بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم وشوکرما کاریگروں نے برکس ثقافتی بازار میں بھارت کی روایتی دستکار یوں کی  نمائش کی


نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں منعقدہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم میں روایتی دستکاری کو نمایاں مقام حاصل ہوا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 4:28PM by PIB Delhi

بہت چھوٹی ،چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کی وزارت کی  پی ایم وشوکرما اسکیم سے وابستہ کاریگروں اور دستکاروں نے 26اور 27اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں 12ویں برکس پارلیمانی فورم کے دوران منعقدہ دو روزہ ثقافتی بازار میں شرکت کی۔

ثقافتی بازار نے برکس پارلیمانی فورم میں شرکت کرنے والے قومی اور بین الاقوامی مندوبین کے سامنے بھارت کے مالامال ثقافتی ورثے، روایتی دستکاری، کاریگروں کی تیار کردہ مصنوعات اور مقامی ہنرمندی  کو  پیش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

اس شرکت کے ذریعے بھارت کی روایتی دستکاری کی گوناگونیت  اور ملک کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں کاریگر برادریوں کے تعاون کو اجاگر کیا گیا۔ برکس کے مندوبین نے وشوکرما کاریگروں کی تیار کردہ مصنوعات کی بھی کافی تعریف کی۔

آٹھ ریاستوں کے آٹھ کاریگروں نے بھارت کی دستکاری کو پیش کیا

  • راجستھان، جموں و کشمیر، بہار، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، ناگالینڈ، کرناٹک اور مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے پی ایم وشوکرما اسکیم کے آٹھ کاریگروں اور دستکاروں نے ثقافتی بازار میں شرکت کی اور بھارت کی متنوع روایتی دست کاری کو پیش کیا۔
  • درزی، سنار، مجسمہ ساز،سنگ تراش، گڑیا اور کھلونے بنانے والے اور موچی جیسے روایتی پیشوں سے وابستہ کاریگروں نے پی ایم وشوکرما اسٹال پر اپنی ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کی۔ منتخب کاریگروں نے روایتی دست کاری کی تکنیکوں کا عملی مظاہرہ بھی کیا، جس سے یہاں آنے والے افراد کو  ان مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والی مہارت اور فن کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
  • اس شرکت نے روایتی کاریگروں کی شناخت اور ان کے فن کو نمایاں کرنے، منڈیوں تک رسائی کے مواقع بڑھانے اور روایتی ہنر کو محفوظ رکھنے اور کاریگر برادریوں کو بااختیار بنانے میں پی ایم وشوکرما اسکیم کے اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔

1۔ مقبول جادو پٹیا | جھارکھنڈ | ڈوکرا دستکاری کے ماہر

مقبول جادو پٹیا روایتی ڈوکرا دھات کی دستکاری کو پیش کرتے ہیں، جو اپنے باریک اور نفیس نقش و نگار اور موم کے سانچے کے ذریعے دھات ڈھالنے کی قدیم تکنیک کے لیے مشہور ہے۔ پی ایم وشوکرما اسکیم کے ذریعے انہوں نے دلی ہاٹ اور ریاستی تجارتی میلے سمیت مختلف نمائشوں میں شرکت کی، جس سے انہیں اپنی مصنوعات کی وسیع تر تشہیر اور منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوئی۔ ایمیزون پر ان کی شمولیت نے گاہکوں کی تعداد بڑھانے اور اپنے ذریعۂ معاش کو مستحکم کرنے کے مزید مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔

2۔ انوراگ ساہو | مدھیہ پردیش | سنگ تراش

انوراگ ساہو جبل پور کے نیو بھیڑھا گھاٹ ماربل سے ہاتھوں سے تراشے گئے سنگِ مرمر کے مجسمے، پوجا پاٹھ میں استعمال ہونے والی اشیاء، یادگاری تحائف اور گھروں کی آرائش کی مصنوعات تیار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ جغرافیائی شناخت(جی آئی )کا ٹیگ حاصل کرنے والے جبل پور کے سنگ تراشی کے فن سے وابستہ ہیں اور روایتی ہنرمندی کو باریک اور نفیس نقش و نگار کے ساتھ یکجا کرتے ہیں۔ پی ایم وشوکرما اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی مدد سے وہ ایمیزون اور فلپ کارٹ پر بھی شامل ہو چکے ہیں، جس سے انہیں اپنی مصنوعات آن لائن فروخت کرنے اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے میں مدد مل رہی ہے۔

3۔ باجی راؤ شمراؤ ستپوتے | مہاراشٹر | موچی

باجی راؤ شمراؤ ستپوتے ہاتھ سے تیار کردہ کولہا پوری چپلوں کے ذریعے کولہاپور کی روایتی چمڑے کی دستکاری کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان چپلوں پر نفیس نقش و نگار اور مخصوص ’’ناچ موری پٹّا‘‘ ڈیزائن نمایاں ہوتا ہے۔ پی ایم وشوکرما اسکیم کے تحت انہوں نے ریاستی سطح کی ایک نمائش میں شرکت کی اور ایمیزون پر بھی اپنی شمولیت درج کرائی۔ اس سے انہیں اپنی مصنوعات کی بہتر برانڈنگ، وسیع تر منڈی تک رسائی اور سماجی سطح پر زیادہ شناخت حاصل کرنے کے مواقع ملے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ روایتی دست کاری کو محفوظ رکھنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔

A couple of wooden figurinesAI-generated content may be incorrect. A group of colorful wooden dollsAI-generated content may be incorrect.

4۔ دیپو ایس | کرناٹک | گڑیا اور کھلونے بنانے والے کاریگر

دیپو ایس روایتی چن پٹنا اور کنہال کھلونے بنانے میں مہارت رکھتے ہیں، جو کرناٹک کے مالامال کھلونا سازی کے ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ پی ایم وشوکرما اسکیم کے تحت انہیں آلات پر مشتمل ایک کٹ فراہم کی گئی۔ انہوں نے ہنرمندی کی تربیت مکمل کی اور ای کامرس پلیٹ فارم میشو پر بھی اپنی شمولیت درج کرائی۔ اس سے انہیں اپنی روایتی مصنوعات زیادہ وسیع صارفین تک پہنچانے اور ان کی نمائش کے نئے مواقع میسر آئے ہیں۔

5۔ دھیرج کمار | بہار | سنگ تراش

دھیرج کمار بھگوان بدھ اور دیگر دیوی دیوتاؤں کے لکڑی اور پتھر سے بنے نفیس اور باریک نقش و نگار والے مجسمے تیار کرتے ہیں، جو گیا کے بدھ مت کے ساتھ گہری  تاریخی وابستگی  کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ سے تیار کردہ مجسمے بودھ گیا اور بہار کے دیگر اضلاع میں فراہم کیے جاتے ہیں۔ پی ایم وشوکرما اسکیم کے تحت قرض کی مالی امداد سے انہیں خام مال خریدنے میں مدد ملی، جبکہ فراہم کردہ آلات کی کٹ نے ان کے مجسموں کی تراش خراش، گھسائی اور پالش کے کام کو بہتر بنانے اور انہیں عمدہ تکمیل دینے کی صلاحیت میں اضافہ کیا۔

6۔ محمد نسیم | راجستھان | سنار

محمد نسیم روایتی لاک کی چوڑیاں تیار کرتے ہیں، جنہیں شوخ رنگوں، آرائشی پتھروں اور ہاتھ سے بنائے گئے نفیس نقش و نگار سے سجایا جاتا ہے۔ ان کا یہ فن راجستھان کے مالامال زیورات سازی کے ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔ پی ایم وشوکرما اسکیم کے تحت انہیں ہنرمندی کی تربیت، جدید آلات کی کٹ اور قرض کی سہولت فراہم کی گئی، نیز انہیں ایمیزون پر بھی شامل کیا گیا۔ اس تعاون سے انہیں اپنی دستکاری کو مزید بہتر بنانے، کاروبار کو وسعت دینے اور آمدنی میں اضافہ کرنے میں مدد ملی ہے۔

7۔ مسرت فیاض | جموں و کشمیر | درزی

مسرت فیاض شالیں، اسٹول، روایتی کشمیری فیرن اور پشمینہ شالیں تیار کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔ پی ایم وشوکرما اسکیم کے ذریعے انہوں نے اپنی سلائی کی مہارت کو بہتر بنایا اور جدید آلات تک رسائی حاصل کی، جس سے مصنوعات کے معیار، فنشنگ اور کام کی رفتار میں بہتری آئی۔ حکومت کی جانب سے منعقدہ اہم نمائشوں میں ان کی شرکت نے انہیں اپنی تیار کردہ مصنوعات پیش کرنے اور وسیع تر منڈی میں کاروبار کے نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد دی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کے روایتی ملبوساتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں بھی تعاون حاصل ہوا ہے۔

8۔ تھرونگلی سانگتم | ناگالینڈ | گڑیا اور کھلونے بنانے والی کاریگر

تھرونگلی سانگتم ہاتھ سے کروشیا کے ذریعے گڑیاں تیار کرتی ہیں، جن کے ڈیزائن روایتی ناگا لباس، قبائلی نقش و نگار اور ثقافتی علامتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ دھاگوں سے تیار کردہ یہ گڑیاں ناگالینڈ کے ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے پاس 100 سے زائد گڑیاں موجود ہیں اور وہ دلی ہاٹ میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ ’مدرز کرافٹ‘ نامی اجتماعی گروپ سے بھی وابستہ ہیں۔ قرض کی سہولت سے انہیں معیاری خام مال خریدنے میں مدد ملی، جبکہ خواتین کے وسائل کی ترقی کے محکمے کے ساتھ  ایک مفاہمت نامے ( ایم او یو) پر دستخط کے نتیجے میں انہیں ’مائی کی‘اسٹور کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔

***

ش ح۔م ع۔ م ذ

U N-6766


(ریلیز آئی ڈی: 2329050) وزیٹر کاؤنٹر : 8