ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی
azadi ka amrit mahotsav

آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ کی حکمتِ عملی کے تحت تنظیمِ نو سے متعلق اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 4:53PM by PIB Delhi

سوال 1۔ آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ کے لیے اسٹریٹجک خریدار کون ہے؟

جواب:ایم/ایس10955230 کینیڈا آئی این سی(جس کی اصل کمپنی ایم /ایس فیئر فیکس فنانشیل ہولڈنگز لمیٹڈ ہے) کو آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ کے لیے اسٹریٹجک خریدار کے طور پر منظوری دی گئی ہے۔

سوال 2۔ اس لین دین کی مالیت کتنی ہے؟

جواب: اس لین دین کے لیے خریداری کی قیمت 52,878.0806181 کروڑ روپے ہے (الفاظ میں:باون ہزار آٹھ سو اٹھہتر کروڑ، آٹھ لاکھ چھ ہزار ایک سو اکیاسی روپے)۔

سوال 3۔ یہ رقم حکومتِ ہند اور لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی)کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب: اس لین دین کے ذریعے آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ کی مجموعی شیئر ہولڈنگ کا 60.72 فیصد شیئر فروخت کیا جا رہا ہے، جس میں حکومتِ ہند کی 30.48 فیصد اور ایل آئی سی کی 30.24 فیصد شیئر ہولڈنگ شامل ہے۔ حاصل ہونے والی رقم بھی اسی تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔

سوال 4۔ بولی کے عمل میں کتنے اداروں نے حصہ لیا؟

جواب: ابتدائی طور پر پانچ فریقوں نے دلچسپی کے اظہار نامے جمع کرائے تھے۔ ان میں سے چار فریق ابتدائی معلوماتی یادداشت(پی آئی ایم) میں مقررہ اہلیت کے معیار اور نااہلی سے متعلق شرائط کے مطابق اہل قرار پائے۔ ان میں سے دو فریقوں نے آخرکار تکنیکی اور مالی بولیاں جمع کرائیں اور اس لین دین کے لیے اہل بولی دہندگان (کیو بیز)بنے۔

سوال 5۔ آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ کی قدر کے تعین کے لیے کون سے طریقے اپنائے گئے؟

جواب: ادارے کی منصفانہ قدر کا تعین دو متبادل طریقوں، یعنی مارکیٹ ملٹی پل طریقے اور اثاثوں کی قدر کے تعین کے طریقے، سے کیا گیا۔

سوال 6۔ قدر کے تعین کا عمل کس نے انجام دیا؟

جواب: ادارے کی قدر کا تعین اس مقصد کے لیے مقرر کردہ دو آزاد پیشہ ورانہ اداروں نے کیا۔ اس عمل میں رازداری کی ضمانتوں کے پیش نظر ان اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔

سوال 7۔ آئی ڈی بی آئی بینک کی قدر کے تعین میں اسٹاک مارکیٹ کی قیمت کا کیا کردار رہا؟

جواب: محدود پیمانے پر خرید و فروخت ہونے والے آئی ڈی بی آئی کے شیئر کی غیر مستحکم مارکیٹ قیمت، قدر کے تعین کی مدت کے دوران، بولی کی پیش کردہ قیمت سے کبھی اوپر اور کبھی نیچے رہی (کم سے زیادہ قیمت کی حد 61.01 روپے سے 118.38 روپے فی شیئر تھی)۔ اسے نظرانداز کیا گیا، کیونکہ اس سے ادارے کی حقیقی قدر کے مطابق تخمینہ لگانے میں عدم مطابقت پیدا ہونے کا امکان تھا۔ اس کے بجائے مارکیٹ ملٹی پل طریقے کے ذریعے تقابلی قدر کا تعین کیا گیا، جو اس مسئلے پر قابو پاتا ہے۔ اس طریقے میں31 مارچ 2026 کو تمام سرکاری شعبے کے بینکوں کے اختتامی کھاتوں کی بنیاد پر ادارے کی منصفانہ بازاری قدر متعین کی گئی۔

سوال 8۔ آئی ڈی بی آئی بینک کے اثاثوں، بشمول زمین اور جائیدادوں، کی قدر کیسے متعین کی گئی؟

