محنت اور روزگار کی وزارت
محنت اور روزگار کی وزارت نے صنعتی کلسٹروں میں ‘شرم سمواد’ کی رسائی کو وسعت دی
بھواڑی، مشرقی دہلی، دہرادون، چھترپتی سمبھاجی نگر اور بھیلواڑہ میں ضلع سطح کے پروگرام منعقد کئے گئے اور لیبر کوڈز، تعمیل اور سماجی تحفظ سے متعلق بیداری کو مضبوط بنانے پر زوردیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 3:47PM by PIB Delhi
بھارت سرکار کی محنت اور روزگار کی وزارت نے 30 ستمبر 2026 کو پانچ صنعتی کلسٹروں—راجستھان میں بھواڑی اور بھیلواڑہ، مشرقی دہلی، اتراکھنڈ میں دہرادون اور مہاراشٹر میں چھترپتی سمبھاجی نگر—میں ‘‘شرم سمواد’’ کے تحت ضلع سطح پر صلاحیت سازی اور بیداری پروگرام منعقد کیے۔ ان پروگراموں میں سینئر سرکاری افسران، محنت کے ریاستی محکمے، صنعتی انجمنیں، آجرین، انسانی وسائل اور قانونی امور کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ ان پروگراموں کا مقصد چاروں لیبر کوڈز، آجروں کے لیے تعمیل سے متعلق تقاضوں اور حکومت کی روزگار و سماجی تحفظ سے متعلق اہم پہلووں کو بہتر طور پر سمجھنے میں سہولت فراہم کرنا تھا۔
ملک گیر ‘‘شرم سمواد’’ مہم کا آغاز 28 ستمبر 2026 کو کیا گیا تھا۔ یہ 90 روزہ رابطہ مہم ہے، جس کے تحت وزارت تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 316 اضلاع میں، بالخصوص صنعتی کلسٹروں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ضلع سطح پر رابطہ کاری اور بیداری پروگرام منعقد کر رہی ہے۔ اس پہل کا مقصد قانون سازی کے فریم ورک اور زمینی سطح پر اس کے نفاذ کے درمیان موجود خلا کو دور کرنا ہے، تاکہ آجروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نئے لیبر کوڈز کی دفعات، اطلاق اور تعمیل سے متعلق تقاضوں کے بارے میں زیادہ وضاحت فراہم کی جا سکے۔
راجستھان کے بھواڑی میں محنت و روزگار کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب آشوتوش اے ٹی پڈنیکر نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے لیبر کوڈز کی اہم دفعات اور ضلع سطح پر صلاحیت سازی کے سلسلے میں وزارت کے وژن کو اجاگر کیا۔ ایف آئی سی سی آئی اور بھواڑی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (بی ایم اے) کے اشتراک سے منعقدہ اس پروگرام میں 100 سے زائد شرکا نے شرکت کی۔ اجلاس میں لیبر کوڈز کے وسیع تر فریم ورک، آجروں کے لیے تعمیل سے متعلق تقاضوں، پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم وی بی آر وائی) اور پردھان منتری شرم یوگی مان دھن (پی ایم-ایس وائی ایم) کے علاوہ زمینی سطح پر نفاذ اور متعلقہ فریقوں کے خدشات پر باہمی تبادلۂ خیال بھی کیا گیا۔


مشرقی دہلی میں لکشمی نگر کے اسکوپ مینار میں منعقدہ پروگرام سے محنت و روزگار کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر مہندر کمار اور قومی راجدھانی خطہ دہلی حکومت کے سکریٹری-کمشنر (محنت) جناب پانڈورنگ پول نے خطاب کیا۔ اس پروگرام میں صنعت اور محنت کے شعبے سے وابستہ 100 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ تکنیکی اجلاسوں میں نئے لیبر کوڈز، ان کے مقاصد اور اہم دفعات، آجروں کے لیے تعمیل سے متعلق تقاضوں، پی ایم وی بی آر وائی اور پی ایم-ایس وائی ایم پر توجہ مرکوز کی گئی۔


