سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

لیباریٹری سے زمینی سطح تک، تصور سے  عملی اثر تک: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی صنعتی دنیا سے ہندوستان کے تکنیکی سفر میں شریک تخلیق کار بننے کی اپیل


تحقیق کے لیے مالی تعاون بھی نیک کام کرنےکے برابر ہے؛ سائنس میں سرمایہ کاری زندگیاں بچانے اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

’آئی آئی ٹی کے سمنوے 2026 ’میں مرکزی وزیر کی ڈیپ  ٹیکنالوجی کے شعبے میں گھریلوا وربین الاقوامی سرمایہ کاری بڑھانے کی اپیل

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کو مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے اگلے صنعتی انقلاب کی قیادت کرنی چاہیے

وکست بھارت2047 کے سفر میں سائنسی خود انحصاری ہندوستان کی جغرافیائی سیاسی خودمختاری اور عالمی مقام کا تعین کرے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 OCT 2026 5:08PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج صنعتوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے تکنیکی سفر میں شریک تخلیق کار کا کردار ادا کریں اور منصوبوں کے تصور سے لے کر ان کی تیاری، بڑے پیمانے پر توسیع اور تجارتی سطح پر متعارف کرانے تک محققین کے ساتھ مل کر کام کریں۔

نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں آئی آئی ٹی کے سمنوے 2026 کے تیسرے ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے ڈیپ ٹیکنالوجی کے شعبے میں گھریلو اور بین الاقوامی سرمایہ کاری بڑھانے اور تحقیق کے لیے مالی تعاون کے مضبوط کلچر کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے سائنسی تحقیق کو ’’ نیک کام کے برابر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں زندگیاں بچانے اور قومی ترقی میں تعاون کرنے کی صلاحیت ہے۔

’’ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، دیرپا شراکت داری‘‘ کے موضوع کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور (آئی آئی ٹی کانپور) کے زیر اہتمام منعقدہ آئی آئی ٹی کے سمنوے 2026 میں حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، نئے کاروباری اداروں اور تحقیقی اداروں سے وابستہ متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد باہمی تعاون کو مضبوط بنانا اور تحقیقی کام کو بازار میں استعمال کے لیے تیار ٹیکنالوجیز اور سماجی مسائل کے حل میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کرنا تھا۔ اس موقع پر آئی آئی ٹی کانپور کے ڈین برائے وسائل و فارغ التحصیل طلبہ پروفیسر امے کرکرے، نائب ڈائریکٹر پروفیسر برج بھوشن اور ڈائریکٹر پروفیسر منیندر اگروال بھی اسٹیج پر موجود تھے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ صنعتوں کو منصوبے کے ابتدائی مراحل ہی سے محققین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، تاکہ عملی استعمال کے امکانات کی نشاندہی کرنے، قابلِ عمل  مثالی کاروبار تیار کرنے اور اختراعات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے میں مدد مل سکے۔ روایتی شراکت داری سے آگے بڑھ کر مشترکہ طور پر تخلیق کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے صنعت کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ’’لیبارٹری سے زمینی سطح تک، تصور سے  عملی اثر تک اور پروٹو ٹائپ سے تیار شدہ مصنوعات تک‘‘ کے سفر کو تیز کرنے میں مدد کریں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان میں سائنسی صلاحیتوں، تخلیقی فکر اور اختراع کی بھرپورصلاحیتیں موجود ہیں، لیکن ان خوبیوں کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل ٹیکنالوجیز میں تبدیل کرنے کے لیے زیادہ مالی وسائل اور صنعتوں کی مضبوط شراکت داری ضروری ہے۔ انہوں نے صنعتی دنیا سے اپیل کی کہ وہ حکومت اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر جدید ترین اور ڈیپ ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے قابلِ عمل اور تجارتی طور پر سودمند نمونے تیار کریں، جن میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر زیادہ سے زیادہ شراکت داری شامل ہو۔

