وزارت آیوش
آیوش کے شعبے میں اختراعات کے باعث پیٹنٹ درخواستوں میں آٹھ گنا اضافہ
آیوش کی ایجادات سے متعلق رپورٹ میں اختراعات اور تخلیقی و اختراعی حقوق کی سرگرمیوں میں تیز رفتار اضافے کو اجاگر کیا گیا
آیوش کے پیٹنٹ کے معاملے میں مہاراشٹر سرفہرست، 744 درخواستیں دائر اور 142 پیٹنٹ منظور
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 2:33PM by PIB Delhi
بھارت میں آیوش سے متعلق اختراعات اور تخلیقی و اختراعی حقوق کی سرگرمیوں میں گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 11ویں یومِ آیوروید کی تقریبات کے دوران جاری کی گئی‘بھارت میں آیوش سے متعلق ایجادات کی صورتِ حال پر رپورٹ (2014 تا 2026)’کے مطابق، مالی سال 2014-15 سے مالی سال 2025-26 کے درمیان پیٹنٹ کے لیے4,077 درخواستیں دائر کی گئیں، جبکہ 711 پیٹنٹ منظور کیے گئے۔
یہ رپورٹ حکومتِ ہند کی وزارتِ تجارت و صنعت کے محکمہ برائے صنعت و فروغ ِداخلی تجارت(ڈی پی آئی آئی ٹی)کے تحت پیٹنٹ، ڈیزائن اور تجارتی نشانات کے کنٹرولر جنرل کے دفتر (سی جی پی ڈی ٹی ایم)کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ اس میں مذکورہ مدت کے دوران بھارت میں آیوش سے متعلق ایجادات اور تخلیقی و اختراعی حقوق سے وابستہ سرگرمیوں کے ارتقا کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)اور صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت، جناب پرتاپ راؤ جادھو نے اپنے بیان میں کہا:‘آیوش سے متعلق پیٹنٹ درخواستوں اور منظور شدہ پیٹنٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ، آیوش کے شعبے میں تحقیق، اختراع اور تخلیقی و اختراعی حقوق پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت ایسا سازگار ماحول تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہے جہاں روایتی علم، سائنسی تحقیق اور جدید اختراعات مل کر نئی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور حل تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے مالا مال علمی نظاموں کو مناسب تحفظ بھی فراہم کیا جا سکے۔’
آیوش کی وزارت کے سکریٹری ویدیا راجیش کوٹیچا نے کہا،‘‘پیٹنٹ سے متعلق سرگرمیوں میں مسلسل اضافے سے آیوش کے شعبے میں تحقیق اور اختراع کی بنیاد مضبوط ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ افراد، جامعات، تحقیقی اداروں، اسٹارٹ اَپس اور صنعتی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت حوصلہ افزا ہے اور اس سے تحقیقی نتائج کو اختراعی حل میں تبدیل کرنے کے عمل کو تقویت ملے گی۔ وزارت آیوش کے پورے نظام میں شواہد کی تیاری، تحقیقی تعاون اور اختراعات کو مسلسل فروغ دیتی رہے گی۔’’
رپورٹ میں پیٹنٹ سے متعلق سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مالی سال 2014-15 میں پیٹنٹ کے لیے63 درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن کی تعداد بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں590 ہوگئی۔ اس طرح درخواستوں میں تقریباً 836.5 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ مالی سال 2022-23 میں پیٹنٹ درخواستوں کی سالانہ تعداد بڑھ کر 606 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم مالی سال 2023-24 میں یہ گھٹ کر 299 رہ گئی، جس کے بعد دوبارہ اضافہ ہوا اور مالی سال 2025-26 میں یہ تعداد 590 تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، سالانہ منظور شدہ پیٹنٹس کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 2015-16 میں3 سے بڑھ کر مالی سال 2023-24 میں204 ہوگئی۔

کووڈ-19 کے بعد کے عرصے میں پیٹنٹ سے متعلق سرگرمیوں میں خاص طور پر تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مالی سال 2020-21 سے مالی سال 2025-26 کے درمیان پیٹنٹ کے لیے2,854 درخواستیں دائر کی گئیں، جو مجموعی درخواستوں کا 70 فیصد ہیں۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2014-15سے مالی سال 2019-20 کے دوران 1,223 درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ اسی طرح، کووڈ-19 کے بعد کے عرصے میں657 پیٹنٹ منظور کیے گئے، جو مجموعی منظور شدہ پیٹنٹس کا 92.4 فیصد ہیں۔
اختراعات کے بڑھتے ہوئے نظام کی عکاسی درخواست گزاروں کے تنوع سے بھی ہوتی ہے۔ انفرادی افراد نے 2,113 درخواستیں دائر کیں، جو مجموعی درخواستوں کا 51.9 فیصد ہیں، جبکہ ان کے نام 398 پیٹنٹ منظور کیے گئے۔ تعلیمی اداروں نے 995 درخواستیں دائر کیں اور انہیں88 پیٹنٹ منظور ہوئے۔ اس طرح، انفرادی افراد اور تعلیمی اداروں نے مل کر مجموعی درخواستوں کا 76.3 فیصد حصہ حاصل کیا۔ کمپنیوں اور دیگر اداروں نے 700 درخواستیں دائر کیں اور انہیں176 پیٹنٹ منظور ہوئے، جبکہ چھوٹے اداروں اور اسٹارٹ اَپس نے بالترتیب144 اور 125 درخواستیں دائر کیں۔
رپورٹ کے نتائج آیوش کے شعبے میں تحقیق، اختراع، کاروباری سرگرمیوں اور تخلیقی و اختراعی حقوق کے تحفظ کے بڑھتے ہوئے باہمی تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس شعبے میں انفرادی موجدوں، تعلیمی اداروں، تحقیقی تنظیموں، اسٹارٹ اَپس اور صنعتی شعبے کی شرکت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
***
) ش ح – رک )
U.NO- 6198
(ریلیز آئی ڈی: 2324329)
وزیٹر کاؤنٹر : 22