سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

عوامی فنڈز کے تحفظ کے لیے این ایچ اے آئی نے چتوڑگڑھ–اُدے پور قومی شاہراہ منصوبے میں ثالثی کا مقدمہ کامیابی سے جیت لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 OCT 2026 5:21PM by PIB Delhi

ایک اہم قانونی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، این ایچ اے آئی نے راجستھان میں قومی شاہراہ-76 کے 93.5 کلومیٹر طویل چتوڑگڑھ–اُدے پور حصے کو چھ لین میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے سلسلے میں رعایتی معاہدے کی حامل کمپنی اُچت ایکسپریس وے پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف ثالثی کے مقدمے میں اپنے معاہداتی مؤقف کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔ اس کمپنی کو ٹی آر آئی ایل روڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کی سرپرستی حاصل ہے۔ ثالثی ٹریبونل نے بڑی حد تک این ایچ اے آئی کے مؤقف کو برقرار رکھا، جس سے عوامی وسائل کا تحفظ ہوا اور قومی شاہراہوں کے منصوبوں پر لاگو معاہداتی ڈھانچے کی توثیق ہوئی۔

سوسائٹی فار افورڈیبل ریڈریسل آف ڈسپیوٹس (ایس اے آر او ڈی) کے تحت قائم تین رکنی ثالثی ٹریبونل نے منصوبے کے رعایتی معاہدے سے متعلق دعوؤں اور جوابی دعوؤں کا جائزہ لیا۔ ٹریبونل نے رعایتی کمپنی کے مجموعی طور پر 366.53 کروڑ روپے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا، جن میں کووڈ-19 سے متعلق مدت میں توسیع کے اخراجات کا 238.18 کروڑ روپے کا دعویٰ بھی شامل تھا۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد ٹریبونل نے مدت میں توسیع کے اخراجات سے متعلق دعویٰ مسترد کر دیا اور صرف 14.51 کروڑ روپے کے دعوؤں کو منظور کیا، جبکہ رعایتی کمپنی کو مشروط طور پر 2.82 کروڑ روپے کی واپسی کی اجازت دی۔

اس کے علاوہ، ثالثی ٹریبونل نے این ایچ اے آئی کے جوابی دعوؤں کے حق میں 33.54 کروڑ روپے کی اصل رقم بھی منظور کی۔ این ایچ اے آئی کے حق میں دیے گئے اس فیصلے میں منصوبے کے دائرۂ کار سے خارج کیے گئے کام کی وصولی کے لیے 27 کروڑ روپے، شاہراہ کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے پر 4.03 کروڑ روپے اور مارچ 2021 میں منصوبے کی تکمیل کی تاریخ کے بعد غیر مجاز طور پر وصول کیے گئے ٹول ٹیکس کے لیے 2.51 کروڑ روپے شامل ہیں۔

حالیہ عرصے میں قانونی محاذ پر کئی اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے، این ایچ اے آئی نے ثالثی کے مختلف مقدمات میں کامیابی کے ساتھ اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے۔ جولائی 2026 میں، این ایچ اے آئی نے بریلی ہائی ویز پروجیکٹ لمیٹڈ (بی ایچ پی ایل) سے متعلق ثالثی کی کارروائی میں تقریباً 3,177 کروڑ روپے کے دعوؤں کا کامیابی سے دفاع کیا۔اسی طرح، جون 2026 میں کرناٹک میں تمکور–چترادرگا چھ لین والے شاہراہ منصوبے سے متعلق ثالثی مقدمے میں 1,202 کروڑ روپے کا فیصلہ این ایچ اے آئی کے حق میں آیا۔ مزید برآں، اپریل 2026 میں پانی پت–جالندھر شاہراہ منصوبے سے متعلق ثالثی کے دو مقدمات، جن میں رعایتی کمپنی کے تقریباً 8,375 کروڑ روپے کے دعوے اور این ایچ اے آئی کے 2,888.64 کروڑ روپے کے جوابی دعوے شامل تھے، 819.96 کروڑ روپے کی رقم پر این ایچ اے آئی کے حق میں طے پائے۔اسی طرح، مئی 2026 میں گجرات میں قومی شاہراہ-48 کے کامریج–چل تھان حصے کو چھ لین میں تبدیل کرنے کے منصوبے سے متعلق ثالثی مقدمے میں، ٹھیکیدار کی جانب سے تقریباً 174.49 کروڑ روپے کے دعوے پیش کیے گئے تھے، تاہم ثالثی ٹریبونل نے صرف 54 لاکھ روپے کی رقم منظور کی۔

ثالثی کے مقدمات کا کامیابی سے تصفیہ این ایچ اے آئی کے معاہدوں کے مؤثر انتظام اور قانونی حکمت عملی کے تئیں اس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ قومی شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور انتظام کے دوران شفافیت، جواب دہی اور معاہداتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی فنڈز کے مناسب استعمال پر این ایچ اے آئی کی توجہ کی بھی توثیق کرتا ہے۔

***

ش ح۔ش ت ۔ م الف

U. No- 6223


(ریلیز آئی ڈی: 2324457) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी