی بنانے کا ایک مسابقتی راستہ فراہم کیا۔ شفاف اور موثر الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں بہتری کے نتیجے میں بجلی کے شعبے کے لیے مجموعی لنکیج تقریباً 643 ملین ٹن، جبکہ بجلی کے شعبے سے باہر کے صارفین کے لیے لنکیج تقریباً 119 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
جہاں طویل مدتی طلب کو لنکیج اور ایف ایس اے کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے، وہیں قلیل مدتی ضروریات ای نیلامیوں کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ نیلامی پر مبنی ان طریقہ کار میں تمام صارفین، تاجروں، برآمد کنندگان وغیرہ کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر شرکت کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف قلیل مدتی کوئلے کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ ملک میں متحرک اور فعال اسپاٹ مارکیٹوں کی ترقی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ سالانہ 10000 ٹن سے کم کوئلے کی ضرورت رکھنے والے چھوٹے ایم ایس ایم ای صارفین کے لیے ریاستی نامزد ایجنسیوں(ایس این اے) کے ذریعے فراہمی حاصل کرنے کا اختیار بھی موجود ہے۔
مجموعی طور پر ان ذرائع فراہمی نے کوئلے کی تقسیم کے نظام کو زیادہ جواب دہ بنایا ہے، جس سے مختلف شعبوں اور مختلف مدت کی ضروریات کے مطابق کوئلے کی فراہمی کو بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے میں مدد ملی ہے۔
کوئلے کی خریداری کو آسان بنانا
کوئلے کی تقسیم کے نظام میں تبدیلی کے ساتھ کوئلے کی خریداری کو آسان، زیادہ موثر اور صارفین کے لیے زیادہ سہل بنانے کی کوششوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
بجلی کے شعبے کے ایف ایس اے کے حوالے سے سی آئی ایل نے ایف ایس اے کے ڈھانچے میں ترمیم کی ہے۔ اب ملک میں پہلی بار ایف ایس اے کے تحت صارف کو مقررہ مقدار میں مجموعی حرارتی قدرفراہم کرنے کا معاہدہ کیا جاتا ہے، جبکہ پہلے کے ایف ایس اے میں فراہم کیے جانے والے ایندھن کی مقدار ٹن کے حساب سے طے کی جاتی تھی۔ سی آئی ایل نے تاخیر سے ادائیگی پر عائد شرح سود کو بھی تقریباً 14.65 فیصد سے کم کرکے تقریباً 8.25 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے مالیاتی بہاؤ میں بہتری آئی ہے اور بجلی کے شعبے پر مالی بوجھ کم ہوا ہے۔
سال2014 سے سی آئی ایل نے تقریباً 105 ملین ٹن کوئلے کی لنکیج کو معقول بنایا ہے، جس کے نتیجے میں کم نقل و حمل کے اخراجات اور ملکی کوئلے کے زیادہ موثر استعمال کے ذریعے بجلی کے شعبے کو سالانہ 7,500 کروڑ روپے سے زیادہ کی ممکنہ بچت ہو رہی ہے۔
بجلی کے شعبے سے باہر کے صارفین کے لیے ای-بی جی کی سہولت، نیلامی سے قبل کوئلے کے معیار کی جانچ، ایک ہی بولی دہندہ آئی ڈی کے تحت متعدد اختتامی استعمال والے پلانٹس کی رجسٹریشن اور نقل و حمل کے ذرائع کے زیادہ انتخاب جیسے اقدامات نے کوئلے کی خریداری کو آسان بنا دیا ہے۔
اس تبدیلی کا بڑا حصہ اب ڈیجیٹل نظام پر مبنی ہے۔ آن لائن معلوماتی نظام، آن لائن مفاہمت کی سہولت، تھرڈ پارٹی سیمپلنگ ایجنسیوں کے پورٹلز کو خریداروں اور فروخت کنندگان کے نظام سے مربوط کرنا، شکایات کے ازالے کے پورٹلز، ایس اے پی انضمام اور صارفین کے لیے آن لائن سہولیات کے ساتھ ریلوے کے پورٹلز کا انضمام، ان تمام اقدامات نے پیداوار کنندگان، صارفین اور لاجسٹک خدمات فراہم کرنے والوں کے درمیان ان کے دفاتر سے ہی رابطے کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا ہے۔
