ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آرمینیا کے شہر یریوان میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کی 17ویں کانفرنس (سی بی ڈی کوپ-17) میں بھارت نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور عالمی حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک پر مؤثر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا


جناب بھوپیندر یادو نے حیاتیاتی تنوع کے سائنسی بنیادوں پر نظم و نسق میں قومی حالات کو مدنظر رکھنے اور عمل درآمد کے لیے مناسب وسائل کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 2:13PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج آرمینیا کے شہر یریوان میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی فریقین کی 17ویں کانفرنس (سی بی ڈی کوپ-17) کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارت کا موقف پیش کیا۔ وزیر موصوف نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی سے زندگی گزارنے کے لیے اجتماعی کوششوں کو مضبوط بنانے کے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کی 17ویں کانفرنس کی میزبانی کرنے پر آرمینیا کی حکومت کی ستائش کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261027141359_6a33d3.jpg

جناب یادو نے اس بات پر زور دیا کہ کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک پر عمل درآمد قومی ترجیحات، حالات اور قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے مناسب اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل کی فراہمی، صلاحیت سازی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ضروری ہے۔ بھارت کثیرجہتی نظام کے ذریعے جینیاتی وسائل سے متعلق ڈیجیٹل سلسلہ جاتی معلومات سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم کی بھی حمایت کرتا ہے، جس میں کالی فنڈ بھی شامل ہے۔ وزیر موصوف نے مصنوعی حیاتیات اور حیاتیاتی تحفظ کے حوالے سے سائنسی بنیادوں پر مبنی، خطرات کے تناسب سے موزوں اور احتیاطی نقطۂ نظر اپنانے پرزور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی تازہ ترین قومی حیاتیاتی تنوع حکمتِ عملی اور عملی منصوبہ عالمی حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک کو 23 قومی اہداف اور 142 اشاریوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔

حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے میدان میں بھارت کی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب یادو نے بتایا کہ ملک میں 1,134 محفوظ علاقے، 103 رامسر مقامات، 57 حیاتیاتی تنوع کے ورثے کے مقامات اور 18 حیاتیاتی کرہ کے محفوظ علاقے موجود ہیں، جن میں سے 13 یونیسکو کے انسان اور حیاتیاتی کرہ کے عالمی نیٹ ورک کے تحت شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کو نمایاں کیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں بین الاقوامی بگ کیٹ اتحاد دنیا کے بگ کیٹ کے سات اقسام اور ان کی پناہ گاہوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشن لائف اور ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم ماحولیاتی ذمہ داری کے جذبے کو مزید مستحکم کرتی ہیں اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو معاشرے کی اجتماعی کوشش بناتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261027141411_a85302.jpg

وزیر موصوف نے بتایا کہ بھارت حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے بھی مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ ان میں مینگروو جنگلات کی بحالی کے لیے ساحلی پناہ گاہیں اور پائیدار آمدنی کے ذرائع سے متعلق مینگروو پہل (مشٹی)، آبی علاقوں کے تحفظ کے لیے امرت دھروہر اور پائیدار طریقے سے مٹی کے انتظام اور اس کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لیے مٹی کی صحت سے متعلق کارڈ اسکیم شامل ہیں۔ جناب یادو نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت نے حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے مطابق اپنے قوانین کو ہم آہنگ کیا ہے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے وسائل تک رسائی اور فوائد کی تقسیم کے لیے گاؤں کی سطح پر کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ اس سے مقامی لوگوں کی شمولیت کو فروغ ملتا ہے اور حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد ان تک پہنچتے ہیں۔

کثیرجہتی تعاون کے تئیں بھارت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ بھارت ’’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘‘ کے حقیقی جذبے کے ساتھ کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

******

 

) ش ح ۔ ع و ۔ م ا)

U.No. 6754


(ریلیز آئی ڈی: 2328952) وزیٹر کاؤنٹر : 12