دہرادون میں یہ پروگرام پی ایچ ڈی سی سی آئی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں صنعتی انجمنوں اور کاروباری اداروں کے نمائندوں، آجروں، صنعت کاروں اور پیشہ ور افراد سمیت تقریباً 90 شرکا نے شرکت کی۔ محنت و روزگار کی وزارت کے ڈپٹی سکریٹری جناب گووند رام نے چاروں لیبر کوڈز اور آجروں کے لیے تعمیل کے پورے سلسلے کا جائزہ پیش کیا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائنز سیفٹی (ڈی جی ایم ایس) کے ڈائریکٹر آف مائنز سیفٹی جناب وینکنا بنوتھو اور اتراکھنڈ کے محنت کے محکمہ کے سینئر نمائندوں نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔


مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں یہ پروگرام حکومتِ مہاراشٹر کے محنت کے محکمہ کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے نمائندوں سمیت تقریباً 200 متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ محنت و روزگار کی وزارت کے ڈائریکٹر جناب چمن لال گلیریا نے کلیدی خطاب کیا اور پروگرام کا جائزہ پیش کیا۔ تکنیکی اجلاسوں میں لیبر کوڈز اور آجروں کے لیے تعمیل سے متعلق تقاضوں کا احاطہ کیا گیا، جس کے بعد پی ایم وی بی آر وائی اور پی ایم-ایس وائی ایم پر خصوصی اجلاس منعقد کیے گئے۔


راجستھان کے بھیلواڑہ میں وزارت نے حکومتِ راجستھان کے محنت کے محکمہ کے اشتراک سے شرم سمواد پروگرام منعقد کیا، جس میں آجروں، صنعت، انسانی وسائل، قانونی اور مالی امور کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کی نمائندگی کرنے والے تقریباً 100 شرکا نے شرکت کی۔ وی وی گری نیشنل لیبر انسٹی ٹیوٹ (وی وی جی این ایل آئی) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اروند نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا، جس میں نئے محنت قانون کے فریم ورک کے مؤثر نفاذ کے لیے بیداری، تیاری اور تعمیل کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ محنت و روزگار کی وزارت کے ڈپٹی سکریٹری جناب سنجے راوت نے پہلے تکنیکی اجلاس کا انعقاد کیا، جس میں چاروں لیبر کوڈز، ان کے مقاصد اور اہم اصلاحات کا جائزہ پیش کیا گیا۔


پانچوں پروگراموں میں تکنیکی اجلاس کے دوران اجرتوں سے متعلق ضابطہ، 2019؛ صنعتی تعلقات سے متعلق ضابطہ، 2020؛ سماجی تحفظ سے متعلق ضابطہ، 2020؛ اور پیشہ ورانہ تحفظ، صحت اور کام کے حالات سے متعلق ضابطہ، 2020 پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاسوں میں ان ضابطوں کے مقاصد اور اہم دفعات، اطلاق کی حد اور آجروں کی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں اجرت، تقرری نامے، کام کے اوقات، اضافی کام کا معاوضہ، سماجی تحفظ کی کوریج، کام کاج کی جگہ پر تحفظ، کنٹریکٹ مزدور اور صنعتی تعلقات کے طریقۂ کار شامل ہیں۔
تمام پروگراموں میں باہمی سوال و جواب کے اجلاس ایک اہم جزو رہے، جن کے ذریعے شرکا کو اطلاق، قانونی حدود، ریکارڈ اور گوشوارے، ملازمین کے فوائد اور تعمیل سے متعلق دیگر تقاضوں سے وابستہ عملی امور اٹھانے کا موقع ملا۔
تمام مقامات پر منعقدہ پروگراموں میں ملازمین کے فنڈ سے متعلق تنظیم (ای پی ایف او)، ای ایس آئی سی اور مرکزی محنت کمشنر کے دفتر کے سینئر افسران اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے نتیجے میں متعلقہ فریقوں کو نفاذ اور تعمیل سے متعلق امور پر محنت انتظامیہ کے مختلف شعبوں کے ساتھ براہِ راست تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔
******
ش ح۔ م م ع۔رض
4685U-No.
(ریلیز آئی ڈی: 2319505)
وزیٹر کاؤنٹر : 17