نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

طبی تحقیق کا محور انسانیت کو درپیش صحت کے چیلنجوں کا حل ہونا چاہیے: نائب صدرجمہوریہ کا ڈاکٹر این ٹی آر یونیورسٹی کی روبی جوبلی تقریب سے خطاب


’’ڈاکٹر این ٹی آر ہندوستان کی ایک عظیم شخصیت تھے، وہ علاقائی حدود سے آگے بڑھ کر سوچنے والے رہنما تھے‘‘: نائب صدر جمہوریہ

ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے؛ صحت کی دیکھ بھال میں ہمدردی بنیادی اہمیت رکھتی ہے: نائب صدرجمہوریہ

جناب رادھا کرشنن نے ڈاکٹروں سے منشیات کے غلط استعمال کے خلاف سماجی مہم کی قیادت کرنے کی اپیل کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 OCT 2026 2:54PM by PIB Delhi

نائب صدرجمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج آندھرا پردیش کے وجے واڑہ میں ڈاکٹر این ٹی آر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے 40ویں تاسیس (روبی جوبلی) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طبی اداروں سے تحقیق کو مزید بہتر بنانے، اختراعات کو فروغ دینے اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق سنگین چیلنجوں کے حل تیار کرنے کی اپیل کی۔

نائب صدر  جمہوریہ نے طبی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں چار دہائیوں کی خدمات مکمل کرنے پر یونیورسٹی کو مبارک باد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور عظیم رہنما ڈاکٹر ننداموری تارک راما راؤ کی دور اندیشی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر این ٹی آر کی دور اندیشی اور عوامی خدمت علاقائی حدود سے بالاتر تھی اور اس میں قومی فلاح و بہبود کے لیے گہری وابستگی کا جذبہ کارفرما تھا۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں طبی تعلیم کے شعبے میں توسیع کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان میں میڈیکل کالجوں کی تعداد 2014 سے پہلے 387 تھی جو اب بڑھ کر 846 ہو گئی ہے، جو دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم بی بی ایس کی نشستوں میں 172 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد تقریباً 51 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ پوسٹ گریجویٹ نشستوں کی تعداد میں 177 ؍فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ تقریباً 31 ہزار سے بڑھ کر 86 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

تحقیق اور اختراع کو اگلا اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے نائب صدر نے باصلاحیت طلبہ پر زور دیا کہ وہ انسانیت کو درپیش صحت کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خود کو وقف کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر این ٹی آر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے محققین طب کے شعبے میں اپنی خدمات کے ذریعے نوبیل انعام سمیت عالمی سطح پر اعزاز و شناخت حاصل کریں گے۔

مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل صحت، ٹیلی میڈیسن اور جدید تشخیصی ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے یونیورسٹی کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ممتاز جامعات کے ساتھ اشتراک قائم کرے، تاکہ طلبہ اور محققین کو جدید تحقیق اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے واقفیت حاصل کرنے کے زیادہ مواقع مل سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی ترقی کی بنیاد سائنسی توثیق، مریضوں کی حفاظت، اعداد و شمار کی رازداری اور اخلاقی ذمہ داری پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی، ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تعلق میں بنیادی اہمیت رکھنے والے جذبۂ ہمدردی اور انسانی رشتے کی جگہ نہیں لے سکتی۔

نائب صدر جمہوریہ نے ڈاکٹروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد سے منشیات کے غلط استعمال کے خلاف بیداری پیدا کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔ منشیات کے خلاف جدوجہد کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے انہوں نے طبی پیشہ سےوابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کرے۔

تقریب کے ایک حصے کے طور پر نائب صدر جمہوریہ نے حاضرین کے ساتھ منشیات سے دور رہنے اور منشیات سے پاک معاشرے کو فروغ دینے کا عہد کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے 40 سالہ سفر کی یاد میں ایک یادگاری مجلہ بھی جاری کیا۔

اس موقع پر آندھرا پردیش کے گورنر اور یونیورسٹی کے چانسلر جناب ایس عبدالنذیر، آندھرا پردیش حکومت میں مکانات، اطلاعات و تعلقات عامہ کے وزیر جناب کولوسو پارتھا سارتھی، یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پی چندر شیکھر، نیشنل میڈیکل کمیشن کے میڈیکل اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ کے صدر ڈاکٹر ایم کے رمیش اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

اس سے قبل وجے واڑہ ہوائی اڈے پر آندھرا پردیش کے گورنر جناب ایس عبدالنذیر، آندھرا پردیش حکومت کے کابینی وزیر جناب نارا لوکیش اور دیگر معزز شخصیات نے نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن کا پرتپاک استقبال کیا۔

****

ش ح۔م ع ن۔ ع ن

U. No .6741


(ریلیز آئی ڈی: 2328836) وزیٹر کاؤنٹر : 5