ایٹمی توانائی کا محکمہ
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا بیان، ہندوستان کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے وقف؛ جوہری توانائی مصنوعی ذہانت سے چلنے والے مستقبل کو توانائی فراہم کرے گی
ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق، ڈاکٹر ہومی بھابھا کا ویژن ہندوستان کے پُرامن جوہری سفر کی رہنمائی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ملک توانائی کے تحفظ اور صاف توانائی کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے
’’مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے انسان کو اتنا ذہین ہونا چاہیے‘‘، ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا تمام شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور انسانی قیادت میں استعمال پر زور
وزیر اعظم نریندر مودی نے اہم اور حساس شعبوں کو غیر سرکاری اداروں کے لیے کھول دیا ہے، جس سے نجی شعبے کی شمولیت کے وسیع تر مواقع پیدا ہوئے ہیں
ہندوستان کا ہدف 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت اور 2070 تک خالص صفر اخراج حاصل کرنا ہے؛ بڑھتی ہوئی ضرورت کے مطابق قابلِ اعتماد اور صاف بجلی کی فراہمی میں جوہری توانائی اہم کردار ادا کرے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 OCT 2026 2:15PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کا جوہری پروگرام جنگی مقاصد کے بجائے پُرامن مقاصد کے لیے وقف ہے۔ انہوں نے اس ویژن کا اعادہ کیا جس نے ابتدا سے ہی ملک کے جوہری سفر کی رہنمائی کی ہے۔
’بلومبرگ اکنامی فورم 2026‘ کے موقع پر ایک خصوصی گفتگو میں وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کی مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں جوہری توانائی کا کردار مسلسل اہم ہوتا جائے گا۔ اس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹروں کی معاونت کے لیے قابلِ اعتماد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب بھی شامل ہے۔
ہندوستان کے جوہری پروگرام کے معمار ڈاکٹر ہومی بھابھا کے ویژن کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نے مسلسل پُرامن استعمال اور قومی ترقی کے لیے جوہری توانائی کو بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق، جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کا عزم ملک کے نقطۂ نظر کا بنیادی حصہ ہے، کیونکہ ہندوستان ترقیاتی اور تکنیکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں توسیع کر رہا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کے جوہری توانائی سے متعلق عزائم کو ملک کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف اور صاف توانائی کے تئیں عہد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ہندوستان کا ہدف 2047 تک جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت 100 گیگاواٹ تک پہنچانا اور 2070 تک خالص صفر اخراج حاصل کرنا ہے۔ ایسے میں جوہری توانائی سے توقع ہے کہ وہ صاف بجلی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کے ذریعے توانائی کے دیگر ذرائع کی معاونت کرے گی۔
تکنیکی ترقی کے اگلے مرحلے کو جوہری توانائی سے جوڑتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹروں کی توسیع کے لیے بجلی کے ایسے قابلِ اعتماد ذرائع درکار ہوں گے جو توانائی کی ان کی بھاری اور مسلسل ضروریات پوری کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جوہری توانائی ہندوستان کے دیگر توانائی پروگراموں کی معاونت کرے گی اور تیزی سے ٹیکنالوجی پر منحصر ہوتی معیشت کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں تعاون دے گی۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر وزیر موصوف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو بذاتِ خود ایک شعبہ سمجھنے کے بجائے ایک ایسے وسیلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس کا اطلاق مختلف شعبوں میں کیا جا سکتا ہے۔ خلائی تحقیق اور حیاتیاتی علوم سے لے کر سائنسی اور تکنیکی ترقی کے دیگر شعبوں تک، مصنوعی ذہانت ایک ناگزیر ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کے استعمال میں انسانی فہم و فراست کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے انسان کو اتنا ذہین ہونا چاہیے۔‘‘
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مختلف شعبوں میں نمایاں فوائد فراہم کرتی ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنانا کہ اس کا بہترین استعمال ہو اور افراد یا دیگر عناصر اس کا غلط استعمال نہ کر سکیں، بدستور ایک اہم چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ضابطے موجود ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے انفرادی اور قومی دونوں سطحوں پر دیانت داری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اس سمت میں قابلِ ذکر کوششیں کی ہیں۔
وزیر موصوف نے مودی حکومت کے تحت اہم اور حساس شعبوں کو غیر سرکاری اداروں کے لیے وسیع پیمانے پر کھولنے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقۂ کار سے ان شعبوں میں نجی شعبے کی شمولیت کے امکانات وسیع ہوئے ہیں، جہاں روایتی طور پر پابندیاں زیادہ تھیں۔ اس سے صنعت کو تکنیکی ترقی، اختراع اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے بیانات ہندوستان کی ترقی کے سفر کے دو اہم پہلوؤں کو یکجا کرتے ہیں: صاف توانائی کے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کے طور پر جوہری توانائی کو مضبوط بنانا اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ اور انسانی رہنمائی میں استعمال کرنا۔ ہندوستان جب 2047 کے ترقیاتی اہداف اور 2070 تک خالص صفر اخراج کے عہد کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، تو قابلِ اعتماد توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور کلیدی شعبوں میں وسیع تر شمولیت ملک کے تکنیکی اور اقتصادی عزائم کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔




******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6356
(ریلیز آئی ڈی: 2325459)
وزیٹر کاؤنٹر : 15