سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
آب و ہوا کے مطالعے سے مون سون کے تغیرات اور زرعی موافقت کے درمیان تعلق کا انکشاف ہوا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 3:42PM by PIB Delhi
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وسطی گنگا کے میدانی علاقے میں بھارتی موسمِ گرما کے مون سون کے اتار چڑھاؤ نے وقت کے ساتھ جھیلوں کے آبی نظام، تلچھٹ کی نقل و حمل، نباتات، تلچھٹ میں موجود نامیاتی مادّوں، خرد نامیوں کی سرگرمیوں اور ابتدائی دور میں کاشت کاری کے طریقوں کو متاثر کیا ہے۔
یہ تحقیق موسمیاتی اور زرعی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے، آبی تحفظ اور آبی علاقوں کے تحفظ کے لیے رہنمائی فراہم کرنے، آفات کے خطرات کو کم کرنے اور انسانوں و آب و ہوا کے باہمی تعلقات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
سائنس داں ایک طویل عرصے سے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ماضی میں شدید موسمیاتی حالات نے برصغیر پاک و ہند میں انسانی معاشروں کے ارتقا کو کس طرح متاثر کیا۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے عروج و زوال کو بڑے پیمانے پر بھارتی موسمِ گرما کے مون سون میں ہونے والی تبدیلیوں سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ تاہم، وسطی گنگا کے میدانی علاقے میں بعد کے ادوار کی آبادیوں نے اسی طرح کے موسمیاتی اتار چڑھاؤ کا کس طرح سامنا کیا، اس بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے زوال کے بعد گنگا کا میدانی علاقہ زرعی توسیع اور ثقافتی ترقی کے اہم مراکز میں سے ایک بن گیا تھا۔ اس لیے یہ خطہ آب و ہوا اور انسانوں کے درمیان طویل مدتی تعلقات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک موزوں قدرتی تجربہ گاہ فراہم کرتا ہے، کیونکہ اس علاقے میں تقریباً 4500 سے 1000 کیلنڈر سال قبل کے عرصے کے دوران آبادیوں کی متعدد نقل مکانیوں کے شواہد ملے ہیں۔
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ایک خودمختار ادارے، بِربل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیوسائنسز (بی ایس آئی پی) کے سائنس دانوں نے ماضی کے ماحولیاتی حالات کا سراغ لگانے کے لیے بالواسطہ شواہد، مثلاً مستحکم آئسوٹوپس، نباتات میں تبدیلیوں، آثارِ قدیمہ کے شواہد اور تلچھٹ کے ریکارڈ کا استعمال کرتے ہوئے گزشتہ 4600 سال کی موسمیاتی اور ماحولیاتی تاریخ کی تشکیلِ نو کی۔ اس تحقیق کے لیے وسطی گنگا کے میدانی علاقے میں لکھنؤ کے قریب ہولاس کھیڑا میں واقع کریلا جھیل سے حاصل کردہ شواہد کا مطالعہ کیا گیا۔ یہ جھیل دریا کے پرانے بہاؤ سے بننے والی ہلال نما جھیل ہے۔

فیگر. 1۔ (اے) اتر پردیش میں جھیل کے محل وقوع کو ظاہر کرنے والا مطالعے کے علاقے کا نقشہ، جس میں لکھنؤ کے موہن لال گنج میں واقع ہولاس کھیڑا (کے ایل ٹی) جھیل کو دکھایا گیا ہے۔ (بی) مطالعے کے مقام کا موجودہ منظر۔ (سی) جھیل کے بالکل قریب واقع ہولاس کھیڑا کے آثارِ قدیمہ کے مقام (کُشان دور کی بستی) کا محلِ وقوع۔ (ڈی) ہولاس کھیڑا کے علاقے میں اوسط ماہانہ بارش (1901ء سے 2020ء تک)، جس کے اعداد و شمار کے این ایم آئی کلائمیٹک ایکسپلورر (https://climexp.knmi.nl/start.cgi ) سے حاصل کیے گئے ہیں۔
جھیل کی تلچھٹ میں ہولوسین کے آخری دور میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ، ہولاس کھیڑا کے آثارِ قدیمہ کے مقام سے جھیل کی قربت نے یہ تحقیق کرنے کا موقع فراہم کیا کہ قدیم زرعی برادریوں نے بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق کس طرح ردِعمل ظاہر کیا۔
اس تحقیق سے آبی نظام، تلچھٹ کے عمل، نباتات میں تبدیلیوں اور سبزی خور جانوروں کے ریکارڈ کی مدد سے گوبر پر مبنی زرعی طریقوں کے ریکارڈ کو ازسرِنو مرتب کرنے میں مدد ملی۔ مغربی ہواؤں کے ذریعے چھوٹے برفانی دور (ایل آئی اے) کے دوران نمی کے ریکارڈ نے اس سرد مرحلے میں خطے میں آنے والے سیلابوں کے اثرات کو مزید واضح کیا۔
محققین نے آب و ہوا، نباتات میں تبدیلیوں، آبی ارضیاتی تاریخ اور انسانی سرگرمیوں کی پہلے سے زیادہ جامع اور قابلِ اعتماد تشکیلِ نو کے لیے اے ایم ایس پر مبنی ریڈیو کاربن زمانی ترتیب، کاربن (سی) اور نائٹروجن (این) کے مستحکم آئسوٹوپس، ذرات کے حجم کا تجزیہ، اینڈ ممبر ماڈلنگ اور پالینولوجی کو بھی یکجا کیا۔

فیگر.2. کریلا جھیل (ہولاس کھیڑا) کا خاکہ، جس میں موسمیاتی واقعات اور مطالعے کا مجموعی جائزہ دکھایا گیا ہے۔
بسواجیت ٹھاکر، آنند راجوریا، منیشا ایم ای ٹی اور ریڈیو کاربن ڈیٹنگ لیبارٹری کی ٹیم نے اہم موسمیاتی واقعات سے وابستہ ماحول کے چار بڑے مراحل کی نشاندہی کی، جن میں 4.2 ہزار سال قبل کا خشک سالی کا واقعہ، رومی گرم دور اور چھوٹا برفانی دور شامل ہیں۔
ایشین جرنل آف ارتھ سائنسز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پیچیدہ موسمیاتی اور ماحولیاتی نظام کے باہمی تعلقات کو سمجھنے کے لیے اے ایم ایس ریڈیو کاربن کی مستحکم زمانی ترتیب کے ساتھ جیو کیمیائی، آئسوٹوپی، تلچھٹ سے متعلق اور حیاتیاتی شواہد کو یکجا کیا گیا۔
تحقیق سے ظاہر ہوا کہ بھارتی موسمِ گرما کے مون سون میں اتار چڑھاؤ نے نہ صرف جھیل کے آبی نظام، تلچھٹ کی نقل و حمل اور سی₃ اور سی₄ نباتات کے درمیان تبدیلیوں کو کنٹرول کیا، بلکہ تلچھٹ میں موجود نامیاتی مادّے کی ترکیب، اس کے جمع ہونے کے انداز، خرد نامیوں کی سرگرمیوں اور وسطی گنگا کے میدانی علاقے میں ابتدائی زرعی برادریوں کی جانب سے اختیار کی گئی موافقتی حکمتِ عملیوں کو بھی متاثر کیا۔
تحقیق میں یہ بھی ثابت ہوا کہ وسطی گنگا کے میدانی علاقے میں موجود چھوٹی ہلال نما جھیلیں قدرتی ریکارڈ کے نہایت حساس ذرائع ہیں، جو مون سون کے طویل مدتی ریکارڈ، ماحولیاتی نظام کے ارتقا اور انسانوں و ماحول کے باہمی تعلقات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس طرح یہ جھیلیں بھارت کے ان علاقوں میں مستقبل کی ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم بنیادی حوالہ فراہم کرتی ہیں، جہاں آبادی کی کثافت بہت زیادہ ہے اور زراعت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
یہ تحقیق آب و ہوا اور انسانوں کے باہمی تعلقات کو سمجھنے میں پیش رفت کر سکتی ہے اور طویل مدتی بنیادی ڈیٹا فراہم کرکے قومی موسمیاتی اور ماحولیاتی پالیسیوں کی تشکیل میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ ڈیٹا موسمیاتی ماڈلنگ، ماحولیاتی نظام کے انتظام، زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے، غذائی تحفظ، آبی تحفظ اور پائیدار ترقی سے متعلق قومی ترجیحات پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے۔
اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1016/j.jseaes.2026.107129
***
ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن
U.NO.6211
(ریلیز آئی ڈی: 2324398)
وزیٹر کاؤنٹر : 16