جواب: اثاثوں کی قدر کے تعین کا طریقہ اپنایا گیا، جس میں زمین اور جائیدادوں سمیت ٹھوس اور غیر ٹھوس اثاثوں کے ساتھ واجبات کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ اس کے ذریعے آئی ڈی بی آئی بینک کے 31 مارچ 2026 کے آڈٹ شدہ کھاتوں کے مطابق ادارے کی منصفانہ خالص اثاثہ جاتی قدر متعین کی گئی۔

سوال 9۔ اس لین دین کے لیے معیار کی قیمت کیا مقرر کی گئی؟

جواب: دو آزادانہ تخمینوں کی اوسط، یعنی 75.99 روپے فی شیئر، اہل بولیوں کی جانچ کے لیے معیار کی قیمت مقرر کی گئی۔ کامیاب بولی معیار کی قیمت کے ساتھ ساتھ دونوں آزاد قدر متعین کرنے والے اداروں کے تخمینوں سے بھی زیادہ پائی گئی۔

سوال 10۔ معیار کی قیمت کس طرح طے کی گئی؟

جواب: معیار کی قیمت، مارکیٹ ملٹی پل طریقے سے متعین کردہ منصفانہ بازاری قدر اور اثاثوں کی قدر کے تعین کے طریقے سے متعین کردہ منصفانہ خالص اثاثہ جاتی قدر کی اوسط تھی۔

سوال 11۔ اب مزید کیا کارروائی کی جائے گی؟

جواب: کامیاب بولی دہندہ اب اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) کے مرحلے میں کیے گئے ‘اہل اور موزوں’ہونے کے جائزے کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سامنے اپنی اہلیت سے متعلق دستاویزات پیش کرے گا اور اس میں مقررہ ضابطہ جاتی شرائط کی تعمیل کے لیے لائحۂ عمل بھی پیش کرے گا۔

 

سوال 12۔ حکومتِ ہند اور ایل آئی سی کے پاس کتنی ایکویٹی شیئر ہولڈنگ باقی رہے گی؟

جواب: حکومتِ ہند کے پاس 15 فیصد ایکویٹی شیئر ہولڈنگ باقی رہے گی، جب کہ ایل آئی سی کے پاس 19 فیصد ایکویٹی شیئر ہولڈنگ برقرار رہے گی۔ دونوں ادارے بینک کے بورڈ سے اپنے نامزد نمائندوں کو واپس بلا لیں گے اور عوامی شیئر ہولڈر بن جائیں گے۔

سوال 13۔ حکومتِ ہند اور ایل آئی سی آئی ڈی بی آئی بینک میں اپنی باقی ماندہ شیئر ہولڈنگ سے کیسے دست بردار ہوں گے؟

جواب: کابینہ کی اقتصادی امور سے متعلق کمیٹی نے متبادل طریقۂ کار کو اختیار دیا ہے کہ وہ معیاری عملی طریقۂ کار کے مطابق کھلی مارکیٹ کے ذریعے حکومتِ ہند کی باقی ماندہ شیئر ہولڈنگ میں اقلیتی شیئرز فروخت کرے۔ ایل آئی سی اپنے ضابطہ کار اداروں کی ہدایات کی تعمیل یقینی بناتے ہوئے اپنے داخلی طریقۂ کار کے مطابق باقی ماندہ شیئر ہولڈنگ کا انتظام کرنے کے لیے آزاد ہوگی۔

سوال 14۔ اس کا بینکاری شعبے اور مجموعی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟

جواب: اس سے ہماری معیشت کے بینکاری اور مالیاتی شعبے پر نمایاں طور پر مثبت اثر پڑے گا۔ نجکاری کے بعد آئی ڈی بی آئی بینک ماضی کے تجربے کے برعکس، سرکاری امداد پر انحصار کیے بغیر فنڈز حاصل کر سکے گا۔ توقع ہے کہ اسٹریٹجک خریدار نجی سرمایہ فراہم کرے گا، نئی ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی طریقے متعارف کرائے گا، جس سے بینک کی کاروباری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور قرضوں اور ڈیپازٹس، دونوں میں نمو کے حوالے سے اس کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی۔

سوال 15۔ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے دوران اس کا بھارت کے بیرونی شعبے پر کیا اثر پڑے گا؟

جواب: یہ اب تک ہماری معیشت کے مالیاتی شعبے میں سب سے بڑی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوگی۔ اس سے اقتصادی اصلاحات کے بارے میں مثبت رجحان پیدا کرنے اور ملک میں مجموعی طور پر سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

****

) ش ح – رک )

U.NO- 6135


(ریلیز آئی ڈی: 2323794) وزیٹر کاؤنٹر : 13