شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے میزورم میں 331 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا


مرکزی وزیر نے 102 ؍کروڑ روپے کے پانچ منصوبے قوم کے نام وقف کیے اور 228.54 ؍کروڑ روپے کے پانچ منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا؛ ان سے رابطہ کاری، بجلی، پانی کی سپلائی، صحت خدمات، تعلیم، کھیل اور ثقافت کو تقویت ملے گی

شمال مشرقی ہندوستان کی ترقی کا محرک بن کر ابھر رہا ہے؛ ترقی کے ساتھ ساتھ میزورم کی منفرد شناخت اور قدرتی ورثے کو بھی محفوظ رکھنا ضروری

سال2026 کی پہلی ششماہی میں میزورم میں ریکارڈ5 لاکھ سے زیادہ سیاح آئے: سندھیا

مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے مالی سال 2026-27 میں شمال مشرقی خطے کے لیے شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کی جانب سے 6,812.30 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 8:30PM by PIB Delhi

ٹیلی مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی(ڈی او این ای آر یعنی ڈونر) کے مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے آج میزورم میں 331 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور نئے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ جناب سندھیا میزورم کے دو روزہ دورے پر ہیں۔

آئیزول پہنچنے کے بعد مرکزی وزیر تویوامیت گئے اور وہاں 102 کروڑ روپے کے پانچ منصوبوں کا افتتاح کیا۔ مرکزی وزیر نے 228.54 کروڑ روپے کے پانچ منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ ان منصوبوں میں سڑک رابطہ کاری، بجلی کی ترسیل، پانی کی فراہمی، صحت خدمات، تعلیم، کھیل اور ثقافتی بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

میزورم کے وزیر اعلیٰ جناب پولال دُہوما اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب سندھیا نے کہا کہ ترقیاتی اقدامات میزورم میں رابطے کی سہولتوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے حکومتِ ہند کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

میزورم کو بلند و بالا پہاڑوں اور اس سے بھی بلند عزائم کی سرزمین قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا، ’’جغرافیہ منظرنامے کی تشکیل تو کر سکتا ہے، لیکن اسے کبھی بھی لوگوں کی ترقی کی حدود متعین نہیں کرنی چاہئیں۔‘‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ موقع محض بنیادی ڈھانچے کا افتتاح کرنے یا سنگ بنیاد رکھنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ریاست بھر کے کسانوں، کاروباری افراد، نوجوانوں اور مختلف برادریوں کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261012203114_00092f.jpg

شمال مشرقی خطہ ہندوستان کی ترقی کا محرک بن کر ابھر رہا ہے---

جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا شمال مشرقی خطے کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نے کہا کہ جہاں ہندوستان تقریباً 7 سے 7.5 فیصد کی شرح سے معاشی ترقی کر رہا ہے، وہیں شمال مشرقی خطہ بھی ملک کی ترقی کی رفتار میں تیزی سے اہم کردار ادا کرنے والے خطے کے طور پر ابھر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ شمال مشرقی خطہ ہندوستان کی ترقی کو آگے بڑھانے والے محرک کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ شمال مشرقی خطے کا یہ ان کا 35واں دورہ تھا اور کہا کہ ہر دورے سے ’اشٹ لکشمی‘ ریاستوں کی ترقی کے تئیں ان کا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جب بھی میں یہاں آتا ہوں، تو نئی توانائی اور اشٹ لکشمی ریاستوں کی ترقی کے تئیں نئے عزم کے ساتھ واپس جاتا ہوں۔‘‘

وزیر اعلیٰ پُو لالدوہوما کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے جناب سندھیا نے وزیر اعلیٰ اور اپنے مرحوم والد کے درمیان قریبی تعلقات کو محبت کے ساتھ یاد کیا۔ ایک خوشگوار لمحے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس تعلق کی دوسری نسل کی نمائندگی کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ کی نوجوانوں جیسی توانائی اور جوش و جذبے کی ستائش کی۔

جناب سندھیا نے خطے کے غیر معمولی قدرتی حسن اور ماحولیاتی دولت کو بھی اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261012203122_f11fb1.jpg

رابطہ کاری میزورم کے ترقیاتی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے---

مرکزی وزیر نے سڑکوں، ریلوے اور فضائی نقل و حمل کے ذریعے میزورم میں رابطہ کاری کی سہولتوں میں ہونے والی نمایاں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نہ صرف بنیادی ڈھانچے کے ذریعے بلکہ لوگوں کے درمیان مضبوط روابط کے ذریعے بھی تیزی سے جڑ رہی ہے۔

انہوں نے 51.38 کلومیٹر طویل بیرابی–سائیرانگ ریلوے لائن کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا، جس نے میزورم کو ہندوستان کے ریلوے نقشے پر جگہ دلائی اور بڑے معاشی مراکز تک رسائی کو تبدیل کر دیا۔

ریلوے رابطہ کاری کے ذریعے 1,100 سے زیادہ ٹرینوں کے ٹریپ میں 15 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا ہے۔ اس سے آئیزول کو گوہاٹی، کولکاتا اور دہلی سے جوڑا گیا ہے۔ سائیرانگ–سلچر ریل سروس کے آغاز سے براک وادی کے ساتھ رابطہ کاری مزید مضبوط ہوئی ہے۔

ایک اور اہم کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے جناب سندھیا نے مارچ 2026 میں سائیرانگ پہنچنے والی ہندوستانی فوڈ کارپوریشن کی اناج سے لدی پہلی مال گاڑی کا حوالہ دیا، جو پنجاب سے تقریباً 26,000 کوئنٹل چاول لے کر 42 ڈبوں کے ساتھ پہنچی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہائی قبل پنجاب سے میزورم تک ریل کے ذریعے اناج کی براہِ راست ترسیل کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بہتر رابطہ کاری ملک کے دور دراز علاقوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہے۔

جناب سندھیا نےسیاحت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران میزورم میں 4,94,362 ملکی سیاحوں اور 7,389 غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو سیاحتی مقام کے طور پر ریاست کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261012203131_97060a.jpg

میزورم جنجر مشن سے کسانوں کے ذریعۂ معاش کو تقویت ملے گی

جناب سندھیا نے ریاست کی زرعی صلاحیت پر روشنی ڈالتےہوئے میزورم کی ادرک کو ریاست کی منفرد طاقت اور معاشی شناخت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ 189.79 کروڑ روپے کا میزورم جنجر مشن تقریباً 20,000 کسان خاندانوں کو ایک مربوط ویلیو چین سے جوڑے گا، جس میں کاشت، پراسیسنگ، برانڈنگ، رابطہ کاری اور قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی شامل ہوگی۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ اس مشن کا مقصد صرف ادرک کی پیداوار بڑھانا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ کسانوں اور مقامی برادریوں کو اس سے پیدا ہونے والی معاشی قدر میں زیادہ حصہ ملے۔

انہوں نے کہا، ’’میزو ادرک میزورم کی منفرد پہچان ہے؛ ہمارا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ اس کی قدر وہیں برقرار رہے ،جہاں ادرک اگائی جاتی ہے۔‘‘

اہم شعبوں میں 331 کروڑ روپے کے ترقیاتی اقدامات

ریاست میں شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت (ڈونر) کی جانب سے خطے میں کی جارہی مسلسل سرمایہ کاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے جناب سندھیا نے اجتماع کو مطلع کیا کہ موجودہ مالی سال میں شمال مشرقی خطے کے لیے وزارت کو 6,812.30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میزورم میں 4,617.70 کروڑ روپے کی لاگت کے 375 منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں سے 2,692.31 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری والے 295 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔

ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تعاون اور کوششوں کے لیے میزورم  حکومت کو مبارک باد دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ہر پانچ میں سے تقریباً چار منصوبوں کی تکمیل مرکز اور ریاست کے درمیان مربوط کوششوں سے حاصل ہونے والی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

مرکزی وزیر نے تقریباً 331 کروڑ روپے کے دس ترقیاتی منصوبوں کو اجاگر کیا، جن میں تقریباً 102 کروڑ روپے کے پانچ منصوبے عوام کے نام وقف کیے گئے اور 228.54 کروڑ روپے کے پانچ منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

انہوں نے ان اقدامات کو ’’راستوں اور جڑوں‘‘ میں سرمایہ کاری قرار دیا۔ ان کے مطابق، راستوں سے مراد لوگوں اور منڈیوں کو جوڑنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ ہے، جب کہ جڑوں سے مراد ایسے ادارے ہیں جو صحت، تعلیم، ثقافت اور صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ راستے میزورم کو دنیا تک پہنچاتے ہیں، جب کہ جڑیں میزورم کی میزو شناخت کو برقرار رکھتی ہیں۔‘‘

ایک سو دو(102) کروڑ روپے کی لاگت کے پانچ ترقیاتی منصوبے عوام کے نام وقف:

افتتاح کیے گئے اور عوام کے نام وقف کیے گئے منصوبوں میں  درج ذیل شامل ہیں:

  1. ڈائیڈو–وانگ کاوٹ روڈ، چمفائی(17.24 کروڑ روپے):شمال مشرقی خطے کی ترقی کی اسکیم کے تحت تیار کی گئی 3.33 کلومیٹر طویل سڑک، جس کا مقصد میزو  کےادرک کے پائلٹ خطے میں رابطہ کاری کو بہتر بنانا اور زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
  2. مامیت کے راستے 132 کلو واٹ بیرابی–ویسٹ فیلینگ بجلی کی ترسیلی لائن (54.95 کروڑ روپے): 74؍ سرکٹ کلومیٹر طویل بجلی کی ترسیلی لائن، جس کا مقصد ریاست کے بجلی ترسیلی نیٹ ورک کو مضبوط بنانا اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔
  3. نارتھ وانلائی پھائی آبی فراہمی اسکیم میں توسیع(20.50کروڑ روپے: )اس منصوبے کا مقصد پانی کی فراہمی تک رسائی بہتر بنانا اور ضروری عوامی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے۔
  4. آیوش ڈیولپمنٹ سینٹر(2.64 کروڑ روپے): آیوش کے شعبے میں ادارہ جاتی صلاحیت اور صحت خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پہل۔
  5. شمال مشرقی خطے کے لیے آئیزول انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ میوزک، تویوامیت تانگ ((6.90کروڑ روپے: شمال مشرقی کونسل کی اسکیموں کے تحت قائم کیے گئے اس ادارے کا مقصد فنکارانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا، ثقافتی روایات کو محفوظ رکھنا اور موسیقی و فنون کے شعبوں میں پیشہ ورانہ مواقع پیدا کرنا ہے۔

