کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈی پی آئی آئی ٹی کی جانب سے اسٹارٹ اَپ معاونت، ضابطہ جاتی اصلاحات اور ڈیجیٹل سنگل ونڈو منظوریوں کے ذریعے اعتماد پر مبنی حکمرانی کو فروغ دیا جارہا ہے


 اسٹارٹ اَپ انڈیا کے تحت 2.5 لاکھ سے زائد اسٹارٹ اَپس کو معاونت، 770 سے زائد اضلاع میں 25.42 لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے

اسٹارٹ اَپس کے لیے قرض کی ضمانتیں 1662 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ 63 ضابطہ جاتی اصلاحات سے اسٹارٹ اَپ کے نظام کو تقویت ملی

ملک بھر میں کاروباری ضوابط کو آسان بنانے کے لیے 47957 تعمیلی تقاضوں میں کمی اور 900 قانونی دفعات کو جرم کے زمرے سے خارج کیا گیا

لیبر قوانین کو یکجا کرنے اور لائسنسنگ میں اصلاحات سے ضابطوں کی تعمیل آسان ہوئی اور کاروباری اداروں پر ضابطہ جاتی بوجھ کم ہوا

17 شعبوں میں خودکار راستے (آٹومیٹک روٹ) کو وسعت دینے والی سرمایہ کاری اصلاحات کے نتیجے میں بھارت میں 12 برسوں کے دوران 843 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ریکارڈ کی گئی

قومی سنگل ونڈو نظام کے ذریعے ڈیجیٹل انضمام، خودکاری اور 22 زبانوں میں سہولت کی فراہمی کے توسط سے منظوریوں کے عمل کو آسان بنایا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 12:24PM by PIB Delhi

  صنعت و تجارت  کی وزارت  کے صنعت و اندرونی تجارت کے فروغ کا محکمہ (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے اجازت پر مبنی ضابطہ جاتی نظام سے اعتماد پر مبنی نظام کی جانب مسلسل تبدیلی کو آگے بڑھایا ہے۔ اسٹارٹ اَپ کے نظام، تعمیلی تقاضوں میں کمی، شعبہ جاتی ضوابط، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور سنگل ونڈو منظوریوں کے شعبوں میں کی گئی اصلاحات نے کاروباری اداروں پر ضابطہ جاتی بوجھ کم کیا ہے اور کاروبار شروع کرنے، روزگار، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کے میدان میں قابلِ پیمائش نتائج فراہم کیے ہیں۔

ڈی پی آئی آئی ٹی نے 250046 اسٹارٹ اَپس کو تسلیم کیا ہے، جن کے ذریعے 770 سے زائد اضلاع اور 56 صنعتوں میں 25.42 لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی اطلاع ہے۔ ان اسٹارٹ اَپس میں سے 52 فیصد غیر میٹرو شہروں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ 48 فیصد میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر ہے۔ مالی سال 2023-24 میں سالانہ تسلیم شدہ اسٹارٹ اَپس کی تعداد 34200 تھی، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 36440 ہوگئی۔

اسٹارٹ اَپ انڈیا سیڈ فنڈ اسکیم کے تحت 32 ریاستوں اورمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 244 انکیوبیٹرز کے ذریعے 4194 اسٹارٹ اَپس کے لیے 775.67 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں خواتین کی قیادت والے 2147 اسٹارٹ اَپس اور درجہ دوم و درجہ سوم کے شہروں سے تعلق رکھنے والے 2356 اسٹارٹ اَپس شامل ہیں۔ اسٹارٹ اَپس کے لیے فنڈ آف فنڈز اسکیم کے تحت، سِڈبی ( ایس آئی ڈی بی آئی) نے 166 متبادل سرمایہ کاری فنڈز (اے آئی ایف) کے لیے 12623 کروڑ روپے مختص کرنے کا عہد کیا ہے، جنہوں نے 1475 اسٹارٹ اَپس میں 28254 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔

اسٹارٹ اَپس کے لیے قرض ضمانت اسکیم کے تحت 1662.71 کروڑ روپے کے 532 قرضوں کی ضمانت دی گئی ہے۔ ان اسٹارٹ اَپس میں 41637 افراد کو روزگار حاصل ہوا ہے۔ فی قرض دار ضمانت کی حد 10 کروڑ روپے سے بڑھا کر 20 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ 27 ترجیحی شعبوں (چیمپئن سیکٹرز) کے لیے سالانہ فیس کم کرکے  ایک فیصد کر دی گئی ہے۔

مجموعی طور پر 63 ضابطہ جاتی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں، جن میں اینجل ٹیکس کا خاتمہ، درج شدہ اور غیر درج شدہ حصص کے لیے طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع پر ٹیکس کے نظام میں ہم آہنگی اور انشورنس کمپنیوں، ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او)، سپر اینوایشن فنڈز اور گریجویٹی فنڈز کو متبادل سرمایہ کاری فنڈز (اے آئی ایف) میں سرمایہ کاری کی اجازت دینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، 4467 اسٹارٹ اَپس کے پاس دفعہ 80-آئی اے سی کے تحت اہلیت کا سرٹیفکیٹ موجود ہے۔

