وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

آپریشن سندور، بالاکوٹ فضائی حملہ اور سرجیکل اسٹرائیک دہشت گردی کی جڑ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی مذمت سے عملی کارروائی کی جانب بھارت کی پالیسی میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں: وزیر دفاع


’’پاکستان سے ہونے والی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا‘‘

’’بھارت امن کے لیے پُرعزم ہے، لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے؛ ہم اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘

وزیر دفاع نے ’سفید پوش (وائٹ کالر )دہشت گردی‘ اور انفرادی طور پر دہشت گردانہ حملے کرنے والے عناصر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے مزید چوکس رہنے پر زور دیا

وزیر دفاع نے کہاکہ وائٹ کالر دہشت گردی اور انفرادی دہشت گردانہ حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے شہریوں کا زیادہ چوکس رہنا اور ذمہ داری سے کام لینا کلیدی اہمیت رکھتا ہے

راج ناتھ سنگھ نے جدید ہتھیاروں، مصنوعی ذہانت(اے آئی) اور کم لاگت والی دفاعی ٹیکنالوجیز کو یکجا کرکے ’اسمارٹ پاور‘ کی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 OCT 2026 1:08PM by PIB Delhi

وزیردفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 15 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک دفاعی کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپریشن سندور، بالاکوٹ فضائی حملے اور سرجیکل اسٹرائیکس محض فوجی کارروائیاں نہیں تھیں، بلکہ یہ ملک کی حکمت عملی میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی علامت تھیں۔ ان کے ذریعے سفارتی سطح پر مذمت سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کو اس کی جڑ سے ختم کرنے اور اس کے اصل مراکز تک پہنچ کر کارروائی کرنے کا راستہ اختیار کیا گیا۔‘‘سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں بھارت کے مؤقف کو دہراتے ہوئے وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان سے ہونے والی کسی بھی مزید دہشت گردانہ کارروائی کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی تہذیبی روایات مکالمے، بقائے باہمی اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتی ہیں، لیکن امن کے لیے بھارت کے عزم کو اس کی کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2014 سے دہشت گردوں کی اکثریت کی ’’عمرِ فعالیت‘‘ کم ہو کر ایک سال سے بھی کم رہ گئی ہے، کیونکہ بھارت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے ایک سال کے اندر ہی سکیورٹی فورسز انہیں ہلاک یا بے اثر کر دیتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/PIC3(5)_20261015130948_0b32ed.jpeg

وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے امن کے قیام کے لیے طاقت اور صلاحیت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت امن کا خواہاں ہے، لیکن ملک کے تحفظ کے لیے بعض اوقات ناگزیر ہونے والی جنگ کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امن کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے، تاہم ہم ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ہمارا مقصد ایک ایسے بھارت کی تعمیر ہے جو امن کا حامی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی سلامتی کے معاملے میں چوکس رہے اور اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔‘‘

سیکوریٹی کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر بات کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے ہائبرڈ، ہائی ٹیک اور انتہائی شدید نوعیت کی جنگ کے اس دور میں مزید چوکسی اور مکمل تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور میں سیکوریٹی کو لاحق خطرات کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس خطرے کی نشاندہی کی جسے انہوں نے سیکوریٹی کے پانچ ڈی خطرات‘‘ قرار دیا۔ ان میں غلط معلومات کا پھیلاؤ ، عدم استحکام پیدا کرنا ، نظام میں خلل ڈالنا ، دھوکا دہی اور تباہی پھیلانا  شامل ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دہشت گردی اب منظم گروہوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے نئے خطرات میں ’’تنہا حملہ آوروں‘‘ کی کارروائیاں اور ’’سفید پوش دہشت گردی‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان خطرات کے باعث سیکوریٹی اداروں کے لیے انتہا پسندی کی جانب مائل افراد کی شناخت کرنا اور ممکنہ حملوں کو روکنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

وزیردفاع نے حالیہ واقعے کا حوالہ بھی دیا، جس میں ایک معاون پائلٹ پر الزام ہے کہ اس نے مسافر طیارے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کی کوشش کی، جبکہ کیپٹن سمیت مچھر نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہاکہ ’’اس واقعے نے لون وولف (انفرادی طور پر دہشت گردانہ حملے کرنے والے افراد)سے لاحق خطرے کو اجاگر کیا، جبکہ یہ بھی ثابت کیا کہ ایک فرد کی جرأت اور عزم نفرت کے جذبے سے سرشار عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے۔ ایک چوکس اور بہادر فرد کی بروقت کارروائی دہشت گردی کی پوری سازش کو ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے نہ صرف سکیورٹی اداروں کی صلاحیتیں ضروری ہیں بلکہ باشعور اور ذمہ دار شہریوں کی فعال شرکت بھی ناگزیر ہے۔‘‘

