نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
نوجوان وکست بھارت کے سفیر بنیں اور قوم کی تعمیر کوہرعمل کےمرکزمیں رکھیں: ڈاکٹر منسکھ مانڈویا
وارانسی میں منعقدہ مائی بھارت یوتھ کنونشن میں کھیل، تعلیم اور ڈیجیٹل میڈیا کےشعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے نوجوانوں کوقیادت اور قوم کی تعمیرکی ترغیب دینے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 OCT 2026 8:20PM by PIB Delhi
وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل کود نے میرا یووا بھارت (مائی بھارت) کے ذریعے 10 اکتوبر 2026 کو وارانسی کی بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے سوتنترتا بھون میں ’وکست بھارت کے لیے نوجوان: مائی بھارت یوتھ کنونشن‘ کا انعقاد کیا۔ اس کنونشن میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے نوجوانوں، کھلاڑیوں، ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں اور نوجوان رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد نوجوانوں کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو سراہنا اور قوم کی تعمیر میں ان کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

اس پروگرام میں مرکزی وزیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویا، اتر پردیش حکومت میں وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے بہبودِ نوجوانان و کھیل جناب گریش چندر یادو اور حکومتِ ہند کے محکمۂ امورِ نوجوانان کے سکریٹری جناب سنیل پالیوال نے شرکت کی۔ ہندوستانی کرکٹر جناب دھرو جوریل اور فلم ’ہنومان انش‘ کے ہدایت کار وشال چترویدی نے بھی شرکاء کے ساتھ بات چیت کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ خود کو ہندوستان کی ترقی کے سفر میں محض مستفید ہونے والوں کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اس میں فعال شراکت دار اور ’وکست بھارت‘ کے سفیر بنیں۔ وزیر اعظم کے ’وکست بھارت@2047‘ کے وزن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ آج کے نوجوان ہی وہ نسل ہوں گے جو 2047 میں ہندوستان میں زندگی گزارے گی اور ملک کی قیادت کرے گی۔ انہوں نے کہا، ’’وکست بھارت کی تشکیل نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کے لیے اور نوجوانوں ہی کے ہاتھوں ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے نوجوان شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی انفرادی خواہشات سے آگے بڑھ کر اپنے معاشرے اور ملک کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کریں۔

ہندوستان کی ثقافتی اقدار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے قوم کی تعمیر میں نظم و ضبط، خدمت، ذمہ داری اور احترام کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بامعنی تبدیلی لانے کے لیے ہمیشہ بڑے پیمانے پر اقدامات کرنا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ جب چھوٹی چھوٹی کوششیں واضح مقصد کے ساتھ مسلسل کی جاتی ہیں تو ان کے بھی نمایاں نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ برادریوں کی ضروریات کو پورا کرکے اور اپنی خواہشات کو تعمیری اقدامات میں ڈھال کر سماج کے لیے مفید ثابت ہوں۔
ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے رضاکارانہ خدمات، قیادت، سماجی خدمت اور عملی تجربات کے ذریعے سیکھنے کے لیے مائی بھارت کے تحت نوجوان شہریوں کو دستیاب مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب نوجوانوں کو ایک بڑے قومی مقصد سے جوڑا جاتا ہے تو ہندوستان کی آبادی کی قوت ترقی کے لیے ایک بڑا فائدہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وکست بھارت صرف ہندوستان کے نوجوانوں کی منزل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قومی مشن ہے، جسے نوجوان ہندوستانیوں کی توانائی، خیالات، نظم و ضبط اور شرکت کے ذریعے حقیقت میں بدلنا ہے۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مستقبل پر بھی غور کریں جس کی وہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور اس ورثے پر بھی جو وہ آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ کر جائیں گے۔
وزیر موصوف نے ’وکست بھارت کے لیے نشہ مکت یووا ابھیان‘ میں نوجوانوں کی شرکت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نشہ آور اشیا کا استعمال نوجوانوں کی صلاحیتوں، خاندانی فلاح و بہبود اور قومی ترقی کی راہ میں ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے نوجوان شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں بیداری پیدا کریں، مثبت طرزِ عمل اپنانے کی ترغیب دیں اور نشہ سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے مقامی برادریوں کو متحرک کریں۔ انہوں مزید کہا کہ وہ مثبت سماجی تبدیلی کے فروغ کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل ذرائع پر اپنے اثر کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔

کنونشن کی ایک اہم خصوصیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے نوجوانوں کی پذیرائی تھی۔ ایشیائی کھیلوں میں تمغے جیتنے والے روہت یادو، پراچی چودھری، پارول چودھری، جے کمار اور راج کمار پال کو ان کی کھیلوں میں کامیابیوں کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔ جے ای ای میں کامیابی حاصل کرکے آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) میں داخلہ پانے والے ارپت گری، آدتیہ اپادھیائے اور اوانتیکا کو بھی ان کی تعلیمی کامیابیوں کے لیے اعزاز سے نوازا گیا۔
کنونشن میں ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والے نوجوانوں پرجول پرجاپتی، ابھیشیک چورسیہ، امیت کمار گوتم، ہرش گپتا، شیوَم پانڈے، سوریانشو شکلا، سوربھ چندرا، بھیم یادو، شیوادتیہ، دیشو کھنہ اور آدتیہ موریہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر نوجوانوں کو جوڑنے، تخلیقی اظہار اور مثبت سماجی اثرات پیدا کرنے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے کردار کو تسلیم کیا گیا۔

ہندوستانی کرکٹر جناب دھرو جوریل نے شرکاء کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے اور کھیلوں میں بہترین کارکردگی حاصل کرنے کے لیے نظم و ضبط، لگن اور محنت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فلم ’ہنومان انش‘ کے ہدایت کار جناب وشال چترویدی نے بھی شرکاء سے تبادلۂ خیال کیا اور تخلیقی اظہار کے ساتھ ساتھ نوجوان ناظرین کو متاثر کرنے میں موسیقی اور ثقافتی قصہ گوئی کے کردار پر اپنے خیالات پیش کیے۔پروگرام میں ’ہنومان انش‘ سے وابستہ جناب سادھو تیواری نے موسیقی پیش کی۔ اس کے علاوہ مائی بھارت کے رضاکاروں نے لوک موسیقی، نکڑ ناٹک اور لوک رقص پیش کیا۔ ان پیش کشوں کے ذریعے ہندوستان کے مالا مال ثقافتی ورثے کا جشن منایا گیا اور نوجوانوں کو جوڑنے میں فنونِ لطیفہ اور ثقافت کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

کنونشن میں رضاکارانہ خدمات، قیادت، عملی تجربات کے ذریعے سیکھنے اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں مائی بھارت کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے نوجوانوں اور کچھ کر دکھانے کا عزم رکھنے والے نوجوانوں کو ایک ساتھ لا کر اس کنونشن کا مقصد کامیابی کی متاثر کن کہانیوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا، نوجوانوں کے درمیان ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے مواقع کو فروغ دینا اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی پہلوں میں وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
مائی بھارت یوتھ کنونشن نے نوجوانوں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ’وکست بھارت@2047‘ کے ہدف کی جانب ہندوستان کی ترقی کے سفر میں ان کی بامعنی شرکت کو ممکن بنانے کی اہمیت کی توثیق کی۔
*****
ش ح۔ م ش۔ ص ج
U. No-5001
(ریلیز آئی ڈی: 2322152)
وزیٹر کاؤنٹر : 18