سابقہ تجربے، سابقہ کاروباری حجم اور بیعانہ رقم (ای ایم ڈی) سے متعلق شرائط میں نرمی کے بعد، گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پر رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس کی تعداد جنوری 2021 میں 7929 سے بڑھ کر 43260 ہوگئی ہے۔ ان اسٹارٹ اَپس نے سرکاری خریداروں کو 68105 کروڑ روپے مالیت کے 6.23 لاکھ آرڈرز فراہم کیے ہیں۔ اسٹارٹ اَپس کے لیے مخصوص پالیسیوں کا دائرہ 2016 میں چار ریاستوں اورمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے بڑھ کر 32 تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، 17 ریاستوں اورمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 104 نئے انکیوبیٹرز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ تیجس (ٹی ای جے اے ایس) پہل کے تحت 27 ریاستوں اورمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے 132 اضلاع کا احاطہ کیا گیا ہے۔

مرکزی وزارتوں اور ریاستوں اورمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 47957 تعمیلی تقاضوں میں کمی کی گئی ہے۔ ان میں سے 22290 کو ڈیجیٹل بنایا گیا، 16141 کو آسان بنایا گیا، 5255 کو جرم کے زمرے سے خارج کیا گیا اور 4271 کو ختم کر دیا گیا۔ جن وشواس قوانین کے تحت مرکزی قوانین کی 900 دفعات کو جرم کے زمرے سے خارج کیا گیا ہے، جن میں 2023 میں 42 قوانین کی 183 دفعات اور 2026 میں 79 قوانین کی 717 دفعات شامل ہیں۔

ریاستوں اورمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے کاروباری اصلاحات کے عملی منصوبے (بی آر اے پی) کے سات ایڈیشنوں کے تحت 9700 سے زیادہ اصلاحات نافذ کی ہیں۔ ضلعی بی آر اے پی کے تحت 222 اصلاحات کو ضلع کلکٹریٹس، ترقیاتی اتھارٹیز اور شہری مقامی اداروں تک وسعت دی گئی ہے۔

مرکزی محنت کے 29 قوانین کو یکجا کرکے چار لیبر کوڈز میں شامل کیا گیا ہے۔ ملازمین کی چھٹنی یا ادارہ بند کرنے کے لیے پیشگی اجازت کی حد 100 سے بڑھا کر 300 کارکن کر دی گئی ہے۔ کارخانوں پر قانون کے اطلاق کے لیے کارکنوں کی کم از کم حد، بجلی استعمال کرنے والے اداروں کے لیے 10 سے بڑھا کر 20 اور بجلی استعمال نہ کرنے والے اداروں کے لیے 20 سے بڑھا کر 40 کارکن کر دی گئی ہے۔ کنٹریکٹ لیبر کے لائسنس کے لیے کارکنوں کی حد 20 سے بڑھا کر 50 کر دی گئی ہے۔ اب قانونی کارروائی سے قبل تعمیلی تقاضے پورے کرنے کے لیے 30 دن کا نوٹس دینا لازمی ہے۔

پیٹرولیم اور دھماکہ خیز مواد کی حفاظت  سے متعلق  تنظیم (پی ای ایس او) کی جانب سے جاری کیے جانے والے لائسنسوں کی مدتِ اعتبار پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کر دی گئی ہے، جس سے لائسنسوں کی تجدید کی ضرورت کم ہوگئی ہے۔ پی ای ایس او کے تمام ماڈیولز کو ڈیجیٹل بنا کر قومی سنگل ونڈو نظام (این ایس ڈبلیو ایس) کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ ضلع حکام کی جانب سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) آن لائن جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ خواتین اور بہت چھوٹی، چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے لیے فیس میں رعایتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ بوائلرز ایکٹ، 2025 نے نوآبادیاتی دور کے بوائلرز ایکٹ، 1923 کی جگہ لے لی ہے۔

براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے لیے 17 شعبوں کو خودکار راستے کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ دفاعی شعبے میں نئے صنعتی لائسنسوں کے لیے خودکار راستے کے تحت ایف ڈی آئی کی حد 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کر دی گئی ہے۔ بیمہ کے شعبے میں ایف ڈی آئی کی حد 2021 میں 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد اور 2026 میں ان بیمہ کمپنیوں کے لیے 100 فیصد کر دی گئی ہے جو اپنے پورے پریمیم کی سرمایہ کاری بھارت میں کرتی ہیں۔ مالی سال 2021-22 سے مالی سال 2024-25 کے دوران اس شعبے میں تقریباً 8.79 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔

ٹیلی مواصلات، شہری ہوا بازی میں غیر مقررہ پروازوں کی فضائی نقل و حمل کی خدمات اور گراؤنڈ ہینڈلنگ، نیز سیٹلائٹ کے پرزوں کی تیاری اور نشریاتی تقسیم کے شعبوں میں خودکار راستے کے تحت 100 فیصد تک براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت ہے۔

بھارت کو مالی سال 2014-15 سے مالی سال 2025-26 کے دوران 843 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جو اس سے پہلے کے 12 برسوں میں موصول ہونے والی 313 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے مقابلے میں 169 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں سرمایہ کاری کا بہاؤ اب تک کی بلند ترین سطح، یعنی 94.53 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔

قومی سنگل ونڈو نظام (این ایس ڈبلیو ایس) کو 1549850 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، اس پر 576778 کاروباری ادارے رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور 8.5 لاکھ سے زیادہ منظوریوں کی فراہمی عمل میں آئی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر مجموعی طور پر 3779 خدمات دستیاب ہیں، جن میں 327 مرکزی اور 3452 ریاستی خدمات شامل ہیں۔ اس کے برعکس، ستمبر 2021 میں اس کے ابتدائی اجرا کے وقت صرف 142 مرکزی منظوریوں اور 14 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی خدمات شامل تھیں۔ یہ نظام 34 ریاستوں اورمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور 32 مرکزی وزارتوں اورمحکموں کو مربوط کر چکا ہے، جبکہ 18 مرکزی وزارتیں این ایس ڈبلیو ایس کا استعمال کر رہی ہیں۔

’’اپنی منظوریوں کو جانیں‘‘(کے وائی اے) ماڈیول کاروباری اداروں کو ابتدا ہی میں ان پر لاگو ہونے والی مرکزی اور ریاستی منظوریوں کی شناخت کرنے کے قابل بناتا ہے، جس کے ذریعے 8000 سے زیادہ منظوریوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ ان میں سے 2825 منظوریوں کو، جن میں 592 مرکزی اور 2233 ریاستی منظوریاں شامل ہیں، کے وائی اے کے ذریعے مربوط کیا گیا ہے۔ بار بار اعداد و شمار درج کرنے کی ضرورت ختم کرنے کے لیے اب 89 مشترکہ ڈیٹا فیلڈز 285 منظوریوں کے لیے خودکار طور پر پُر ہو جاتے ہیں۔ کاروباری افراد کے لیے مختلف خطوں میں رسائی کو بہتر بنانے کی غرض سے یہ پورٹل 22 بھارتی زبانوں میں دستیاب ہے۔

این ایس ڈبلیو ایس کا استعمال منظوری کے مراحل کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔ صنعتی کاروباری یادداشت ( آئی ای ایم) اب وزارتِ کارپوریٹ امور (ایم سی اے)، اشیا و خدمات ٹیکس نیٹ ورک (جی ایس ٹی این) اور دیگر ڈیٹا بیس سے حاصل کردہ معلومات کی مدد سے خودکار طور پر تیار کی جاتی ہے، جس کے لیے محکمہ جاتی منظوری درکار نہیں ہوتی۔ اسی طرح، غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے ای-بی 4   پروڈکشن ویزا کے اسپانسرشپ خطوط، این ایس ڈبلیو ایس اور ویزا پورٹل کے درمیان اے پی آئی انضمام کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں، جن کے لیے متعلقہ لائن وزارت کی منظوری درکار نہیں ہوتی۔

ریاستوں اورمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ سنگل ونڈو نظام (ایس ڈبلیو ایس) کو مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر قائم کریں اور مضبوط بنائیں، تاکہ کاروباری اداروں کو ضابطہ جاتی منظوریوں اور تعمیلی تقاضوں تک رسائی کے لیے ایک ہی مقام دستیاب ہو۔ اس نظام کے تحت سنگل سائن آن، سنگل بزنس آئی ڈی، اپنی منظوریوں کو جانیں، مشترکہ درخواست فارم، آن لائن ادائیگیاں، معائنوں کا انتظام، درخواست دہندگان کی رہنمائی، شکایات کا ازالہ اور حقیقی وقت کے ڈیش بورڈ جیسی سہولتوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بین محکمہ جاتی انضمام اور ابتدا سے آخر تک ڈیجیٹل کارروائی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔

ان اقدامات کا مقصد طریقۂ کار کی پیچیدگیوں کو کم کرنا، بالمشافہ رابطوں کو محدود کرنا، شفافیت کو بہتر بنانا اور مقررہ مدت میں خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اصلاحات آسان، ڈیجیٹل اور کم بوجھل ضابطہ کاری کی جانب مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں، جس سے کاروباری اداروں کو زیادہ سہولت کے ساتھ کاروبار شروع کرنے، اسے وسعت دینے اور سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م م ع۔ن م۔

U-6748


(ریلیز آئی ڈی: 2328875) وزیٹر کاؤنٹر : 13