PIB Backgrounder
کچرے سے کارآمد چیز تک: ہندوستان کے شہر پلاسٹک کی کہانی بدل رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 SEP 2026 2:31PM by PIB Delhi
ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے ہندوستان کی کسی مارکیٹ سے خریداری کرتے وقت اکثر پلاسٹک کی تھیلی، جسے عام طور پر پولیتھین کہا جاتا ہے، ساتھ ملتی تھی۔ ان تھیلیوں میں سبزیاں، کپڑے، کھانے پینے کی اشیا اور روزمرہ کی بے شمار چیزیں لے جائی جاتی تھیں۔
آج ملک بھر کی مارکیٹیں تیزی سے پلاسٹک سے پاک ہوتی جا رہی ہیں۔ بہت سے خریدار گھر سے کپڑے کا تھیلا لے کر آتے ہیں۔ دکاندار دوبارہ استعمال کے قابل متبادل تھیلا فراہم کرتے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں خشک اور گیلے کچرے کو الگ الگ کرتے ہیں۔ گھروں سے جمع کیا گیا پلاسٹک کچرے کے ڈھیر پر جانے کے بجائے ری سائیکلنگ اور ریکوری سینٹر تک پہنچتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ بعد میں نئی مصنوعات کی شکل میں دوبارہ استعمال میں آ سکتا ہے۔ہندوستان نے پلاسٹک سے متعلق اپنے طرز عمل میں تبدیلی کا آغاز سخت ضوابط اور کچرے کے بہتر انتظام کے نظام کے ذریعے کیا۔ سوچھ بھارت مشن (ایس بی ایم)، جس کا آغاز 2 اکتوبر 2014 کو ہوا تھا، نے کچرے کو جمع کرنے، الگ کرنے اور دوبارہ قابل استعمال بنانے کے نظام کو مضبوط کیا ہے۔ نشان زد واحد استعمال والے پلاسٹک کی اشیا پر 1 جولائی 2022 سے پابندی عائد ہے۔
لیکن یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئی اور نہ ہی صرف ضوابط کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے چھوٹی چھوٹی عادتوں میں تبدیلی، عوامی بیداری، مقامی سطح پر اقدامات اور کمیونٹی کی شمولیت شامل ہے۔ ملک کے مختلف شہروں اور برادریوں میں ہونے والی یہ کوششیں بتاتی ہیں کہ کس طرح چھوٹی تبدیلیاں پلاسٹک کے استعمال اور اس کے بعد کے سفر کو بدل سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کوششیں پلاسٹک کے پورے سفر کا احاطہ کرتی ہیں: استعمال کم کرنا، دوبارہ استعمال کرنا، واپس کرنا، ریکور کرنا اور دوبارہ نئی چیز بنانا۔
استعمال کم کریں: مارکیٹ کو مسئلے کے بجائے حل کا حصہ بنانا
مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں ایک چھوٹی سی عادت ہر صبح سیکڑوں مرتبہ دہرائی جاتی ہے۔ تریچی میں میونسپل کارپوریشن نے بازاروں میں مسلسل جاری واحد استعمال والے پلاسٹک کے استعمال سے نمٹنے کے لیے 2022 میں ایک مہم شروع کی۔
تین کسان بازاروں—تینور، کے کے نگر اور وورائیور— کا انتخاب خصوصی توجہ کے لیے کیا گیا۔ ان بازاروں میں 220 دکاندار شامل تھے۔ تریچی میونسپل کارپوریشن نے دکانداروں سے رابطہ کیا، انہیں واحد استعمال والے پلاسٹک سے ماحول کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتایا اور پائیدار متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ ’’تھونی پائی تھروویزا‘‘ (کپڑے کے تھیلے کا میلہ) نامی مہم نے خریداروں کو بھی دوبارہ استعمال کے قابل کپڑے کے تھیلے استعمال کرنے کی ترغیب دی۔
اس کے نتائج بھی واضح طور پر سامنے آئے۔ تینور مارکیٹ نے ایک سال میں 2,200 کلوگرام واحد استعمال والے پلاسٹک کے استعمال سے گریز کیا، جبکہ کے کے نگر مارکیٹ نے چار ماہ میں 620 کلوگرام اور وورائیور مارکیٹ نے چھ ماہ میں 300 کلوگرام پلاسٹک کے استعمال سے بچاؤ کیا۔

دوبارہ استعمال: ’’تھیلا اے ٹی ایم‘‘ — دوبارہ استعمال کے قابل تھیلے کا انتخاب آسان بنانا
کپڑے کا تھیلا پلاسٹک کی تھیلی کا ایک آسان متبادل ہے، لیکن اسے روزمرہ کی خریداری کا حصہ بنانے کے لیے اس کی آسانی سے دستیابی ضروری ہے۔ مہاراشٹر کے وٹا شہر میں نگر پریشد (میونسپل کونسل) نے بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر پانچ ’’تھیلا اے ٹی ایم‘‘ نصب کیے ہیں، جہاں خریداروں کو دوبارہ استعمال کے قابل سوتی تھیلے فراہم کیے جاتے ہیں۔

یہ مشینیں وینڈنگ مشینوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ خریدار ان میں سکہ یا نوٹ ڈالتے ہیں اور کپڑے کا تھیلا حاصل کرتے ہیں۔ گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشنز (جی ایس ایم) ٹیکنالوجی پر مبنی یہ مشینیں تھیلوں کی دستیابی پر دور سے نظر رکھتی ہیں اور جب تھیلوں کا ذخیرہ مقررہ سطح سے کم ہوجاتا ہے تو نگر پریشد کو اطلاع دے دیتی ہیں۔یہ اقدام روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ مقامی خواتین کے خود امدادی گروپوں (سیلف ہیلپ گروپس) کی خواتین ان مشینوں کے ذریعے فراہم کیے جانے والے تھیلے تیار کرتی ہیں۔ اب تک تقریباً 6,000 تھیلے فروخت کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہفتہ وار بازار میں ایک دن میں تقریباً 200 تھیلے فروخت ہوتے ہیں۔
وٹا کی رہائشی ممتاز راجو سید کے لیے یہ تبدیلی نہایت عملی ہے۔ ان کا کہنا ہے،’’تھیلا اے ٹی ایم کی مدد سے اب مجھے کپڑے کا تھیلا مل جاتا ہے، جس سے خریداری کا سامان لے جانا میرے لیے آسان ہوگیا ہے۔‘‘
تھیلا اے ٹی ایم مہاراشٹر میں پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ مختلف شہروں میں بازاروں کے معائنے، جرمانوں، نکڑ ڈراموں اور عوامی مہمات کے ذریعے قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ عوامی بیداری پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ انداپور میں حکام نے 25 کلوگرام پلاسٹک کی تھیلیاں ضبط کیں اور 90,000 روپے جرمانہ عائد کیا۔ اسی دوران مقامی برادریاں عملی متبادل کے استعمال کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔ وردھا میں ایک خود امدادی گروپ نے 17,000 کاغذی تھیلے تقسیم کیے، جبکہ کپڑے اور جوٹ کے تھیلوں کو بار بار استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ یہ تمام کوششیں مل کر روزمرہ زندگی میں پلاسٹک سے پاک متبادل راستہ اپنانے کو آسان بنا رہی ہیں۔
واپس کریں: دودھ کی تھیلیاں واپس کرنے پر فائدہ
کیا ہو اگر دودھ کی خالی تھیلی گھر والوں کے لیے کچھ واپس لانے کا ذریعہ بن جائے؟ انڈمان و نکوبار جزائر میں شروع کی گئی ایک خریداری اور واپسی کی اسکیم کے ذریعے لوگوں کو پلاسٹک کی دودھ کی استعمال شدہ تھیلیاں پھینکنے کے بجائے واپس کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے جمع کرنے کے مراکز قائم کیے گئے، جہاں صارفین استعمال شدہ تھیلیاں جمع کرکے تازہ دودھ اور رعایت سمیت مختلف انعامات حاصل کرسکتے تھے۔ عوامی بیداری کی مہمات کے ذریعے لوگوں کو اس مہم میں حصہ لینے کی ترغیب دی گئی اور ری سائیکلنگ اور کچرے کو ذمہ داری کے ساتھ ٹھکانے لگانے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ یہ منصوبہ انڈمان و نکوبار جزائر انٹی گریٹڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (اے این آئی آئی ڈی سی او) اور سری وجے پورم میونسپل کونسل (ایس وی پی ایم سی) کے تعاون سے نافذ کیا گیا۔
اس اقدام کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے کو قدر و قیمت دی گئی اور لوگوں کو ایک منظم نظام کے تحت اسے واپس کرنے کی ترغیب ملی۔ نومبر 2024 تک 17,600 دودھ کی تھیلیاں جمع کی گئیں اور اس کے بدلے لوگوں کو 352 لیٹر دودھ فراہم کیا گیا۔ یہ ماڈل ظاہر کرتا ہے کہ ایک سادہ ترغیب کس طرح کچرے کو ذمہ داری سے ٹھکانے لگانے کو کمیونٹی کی مستقل عادت میں تبدیل کرسکتی ہے۔

ریکور: جہاں پلاسٹک کے کچرے کو ملتی ہے نئی زندگی