دفاعی تیاریوں کے حوالے سے جناب راج ناتھ سنگھ نے ’’ہارڈ پاور‘‘کو ’’سافٹ پاور‘‘کے ساتھ یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ’’اسمارٹ پاور‘‘ کی حکمت عملی اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ  ’’جدید دفاعی حکمت عملیوں میں بدلتے ہوئے سیکوریٹی کے چیلنجوں  سے نمٹنے کے لیے درست ہدف کو نشانہ بنانے والے گائیڈڈ ہتھیاروں اور طویل وقت تک فضا میں رہ کر ہدف پر حملہ کرنے والے اسلحے کو کم لاگت والے ہتھیاروں کے ساتھ، انسانی ذرائع سے حاصل کردہ انٹیلی جنس کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ، اور جدید نظاموں کو کم لاگت والی، تیز رفتار اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجیز کے ساتھ یکجا کرنا ضروری ہے۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/PIC1(13)_20261015130958_d93401.jpeg

وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں متعارف کرائی گئی اصلاحات، عملی طریقۂ کار میں تبدیلیوں اور سوچ میں بنیادی تبدیلی کے باعث بھارت کی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے بارہ برسوں کے دوران حکومت نے اپنی توجہ دفاعی ضروریات کو فوری طور پر پورا کرنے سے ہٹا کر ایک خود کفیل اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی نظام کی تعمیر پر مرکوز کر دی ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ لائسنسنگ کے ضوابط میں اصلاحات اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے اقدامات سے ملک میں دفاعی سازوسامان کی تیاری کے شعبے کو وسعت ملی ہے۔ اب 500 سے زائد کمپنیاں اس شعبے میں سرگرم ہیں، جبکہ صنعتی پیداوار کے لیے سیکڑوں نئے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

دفاعی خریداری میں اصلاحات کے حوالے سے جناب  راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاعی افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے دفاعی خریداری کے طریقۂ کار اور ’’بھارتی خریداری—مقامی طور پر ڈیزائن کردہ، ترقی یافتہ اور تیار کردہ‘‘  زمرے جیسے اقدامات کے ذریعے ملکی صنعتوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی افواج کی جدید کاری کے بجٹ کا 75 فیصد حصہ بھارتی صنعتوں سے خریداری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، ان اصلاحات سے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان اشتراک کو بھی تقویت ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک اب ’’حکومت کے تمام اداروں پر مشتمل حکمت عملی‘‘سے آگے بڑھ کر ’’پورے ملک پر مشتمل حکمت عملی‘‘اور بتدریج ’’عوام کی بھرپور شمولیت پر مبنی حکمت عملی‘‘کی جانب گامزن ہے۔ ’’سب سے پہلے قوم(نیشن فرسٹ )‘‘کے جذبے کے تحت اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز ، انفرادی اختراع کار اور بڑی کمپنیاں قومی دفاع میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کو بھارت کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید مقامی دفاعی نظاموں پر مسلح افواج کے اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ ان نظاموں میں آکاش میزائل سسٹم اور براہموس سمیت دیگر جدید ترین دفاعی سازوسامان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کی کامیابی بھارت کی مقامی دفاعی صنعت پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور قومی سلامتی میں اس کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ  ’’مسلح افواج نے دفاعی سازوسامان، ہتھیاروں کے نظام اور دیگر دفاعی پلیٹ فارمز سمیت 509 اشیا پر مشتمل مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینے کے لیے پانچ مثبت فہرستیں جاری کی تھیں، جبکہ چھٹی فہرست بھی جلد جاری کرنے کے لیے تیار کر لی گئی ہے۔ اسی طرح، دفاعی شعبے کے سرکاری اداروں نے لائن ریپلیسمنٹ یونٹس، ذیلی نظاموں، اضافی پرزوں اور دیگر اجزا سمیت 5,012 اشیا کی نشاندہی کی تھی جنہیں مقامی طور پر تیار کیا جانا تھا، جن میں سے 3,255 اشیا کی مقامی سطح پر تیاری ممکن بنائی جا چکی ہے۔‘‘

حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں دفاعی شعبے میں ہونے والی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ دفاعی پیداوار 2014 میں 40,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر ریکارڈ ایک لاکھ 78 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح، دفاعی برآمدات مالی سال  14-2013 میں 686 کروڑروپے سے بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح، یعنی 39,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ بھارت کی دفاعی مصنوعات تقریباً 100 ممالک تک پہنچ رہی ہیں۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ملک رواں سال دفاعی پیداوار کا دو لاکھ کروڑ روپے کا ہدف اور 2029 تک تین لاکھ کروڑ روپے کا ہدف حاصل کر لے گا۔ اس کے علاوہ، 2029 تک 50,000 کروڑ روپے مالیت کے دفاعی سازوسامان کی برآمدات کا ہدف بھی پورا کر لیا جائے گا۔

وزیردفاع نے دفاعی شعبے کی اس ترقی کا سہرا ان اصلاحات کو دیا جن کے ذریعے برآمدات کے طریقۂ کار کو آسان بنایا گیا۔ ان اقدامات میں دفاعی درآمدات و برآمدات کا پورٹل متعارف کرانا، آن لائن منظوریوں کا نظام، اوپن جنرل ایکسپورٹ لائسنس ، معیار کی تصدیق کے طریقۂ کار کو آسان بنانا اور ’گرین چینل‘ پالیسی شامل ہیں۔ ان کے مطابق، ان اقدامات نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے اور ملکی صنعتوں کو بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلے کے لیے تیار کیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/PIC2(9)_20261015131008_44729c.jpeg

دفاع کے شعبے میں آتم نربھرتا کے حصول کے لیے تحقیق، ترقی اور اختراع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرِدفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت نےآئی ڈی ای ایکس، آئی ڈی ای ایکس پرائم اوراے ڈی آئی ٹی آئی اسکیم جیسی پہل کے ذریعے اسٹارٹ اَپس، ایم ایس ایم ایز اور نوجوان اختراع کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’وزارتِ دفاع نے اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز سے 2,400 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اشیاء اور خدمات کی خریداری کی منظوری دی ہے، جب کہ نئی ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے 1,500 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے پروجیکٹوں  کو منظوری دی گئی ہے۔ مارچ 2026 تک آئی ڈی ای ایکس کے تحت 676 اسٹارٹ اپس اور اختراع کاروں کو شامل کیا جا چکا تھا اور اس کے ذریعے 551 معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔ 2018 میں چند درجن دفاعی اسٹارٹ اپس سے شروع ہونے والا یہ شعبہ اب وسعت اختیار کرتے ہوئے 2,000 سے زائد اسٹارٹ اپس تک پہنچ چکا ہے۔ یہ نوجوان ادارے ڈرونز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سائبر سیکورٹی، روبوٹکس اور دیگر جدید شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔‘‘

ہندوستان کے دفاعی صنعتی نظام کی توسیع پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اب دفاعی پیداوار محض سرکاری شعبے تک محدود نہیں رہی، بلکہ دفاعی سرکاری ادارے(ڈی پی ایس یو) ، نجی صنعتیں، 16,000 سے زائدایم ایس ایم ایز ، سپلائی یونٹس اور اختراعی مراکز بھی اس شعبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آرڈیننس فیکٹری بورڈ(او ایف بی) کو کارپوریشن کی شکل دینے سے ان اداروں کو خسارے سے نکال کر منافع بخش اداروں میں تبدیل کرنے میں مدد ملی ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کے متعلقہ اداروں اور فریقین کا یہ وسیع ہوتا ہوا نیٹ ورک ہندوستان کا نیا دفاعی صنعتی فیملی ہے۔‘‘

دفاعی خریداری کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کو اجاگر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس شعبے میں جدید کاری اور مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ شفافیت اور جواب دہی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ گولہ بارود کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج کے استعمال کے لئے گولہ بارود کی 175 اقسام میں سے 159 اب ملک میں ہی تیار کی جا رہی ہیں، جو گولہ بارود کی اقسام کے معاملے میں 90 فیصد سے زیادہ خود کفالت کی عکاسی کرتی ہے۔سو سے زائد ممالک کو بلٹ پروف جیکٹس برآمد کرنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا چوتھا ملک ہے جس نے بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ بلٹ پروف جیکٹس کے لیے قومی معیار وضع کیا ہے۔ انہوں نے ون رینک ون پینشن(او آر او پی) اسکیم کے نفاذ اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس)کے عہدے کے قیام کا بھی ذکر کیا اور انہیں ملک کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اہم اقدامات قرار دیا۔

وزیر دفاع نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جب بھارت اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا تو وہ ایک ’ترقی یافتہ بھارت‘ (وکست بھارت) بن چکا ہوگا اور ٹیکنالوجی، معیشت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں دنیا کی قیادت کرے گا۔

***

ش ح۔س ا ٓ۔ ج ا

U: 6186


(ریلیز آئی ڈی: 2324226) وزیٹر کاؤنٹر : 6