کارپوریٹ امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

  کارپوریٹ معاملات کے بھارتی انسٹی ٹیوٹ (آئی آئی سی اے) نے اپنے فلیگ شپ پروگرام کے ساتھ صنعتی روابط مضبوط بنانے کے لیے ایسوسی ایشن آف اے آر سیز ان انڈیا کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے  


اس تعاون کے تحت صنعت سے وابستہ فیکلٹی، خسارے سے دوچار اثاثوں سے متعلق مشترکہ تحقیق، ڈیٹا شیئرنگ، پلیسمنٹ سپورٹ اور سالانہ مشترکہ کانفرنس کا انعقاد شامل ہوگا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 8:27PM by PIB Delhi

 وزارت کارپوریٹ امور کے تحت خودمختار ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے) نے حال ہی میں ایسوسی ایشن آف اے آر سیز ان انڈیا کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ یہ ایسوسی ایشن ریزرو بینک آف انڈیا میں رجسٹرڈ ایسیٹ ریکنسٹرکشن کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔

مفاہمت نامے پر آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر گیانیشور کمار سنگھ کی موجودگی میں آئی آئی سی اے کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر امرندر پوری اور ایسوسی ایشن آف اے آر سیز ان انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہری ہرا مشرا نے دستخط کیے۔

اس مفاہمت نامے کا مقصد آئی آئی سی اے کے سینٹر فار انسالوینسی اینڈ بینکرپسی یعنی نا دہندگی اور دیوالیہ پن کے زیر اہتمام پوسٹ گریجویٹ انسالوینسی پروگرام (پی جی آئی پی) کے صنعتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ پی جی آئی پی کے ذریعے انسالوینسی پروفیشنلز اور کاروباری اداروں کو بحران سے نکالنے کے ماہرین کی ایک تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کی جاتی ہے۔

مفاہمت نامے میں وزارت کارپوریٹ امور کی جانب سے 2 ستمبر 2026 کو منعقدہ میٹنگ میں طے کی گئی حکمت عملی کے مطابق صنعت اور پروگرام کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔

اس موقع پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر گیانیشور کمار سنگھ نے انسالوینسی ریزولوشن کے نظام میں اثاثوں کی از سرِ نو تشکیل سے متعلق کمپنیوں (اے آر سیز) کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ انسالوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ (آئی بی سی) کے تحت مقررہ شرائط پوری کرنے والی اے آر سیز حل، درخواست گزار کے طور پر اہل ہیں اور عمل میں حصہ لے سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اے آر سیز کے کردار میں اہم پیش رفت 11 اکتوبر 2022 کو ہوئی، جب ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے سدرشن سین کمیٹی کی سفارشات کے بعد ’ریویو آف ریگولیٹری فریم ورک فار ایسیٹ ریکنسٹرکشن کمپنیز (اے آر سیز)‘ کے عنوان سے ضابطہ جاری کیا۔ اس فریم ورک کے تحت اہل اے آر سیز کو مقررہ ضابطہ جاتی شرائط کے ساتھ انسالوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ، 2016 کے تحت ریزولوشن درخواست گزار کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے کارپوریٹ انسالوینسی ریزولوشن میں اے آر سیز کے ممکنہ کردار میں توسیع ہوئی اور انہیں حل کے عمل میں حصہ لینے کے ساتھ اثاثوں کی قدر کے تعین، قرض کی تنظیم نو اور دباؤ کا شکار اثاثوں کے انتظام میں اپنی مہارت بروئے کار لانے کا موقع ملا۔ اس سے بحران کا شکار کاروباری اداروں کے حل میں شفافیت، عملیاتی کارکردگی اور مؤثر طور پر قدر کے حصول کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔

اے آر سیز کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے اے آر سی انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہری ہرا مشرا نے کہا کہ یہ ایک ابھرتی ہوئی شراکت داری ہے جس میں غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خسارے سے دوچار مارکیٹ کے فروغ کے ساتھ باصلاحیت افراد اور تحقیقی معلومات کا ذخیرہ نظام سے وابستہ تمام فریقوں کے لیے قدر کو زیادہ سے زیادہ کرنے میں اہم ہوگا۔ انہوں نے مجموعی مقاصد کے حصول اور بالخصوص پی جی آئی پی کورس کی علمی بنیاد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عمل درآمد کی حکمت عملی فوری طور پر وضع کرنے پر زور دیا۔

 مجوزہ تعاون سے نظریاتی علم کو صنعت کے عملی تجربے کے ساتھ جوڑنے میں مدد ملے گی، جس سے پی جی آئی پی کے شرکا کو نا دہندگی کے حل، کارپوریٹ تنظیم نو اور مالی مشکلات سے نمٹنے کے پیچیدہ معاملات کا زیادہ مؤثر انداز میں سامنا کرنے کے لیے تیار کیا جاسکے گا۔ مفاہمت نامے میں تعاون کے لیے تین اہم ستون مقرر کیے گئے ہیں۔

صنعت پر مبنی نصاب اور صلاحیت سازی: اے آر سیز سے وابستہ صنعت کے ماہرین تدریس میں تعاون کریں گے اور پی جی آئی پی کے کورس ماڈیولز کو صنعت کی ضروریات اور ابھرتے ہوئے پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق بنانے میں فیکلٹی کی معاونت کریں گے۔

