وزارت ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

ثقافت اور سیاحت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے این جی ایم اےمیں ’تکشنم‘نمائش کا افتتاح کیا، جس میں 150 فن کاروں کے 250 سے زائد مجسمے پیش کیے گئے


یہ نمائش بھارت کے مجسمہ سازی کے شاندار ورثے اور عصری فنون کو اجاگر کرتی ہے؛ فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلی بار این جی ایم اے میں فن پاروں کی فروخت کا بھی آغاز کیا گیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 OCT 2026 9:24PM by PIB Delhi

ثقافت او رسیاحت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے نئی دہلی میں واقع نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ (این جی ایم اے) میں ’تکشنم‘نامی ایک اہم نمائش کا افتتاح کیا۔ اس نمائش میں 150 فن کاروں کے 250 سے زائد مجسمے پیش کیے گئے ہیں۔ ان فن کاروں کا تعلق مختلف نسلوں سے ہے اور ان کے فنّی پس منظر، تجربات اور مجسمہ سازی کے انداز بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس موقع پر ثقافت کی وزرات کے سکریٹری جناب وویک اگروال بھی موجود تھے۔فن کاروں کے درمیان باہمی میل جول، تبادلے اور تخلیقی مکالمے کے مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر ترتیب دی گئی یہ نمائش ہندوستانی مجسمہ سازی کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں اس فن کی روایت کے تسلسل، اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور اس کے فروغ کے لیے سامنے آنے والے نئے امکانات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261015212500_1c51a8.jpg

ثقافت ا و رسیاحت  کے مرکزی وزیرجناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہاکہ ’’فن (آرٹ )ہندوستان کی ثقافتی شناخت اور تخلیقی روح کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ’تکشنم‘ جیسی پہل فن کاروں اور ناظرین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے ساتھ ساتھ ہماری فنّی روایات اور عصری فن پاروں کے تئیں قدر شناسی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ قائم شدہ مقام رکھنے والے فن کاروں کے ساتھ ابھرتے ہوئے نئے ہنر کو بھی موقع فراہم کرکے یہ نمائش تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور فنونِ لطیفہ سے عوام کی وابستگی بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔‘‘

ثقافت کی وزرات  کے سکریٹری جناب وویک اگروال نے کہاکہ  ’’ ثقافت کی وزرات  فنّی معیار کو فروغ دینے اور ملک بھر کے فن کاروں کے لیے بامعنی مواقع پیدا کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ ’تکشنم‘ مختلف فنّی رجحانات اور منفرد تخلیقی آوازوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرتی ہے اور فن کاروں کو اپنے فن پارے وسیع تر ناظرین تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ فن پاروں کو فروخت کے لیے پیش کرنے کی پہل بھی ایک قابل ذکر قدم ہے، جس سے فن کاروں، فن پاروں کے خریداروں اور فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔‘‘

نمائش کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سنجیو کشور گوتم نے ہندوستان میں مجسمہ سازی کی دیرینہ روایت اور عصرحاضر کے مجسمہ سازوں کو تسلیم کرنے اور ان کی سرپرستی کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہندوستان کا مجسمہ سازی کا ورثہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، جو اس کی تاریخ، ثقافتی کامیابیوں اور فنّی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی تہذیبوں کے دور کے مٹی اور دھات سے بنے فن پاروں، نیز ’رقص کرتی ہوئی لڑکی‘اور ’پجاری بادشاہ‘جیسے مشہور مجسموں سے لے کر مندروں کے طرز تعمیر سے وابستہ عظیم الشان مجسمہ سازی کی روایات اور اجنتا، ایلورا اور کھجوراہو جیسے تاریخی مقامات تک، مجسمہ سازی نے ہندوستان کی ثقافتی شناخت کے اظہار میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ عظیم ورثہ آج بھی عصری فنون میں اپنی روایت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انیش کپور اور سبرودھ گپتا جیسے ہندوستانی فن کار اپنے فن پاروں کے باعث بین الاقوامی سطح پر نمایاں شناخت اور پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261015212508_9cc086.jpg

