نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے جسمانی تعلیم کے ماہرین کے  ماڈیول کا اجرا کیا، نچلی سطح پر سائنسی طریقے سے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت کے اہم کردار کو اجاگر کیا


مرکزی وزیر کھیل نے جسمانی تعلیم کے اساتذہ کا جامع ریکارڈ تیار کرنے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 OCT 2026 3:46PM by PIB Delhi

نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے آج جسمانی تعلیم کے ماہرین کے  ماڈیول کا اجرا کیا اور نچلی سطح پر کھیلوں کے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں جسمانی تعلیم کے اساتذہ کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔

مرکزی وزیر کھیل نے نچلی سطح پر سائنسی طریقے سے باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی منظم نشوونما کو مضبوط بنانے کے لیے مقررہ مدت کے اندر ملک بھر کے جسمانی تعلیم (پی ای)کے اساتذہ کا ایک جامع ریکارڈ تیار کرنے پر زور دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/1000641996_20261001154651_15bb3d.jpg

ڈاکٹر مانڈویہ نے نیشنل اسپورٹس ریپوزٹری سسٹم (این ایس آر ایس) پر پی ای ٹیچرز رجسٹریشن اینڈ آن بورڈنگ ماڈیول کا اجرا کرنے کے بعد کہا، ’’اسکولوں اور کالجوں میں جسمانی تعلیم کے اساتذہ بچوں اور نوجوانوں میں کھیلوں کی صلاحیت کو سب سے پہلے شناخت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ ان کی تعلیمی قابلیت، مہارت اور تجربے کا ریکارڈ تیار کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کی صلاحیتوں سے مؤثر طور پر استفادہ کیا جا سکے اور ان کی مزید پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ملک گیر سطح پر باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت کی مہم کا آغاز نچلی سطح سے کرتے ہوئے سائنسی طریقۂ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔ بہت سے نوجوانوں میں مناسب رہنمائی حاصل ہونے پر اچھے کھلاڑی بننے کے لیے درکار جسمانی صلاحیت اور استعداد موجود ہو سکتی ہے۔ جسمانی تعلیم کے اساتذہ ان بچوں کے ساتھ خاصا وقت گزارتے ہیں، اس لیے وہ ایسی صلاحیتوں کی شناخت کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/1000641987_20261001154706_e779cb.jpg

کھیلوں کی سائنس کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا کہ باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے سے لے کر اعلیٰ سطح کے کھلاڑیوں کی تربیت تک، اس پورے سفر میں کھیلوں کی سائنس کا اہم کردار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کی سائنسی طریقے سے شناخت کا آغاز نچلی سطح سے ہونا چاہیے۔‘‘

اس پہل کو مشن موڈ میں آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے ضلعی سطح پر جسمانی تعلیم کے اساتذہ کی تنظیم کی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ضلع، ریاست اور قومی سطح پر جسمانی تعلیم کے اساتذہ کے رجسٹریشن اور ان کا منظم ریکارڈ تیار کرنے پر زور دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/1000641990_20261001154720_dc783d.jpg

انہوں نے کہا، ایسا جامع ریکارڈ جسمانی تعلیم کے اساتذہ کی صلاحیتوں اور خصوصی مہارتوں کا درست اندازہ لگانے میں مدد دے گا اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل اساتذہ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔‘‘

مرکزی وزیر کھیل نے ہدایت دی کہ یہ مکمل ریکارڈ چھ ماہ کے اندر تیار کیا جائے اور کہا کہ اس کی پیش رفت کا مقررہ مدت کے مطابق جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’اس پہل کو محض ایک ماڈیول کے اجرا تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لیے ایک مشن کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔‘‘

جسمانی تعلیم کے ماہرین کے ماڈیول  کونیشنل اسپورٹس ریپوزٹری سسٹم (این ایس آر ایس) کے تحت متعارف کرایا گیا ہے۔ این ایس آر ایس ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد بھارتی کھیلوں کے ماحولیاتی نظام سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں کا ایک متحد اور جامع ریکارڈ برقرار رکھنا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/1000641999_20261001154735_64eb31.jpg

اس موقع پر نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی)، لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن (ایل این آئی پی ای)، لکشمی بائی نیشنل کالج آف فزیکل ایجوکیشن (ایل این سی پی ای)، فزیکل ایجوکیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا (پی ای ایف آئی) اور دیگر اہم متعلقہ فریقوں کے سینئر افسران موجود تھے۔

***********

ش ح۔ رک۔

U No. 4443


(ریلیز آئی ڈی: 2317707) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati