الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کی وزارت
ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن اور منی پور حکومت نے بھاشنی راجیم ورکشاپ میں کثیر لسانی مصنوعی ذہانت اور لسانی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے
بھاشنی راجیم ورکشاپ کے منی پور باب میں لسانی ٹیکنالوجی، مقامی زبانوں کے اعداد و شمار اور شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل خدمات کا جائزہ لیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 10:47AM by PIB Delhi
ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی)کے تحت، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی)نے حکومت منی پور کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی محکمے کے اشتراک سے 14 اکتوبر 2026 کو امپھال میں بھاشنی راجیم ورکشاپ کے منی پور باب کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے، لسانی ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانے اور ہندوستانی زبانوں کے حل کو سرکاری اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی ڈیجیٹل خدمات میں شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
مذکورہ پروگرام میں منی پور کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب یمنم کھیم چند سنگھ نے شرکت کی۔ اس موقع پر سرکاری نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے ڈیجیٹل خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی اور جامع بنانے میں لسانی ٹیکنالوجی کے رول پر تبادلۂ خیال کیا۔

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن اور منی پور حکومت کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کیا جانا ورکشاپ کا ایک اہم نتیجہ رہا۔ اس مفاہمت نامے پر ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے چیف ایگزیکٹیو افسر جناب امیتابھ ناگ اور منی پور حکومت کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی محکمے کے سکریٹری جناب سومورجیت سلام، آئی اے ایس نے دستخط کیے۔ اس مفاہمت نامے کا مقصد لسانی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا، لسانی وسائل کو بہتر بنانا اور ریاست بھر میں کثیر لسانی ڈیجیٹل خدمات کے لیے حل دریافت کرنا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، منی پور کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب یمنم کھیم چند سنگھ نے ہندوستان کی لسانی تنوع کو فروغ دینے اور ریاست کی برادریوں کے لیے مواقع بڑھانے میں مصنوعی ذہانت اور لسانی ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ عزت مآب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت اور لسانی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم ہندوستان کی متنوع زبانوں کو فروغ دے رہے ہیں اور منی پور کی مزید زبانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں شامل کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کے سفر میں ہماری لسانی تنوع ایک قیمتی طاقت ہے۔‘‘
منی پور حکومت کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی محکمے کے سکریٹری جناب سومورجیت سلام، آئی اے ایس نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل خدمات ایسی ہونی چاہئیں جو ان لوگوں کے لیے قابلِ رسائی اور بامعنی ہوں، جن کی خدمت کے لیے انہیں تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ڈیجیٹل خدمات اسی وقت مؤثر ہوتی ہیں جب لوگ انہیں سمجھ سکیں اور پورے اعتماد کے ساتھ استعمال کر سکیں۔ بھاشنی کے ذریعے ہم منی پور کی ضروریات کے مطابق، اچھی طرح آزمائے گئے حل پیش کرکے زبان میں حائل رکاوٹوں کو دور کر سکتے ہیں اور عوام کو دیرپا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
اس ورکشاپ میں بھاشنی کے، زبان کو اولیت دینے والے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی)اور اس کے کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کے نظام کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اس دوران یہ بتایا گیا کہ مختلف زبانوں میں ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے کے لیے لسانی ڈیٹا سیٹ، مصنوعی ذہانت کے ماڈل، ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس(اے پی آئی)اور ایپلی کیشنز کس طرح اہم رول ادا کرتے ہیں۔ تبادلۂ خیال میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ زیادہ قابلِ رسائی خدمات کی فراہمی کے لیے ان صلاحیتوں کو سرکاری پلیٹ فارم اور شہریوں کے زیر استعمال ایپلی کیشنز میں کس طرح شامل کیا جا سکتا ہے۔
اس میں انگریزی سے منی پوری زبان میں حقیقی وقت میں ترجمے کے عملی مظاہرے میں لسانی ٹیکنالوجی کے ذریعے ابلاغ کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس نشست میں ڈیجیٹل لسانی وسائل تیار کرنے اور متعلقہ اعداد و شمار کی مدد سے لسانی ماڈلس کی افادیت جانچنے کی اہمیت کو بھی اجاگرکیا گیا۔ مذکورہ مقصد کے لیے لسانی ماہرین اور مقامی برادریوں کی آرا کو شامل کرنے پر زور دیا گیا، تاکہ حقیقی زندگی میں ان وسائل کی افادیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