آئیزول انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ میوزک کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب سندھیا نے میزورم کی غیر معمولی موسیقی کی صلاحیتوں کی ستائش کی اور پروگرام کے دوران پرفارم کرنے والے موسیقاروں کی تعریف کی۔

انہوں نے فنکاروں، خصوصاً ڈھول بجانے والوں کی توانائی، جوش و جذبے اور مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی پیشکشیں میزورم کے فنکارانہ معیار اور متحرک ثقافتی روح کی عکاسی کرتی ہیں۔

پانچ منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جس کی مجموعی لاگت228.54 کروڑ روپے ہے----

مرکزی وزیر نے ریاست بھر میں رابطہ کاری کو وسعت دینے اور سماجی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے پانچ ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

ان میں شامل ہیں:

  1. پُک زنگ–سِلسوری سڑک، مامیت(100.24 کروڑ روپے): شمال مشرقی خطے کی ترقی کی اسکیم کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے لیے شروع کیا گیا 21 کلومیٹر طویل سڑک منصوبہ، جس کا مقصد ہر موسم میں آمد و رفت کی سہولت کو بہتر بنانا ہے۔ جناب سندھیا نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سِلسوری ان دیہات میں شامل ہے جن کی نشاندہی نئی بینک شاخ کھولنے کے لیے کی گئی ہے، جہاں سڑک رابطہ کاری کی ناکافی سہولت بدستور ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
  2. توالپُوئی–چمفائی سڑک( 57.01کروڑ روپے): 21 کلومیٹر طویل سڑک کا یہ منصوبہ خاؤزول اور چمفائی اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانا اور منڈیوں نیز ضروری خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
  3. آئل پام رابطہ سڑک(26.49کروڑ روپے): شمال مشرقی خطے کی ترقی کی اسکیم کے تحت سڑکوں کی تعمیر کا یہ 32.70 کلومیٹر طویل منصوبہ کولاسِب، مامیت، لنگلی اور لانگتلائی کے علاقوں کو جوڑے گا۔ اس سے 19 دیہات کے تقریباً 60,000 افراد کو زرعی پیداوار کی نقل و حمل اور ضروری خدمات تک رسائی بہتر ہونے کے ذریعے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
  4. اے این ایم اسکول، زیما باوک، آئیزول کے لیے 40 بستروں پر مشتمل ہاسٹل (10 کروڑ روپے): شمال مشرقی خطے کی ترقی کی اسکیم کے تحت شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد نرسنگ کی تعلیم کو مضبوط بنانا اور صحت خدمات کے پیشہ ور افراد کی تربیت میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
  5. میزورم میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی(34.80کروڑ روپے)): اس اقدام کا مقصد کھلاڑیوں کے لیے کھیلوں کی بہتر سہولتیں اور مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے میزورم کی مضبوط کھیلوں کی روایت اور ہندوستانی فٹ بال سمیت دیگر کھیلوں میں اس کی خدمات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

ترقی میں ہناٹ لانگ کے جذبے کی جھلک نظر آنی چاہیے

 اپنے خطاب کے اختتام پر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے میزورم کی روایتی ہناٹ لانگ کی روح کا ذکر کیا۔ یہ ایک اجتماعی روایت ہے جس میں لوگ رضاکارانہ طور پر اپنے گاؤں اور پڑوسیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مل جل کر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے ترقیاتی اقدامات کو بڑے پیمانے پر ہناٹ لانگ کی روح کا مظہر قرار دیا، جس میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور عوام ترقی کے مشترکہ مشن کے لیے ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کا حتمی پیمانہ ان پر خرچ ہونے والی رقم نہیں، بلکہ لوگوں کی زندگیوں پر ان کے اثرات ہونے چاہئیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ آیا کسانوں کو منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوئی، صحت خدمات میں بہتری آئی، نوجوان موسیقاروں کے لیے زیادہ مواقع پیدا ہوئے یا ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو کھیلوں کی بہتر سہولتیں ملیں۔

جناب سندھیا نے میزورم کی جامع اور پائیدار ترقی کے تئیں حکومتِ ہند کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقصد ریاست کی منفرد ثقافتی شناخت اور قدرتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے نئے معاشی مواقع پیدا کرنا ہے۔

مرکزی وزیر کے میزورم کے 12 سے 13 اکتوبر 2026 تک جاری دو روزہ دورے میں طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بینکاری شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں شمال مشرقی خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معاشی شمولیت پر شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کی مسلسل توجہ کی عکاسی کرتی ہیں۔

***

ش ح۔ م ع ن- م ش

U.NO.5073


(ریلیز آئی ڈی: 2322707) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Assamese