پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 5:21PM by PIB Delhi
وزیر مملکت برائے تجارت و صنعت جناب جتن پرساد نے آج نئی دہلی میں سلطنتِ لیختن اشتاین کی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، ماحولیات و ثقافت محترمہ سبین موناونی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھارت اور لیختن اشتاین کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
یہ ملاقات سلطنتِ لیختن اشتاین کے سربراہِ مملکت، موروثی شہزادے عالی جاہ الویس کے 25 سے 28 اکتوبر 2026 تک بھارت کے دورے کے موقع پر ہوئی۔ یہ 2026 میں ان کا بھارت کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ فروری میں مصنوعی ذہانت سے متعلق اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئے تھے۔
ملاقات کے دوران جناب جتن پرسادنے بھارت کی مضبوط اقتصادی ترقی، وسعت پارہے بازاری مواقع اور جاری اصلاحات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ طویل مدتی ترقی کے خواہاں عالمی کاروباری اداروں کے لیے بھارت ایک مستحکم، مسابقتی اور بڑے پیمانے پر کاروبار کو وسعت دینے کے لیے موزوں مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو وسعت دینے کے نمایاں امکانات پر زور دیا۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود، مضبوط گھریلو طلب اور مینوفیکچرنگ و خدمات کے شعبوں میں بہتری کی بدولت مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی حقیقی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 7.8 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
لیختن اشتاین کے اعلیٰ سطحی کاروباری وفد نے بھی اس ملاقات میں شرکت کی۔ جناب جتن پرساد نے لیختن اشتاین میں قائم کمپنیوں کے لیے بھارت میں اپنی موجودگی اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے لیختن اشتاین کی کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بھارت کی وسعت پاتی منڈی، ہنرمند افرادی قوت، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور سازگار پالیسی ماحول سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے بھارتی کاروباری اداروں کے ساتھ مزید سرمایہ کاری اور شراکت داریوں کی دعوت بھی دی۔ دونوں فریقوں نے ٹیکنالوجی، اختراع، مالیاتی خدمات اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ وفد میں لیختن اشتاین چیمبر آف انڈسٹری اینڈ کامرس (ایل سی سی آئی)، ایل جی ٹی انڈیا، ہلٹی، سوانا سیڈز، لیختن اشتاین لینگویجز، اوپن کاسموس لمیٹڈ اور لائٹ راک کے نمائندے شامل تھے۔
لیختن اشتاین، یورپی آزاد تجارتی ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کے رکن ممالک میں بھارت کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ بھارت-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ (ٹیپا) بھارت اور ای ایف ٹی اے ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک بہتر فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت 15 سال کے دوران 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور 10 لاکھ براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عہد کیے گئے ہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں نئی دہلی میں منعقدہ بھارت-ای ایف ٹی اے خوشحالی سربراہی اجلاس 2026 نے بھارت-ای ایف ٹی اے اور بھارت-لیختن اشتاین کے اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت فراہم کی۔
اس ملاقات میں بھارت اور لیختن اشتاین نے بھارت-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹیپا) کے تحت پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری کے زیادہ مضبوط اور مستحکم شراکت داری کے روابط قائم کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
*****
(ش ح ۔رک)
U. No.6777