تحقیق، ڈیٹا شیئرنگ اور علمی مواد کی تیاری: تعاون کے تحت قرض کی تنظیم نو، مالیاتی منڈیوں، دباؤ کا شکار اثاثوں اور نادہندگی کے حل جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دیا جائے گا۔ قانونی، ضابطہ جاتی، رازداری اور رسائی سے متعلق شرائط کے تحت ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے شواہد پر مبنی تحقیق اور مارکیٹ کے رجحانات و پیش رفت سے متعلق تحقیقی وسائل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

مشترکہ پروگرام اور صنعت سے روابط: دونوں ادارے پی جی آئی پی کے شرکا کے لیے انٹرن شپ، پلیسمنٹ سے متعلق مواقع اور صنعت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطے کے امکانات تلاش کریں گے۔ سالانہ مشترکہ کانفرنس کے ذریعے ابھرتے ہوئے چیلنجز پر تبادلہ خیال، پیشہ ورانہ تجربات شیئر کرنے اور تحقیقی نتائج پیش کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔

آئندہ کا لائحہ عمل

پانچ سال کی مدت کے لیے دستخط کیے گئے مفاہمت نامے آئی آئی سی اے اور ایسوسی ایشن آف اے آر سیز کے درمیان مسلسل تعاون کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ دونوں ادارے متعین عمل درآمد کی حکمت عملی، مشترکہ تحقیق، ماہرین کی جانب سے تدریس اور پیش رفت کے باقاعدہ جائزے کے ذریعے معاہدے کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے کام کریں گے۔

مذاکرات کے دوران فروری 2027 میں IBC@10 اور SARFAESI@25 کے اہم سنگ میلوں کے حوالے سے مشترکہ کانفرنس منعقد کرنے کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔ کانفرنس کا موضوع اور پروگرام مفاہمت کی یادداشت میں طے شدہ وسیع سرگرمیوں کے دائرے میں دونوں ادارے باہمی طور پر طے کریں گے۔

مجوزہ تعاون سے نظریاتی علم کو صنعت کے عملی تجربے کے ساتھ جوڑنے میں مدد ملے گی، جس سے پی جی آئی پی کے شرکاء کو نا دہندگی کے حل، کارپوریٹ تنظیم نو اور مالی مشکلات سے نمٹنے کے پیچیدہ معاملات کا زیادہ مؤثر انداز میں سامنا کرنے کے لیے تیار کیا جاسکے گا۔ مفاہمت کی یادداشت میں تعاون کے لیے تین اہم ستون مقرر کیے گئے ہیں۔

صنعت پر مبنی نصاب اور صلاحیت سازی: اے آر سیز سے وابستہ صنعت کے ماہرین تدریس میں تعاون کریں گے اور پی جی آئی پی کے کورس ماڈیولز کو صنعت کی ضروریات اور ابھرتے ہوئے پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق بنانے میں فیکلٹی کی معاونت کریں گے۔

تحقیق، ڈیٹا شیئرنگ اور علمی مواد کی تیاری: تعاون کے تحت قرض کی تنظیم نو، مالیاتی منڈیوں، دباؤ کا شکار اثاثوں اور انسالوینسی ریزولوشن یعنی نا دہندگی کے حل جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دیا جائے گا۔ قانونی، ضابطہ جاتی، رازداری اور رسائی سے متعلق شرائط کے تحت ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے شواہد پر مبنی تحقیق اور مارکیٹ کے رجحانات و پیش رفت سے متعلق تحقیقی وسائل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

مشترکہ پروگرام اور صنعت سے روابط: دونوں ادارے پی جی آئی پی کے شرکا کے لیے انٹرن شپ، پلیسمنٹ سے متعلق مواقع اور صنعت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطے کے امکانات تلاش کریں گے۔ سالانہ مشترکہ کانفرنس کے ذریعے ابھرتے ہوئے چیلنجوں پر تبادلہ خیال، پیشہ ورانہ تجربات شیئر کرنے اور تحقیقی نتائج پیش کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔

آئندہ کا لائحہ عمل

پانچ سال کی مدت کے لیے دستخط کیے گئے مفاہمت نامے آئی آئی سی اے اور ایسوسی ایشن آف اے آر سیز کے درمیان مسلسل تعاون کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ دونوں ادارے متعین عمل درآمد کی حکمت عملی، مشترکہ تحقیق، ماہرین کی جانب سے تدریس اور پیش رفت کے باقاعدہ جائزے کے ذریعے معاہدے کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے کام کریں گے۔

مذاکرات کے دوران فروری 2027 میں IBC@10 اور SARFAESI@25 کے اہم سنگ میلوں کے حوالے سے مشترکہ کانفرنس منعقد کرنے کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔ کانفرنس کا موضوع اور پروگرام مفاہمت کی یادداشت میں طے شدہ وسیع سرگرمیوں کے دائرے میں دونوں ادارے باہمی طور پر طے کریں گے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 6539 )


(ریلیز آئی ڈی: 2326970) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English