گزشتہ سال نومبر میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے اعلان کردہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس پہل کا مقصدڈیپ ٹیکنالوجی کی ترقی میں صنعتوں کی شراکت داری کو تیز کرنا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے تکنیکی عزائم کے لیے وسائل جمع کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر جوہری توانائی سمیت اہم شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ضوابط میں نرمی کا بھی ذکر کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنسی تحقیق کے لیے عطیات دینے کے رجحان کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق کی معاونت انسانی فلاح و بہبود میں براہِ راست تعاون کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور دیگر سماجی مقاصد کے لیے عطیات دینا بھی اہم ہے، تاہم سائنسی تحقیق اور طبی آزمائشوں میں سرمایہ کاری سے زندگی بچانے والے علاج اور طبی اقدامات کو آگے بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

خون جمنے کے فیکٹر آٹھ کی کمی سے وابستہ ایک مرض ہیموفیلیا کے سلسلے میں حال ہی میں ہونے والی کامیاب آزمائش کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ عطیات کے ذریعے زیادہ تعاون ملنے سے سائنسی اداروں کو تحقیق اور طبی اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے عطیہ دہندگان اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ تحقیق کو سماج اور قومی ترقی میں تعاون دینے کا ایک اہم ذریعہ سمجھیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کے دور کا مشاہدہ کررہا ہے، جسے سازگار پالیسی ماحول اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق اقدامات پر بڑھتی ہوئی توجہ سے تقویت مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے صنعتی انقلابات کے برعکس، جن میں ہندوستان نے کئی ٹیکنالوجیز کو دوسرے ممالک میں ترقی حاصل کرنے کے بعد اپنایا، اب ملک کے پاس تکنیکی ترقی کے اگلے مرحلے کی تشکیل میں حصہ لینے کا موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہندوستان کی پیش رفت کے ساتھ ملک اب ان شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے جن سے اگلے صنعتی انقلاب کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جینوم انڈیا جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

خلائی شعبے کو 20-2019 میں پرائیویٹ شعبے کی شراکت داری کے لیے کھولے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان میں خلائی شعبے سے وابستہ نئے کاروباری اداروں کی تعداد پہلے محض چند تھی، جو اب بڑھ کر 400 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے ملک کی خلائی معیشت کا حجم تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر بتایا اور اندازہ ظاہر کیا کہ اس دہائی کے اختتام تک یہ بڑھ کر 45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان میں نئے کاروباری اداروں کی تعداد بڑھ کر تقریباً ڈھائی لاکھ ہونے اور گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران حیاتیاتی مصنوعات کی تیاری کے شعبے کا حجم تقریباً 10 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 200 بلین امریکی ڈالر ہونے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ان پیش رفتوں کا سہرا پالیسی تعاون، سازگار نظام اور اختراع و کاروبار کو فروغ دینے پر بڑھتی ہوئی توجہ کو دیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ قومی تحقیقی فاؤنڈیشن ہندوستان کے تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم ادارہ جاتی ذریعہ ہے۔ اس کا طریقۂ کار سائنسی مہارت کو سماجی علوم، انسانیت اور روایتی علم کے نقطۂ نظر کے ساتھ یکجا کرتا ہے، جس سے تحقیق کی سماجی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے اور قومی ترجیحات کے حصول میں اس کا تعاون وسیع ہوتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کی طویل مدتی ترقی کا انحصار مقامی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور ملکی وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے خود انحصاری حاصل کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی اور تکنیکی خود انحصاری ہندوستان کی جغرافیائی سیاسی خودمختاری اور بین الاقوامی سطح پر اس کے مقام کا تعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

سال2047 تک جوہری توانائی کی صلاحیت 100 گیگاواٹ تک پہنچانے اور 2070 تک خالص صفر اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے ہندوستان کے عزم کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے ملک کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف کی تکمیل کے لیے مسلسل تکنیکی اختراع کی اہمیت پر زور دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آئی آئی ٹی کے سمنوے جیسے پلیٹ فارموں کو مکالمے کو دیرپا شراکت داری، سرمایہ کاری اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، نئے کاروباری اداروں اور محققین کے درمیان قریبی تعاون، مسلسل سرمایہ کاری اور سائنسی تحقیق کے لیے عطیات دینے کے مضبوط رجحان سے ہندوستان میں اختراعی عمل کو تیز کرنے، مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے تصور کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

 

 

***

ش ح۔ م ش  ۔ ص ج

U. N-6184


(ریلیز آئی ڈی: 2324206) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी