قومی انسانی حقوق کمیشن
قومی انسانی حقوق کمیشن،بھارت نے نئی دہلی میں اپنا 33واں یومِ تاسیس منایا
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے قومی انسانی حقوق کمیشن کی برسوں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کمیشن کو تاریکی میں بھٹکنے والوں کے لیےمشعلِ راہ قرار دیا
انہوں نے کہا کہ ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں کا بھی اہم کردار ہے، کیونکہ وہ ان مقامات کے قریب ہوتے ہیں جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں
پانی بطورآبِ حیات کے موضوع پر قومی کانفرنس منعقد کرنے کے لیے قومی انسانی حقوق کمیشن کی ستائش کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ پانی کے حق کو صرف موجودہ دور کے حق کے طور پر نہیں، بلکہ مستقبل کے تئیں ایک ذمہ داری کے طور پر بھی سمجھا جانا چاہیے
قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین جسٹس وی.راما سبرامنیم نے کہا کہ آج دنیا کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کے پیش نظر، دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں کو اپنی معنویت برقرار رکھنے کے لیے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 6:33PM by PIB Delhi
قومی انسانی حقوق کمیشن،بھارت نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں اپنا 33واں یومِ تاسیس منانے کے لیے ایک تقریب اور‘‘پانی: آبِ حیات، پانی کے حق کے ذریعے انسانی وقار کا فروغ’’ کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کمیشن کا قیام 12 اکتوبر 1993 کو عمل میں آیا تھا۔ تقریب سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ بھارت کے آئین میں ہر شہری کے لیے وقار، مساوات، آزادی اور انصاف سمیت وسیع پیمانے پر وعدے کیے گئے ہیں۔ آئین کی تمہید میں درج یہ الفاظ اب تک تحریر کیے گئے بہترین الفاظ میں شامل ہیں اور ان پر روزانہ کی بنیاد پر عملی میدان میں، حوالات میں، اسپتال کے وارڈ میں اور سڑک کے آخری سرے پر واقع گاؤں میں بھی عمل ہونا چاہیے۔

قومی انسانی حقوق کمیشن کی برسوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے جسٹس کانت نے کہا کہ لوگ کبھی کبھی کہتے ہیں کہ‘‘کمیشن صرف سفارش کر سکتا ہے، حکم نہیں دے سکتا، لیکن میں اس معاملے کا ایک متبادل نقطۂ نظر پیش کرنا چاہوں گا۔ ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ معاشرے کے وسیع اور بے قرار سمندر کے کنارے ایک تنہا مینار ثابت قدمی سے کھڑا ہے۔ اس کا مقصد ناانصافی کی لہروں کو روکنا نہیں، بلکہ تاریکی میں بھٹکنے والوں کو راستہ دکھانے کے لیے روشنی بکھیرنا ہے۔’’انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے کمیشنوں کو شکایات کی تحقیقات کرنی چاہیے، نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جن معاملات پر بصورتِ دیگر توجہ نہ دی جائے، انہیں ادارہ جاتی سطح پر اہمیت حاصل ہو۔ شہری سماج کےزمینی حقائق کو سامنے لانے میں مدد کر سکتا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے سائنسی معلومات، تجربے اور تعاون کے ذریعے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اس لیے انسانی حقوق کے کسی ادارے کی حقیقی اہمیت کا اندازہ صرف اس کے فیصلے کیے گئے مقدمات کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جانا چاہیے کہ آیا وہ ان لوگوں کی آواز سن سکتا ہے جو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی حقوق کے کمیشنوں، بالخصوص ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں(ایس ایچ آر سیز)کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع ملک میں اکثر حقوق کے حصول کا تجربہ دارالحکومت میں نہیں، بلکہ کسی دور دراز گاؤں، کسی مخصوص محلے یایہاں تک کہ گھرانے میں طے ہوتا ہے۔ قومی کمیشن معیارات وضع کر سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر سامنے آنے والے رجحانات کی جانب توجہ مبذول کرا سکتا ہے، لیکن ریاستی کمیشن اکثر ان مقامات کے زیادہ قریب ہوتے ہیں جہاں حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔ وہ شکایت اسی زبان میں سن سکتے ہیں جس میں وہ درج کرائی گئی ہو، خلاف ورزی کے مقام تک پہنچ سکتے ہیں اور ان مقامی حالات کو سمجھ سکتے ہیں جن میں یہ واقعہ پیش آیا ہو۔ یہ قربت انہیں محض انتظامی برتری ہی نہیں دیتی، بلکہ ایسی ذمہ داری بھی سونپتی ہے جو لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔

انہوں نے یومِ تاسیس کی تقریب کے ساتھ ‘‘پانی: آبِ حیات’’ کے موضوع پر قومی کانفرنس منعقد کرنے کے لیے بھی کمیشن کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے حق کو صرف موجودہ دور کے حق کے طور پر ہی نہیں، بلکہ مستقبل کے تئیں ایک ذمہ داری کے طور پر بھی سمجھا جانا چاہیے۔
جسٹس کانت نے کہا کہ ہندوستان نے پینے کے پانی تک رسائی کو وسعت دینے کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں، جن میں دیہی علاقوں میں گھروں تک نل کے کنکشن فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت کی ستائش کی جانی چاہیے، لیکن اب اگلا سوال مزید اہم ہے: کیا پانی محفوظ ہے، قابلِ اعتماد طریقے سے دستیاب ہے اور خاندان کو ضرورت کے وقت ملتا ہے؟ اس لیےحکومت کو ایسے نظام قائم کرنے اور برقرار رکھنے چاہیے جن کے ذریعے پانی لوگوں تک پہنچتا ہے۔ آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر عدالتوں کو مداخلت کرنی چاہیے۔


انہوں نے قومی انسانی حقوق کمیشن،بھارت کی موبائل ایپلی کیشن کے اجرا اور اس کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل دینے کی سمت میں اٹھائے گئے قدم کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایپ سے کمیشن تک ان لوگوں کی رسائی آسان ہوگی جنہیں روایتی طور پر رسمی اداروں سے رجوع کرنے میں دشواری پیش آتی رہی ہے۔
اس سے قبل، یومِ تاسیس کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی دعوت قبول کرنے پر چیف جسٹس آف انڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین جسٹس وی.راما سبرامنیم نے کہا کہ چیف جسٹس کا عہدہ ملک کا سب سے اہم، سب سے طاقتور اور سب سے متحرک عہدہ بن گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی یہ ملک کا سب سے زیادہ غیر محفوظ عہدہ بھی ہے، جسے ہر روز، بلکہ ہر لمحے، آزمائش کی بھٹی (اگنی پریکشا) سے گزرنا پڑتا ہے، اور ایسا ضروری نہیں کہ ہر وقت یہ آزمائش پاکیزہ روحوں ہی کی جانب سے ہو۔