ہندوستان کے لسانی تنوع کی عکاسی کرنے والی لسانی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے، ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے چیف ایگزیکٹیو افسر جناب امیتابھ ناگ نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت کو ہندوستان کے تمام لسانی تنوع کو سمجھنا چاہیے۔ منی پور کے ساتھ اپنی شراکت داری کے ذریعے ہمارا مقصد لسانی ٹیکنالوجیز کو مضبوط بنانا، ان کے عملی استعمال کے دائرے کو وسیع کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ زبان ڈیجیٹل خدمات تک رسائی حاصل کرنے یا مواقع سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ نہ بنے۔‘‘
مذکورہ ورکشاپ میں منی پور کے لسانی تنوع کو اجاگر کیا گیا، جس میں منی پوری، تانگ کھل، تھادو، پائتے، ہمّار، لیانگ مائی اور ریاست بھر میں بولی جانے والی دیگر زبانیں شامل ہیں۔ ریاست کا لسانی علم، مقامی مہارت اور برادریوں کی شرکت ایسی لسانی ٹیکنالوجیز تیار کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے جو علاقائی ضروریات اور ابلاغ کے طریقوں کی بہتر عکاسی کریں۔
مختلف نشستوں میں حکمرانی اور شہری خدمات، بشمول تعلیم، صحت، قانونی خدمات اور شکایات کے ازالے میں کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ بھاشنی شلپی نے، جو ڈیولپرز، طلبہ اور اختراع کاروں کے لیے بات چیت کا ایک پلیٹ فارم ہے، شرکا کو زبان سے متعلق مصنوعی ذہانت کے بارے میں سیکھنے، تجربات کرنے، مسائل حل کرنے اور اس کی مدد سے نئی چیزیں تیار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ نشست محض روایتی تکنیکی اجلاس تک محدود رہنے کے بجائے شرکا کو حقیقی زندگی کے مسائل پر غور کرنے، خیالات کا تبادلہ کرنے اور بھاشنی کی لسانی ٹیکنالوجیز، خدمات اور ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی)کے ذریعے نئی چیزیں تیار کرنے، ان کا دائرہ وسیع کرنے اور اختراع کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دیتی رہی۔ سوال و جواب کے بات چیت کے اس اجلاس میں بھی شرکا کو ممکنہ استعمال پر تبادلۂ خیال کرنے اور ان پر عمل درآمد سے متعلق وضاحت حاصل کرنے کا موقع حاصل ہوا۔ بھاشنی متر پہل کو بھی اجاگر کیا گیا، جس کے ذریعے ریاستی ادارے اور لسانی برادریاں لسانی اعداد و شمار فراہم کرنے اور کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کے وسائل کو مضبوط بنانے میں اپنا تعاون دے سکتی ہیں۔

اگلے مرحلے کے طور پر، ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن اور حکومت منی پور ترجیحی استعمال کی نشاندہی کریں گے، لسانی اعداد و شمار کی ضروریات کا جائزہ لیں گے اور متعلقہ سرکاری پلیٹ فارمس میں بھاشنی کی لسانی ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے کے امکانات تلاش کریں گے۔ اس اشتراک کا مقصد لسانی وسائل کو مضبوط بنانا اور لسانی ماہرین اور مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر ایسے حل تیار کرنا اور ان کی توثیق کرنا بھی ہوگا، جو ریاست کے لسانی تنوع اور عوامی خدمات کی ضروریات کی عکاسی کریں۔
بھاشنی راجیم پہل کا مقصد بھاشنی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ لسانی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو ایسے عملی حل میں تبدیل کیا جا سکے جو ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کو بہتر بنائیں اور ہندوستان کے ڈیجیٹل نظام میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو بھی ممکن بنائیں۔
ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن(ڈی آئی بی ڈی) کے بارے میں
ہندوستان کی حکومت کی الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی)کا حصہ، ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی)، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کو زبانوں پر مبنی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے، تاکہ ڈیجیٹل خدمات تک متعدد زبانوں میں رسائی ممکن ہو سکے۔ بھاشنی مختلف زبانوں کے اعداد و شمار، مصنوعی ذہانت کے ماڈل، ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی)اور ایپلی کیشنز کو یکجا کرتا ہے، تاکہ سرکاری محکموں، ڈیولپرز، محققین اور دیگر متعلقہ فریقوں کو کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کے حل تیار کرنے میں مددحاصل ہو سکے۔ یہ 800 سے زیادہ سرکاری ویب سائٹس کو سہولت فراہم کرتا ہے، مجموعی طور پر 9 ارب سے زیادہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے نتائج اخذ کرنے کے عمل کو یہ اب تک ممکن بنا چکا ہے اور روزانہ 2 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ ایسے عمل انجام دیتا ہے۔ بھاشنی متن کے لیے ہندوستان کی 36 زبانوں، صوتی مواد کے لیے ہندوستان کی 23 زبانوں اور 35 بین الاقوامی زبانوں میں معاونت فراہم کرتا ہے، جس سے ہندوستان کے ڈیجیٹل نظام میں لسانی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔
***
ش ح۔ش م ۔ ع د
U-No. 6122
(ریلیز آئی ڈی: 2323751)
وزیٹر کاؤنٹر : 9