شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے کی کارکردگی کی نگرانی کے ڈیش بورڈ کی سہ ماہی رپورٹ جاری
ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں صلاحیت، رابطہ اور مال برداری کی مسلسل ترقی
مالی سال 2026-27 (اپریل تا ستمبر) کے دوران قومی شاہراہوں کے منصوبوں میں 62.9 فیصد کا اضافہ،جن میں 2,236.3 کلومیٹر کے منصوبوں کو منظوری دی گئی
مالی سال 2026-27 (اپریل تا اگست) کے دوران آپٹیکل فائبر کیبل نیٹ ورک کو 7.5 لاکھ کلومیٹر تک پھیلایا گیا، جس میں 29,256 کلومیٹر کا اضافہ ہوا
مالی سال 2026-27 (اپریل تا اگست) کے دوران بڑی بندرگاہوں پر مال برداری میں 7.2 فیصد اور چھوٹی بندرگاہوں پر 1.8 فیصد اضافہ درج کیا گیا
مالی سال 2026-27 (اپریل تا اگست)کے دوران فضائی مال برداری میں 12 فیصد اضافہ ہوا ،جو بڑھ کر 18.6 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی؛ دہلی ہوائی اڈے پر سب سے زیادہ 5.3 لاکھ ٹن مال برداری درج ہوئی
مالی سال 2025-26 میں ہندوستان کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی توانائی صلاحیت 12.1 فیصد اضافے کے ساتھ 5.33 لاکھ میگاواٹ تک پہنچ گئی؛ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں 29.5 فیصد اضافہ ہوا، جو ملک کی مجموعی تنصیبی صلاحیت کا 42 فیصد ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 4:00PM by PIB Delhi
شماریات و پروگرام کےنفاذ کی وزارت کی طرف سے(ایم او ایس پی آئی)-پیمانہ (پی اے آئی ایم اے این اے)(ملک کی تعمیر کے واسطے منصوبوں کا جائزہ، بنیادی ڈھانچے کی نگرانی اور تجزیاتی نظام) کے نام سے کارکردگی کی نگرانی کے ڈیش بورڈ کی سہ ماہی رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔ اس ڈیش بورڈ میں معیاری اشاریوں کے مجموعے کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کے اہم شعبوں کی کارکردگی پیش کی جاتی ہے۔
اس ڈیش بورڈ کا آغاز 16 اپریل 2026 کو کیا گیا تھا، جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کو مضبوط بنانا، شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دینا اور بنیادی ڈھانچے کے اہم ذیلی شعبوں کی کارکردگی کی جامع تصویر پیش کرنا ہے۔
کارکردگی کی نگرانی کے ڈیش بورڈ کی سہ ماہی رپورٹ کی اہم جھلکیاں:
- سہ ماہی رپورٹ میں متعلقہ وزارتوں، محکموں اور سرکاری رپورٹس یا مطبوعات سے موصول ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار شامل کیے گئے ہیں، تاکہ بنیادی ڈھانچے کے شعبے کی کارکردگی سے متعلق سرکاری اعداد و شمار بروقت دستیاب کرائے جا سکیں۔
- کارکردگی کی نگرانی کے ڈیش بورڈ میں اب اشاریوں کی تعداد بڑھا کر 184 کر دی گئی ہے۔ اس توسیع کے تحت 21 نئے اشاریے شامل کیے گئے ہیں، جس سے بنیادی ڈھانچے کے شعبے کی کارکردگی کی نگرانی کا دائرہ مزید وسیع اور جامع ہو گیا ہے۔
- بجلی، شہری ہوا بازی، بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں اور سڑک ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہوں کے شعبوں کے 41 اشاریوں کے سہ ماہی اعداد و شمار بھی اپڈیٹ کیے گئے ہیں، جس سے بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی کی نگرانی میں بروقت معلومات کی دستیابی اور جامعیت مزید بہتر ہوئی ہے۔
- سہ ماہی تازہ رپورٹوں کے ذریعے عوام کو ایک ہی پلیٹ فارم پر بنیادی ڈھانچے کے شعبے کی کارکردگی سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ مختلف شعبوں کے حوالے سے تفصیلی جائزے بھی پیش کیے جاتے ہیں، جن میں منتخب اشاریوں کے اہم رجحانات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
|
- پیمانہ(پی اے آئی ایم اے این اے) کارکردگی کی نگرانی کا ڈیش بورڈ مختلف شعبوں کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے ایک یونیفائیڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس میں انٹرایکٹو ویزولائزیشن اور ٹائم سیریز کے تجزیے کی سہولت موجود ہے، جس سے پالیسی سازوں، محققین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے معلومات تک رسائی آسان ہوتی ہے۔
