پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 5:34PM by PIB Delhi
راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین جناب ہری ونش نے آج نئی دہلی میں منعقدہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کے مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ اجلاس کا موضوع تھا’پائیداری: ہمارے ملکوں کے لیے پائیدار اور جامع مستقبل کے فروغ میں پارلیمنٹ کا کلیدی رول ‘۔
کانفرنس کے پس منظر کو اجاگر کرتے ہوئے جناب ہری ونش نے کہا کہ 2026 میں برکس کی صدارت کے دوران بھارت کی رہنمائی کا موضوع ’’استحکام، اختراع، تعاون اور پائیداری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ستمبر 2026 میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ میٹنگ میں منظور کردہ نئی دہلی اعلامیے میں پائیدار اور جامع ترقی کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔
عالمی ترقیاتی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب ہری ونش نے اجاگر کیا کہ انسانیت کو آب وہوا کی تبدیلی، ماحولیاتی انحطاط، حیاتیاتی تنوع میں کمی، وسائل کی قلت، خوراک اور توانائی کی عدم فراہمی اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات سمیت سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق رپورٹ 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رجحانات سے متعلق کافی اعداد و شمار کی دستیابی والے 139 اہداف میں سے فی الحال صرف 15 فیصد اہداف ہی ایسے ہیں جن کے 2030 تک حاصل ہونے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیداری محض ماحولیات کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا بنیادی تعلق انسانی وقار، معاشی مواقع، سماجی انصاف اور سب کے لیے بہتر مستقبل سے ہے۔
قانون ساز اداروں کے کلیدی رول کو اجاگر کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے میں پارلیمانوں کا کردار منفرد اور ناگزیر ہے۔ قانون سازی، بجٹ کی نگرانی، جواب دہی کے نظام اور شہریوں کی نمائندگی کے ذریعے پارلیمانیں عوامی پالیسیوں کو جمہوری جواز فراہم کرتی ہیں اور عالمی عزائم اور مقامی سطح پر عملی اقدامات کے درمیان فاصلے کو کم کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پارلیمانوں کو سازگار قوانین وضع کرنے، مناسب وسائل مختص کرنے، عمل درآمد کی نگرانی کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کی آواز سنی جائے۔
بھارت کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے جناب ہری ونش نے اس بات کی توثیق کی کہ پائیدار ترقی عوام پر مرکوز، جامع اور منصفانہ ہونی چاہیے۔ بھارت کا ترقیاتی فلسفہ ’’وسودھیو کٹم بکم‘‘ یعنی پوری دنیا ایک کنبہ ہے، کے اصول پر مبنی ہے۔ اس اصول اور وکست بھارت 2047 @کے وژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے بھارت ایک خوشحال، مضبوط اور پائیدار ملک کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے، ساتھ ہی عالمی ترقی کی کوششوں میں بھی اپنا تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
نوجوانوں کی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں، جہاں تقریباً دو تہائی آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے، نوجوان پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر شراکت دار ہیں۔ ’’وکست بھارت یوتھ پارلیمنٹ‘‘ جیسے اقدامات نوجوان شہریوں کو جمہوری اداروں سے وابستہ ہونے، قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے اور جامع و پائیدار مستقبل کے لیے اختراعی خیالات اور نظریات پیش کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
بین الاقوامی تعاون پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب ہری ونش نے کہا کہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ پائیداری کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے، مالی وسائل تک زیادہ رسائی فراہم کرنے، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ’’مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں‘‘ کے اصول کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو اپنی قومی صورتحال اور ترجیحات کے مطابق پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب پالیسی اور وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر جناب ہری ونش نے اس بات پر زور دیا کہ پائیداری بنیادی طور پر طرزِ حکمرانی، جواب دہی اور اجتماعی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ پارلیمانی سفارت کاری، بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے پارلیمانیں موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار، جامع اور خوشحال دنیا کی تعمیر میں مؤثر رول ادا کر سکتی ہیں۔
_20261027173511_70c778.jpeg)
***
ش ح۔م ع۔ م ذ
U N-6778