چیئرمین نے کہا کہ اس حقیقت سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ آج دنیا رہنے کے لیے سو سال پہلے کے مقابلے میں کہیں بہتر جگہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، آج ہمیں جن چیلنجوں کا سامنا ہے، وہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالیں، تاکہ وہ اپنی معنویت برقرار رکھ سکیں۔
جسٹس راما سبرامنیم نے کہا کہ دنیا کی نصف غریب ترین آبادی عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او ٹو) کے اخراج کے صرف 14 فیصد کی ذمہ دار ہے، جبکہ دنیا کے امیر ترین10 فیصد لوگ مجموعی اخراج کے نصف کے ذمہ دار ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ آب و ہوا اور دولت کا آپس میں گہرا تعلق ہے، کیونکہ بنیادی طور پر دونوں کی جڑ ایک ہی ہے، یعنی فوسل ایندھن پر مبنی سرمایہ داری۔ گزشتہ دو صدیوں کے دوران انسانیت نے جو غیر معمولی ترقی کی ہے، اس کا ذریعہ بھی فوسل ایندھن ہے، لیکن آج ہمیں جن غیر معمولی مسائل کا سامنا ہے، ان کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند دہائیاں پہلے تک انسانی حقوق کے مسائل کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر عموماً دو رخی ہوتا تھا۔ ہم یہ فرض کرتے تھے کہ معاملہ شہری اور ریاست کے درمیان ہے، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ اب غیر ریاستی عناصر بھی بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خاص طور پر ڈیجیٹل انقلاب کے بعد۔ آج ڈیجیٹل دنیا میں ہماری رائے کو بدلا جا سکتا ہے، ہمارے سوچنے کے انداز کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ہماری جسمانی و ذہنی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ، خصوصاً جب ہم قومی انسانی حقوق کمیشن کا یومِ تاسیس منا رہے ہیں، ہم نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے خود کو نئے سرے سے ڈھالنے، انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے مقصد کے تئیں اپنے عزم کی تجدید کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا عہد کریں، تاکہ ہماری خدمات کی فراہمی کا نظام مزید مؤثر ہو سکے۔
اس سے قبل، قومی انسانی حقوق کمیشن کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے کہا کہ کمیشن قانون اور آئین کے مطابق وقار اور مساوات کے حق سمیت تمام افراد کے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کے 33 سالہ سفر میں کچھ اتار چڑھاؤ آئے ہوں گے، لیکن وہ انسانی حقوق کے مقصد کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانے کے عزم پر قائم ہے۔ کمیشن نے کھلی سماعتوں اور کیمپ نشستوں کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کی دہلیز تک اپنی رسائی کو وسعت دی ہے۔

قومی انسانی حقوق کمیشن کی رکن محترمہ وجیا بھارتی سینی نے کہا کہ انسانی حقوق کا تصور بھارت کی قدیم تہذیب میں گہری جڑیں رکھتا ہے، جس کی عکاسی ملک کے آئین میں بھی ہوتی ہے۔ رِگ وید اور اُپنشدوں کے حوالے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے قدیم مذہبی صحیفوں نے ہمیں باہمی احترام کے ساتھ مل جل کر رہنے اور مکالمے و اجتماعی قوت کے ذریعے سبھی کے انسانی وقار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کا راستہ دکھایا ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ورثے پر فخر کرنا چاہیے اور دیگر کمزور طبقات کے ساتھ ساتھ لڑکیوں، بچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مساوی شراکت داروں کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے۔

اپنے ابتدائی کلمات میں قومی انسانی حقوق کمیشن کے سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل نے زندگی کے فروغ اور تحفظ کے لیے کمیشن کی جانب سے کیے جانے والے کام کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ انسانی حقوق کے موضوعات بھی ارتقا پذیر ہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل دنیا نئے چیلنجز سامنے لا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن نے اپنے 33ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کے حصے کے طور پر‘‘پانی: آبِ حیات، پانی کے حق کے ذریعے انسانی وقار کا فروغ’’ کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس منعقد کی ہے۔ اس کے دو تکنیکی اجلاسوں کے موضوعات ہیں: ‘‘آبی ذخائر کا تحفظ اور بحالی: پانی کے حق کی بنیاد کا تحفظ’’ اور‘‘پینے کے پانی کے ذرائع کا تحفظ: سبھی کے لیے پانی تک محفوظ اور پائیدار رسائی کو یقینی بنانا’’۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان مباحثوں کے نتیجے میں بامعنی سفارشات سامنے آئیں گی۔

اس تقریب میں قومی انسانی حقوق کمیشن کے سابق ارکان، سابق سکریٹری جنرل، ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں اور دیگر کمیشنوں کے چیئرپرسن اور ارکان، عدلیہ کے ارکان، سفارتی برادری، بین الاقوامی تنظیموں اور شہری سماج کے نمائندوں، خصوصی نگرانوں اور خصوصی نامہ نگاروں، حکومت کے سینئر افسران، ماہرینِ تعلیم، انسانی حقوق کے علم برداروں، محققین اور قومی انسانی حقوق کمیشن کے سینئر افسران سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔
***
) ش ح – رک )
U.NO- 5072
(ریلیز آئی ڈی: 2322700)
وزیٹر کاؤنٹر : 12