- یہ ڈیش بورڈ پانچ زاویوں پر مبنی ایک معیاری فریم ورک کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کے شعبے کی کارکردگی کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان میں رسائی، معیار، مالیاتی لاگت و آمدنی، استعمال اور استطاعت شامل ہیں۔
ڈیش بورڈ میں بنیادی ڈھانچے کے ذیلی شعبوں کے لحاظ سے کارکردگی کے اشاریوں کی تقسیم:
|
نمبر شمار
|
بنیادی ڈھانچے کا ذیلی شعبہ
|
اشاریوں کی تعداد
|
|
1
|
شہری ہوابازی
|
30
|
|
2
|
روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں
|
10
|
|
3
|
توانائی
|
14
|
|
4
|
بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں
|
62
|
|
5
|
ٹیلی مواصلات
|
31
|
|
6
|
ریلوے
|
37
|
|
مجموعی تعداد
|
184
|
سہ ماہی رپورٹ میں مختلف شعبوں کی کارکردگی کی اہم جھلکیاں:
- شہری ہوا بازی: مالی سال 2026-27 (اپریل تا اگست) کے دوران فضائی مال برداری میں سالانہ 12.0 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 18.6 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ فضائی مال برداری کی سرگرمیوں میں وسیع پیمانے پر ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
- ٹیلی مواصلات: ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں توسیع کا سلسلہ جاری رہا اور اگست 2026 تک بچھائی گئی آپٹیکل فائبر کیبل (او ایف سی) کی مجموعی طوالت 7,52,113 کلومیٹر تک پہنچ گئی۔ مالی سال 2026-27 (اپریل تا اگست) کے دوران اس نیٹ ورک میں 29,256 کلومیٹر کا اضافہ ہوا، جس سے ملک میں تیز رفتار ڈیجیٹل رابطے کے بنیادی ڈھانچے کو مزید تقویت ملی ہے۔
- روڈ ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہیں: مالی سال 2026-27 (اپریل تا ستمبر) کے دوران 2,236.3 کلومیٹر طویل قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے ٹھیکے دیے گئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 62.9 فیصد کا نمایاں سالانہ اضافہ ہے۔ اس ترقی کے نتیجے میں شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی راہ ہموار ہو گی، رابطہ کاری بہتر ہوگی، مال برداری اور رسد کے نظام کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔
- بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں: مالی سال 2026-27 (اپریل تا اگست) کے دوران بڑی بندرگاہوں پر مال برداری میں سالانہ 7.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 390.4 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ اسی مدت میں چھوٹی بندرگاہوں پر مال برداری 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ 313.4 ملین ٹن درج کی گئی۔ مجموعی طور پر یہ اضافہ مال برداری کے شعبے میں مسلسل ترقی اور ملکی و بین الاقوامی تجارت میں معاون بندرگاہی بنیادی ڈھانچے کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
- ہندوستانی ریلوے: مالی سال 2024-25 کے دوران ریلوے کوچوں کی تعداد میں 4.5 فیصد اور انجنوں کی تعداد میں 6.4 فیصد اضافہ درج کیاگیا، جس سے ریلوے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔
- بجلی: مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی کی مجموعی صلاحیت میں مضبوط اضافہ کا سلسلہ برقرار رہا اور اس کی ترقی سالانہ 12.1 فیصد اضافے کے ساتھ 5,32,739.7 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
|
1. شہری ہوابازی کا شعبہ ہندوستان میں بین الاقوامی سیاحت کے بڑھتے ہوئے دائرۂ کار کو وسعت دینے میں مسلسل اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مالی سال 2026-27 میں اگست تک 30.49 لاکھ غیر ملکی سیاح ہندوستان پہنچے، جو سالانہ2 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مثبت پیش رفت بین الاقوامی فضائی رابطے کو مضبوط بنانے، سیاحت کے فروغ اور عالمی سیاحتی مقام کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں اس شعبے کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے۔