سنسکرت کے لفظ ’تکش‘سے ماخوذ، جس کے معنی تراشنا، شکل دینا اور کسی شے کو فنّی صورت میں ڈھالنا ہیں، ’تکشنم‘مجسمہ سازی کو ایک مسلسل ارتقا پذیر تخلیقی عمل کے طور پر پیش کرتی ہے، جس کی تشکیل فکر، تجربے، مادّے اور ہیئت کے باہمی امتزاج سے ہوتی ہے۔ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے فن کاروں اور متنوع فنّی طریقہ ہائے کار کے نمونوں کو یکجا کرنے والی یہ نمائش ہندوستان کے مالامال مجسمہ سازی کے ورثے اور عصری اختراعات کے درمیان متحرک تعلق کو اجاگر کرتی ہے۔

اس نمائش کو دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے، ’نامور فن کار‘، میں تجربہ کار اور سینئر فن کاروں کے فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن کے تخلیقی کاموں نے ہندوستانی مجسمہ سازی کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسرے حصے، ’اوپن کال  آرٹسٹ (فن کا)ر‘، میں تقریباً 80 سے 90 ایسے فن کاروں کے فن پارے شامل ہیں، جن کا انتخاب کھلی دعوت کے ذریعے موصول ہونے والی درخواستوں میں سے ماہرین کی جیوری نے کیا ہے۔۔ اس نمائش میں نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ(این جی ایم اے) کے ذخیرے میں موجود فن پارے بھی شامل ہیں، جو مستحکم مقام رکھنے والے فن کاروں اور تخلیقی امکانات کے نئے راستے تلاش کرنے والے فن کاروں کے درمیان مکالمے اور تبادلے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

’تکشنم‘ کی ایک نمایاں خصوصیت این جی ایم اےمیں پہلی مرتبہ فن پاروں کو فروخت کے لیے پیش کرنے کی پہل ہے۔ اس اقدام کا مقصد فن کاروں کو اپنے فن پارے خریداروں اور فنونِلطیفہ سے دلچسپی رکھنے والوں تک پہنچانے کے مواقع فراہم کرنا اور مجسمہ سازی کے فن سے عوام کی وسیع تر وابستگی کو فروغ دینا ہے۔ فن پاروں کو زیادہ نمایاں مقام دلانے اور مالی مدد کے ممکنہ ذرائع پیدا کرنے کے ذریعےاین جی ایم اےفنّی سرگرمیوں کے دیرپا تسلسل کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ یہ اقدام بالخصوص مجسمہ سازی جیسے فن کے لیے اہمیت رکھتا ہے، جس میں اکثر مہنگے خام مال، خصوصی فنی مہارتوں اور تخلیق کی تکمیل کے لیے طویل مدت درکار ہوتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261015212516_d1431d.jpg

’تکشنم‘ کے ذریعے نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ(این جی ایم اے) ہندوستان کے مجسمہ سازی کے گہرے اور مالامال ورثے کو خرا ج  تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس فن کی مسلسل ترقی میں عصری فن کاروں کے کردار کو بھی تسلیم کرنا چاہتی ہے۔ سینئر فن کاروں، جیوری کے ذریعے منتخب کیے گئے شرکا اور اپنے ذخیرے میں موجود فن پاروں کو ایک جگہ یکجا کرکے یہ نمائش فنّی تبادلے، عوامی شمولیت اور مجسمہ سازی کو ثقافتی اظہار کے ایک اہم وسیلے کے طور پر بہتر طور پر سمجھنے اور اس کی قدر شناسی کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261015212522_7883b4.jpg

یہ نمائش 15 نومبر 2026 تک نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ، جے پور ہاؤس، انڈیا گیٹ، نئی دہلی میں عوام کے لیے کھلی رہے گی۔

نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ کے بارے میں

نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ(این جی ایم اے) ، حکومت ہند کی وزارتِ ثقافت کے تحت کام کرنے والا ایک ممتاز ادارہ ہے، جو جدید اور عصری بھارتی فنون کے تحفظ، فروغ اور ان کی قدر و ستائش کے لیے وقف ہے۔ نمائشوں، تعلیمی اقدامات اور عوامی شمولیت کے پروگراموں کے ذریعے این جی ایم اے بھارت کے فنّی ورثے اور بدلتے ہوئے تخلیقی اظہار کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس سے آگاہی بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

***

ش ح۔س ا ٓ۔ ج ا

 U: 6187


(ریلیز آئی ڈی: 2324244) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी