سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت خصوصی عدالتوں، متاثرین کی معاونت، بیداری اور شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے پی سی آر اور ایس سی/ایس ٹی (مظالم کی روک تھام) قوانین کے نفاذ کو مزید مضبوط بنا رہی ہے


پی سی آر اور پی او اے قوانین کے نفاذ کے لیے تین مالی سال کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 1,423.30 کروڑ روپے کی مرکزی امداد جاری کی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 OCT 2026 1:29PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت شہری حقوق کے تحفظ کے قانون، 1955 اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون، 1989 کے مؤثر نفاذ کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مسلسل مدد فراہم کر رہی ہے۔ اس کے لیے نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے، مقدمات کی فوری سماعت کو یقینی بنانے، متاثرین کو راحت اور بازآبادکاری فراہم کرنے، قانونی تحفظات سے متعلق بیداری پیدا کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مقصد سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ان دونوں قوانین کا نفاذ بنیادی طور پر ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ حکومت ہند مرکزکی سرپرستی والی اسکیم کے ذریعے شہری حقوق کے تحفظ کے قانون، 1955 اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون، 1989 کے نفاذ کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان قوانین اور قواعد کے تحت ادارہ جاتی اور نفاذ کے  نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

خصوصی عدالتوں کو مضبوط بنا کر مقدمات کی فوری سماعت

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون، 1989 کے تحت جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے 15 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 217 خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ اس قانون میں یہ بھی التزام ہے کہ جن اضلاع میں مقدمات کی تعداد نسبتاً کم ہو، وہاں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رضامندی سے سیشن عدالتوں کو خصوصی عدالتوں کے طور پر نامزد کیا جا سکتا ہے۔

خصوصی عدالتوں کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے کا مقصد قانون کے تحت مقدمات کی فوری سماعت اور مؤثر طور پر نمٹانے کو یقینی بنانا اور متاثرین کو خصوصی عدالتی نظام تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکزی امداد

مرکزکی سرپرستی والی اسکیم کے تحت مرکز نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 2022-23 میں 392.71 کروڑ روپے، 2023-24 میں 535.30 کروڑ روپے اور 2024-25 میں 495.29 کروڑ روپے جاری کیےہیں ۔ اس طرح تین مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 1,423.30 کروڑ روپے کی امداد فراہم کی گئی۔

اس اسکیم کے تحت درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظ کے سیل اور خصوصی پولیس تھانوں کو مضبوط بنانے، عدالتی نظام کو مستحکم کرنے، متاثرین کو راحت اور بازآبادکاری فراہم کرنے، بین ذات شادیوں کی حوصلہ افزائی، بیداری پیدا کرنے اور قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے دیگر اقدامات کے سلسلے میں امداد فراہم کی جاتی ہے۔

اسی تین سالہ مدت کے دوران بالترتیب 88,172، 79,667 اور 99,216 متاثرین کو اس اسکیم کے تحت راحت فراہم کیے جانے کی اطلاع ہے۔

قانونی تحفظات سے متعلق بیداری کو فروغ دینا

حکومت نے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے ارکان کو شہری حقوق کے تحفظ کے قانون، 1955، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون، 1989 اور ان کے تحت بنائے گئے قواعد میں فراہم کردہ قانونی تحفظات اور حقوق کے بارے میں وسیع پیمانے پر بیداری پیدا کرنے کو ترجیح دی ہے۔

مرکزکی سرپرستی والی اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو قوانین اور قواعد کی دفعات سے متعلق معلومات عام کرنے کے لیے بیداری مہمات، ورکشاپس، تربیتی پروگرام، بیداری کیمپ اور دیگر عوامی رابطہ سرگرمیاں منعقد کرنے میں معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

سَمبل – شکایات کے ازالے تک رسائی کو مضبوط بنانا

شکایات کے ازالے کے نظام تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے دسمبر 2021 میں نیشنل ہیلپ لائن اگینسٹ ایٹروسٹیز (این ایچ اے اے) شروع کی تھی، جس کا بعد میں نام بدل کر سَمبل (ایس اے ایم بی اے ایل)کر دیا گیا۔ اس پہل کے تحت درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے ارکان کو درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون سے متعلق شکایات درج کرنے اور ان کی صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے آسان اور قابلِ رسائی نظام فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ہیلپ لائن ٹول فری نمبر 1800-202-1989 اور مختصر کوڈ 14566 کے ذریعے دستیاب ہے۔

بین ذات شادیوں کے ذریعے سماجی انضمام کی حوصلہ افزائی

سماجی انضمام، مساوات اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی حکومت کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر مرکزکی سرپرستی والی اسکیم کے تحت ان بین ذات شادیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے جن میں میاں یا بیوی میں سے کوئی ایک درج فہرست ذات سے تعلق رکھتا ہو۔

بین ذات شادیوں کے لیے ترغیبی امداد حاصل کرنے والے جوڑوں کی تعداد 2022-23 میں 14,225 سے بڑھ کر 2024-25 میں 26,050 ہو گئی۔

ماخذ  دستاویز میں فراہم کردہ تازہ ترین ’کرائم اِن انڈیا‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں اس قانون کے تحت 65,646 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 2023 میں 70,725 اور 2022 میں 67,633 مقدمات درج ہوئے تھے۔ 2024 کے اختتام تک 3,92,006 مقدمات میں سماعت زیر التوا تھی۔ یہ اعداد و شمار بروقت تفتیش، مؤثر استغاثہ اور متاثرین کو فوری مدد فراہم کرنے کی مسلسل ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

 

حکومت درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے ارکان کے لیے انصاف تک رسائی یقینی بنانے اور قانون کے نفاذ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

 

*********

 (ش ح ۔ م م ع۔ت ا )

U. No. 4442


(ریلیز آئی ڈی: 2317706) وزیٹر کاؤنٹر : 7