اس لیے کوئلے کی تقسیم اب صرف کوئلہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے تک محدود نہیں رہی۔ اب اس میں کوئلے تک رسائی کو زیادہ آسان، شفاف اور بہتر انداز میں قابل انتظام بنانا بھی شامل ہے۔
کان سے بازار تک: کوئلے کی ترسیل میں توسیع
کوئلہ پیدا کرنا اس سفر کا صرف نصف حصہ ہے۔ باقی نصف سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئلہ کان سے نکلتا ہے اور اسے صارفین تک پہنچایا جاتا ہے۔
ریل کے ذریعے کوئلے کی ترسیل مالی سال 16-2015میں 272.9 ملین ٹن سے بڑھ کر مالی سال 26-2025میں 414.0 ملین ٹن ہوگئی، جو تقریباً 52 فیصد اضافہ ہے۔ اوسطاً یومیہ ریک لوڈنگ بھی تقریباً 212.8 ریک سے بڑھ کر 338 ریک یومیہ ہوگئی، جو تقریباً 59 فیصد اضافہ ہے۔ کانوں کے آس پاس کے صارفین کے لیے سڑک کے ذریعے کوئلے کی ترسیل 156.1 ملین ٹن سے بڑھ کر 221.8 ملین ٹن ہوگئی، جبکہ میری گو راؤنڈ(ایم جی آر) نظام کے ذریعے ترسیل 92.3 ملین ٹن سے بڑھ کر 97.1 ملین ٹن ہوگئی۔
اگلے مرحلے میں فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی(ایف ایم سی) ، مشینی لوڈنگ، سائلوز اور ملٹی موڈل لاجسٹکس پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ سی آئی ایل نے 843 ملین ٹن کی منصوبہ بند گنجائش کے ساتھ 72 ایف ایم سی منصوبے شروع کیے ہیں۔ 151 ملین ٹن کی گنجائش رکھنے والے پہلے سے موجود 20 سی ایچ پی-سائلوز کے ساتھ، مالی سال 29-2028تک مشینی اور تیز رفتار لوڈنگ کی مجموعی گنجائش تقریباً 994 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ان سرمایہ کاری کا مقصد کوئلے کی ترسیل کو زیادہ تیز، قابل اعتماد اور مستقبل کی پیداوار کی سطح کے مطابق بنانا ہے۔
بھارت کے ساتھ ترقی کرتا ہوا کوئلے کی تقسیم کا نظام
کوئلے کی تقسیم میں پیش رفت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ویلیو چین کے مختلف حصے تیزی سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہو رہے ہیں۔
پیداوار کو طلب کے مطابق، الاٹمنٹ کو صارفین کی ضروریات کے مطابق، لاجسٹکس کو پیداوار کے مطابق اور بنیادی ڈھانچے کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ رکھنا ضروری ہے۔ ڈیجیٹل نظام اس پورے عمل کو آسان، تیز تر اور زیادہ شفاف بنانے میں مدد کر رہے ہیں۔
اس طرح کوئلے کی تقسیم کا نظام محض الاٹمنٹ پر مرکوز نظام سے آگے بڑھ کر ایک ایسے مربوط نظام میں تبدیل ہوگیا ہے، جو پیداوار، فراہمی، رسائی، لاجسٹکس اور صارفین کی ضروریات کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
جیسے جیسے بھارت کی توانائی کی ضروریات میں اضافہ جاری ہے، یہ مربوط نظام سی آئی ایل کو کوئلے کی پوری ویلیو چین میں زیادہ تیزی اور مستقل مزاجی کے ساتھ ضروریات کے مطابق رسائی کے قابل بناتا ہے۔
کان سے بازار تک مضبوط نیٹ ورک کے ساتھ کول انڈیا لمیٹڈ کوئلے کی فراہمی کو مزید قابل اعتماد، موثر اور شفاف بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کررہی ہے، جس سے ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی اور اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ع و۔ن م۔
U-4075
(ریلیز آئی ڈی: 2314764)
وزیٹر کاؤنٹر : 18