شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایک سو پچاس کروڑ  روپے اور اس سے زیادہ مالیت کے مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی فوری رپورٹ


اگست  ، 2026 ء تک  پیمانہ  ( پی اے آئی ایم اے این  اے ) پورٹل پر 33.60 لاکھ کروڑ  روپے مالیت کے 1,731 بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 4:00PM by PIB Delhi

شماریات اور پروگرام کے نفاذ  کی وزارت ( ایم او ایس پی آئی ) کا پیمانہ  ( پی اے آئی ایم اے این  اے ) پلیٹ فارم مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کو مسلسل  مستحکم کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف وزارتوں میں منصوبوں کی بہتر نگرانی، بروقت جائزے اور اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلہ سازی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ اگست  ، 2026  ء تک اس پورٹل پر 33.60 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت والے بنیادی ڈھانچے کے 1,731 منصوبوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

اہم نکات

اگست  ، 2026  ء تک 17 مرکزی وزارتوں/محکموں کے تحت بنیادی ڈھانچے کے 1,731 جاری منصوبوں کی نگرانی کی جا رہی ہے، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 33.60 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں پر اب تک 16.33 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، جو نظرثانی شدہ منصوبہ جاتی لاگت کا تقریباً 48.59 فی صد ہے۔ یہ منصوبوں کے نفاذ میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔

منصوبوں کی ایک بڑی تعداد تکمیل کے اعلیٰ مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ 647 منصوبوں (تقریباً 38 فی صد) میں 80 فی صد سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے، جب کہ 312 منصوبوں (تقریباً 18 فی صد) میں 80 فی صد سے زیادہ مالی تکمیل ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبوں کا دائرہ متوازن ہے اور وہ عمل درآمد کے ابتدائی اور اعلیٰ دونوں مراحل میں تقسیم ہیں۔

ڈی ای اے کی ہارمونائزڈ ماسٹر لسٹ کے مطابق، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے میں سب سے زیادہ 1,191 جاری منصوبے ہیں۔ ان منصوبوں کی نظرثانی شدہ لاگت 16.05 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو رابطہ کاری پر مبنی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو دی جانے والی ترجیح کو اجاگر کرتی ہے۔

 

 

  • 1,731 جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں 715 بڑے منصوبے شامل ہیں (جن کی منصوبہ جاتی لاگت 1,000 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہے)، جن کی اصل لاگت 25.89 لاکھ کروڑ روپے تھی، جب کہ 1,016 بڑے منصوبے شامل ہیں (جن کی منصوبہ جاتی لاگت 1,000 کروڑ روپے سے کم اور 150 کروڑ روپے تک ہے)، جن کی مجموعی لاگت 4.83 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • منصوبوں میں فزیکل اور مالی پیش رفت مجموعی طور پر ایک دوسرے کے مطابق ہے۔ بڑی تعداد میں منصوبے ابتدائی مرحلے (0–20 فی صد) اور تکمیل کے قریب آخری مرحلے (81–100 فی صد) میں ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف نئے شروع کیے گئے منصوبے جاری ہیں، جب کہ دوسری طرف بڑی تعداد میں منصوبے تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ 81–100 فی صد کے مرحلے میں فزیکل پیش رفت مالی پیش رفت سے زیادہ ہے، جب کہ ابتدائی مراحل میں مالی پیش رفت نسبتاً زیادہ ہے، جو منصوبوں کے نفاذ کے دوران ابتدائی طور پر ہونے والے اخراجات کی عکاسی کرتی ہے۔

 

image001_20260925154043_609d62.png

 

2۔ وزارتوں/محکموں کے لحاظ سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں پیش رفت