مالی سال 2015-16 سے ہندوستان آنے والے غیر ملکی شہریوں کی تعداد
2. بجلی کا شعبہ: مارچ 2026 تک ملک کی مجموعی تنصیبی صلاحیت سالانہ12.1 فیصد اضافے کے ساتھ 5,32,739.7 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع (آر ای ایس)کی قائمہ صلاحیت میں 29.5 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ صلاحیت بڑھ کر 2,23,273 میگاواٹ ہو گئی۔ یہ اضافہ مجموعی تنصیبی صلاحیت میں ہونے والی ترقی سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کا حصہ مجموعی تنصیبی صلاحیت کا تقریباً 42 فیصد ہے۔ یہ رجحان ہندوستان کی بجلی کی مجموعی تنصیبی صلاحیت میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے کردار اور بجلی کی پیداوار کی صلاحیت کے ذرائع میں مسلسل تنوع کو نمایاں کرتا ہے۔

ذرائع کے لحاظ سے بجلی کی پیداوار کی تنصیبی صلاحیت
3. ٹیلی مواصلات کا شعبہ: مالی سال 2025-26 کے دوران اس شعبے میں ڈیجیٹل توسیع کا سلسلہ بدستورجاری رہا۔ وائرڈ براڈبینڈ کےصارفین کی تعداد میں سالانہ 12.4 فیصد، جبکہ وائرلیس براڈبینڈ کے صارفین کی تعداد میں 12.9 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جس سے براڈبینڈ رابطے اور ڈیجیٹل سہولتوں کے استعمال میں مسلسل ترقی کی عکاسی ہوتی ہے۔
اگست 2026 تک انٹرنیٹ سے منسلکہ گرام پنچایتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 2,23,814 ہو گئی۔ مالی سال 2026-27 کے دوران اپریل سے اگست تک 5,352 نئی گرام پنچایتوں کو اس نیٹ ورک سے جوڑا گیا۔ اس اضافے سے دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل رابطے کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد مل رہی ہے۔

انٹرنیٹ سے منسلکہ گرام پنچایتوں کی تعداد
4. ریلوے کا شعبہ: مالی سال 2024-25 کے دوران محکمہ ریلوے نے اپنے بنیادی ڈھانچے اور مال برداری کی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر برق کاری شدہ ریلوے پٹریوں کی لمبائی میں 4.8 فیصد اضافہ درج ہوا، جبکہ ریلوے ویگن کی تعداد میں 5.4 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔

برق کاری شدہ ریلوے پٹریوں کی لمبائی
5. روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کا شعبہ: اس شعبے میں الیکٹرانک ٹول وصولی کے نظام (ای ٹی سی) کا دائرۂ کار مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے دوران اپریل سے ستمبر تک ای ٹی سی کے ذریعے ہونے والے لین دین کی تعداد بڑھ کر 225.2 کروڑ ہو گئی، جس سے سالانہ24.1 فیصد اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔اس مدت کے دوران الیکٹرانک ٹول وصولی کی مالیت 11.7 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 36,994.5 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ان اعداد و شمار سےالیکٹرانک ٹول وصولی کے نظام کو مسلسل اپنانے اور ملک بھر کی شاہراہوں کے نیٹ ورک پر ٹول وصولی کے عمل میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن کی عکاسی ہوتی ہے۔

الیکٹرانک ٹول وصولی کے لین دین کی تعداد
6. بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کا شعبہ: مالی سال 2026-27 کے دوران (اپریل سے اگست تک) بڑی بندرگاہوں پر مال برداری کے حجم میں مسلسل اضافہ درج کیا گیا۔ اہم انواع کی مجموعی مال برداری سالانہ 7.2 فیصد اضافے کے ساتھ 390.4 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔پیٹرولیم اور خام تیل کی مصنوعات بدستور انواع کا سب سے بڑا زمرہ رہا، جن کا مجموعی مال برداری میں تقریباً 29.2 فیصد حصہ درج کیاگیا۔ اس زمرے میں سالانہ 3.1 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔

بڑی
بندرگاہوں پر انواع کے لحاظ سے مال برداری کے حجم کی تفصیلات
سہ ماہی تازہ رپورٹ پیمانہ (پی اے آئی ایم اے این اے) کے اجرا ءکے ساتھ، بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی کی نگرانی کے ڈیش بورڈ بنیادی ڈھانچے کی نگرانی میں شفافیت، کارکردگی اور جواب دہی کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ڈیش بورڈ کو باقاعدگی سے سہ ماہی بنیاد پر اپ ڈیٹ کرنے سے شفافیت میں مزید اضافہ ہوگا، شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں سہولت ملے گی اور پائیدار و جامع بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
پریس ریلیز کی اگلی تاریخ: کارکردگی کی نگرانی کے ڈیش بورڈ کو سہ ماہی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اگلی اپ ڈیٹ 15 جنوری 2027 کو جاری کی جائے گی۔
نوٹ: یہ پریس ریلیز وزارتِ شماریات و پروگرام کے نفاذ (ایم او ایس پی آئی) کی طرف سے جاری کردہ کارکردگی کی نگرانی کے نئے ڈیش بورڈ کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کرتی ہے۔ یہ ڈیش بورڈ https://paimana-perf.mospi.gov.in پر یا کیو آر کوڈ کے ذریعے دستیاب ہے۔
پریس ریلیز پی ڈی ایف کی شکل میں ملاحظہ کریں

***
ش ح۔ م ش ع ۔م ذ
U NO: 6213
(ریلیز آئی ڈی: 2324462)
وزیٹر کاؤنٹر : 11