زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
آئی سی اے آر اور ایف سی آئی نے محفوظ اور پائیدار غذائی اجناس کے ذخیرے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 5:47PM by PIB Delhi
زرعی تحقیق کی بھارتی کونسل (آئی سی اے آر) اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) نے 30 ستمبر 2026 کو گیہوں اور چاول میں ذخیرہ شدہ اجناس کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے محفوظ اور پائیدار انتظام کے لیے متبادل فومیگیشن ٹیکنالوجیز پر تحقیق کرنے کی غرض سے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس تحقیقی مطالعے کو صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت کے محکمہ خوراک و عوامی تقسیم (ڈی ایف پی ڈی) کی حمایت حاصل ہے۔
اس پروجیکٹ کے دو سالہ فیز-1 کو آئی سی اے آر-سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ ہارویسٹ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سی آئی پی ایچ ای ٹی)، لدھیانہ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔

کئی دہائیوں سے بھارت کے اہم غذائی اجناس کے ذخائر میں فصل کی کٹائی کے بعد کیڑوں پر قابو پانے کے لیے بڑی حد تک ایلومینیم فاسفائیڈ (اے ایل پی) اور میلاتھیون پر انحصار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، ان کی وسیع پیمانے پر اور بار بار استعمال سے سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں، جن میں بھارت کی اہم ریاستوں میں کیڑوں میں مزاحمت کی شرح کا 72 سے 100 فیصد تک پہنچ جانا اور فومیگیشن کے چکروں میں اضافہ شامل ہے، جس سے عملی اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ کیمیائی طریقے کارکنوں کے لیے سانس سے متعلق سنگین خطرات اور طویل مدتی ماحولیاتی نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس پہل کا مقصد نائٹروجن گیس، کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) اور کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) اور فاسفین کے باہمی امتزاج کے تجارتی استعمال کو باقاعدہ شکل دے کر ان چیلنجز سے براہِ راست نمٹنا ہے۔فیز -1 میں درج ذیل تین اہم آزمائشیں کی جائیں گی:
-
دھاتی سائلوز میں ذخیرہ کیے گئے گیہوں میں ذخیرہ شدہ اجناس کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے مؤثر انتظام کے لیے 99 فیصد سے زیادہ خالص نائٹروجن گیس کے ذریعے فومیگیشن۔
-
ایف سی آئی/سی ڈبلیو سی کے گوداموں میں تھیلوں میں ذخیرہ کیے گئے گیہوں اور چاول میں ذخیرہ شدہ کیڑوں کے انتظام اور تدارک کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور فاسفین گیس کے مشترکہ استعمال سے فومیگیشن۔
-
ہوا بند کور میں رکھے گئے تھیلوں میں ذخیرہ شدہ گیہوں اور چاول میں کیڑوں کے انتظام اور تدارک کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ذریعے فومیگیشن۔
دو سالہ فیز-1 کے پائلٹ منصوبے کے بعد، دوسرے مرحلے میں مختلف زرعی موسمی خطوں میں ایک سالہ کثیر مقامی آزمائش کی جائے گی، تاکہ ہر خطے کے لیے مخصوص معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) وضع کیے جاسکیں۔
اس پہل کا مقصد روایتی کیمیائی فومیگیشن کے سائنسی طور پر توثیق شدہ، قابلِ توسیع اور پائیدار متبادل تیار کرنا ہے۔ اس کے ذریعے کیڑوں میں بڑھتی ہوئی مزاحمت، کارکنوں کے کیمیائی مادوں سے براہِ راست متاثر ہونے، ماحولیاتی اثرات اور فومیگیشن میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کی باقیات سے متعلق خدشات کو دور کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

مفاہمت کی اس یادداشت پر دستخط ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، سکریٹری، ڈی اے آر ای اور ڈائریکٹر جنرل، آئی سی اے آر ڈاکٹر راج بیر سنگھ، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (زرعی انجینئرنگ)؛ ڈاکٹر ڈی کے یادو، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فصل سائنس)؛ اور ڈاکٹر کے. نرساّیا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل (پروسیسنگ انجینئرنگ)، آئی سی اے آر کی موجودگی میں کیے گئے۔ مفاہمت کی یادداشت پر آئی سی اے آر-سی آئی پی ایچ ای ٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نچیکیت کوٹوالیوالے اور ایف سی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (کوالٹی کنٹرول) ڈاکٹر اے. کے. سنہا نے دستخط کیے۔
اس موقع پر محترمہ پریا جیکب، ڈائریکٹر، ڈی ایف پی ڈی؛ جناب راجاگوپال، جنرل منیجر، کیو سی-ایف سی آئی؛ ڈاکٹر دیویندر ڈھینگرا، پرنسپل سائنٹسٹ، آئی سی اے آر؛ ڈاکٹر سندیپ مان، پرنسپل سائنٹسٹ اور منصوبے کے سربراہ تحقیق کار، آئی سی اے آر-سی آئی پی ایچ ای ٹی؛ جناب گوتم کمار، ڈپٹی جنرل منیجر (کوالٹی کنٹرول)، ایف سی آئی؛ جناب سی پی سہارن اور محترمہ ساریکا پریتم، اسسٹنٹ جنرل منیجر (کوالٹی کنٹرول)، ایف سی آئی نے بھی شرکت کی۔
*****
(ش ح ۔ ض ر۔م ذ)
UR.No. 4463
(ریلیز آئی ڈی: 2317845)
وزیٹر کاؤنٹر : 9