  • سڑک نقل  و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کے تحت سب سے زیادہ 982 منصوبے (57 فی صد) ہیں، جب کہ نظرثانی شدہ مجموعی منصوبہ جاتی لاگت میں اس کا حصہ 9.52 لاکھ کروڑ روپے (28 فی صد) ہے۔ یہ قومی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں وزارت کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
  • ریلوے کی وزارت کے تحت 147 جاری منصوبے (8 فی صد) ہیں، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ منصوبہ جاتی لاگت 3.14 لاکھ کروڑ روپے (9 فی صد) ہے۔
  • کوئلہ کی وزارت کے تحت 122 جاری منصوبے (7 فی صد) ہیں، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ منصوبہ جاتی لاگت 2.22 لاکھ کروڑ روپے (7 فی صد) ہے۔
  • پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت، بجلی کی وزارت، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت اور آبی وسائل، دریاؤں  کی  ترقی اور گنگا  کے احیا ءکے محکمے کے تحت بالترتیب 117، 102، 49 اور 38 منصوبے نافذ کیے جا رہے ہیں، جن کی نظرثانی شدہ لاگت بالترتیب 4.42 لاکھ کروڑ روپے، 6.18 لاکھ کروڑ روپے، 3.41 لاکھ کروڑ روپے اور 2.00 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • باقی 174 منصوبے (10 فی صد)، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 2.71 لاکھ کروڑ روپے (8 فی صد) ہے، اعلیٰ تعلیم، شہری ہوابازی، فولاد، ٹیلی مواصلات، محنت اور روزگار، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں، صحت اور خاندانی بہبود، کان کنی، ڈی پی آئی آئی ٹی  اور کھیل کود سمیت مختلف وزارتوں/محکموں میں تقسیم ہیں۔ (ضمیمہ I ملاحظہ کریں )

 

image002_20260925154053_dbff42.png

 

3۔ سیکٹر کے لحاظ سے (ڈی ای اے کی بنیادی ڈھانچے کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق ) بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت

  • ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کا شعبہ بدستور سب سے نمایاں ہے۔ اس شعبے کے 1,191 منصوبے (کل منصوبوں کا 69 فی صد) ہیں، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 16.05 لاکھ کروڑ روپے (کل نظرثانی شدہ منصوبہ جاتی لاگت کا 48 فی صد) ہے۔ یہ سڑکوں اور شاہراہوں، ریلوے، شہری ہوابازی، شہری عوامی ٹرانسپورٹ، جہاز رانی اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں کے اقتصادی انضمام اور لاجسٹکس کی کارکردگی میں مرکزی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
  • توانائی کا شعبہ دوسرے نمبر پر ہے، جس کے 223 منصوبوں کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 10.95 لاکھ کروڑ روپے (32 فی صد) ہے۔ یہ تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نیٹ ورک اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
  • پانی اور صفائی ستھرائی کے منصوبوں کی مجموعی لاگت 2.04 لاکھ کروڑ روپے (6 فی صد) ہے، جو 53 منصوبوں پر مشتمل ہیں۔ یہ ضروری شہری خدمات پر مسلسل توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔
  • مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کے 31 منصوبوں کی مجموعی لاگت 1.34 لاکھ کروڑ روپے (4 فی صد) ہے۔ یہ منصوبے ڈیجیٹل رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
  • سماجی اور تجارتی بنیادی ڈھانچے کے 81 منصوبوں کی نظرثانی شدہ لاگت 0.97 لاکھ کروڑ روپے (3 فی صد) ہے۔ اس میں تعلیم، صحت، رئیل اسٹیٹ، سیاحت، مہمان نوازی اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں منتخب سرمایہ کاری شامل ہے۔
  • ’ دیگر ’  کے زمرے میں شامل 152 منصوبوں کی مجموعی لاگت 2.26 لاکھ کروڑ روپے (7 فی صد) ہے۔ یہ کوئلہ، فولاد، دھاتیں اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے تنوع کی عکاسی کرتے ہیں۔

( ضمیمہ II  ملاحظہ کریں )

 

image003_20260925154101_2916f3n.png

 

4۔ مکمل ہونے والے منصوبے اور نئے شامل کیے گئے منصوبے

  • اگست  ، 2026 ءکے دوران مکمل کیے گئے نمایاں منصوبوں میں شامل ہیں:
    • وزارت سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کا منصوبہ – ‘‘ 6 لین گرین فیلڈ کاندلی - آلوُرو سیکشن آف این ایچ-130-سی ڈی روڈ، کلومیٹر 342500 سے کلومیٹر 365033، پیکیج-او ڈی-8 ’’  (1,912.84 کروڑ روپے ) اور  ‘‘ اتراکھنڈ میں این ایچ-07 پر کلومیٹر 368.00 سے کلومیٹر 433.00 کے درمیان 10 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، 1 مقام پر زمین دھنسنے اور 1 چھوٹے پل کے لیے تدارکی اقدامات کی تعمیر، ای پی سی طریقہ کار کے تحت، پیکیج-1 ’’ (216.68  کروڑ روپے )۔
    • پٹرولیم و قدرتی گیس  کی وزارت کا منصوبہ – ‘‘ ہلدیہ پاناگڑھ پائپ لائن پروجیکٹ ’’  (1,107 کروڑ روپے )۔
  • اگست  ، 2026  ء کے دوران 37 مزید منصوبوں کو پیمانہ کی نگرانی میں شامل کیا گیا۔ ان میں پٹرولیم و قدرتی گیس  کی وزارت کے 15، سڑک نقل و حمل و شاہراہوں  کی وزارت کے 10، بجلی  کی وزارت کے 4،  اعلیٰ  تعلیم  کے محکمے کے 4، وزارت فولاد کے 2، وزارت کوئلہ کا 1 اور شہری ہوا بازی  کی وزات کا 1 منصوبہ شامل ہے۔ ان میں درج ذیل منصوبے شامل ہیں:
  • وزارت بجلی کی  ‘‘ ڈبلیو آر-ای آر بین علاقائی نیٹ ورک توسیعی اسکیم – حصہ اے ’’  (6,444 کروڑ روپے )۔
  • پٹرولیم و قدرتی گیس  کی وزارت کے  ‘‘ ایڈیشنل ڈیولپمنٹ آف رتنا-آئی [اے ڈی آر-آئی] اینڈ این ایل ایم-14 پروجیکٹ ’’  (6,274 کروڑ روپے ) اور  ‘‘ ایم بی-او ایس این-1/2005 ، ایس ڈی 4 اور بی ایس-17 فیلڈ کے لیے ویل ہیڈ پلیٹ فارمز [ڈبلیو ایچ پی ایم ایس بی ایف] ’’ (5,519 کروڑ روپے )۔
    • سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کی وزات کا  ‘‘ بومڈیلا 9 مائل-نافرا لاڈا سیکشن آف فرنٹیئر ہائی وے این ایچ-913، پیکیج 1، 9 مائل-نافرا 19.554 سے 70.00، 50.446 ’’  سڑک کی تعمیر کا منصوبہ (1,273.44 کروڑ روپے )۔

 

5۔ پریس ریلیز کی اگلی تاریخ: ستمبر  ، 2026 ء کی فلیش رپورٹ 26 اکتوبر  ، 2026 ء کو جاری کی جائے گی۔

نوٹ:

