پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 OCT 2026 10:00PM by PIB Delhi
لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے آج برکس ممالک کی پارلیمانوں سے اپیل کی کہ وہ انسانی نگرانی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اخلاقی اصولوں کی پابند، ذمہ دارانہ اور شفاف ٹیکنالوجی کے فروغ کو یقینی بنائیں۔
نئی دہلی میں جاری بارہویں برکس پارلیمانی فورم کے تحت منعقدہ مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرنے والے برکس ممالک کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمانی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کا اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔
اس سے قبل جناب برلا نے اس فورم کا افتتاح کیا۔
جناب برلا نے قانون سازی کی صلاحیت، شفافیت، کارکردگی اور عوام کی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے پارلیمنٹ آف انڈیا کی جانب سے شروع کی گئی متعدد ڈیجیٹل اختراعات کا ذکر کیا۔ ان میں محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارم شامل ہیں، جن کے ذریعے ارکانِ پارلیمان سوالات، جوابات اور سرکاری محکموں کے فوری ردِعمل تک آن لائن رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کثیر لسانی اقدامات کے تحت روزانہ کی کارروائی کی فہرست دس زبانوں میں فراہم کی جاتی ہے، جبکہ تمام 22 آئینی طور پر تسلیم شدہ زبانوں کو اس میں شامل کرنے کا کام جاری ہے۔ اسی طرح 22 زبانوں میں بیک وقت ترجمے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
انہوں نے آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کے پارلیمانی مباحث کو ڈیجیٹل آرکائیو کی شکل دینے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں میٹا ڈیٹا اور ویڈیو کے ذریعے تلاش کی سہولت شامل ہے۔ اس کے ساتھ پارلیمانی لائبریری کی کتابوں کی گھر تک ترسیل، تحقیقی مقالوں تک چوبیس گھنٹے آن لائن رسائی، اور قومی ای ودھان ایپلی کیشن (نیوا) نیز ’ایک ملک، ایک قانون ساز پلیٹ فارم‘کے ذریعے کاغذ کے بغیر حکمرانی کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ یہ پلیٹ فارم مختلف قانون ساز اسمبلیوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہیں اور ایوانوں کی کارروائی، مباحث، بجٹ اور قانون سازی سے متعلق معلومات کی براہِ راست نشریات کو ممکن بناتے ہیں۔
جناب برلا نے بھارت کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہریوں کو بااختیار بنانے اور مالی شمولیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے مستحقین تک سرکاری فوائد براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں شفاف انداز میں پہنچائے جاتے ہیں، جس سے بدعنوانی میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ٹیکنالوجی ذمہ دارانہ، جواب دہ اوربشرپر مرکوز ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی احساسات، اخلاقی اقدار اور انسانی وقار کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور اس پورے عمل میں انسانی نگرانی کو اولین حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔
بارہویں برکس پارلیمانی فورم 2026 کے موقع پر جناب اوم برلا نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وفاقی قومی کونسل کے صدر، عزت مآب جناب صقر غباش کی میزبانی بھی کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ دوستی کے تاریخی رشتوں کا اعادہ کیا اور ڈیجیٹل سنسد، مصنوعی ذہانت، کمیٹیوں کے کام کاج اور آن لائن یقین دہانیوں کی نگرانی کے نظام کے شعبوں میں پارلیمانی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ تبادلۂ خیال، وفود کے تبادلے اور بہترین عملی تجربات سے استفادے پر اتفاق کیا گیا۔وکست بھارت اور ’وی دی یو اے ای 2031‘ کے مشترکہ اہداف سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، نوجوانوں کے تبادلے اور عوام کے درمیان روابط کو وسعت دینے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر سفارتی ذرائع کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
بعد ازاں، جناب اوم برلا نے عوامی جمہوریہ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے نائب صدر، عزت مآب جناب ژینگ جیان بانگ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پارلیمانی وفود کے تبادلوں، باقاعدہ بات چیت اور تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کے ذریعے بھارت اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلۂ خیال کیا۔ جناب برلا نے اس بات پر زور دیا کہ ہمسایہ ممالک ہونے کے ناطے بھارت اور چین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ سرحد پر امن و ہم آہنگی برقرار رکھیں اور بات چیت و باہمی احترام کے ذریعے اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کریں۔ انہوں نے پارلیمانی سفارت کاری، مضبوط تجارتی تعلقات اور عوام کے درمیان گہرے روابط کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پارلیمانی دوستی گروپوں اور برکس جیسے کثیر ملکی فورموں کے ذریعے مسلسل رابطہ اور تبادلۂ خیال باہمی افہام و تفہیم کو مزید فروغ دے گا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے ایران کی اسلامی مشاورتی اسمبلی کے پریزیڈیم کے رکن، عزت مآب ڈاکٹر احمد نادری سے بھی ملاقات کی۔ بھارت اور ایران کے درمیان تاریخی تعلقات اور ستمبر 2026 میں ہونے والی اپنی ملاقات سمیت اعلیٰ سطحی مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے جناب برلا نے مغربی ایشیا میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ کوششوں کے ذریعے چاہ بہار بندرگاہ کے سلسلے میں تعاون کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا۔ ڈاکٹر نادری نے ایران کو ادویات، امداد اور دیگر معاونت فراہم کرنے پر بھارت سے اظہارِ تشکر کیا۔ دونوں فریقوں نے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مسلسل رابطے اور باہمی تعاون کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
********
ش ح۔ ع ح۔م ش
U-6739