بنگلورو میں پلاسٹک کے کچرے کو ری سائیکل کرکے شہر کو مزید صاف ستھرا اور سرسبز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کرناٹک اسٹیٹ پلاسٹک ایسوسی ایشن کے مطابق شہر میں ہر شخص ماہانہ تقریباً 16 کلوگرام پلاسٹک استعمال کرتا ہے۔ اس پس منظر میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کا پروجیکٹ پرتھوی پھینکے گئے پلاسٹک کو دوبارہ کارآمد بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت صفائی ساتھیوں کے لیے 2019 میں مٹیریل ریکوری سہولت مرکز، جسے سوچھتا کیندر کہا جاتا ہے، قائم کیا گیا۔ اس مرکز میں پلاسٹک کے کچرے کو الگ کیا جاتا ہے اور اسے ٹکڑے کرنے اور گانٹھیں بنانے کے عمل سے گزارا جاتا ہے، جس کے بعد تیار شدہ اشیاء ری سائیکلنگ کرنے والوں کے لیے موزوں ہوجاتا ہے۔ اس مرکز نے کووڈ-19 وبا کے دوران 76 صفائی ساتھیوں کو روزگار بھی فراہم کیا۔ سماجی تنظیم ہسیرو دالا کے زیر انتظام یہ مرکز کچرے کی بازیابی کو روزگار کے مواقع سے جوڑتا ہے۔
پروسیس کیے گئے پلاسٹک سے سڑکیں، زرعی آب پاشی کے لیے پانی کی پائپیں اور فرنیچر تیار کیا جاتا ہے۔ اس اقدام سے پلاسٹک کے کچرے کا بوجھ کم کرنے اور شہروں کو مزید صاف ستھرا بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ اس طرح جو چیز کبھی کچرے کے طور پر پھینک دی جاتی تھی، وہ دوبارہ معیشت کا حصہ بن کر مفید اشیاء میں تبدیل ہوجاتی ہے اور مدور معیشت کے تصور کو روزمرہ کچرے کے بندوبست کے مزید قریب لاتی ہے۔
دوبارہ نئی چیز بنانا: کثیر پرتوں والے پلاسٹک سے پائیدار مصنوعات کی تیاری
چاکلیٹ کے ریپر اور بسکٹ کے پیکٹ سے لے کر چپس اور شیمپو کی پیکنگ تک، کثیر پرتوں والا پلاسٹک (ایم ایل پی) روزمرہ استعمال کی پیکیجنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس میں پلاسٹک، کاغذ اور ایلومینیم جیسی مختلف اشیاء کی پرتیں شامل ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں الگ کرنا اور ری سائیکل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ برسوں تک اس طرح کے زیادہ تر کچرے کو لینڈ فل کے علاوہ کہیں اور ٹھکانے لگانے کی گنجائش نہیں تھی۔ تاہم پٹیالہ نے پلاسٹک ری سائیکلنگ سہولت مرکز (پی آر ایف) کے ذریعے ری سائیکلنگ میں مشکل اس کچرے کو نئی منزل دینے کا راستہ تلاش کرلیا۔
شہر میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تعاون سے قائم ری سائیکلنگ مرکز میں کم قیمت والے پلاسٹک کے کچرے کو الگ کیا جاتا ہے، صاف کیا جاتا ہے اور پھر اسے باریک ٹکڑوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گرم اور ٹھنڈی دباؤ کی تکنیک کے ذریعے ان ٹکڑوں کو جوڑ کر چِپ بورڈ تیار کیا جاتا ہے، جو پلائی ووڈ کا ماحول دوست متبادل ہے۔ یہ اشیاء فرنیچر، چھتوں اور عارضی پناہ گاہوں کے لیے کافی مضبوط ہے اور پانی اور دیمک سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ اس مرکز کی یومیہ گنجائش 10 ٹن ہے اور یہاں روزانہ 75 سے 100 چِپ بورڈ تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ اقدام ری سائیکلنگ میں مشکل پلاسٹک کو نیا مقصد فراہم کرنے کے ساتھ مدور معیشت کو فروغ دیتا ہے اور لینڈ فل میں جانے والے کچرے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
آگے کا راستہ
سوچھ بھارت مشن (ایس بی ایم)کا فوکس کچرے کو اس کے منبع پر الگ کرنے، گھر گھر سے کچرا جمع کرنے، سائنسی طریقے سے کچرے کی پروسیسنگ اور قابل استعمال اشیاء کی ریکوری پر ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ تبدیلی مقامی سطح سے شروع ہوسکتی ہے اور بازار لوگوں کی عادتوں کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 2 اکتوبر کو سوچھ بھارت مشن کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر یہ مثالیں دکھاتی ہیں کہ مقامی سطح پر کی جانے والی کوششیں پلاسٹک کے استعمال اور اس کے بعد کے سفر کو کس طرح بدل سکتی ہیں۔ پیمانے الگ الگ ہیں—کلوگرام، تھیلے، پاؤچ اور چِپ بورڈ—لیکن سمت ایک ہی ہے: روزمرہ کے انتخاب کو دیرپا تبدیلی میں تبدیل کرنا۔
حوالہ
ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارت
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
********
ش ح۔ ع ح۔ ج
uno- 4277
(ریلیز آئی ڈی: 2316455)
وزیٹر کاؤنٹر : 8