  1. پریس ریلیز میں مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں (150 کروڑ  روپے اور اس سے زیادہ) سے متعلق وزارت شماریات و پروگرام عمل درآمد کی اگست  ، 2026 ء کی فلیش رپورٹ کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ https://paimana-proj.mospi.gov.in/ پر یا ذیل میں دیے گئے کیو آر کوڈ کے ذریعے دستیاب ہے۔
  2. پیمانہ کے پروجیکٹ مانیٹرنگ انٹرفیس کا نام تبدیل کرکے پیمانہ ( پی اے آئی ایم اے این اے ) -پروج (جسے پہلے پیمانہ کہا جاتا تھا) کردیا گیا ہے۔ مزید برآں، وزارت شماریات و پروگرام عمل درآمد کی جانب سے جولائی  ، 2026  ء میں شروع کیا گیا پیمانہ -سی آر آئی پی (بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا مرکزی ذخیرہ) بنیادی ڈیٹا ذخیرے اور ڈیٹا ان پٹ کی سطح کے طور پر کام کرتا ہے۔ تقریباً 80 فی صد ڈیٹا پیمانہ-سی آر آئی پی پورٹل پر اے پی آئیز کے ذریعے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، جو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا قومی مرکزی ذخیرہ ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کو معیاری بنانے اور ملک کی تعمیر کے لیے باخبر فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
  3. فلیش رپورٹ میں ڈی ای اے کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ ( ہارمونائزڈ ماسٹر لسٹ  - ایچ ایم ایل) میں شامل منتخب زمروں اور بنیادی ڈھانچے کے ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جس کی بنیاد متعلقہ لائن وزارتوں/محکموں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار پر ہے۔ اس میں پوری ایچ ایم ایل کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے اور اسے اس کے دائرہ کار اور فراہم کردہ اعداد و شمار کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔

 

image004_20260925154155_36829f.jpg

 

ضمیمہ I

وزارت/محکموں کے لحاظ سے مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کی پیش رفت

 

نمبر شمار

وزارت / محکمہ

پروجیکٹ کی گنتی  ( تعداد )

نظر ثانی شدہ لاگت

( لاکھ کروڑ روپے میں )

مجموعی خرچ

( لاکھ کروڑ روپے میں )

1

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت

982

9.52

5.10

2

وزارتِ ریلوے

147

3.14

1.86

3

کوئلے کی وزارت

122

2.22

0.58

4

پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت

117

4.42

2.30

5

بجلی کی وزارت

102

6.18

2.17

6

ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت

49

3.41

1.63

7

آبی وسائل ، دریاؤں کی ترقی اور گنگا کے احیاء کا محکمہ

38

2.00

1.43

8

ٹیلی مواصلات کا محکمہ

31

1.34

0.64

9

اعلیٰ تعلیم کا محکمہ

31

0.15

0.08

10

وزارتِ اسٹیل

29

0.30

0.14

11

وزارتِ شہری ہوا بازی

26

0.23

0.12

12

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود

24

0.23

0.10

13

فروغِ صنعت و داخلی تجارت کا محکمہ

12

0.21

0.03

14

محنت و روزگار کی وزارت

9

0.02

0.01

15

کان کنی کی وزارت

6

0.12

0.08

16

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت

5

0.09

0.06

17

کھیل کود کا محکمہ

1

0.01

0.01

 

میزان

1731

33.60

16.33

 

ضمیمہ  - II

زمرہ کے لحاظ سے (ڈی ای اے کی بنیادی ڈھانچے کی  ہارمونائزڈ ماسٹر لسٹ کے مطابق) مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت

نمبر شمار

ایچ ایم ایل زمرہ

پروجیکٹ کی گنتی

( تعداد )

نظر ثانی شدہ لاگت

( لاکھ کروڑ روپے میں )

مجموعی خرچ

( لاکھ کروڑ روپے میں )

1

نقل و حمل اور لاجسٹکس

1191

  16.05 روپے

8.61

2

توانائی

223

 10.95 روپے

4.52

3

پانی اور صفائی ستھرائی

53

 2.04 روپے

1.46

4

سماجی اور تجارتی

81

 0.97 روپے

0.38

5

مواصلات

31

 1.34 روپے

0.64

6

دیگر

152

 2.26 روپے

0.71

 

کل

1731

33.60

16.33

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ش ح ۔ م م ۔ ع ا )

U.No. 4217


(ریلیز آئی ڈی: 2316015) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil