لوک سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی، بھارت میں27-26 اکتوبر 2026 کو منعقدہ   برکس کے 12ویں پارلیمانی فورم کامشترکہ اعلامیہ


’’عوام  پرمرکوز ترقی کے فروغ کے لیے پارلیمان کو مستحکم بنانا‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 5:41PM by PIB Delhi

  1. ہم، برکس کے رکن ممالک کی پارلیمانوں کے سربراہان اور نمائندگان، یعنی وفاقی جمہوریہ برازیل، عوامی جمہوریہ چین، عرب جمہوریہ مصر، وفاقی جمہوریہ ایتھوپیا، جمہوریہ بھارت، جمہوریہ انڈونیشیا، اسلامی جمہوریہ ایران، روسی وفاق، جمہوریہ جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات، 26 اور 27 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی، بھارت میں ’’عوام مرکوز ترقی کے فروغ کے لیے پارلیمان کو مستحکم بنانا‘‘ کے موضوع کے تحت منعقدہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم میں جمع ہوئے۔
  2. ہم 12ویں برکس پارلیمانی فورم میں شراکت دار ممالک کی شرکت کا پُرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں اور بین پارلیمانی تعاون میں ان کی بیش بہا خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہم شراکت دار ممالک کے ساتھ جامع، باہمی مفاد پر مبنی اور ترقی پر مرکوز شراکت داری کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور برکس کی سرگرمیوں اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں عملی تعاون میں ان کی بڑھتی ہوئی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
  3. ہم 2026 میں برکس کی صدارت کے لیے بھارت کی حمایت کرتے ہیں، جس کا موضوع ’’لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر‘‘ ہے۔ یہ موضوع مشترکہ چیلنجوں سے متوازن، جامع اور مستقبل پر نظر رکھنے والے انداز میں نمٹنے کے لیے برکس تعاون کو مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
  4. ہم 12 اور 13 ستمبر 2026 کو 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی کامیاب میزبانی پر بھارت کو مبارک باد دیتے ہیں اور نئی دہلی لیڈروں کے اعلامیے کو اپنائے جانے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہم 2026 میں برکس کی صدارت کی بقیہ مدت کے لیے بھارت کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔
  5. ہم رکن ممالک کی پارلیمانوں کے متعلقہ آئینی اختیارات اور دائرۂ کار کے اندر، تعاون کے تین بنیادی ستونوں، یعنی سیاسی و سلامتی، اقتصادی و مالیاتی، اور ثقافتی و عوام سے عوام کے تبادلوں کے شعبوں میں برکس کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے قانون سازی کی سطح پر تعاون کے اپنے عزم کی توثیق کرتے ہیں۔ ہم باہمی احترام و افہام و تفہیم، مساوات، یکجہتی، کشادہ دلی، شمولیت اور اتفاقِ رائے کے برکس جذبے کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
  6. ہم اس بات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہیں کہ برکس کے تحت ثقافتی تبادلوں اور عوام سے عوام کے روابط سے متعلق اقدامات ہماری قوموں اور عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، دوستی اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ اس تناظر میں، ہم بھارت کی صدارت کے دوران ثقافت، کھیل، فنون، تعلیم، خواتین اور نوجوانوں کے امور سمیت مختلف شعبوں میں عوام سے عوام کے روابط کو فروغ دینے کے لیے اہم سرگرمیوں کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم ثقافتوں کے تنوع کے احترام، ورثے کی قدر افزائی، اختراع اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے، بین الاقوامی سطح پر عوام سے عوام کے مضبوط روابط اور تعاون کی مشترکہ طور پر وکالت کرنے کے لیے مزید کوششوں کی اپیل کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر اے/آر ای ایس/78/286 کو اپنائے جانے کی بھی نشاندہی کرتےہیں، جس کا عنوان ’’تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا عالمی دن‘‘ ہے۔
  7. ہم اقوام متحدہ کے منشور میں درج خودمختار مساوات، باہمی احترام، داخلی امور میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کے اصولوں سے اپنی وابستگی کی توثیق کرتے ہیں۔ یہ اصول عالمی استحکام، امن اور ترقی کی بنیادی اساس ہیں۔
  8. ہم اعتراف کرتے ہیں کہ بین پارلیمانی تعاون، برکس کے تعاون کے نظام کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے، قوموں کے درمیان اعتماد قائم کرنے، بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرنے، ہمارے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور شمولیت، یکجہتی اور پائیدار ترقی کی اقدار کو فروغ دینے کا ایک منفرد ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں، ہم برکس پارلیمانی فورم کے کردار کی توثیق کرتے ہیں اور برکس پارلیمانی فورم کے گزشتہ گیارہ اجلاسوں کے ذریعے برکس کے رکن ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان بین پارلیمانی مکالمے اور تعاون کو مضبوط بنانے میں دی گئی نمایاں خدمات کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔
  9. ہم عالمی جنوب کی آواز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو) سمیت بین الاقوامی پارلیمانی فورمز میں برکس کے باہمی روابط کو مضبوط بنانے کے منتظر ہیں۔ اس سلسلے میں، ہم بین پارلیمانی یونین کے اندر برکس پلس جغرافیائی سیاسی گروپ قائم کرنے کے خیال پر غور کرنے سے متعلق روس کی تجویز کابھی نوٹس لیتے ہیں۔
  10. ہم 12ویں برکس پارلیمانی فورم کے دوران ہونے والے تعمیری بین پارلیمانی مکالمے کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس میں ادارہ جاتی استحکام کو مضبوط بنانے، ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے، زیادہ نمائندہ اور جامع عالمی نظم و نسق کو فروغ دینے، پائیداری کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے، جس میں اس کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز)، پر عمل درآمد کے لیے عالمی سطح پر اجتماعی اقدامات کو تیز کرنے میں پارلیمانوں کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، بھی شامل ہے۔
  11. ہم پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے اور اس کے جامع، عوام مرکوز اہداف و مقاصد پر متوازن اور مربوط انداز میں، قومی پالیسیوں اور ضوابط کے مطابق عمل درآمد کے لیے پوری لگن سے کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انتہائی غربت سمیت ہر طرح کی غربت کا خاتمہ دنیا کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے اور پائیدار ترقی کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ ہم مزید اعادہ کرتے ہیں کہ 2030 کے ایجنڈے کو اختراعی، مربوط، ماحول دوست، کھلے اور مشترکہ انداز میں فروغ دینا اہمیت کا حامل ہے۔ ہم 2030 کے بعد پائیدار ترقی کے لیے عالمی ایجنڈے کی تشکیل میں برکس ممالک کے قریبی تعاون اور ٹھوس کردار کے بھی منتظر ہیں۔
  12. موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہم مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے کوششیں تیز کرنے کی اپیل کرتے ہیں، تاکہ قومی سطح پر طے شدہ شراکتوں (این ڈی سیز) پر عمل درآمد کیا جا سکے، تخفیف اور موافقت کے اقدامات کو مضبوط بنایا جا سکے اور منصفانہ منتقلی کے راستوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کا مقصد، جہاں قابلِ اطلاق ہو، اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی) کے مقاصد اور پیرس معاہدے کے اہداف کا حصول ہے، جبکہ مختلف قومی حالات کے تناظر میں مساوات اور مشترکہ مگر مختلف نوعیت کی ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں کے اصول کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ موافقت کے لیے ترقی پذیر ممالک کو باہمی طور پر طے شدہ شرائط کے تحت اضافی، مناسب، قابلِ پیش گوئی اور قابلِ رسائی مالی وسائل، صلاحیت سازی میں معاونت اور ٹیکنالوجی کی ترقی و منتقلی کو یقینی بنائیں۔
  13. ہم مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجیز (آئی سی ٹیز) سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی تبدیلی لانے کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا احترام کرتے ہوئے اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجیز کے ماحول کے کھلے، محفوظ، مستحکم، منصفانہ طور پر قابلِ رسائی، پُرامن اور باہم قابلِ استعمال ہونے کو یقینی بنایا جائے اور ان کے استعمال و ترقی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
  14. ہمیں اعتراف ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سب کے لیے اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کو تحریک دینے کے وسیع امکانات رکھتی ہے۔ ہم قومی ترجیحات اور قابلِ اطلاق قوانین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے وسائل، صلاحیت سازی، علم اور مواقع تک منصفانہ رسائی کو بہتر بنانے میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کی محفوظ، قابلِ اعتماد، جامع اور بھروسا مند ترقی و استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں توانائی کی کارکردگی کو فروغ دینا، مصنوعی ذہانت سے متعلق سائنس اور اختراع کو آگے بڑھانا، اقتصادی ترقی اور سماجی بہبود کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنا اور اس کے ممکنہ خطرات کو کم کرنا تمام ممالک، بالخصوص عالمی جنوب کے ممالک، کے لیے منصفانہ، عادلانہ، مساوی اور خوش حال مستقبل کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر ہوگا۔ ہم ذاتی معلومات کے تحفظ اور رازداری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مضبوط قومی تکنیکی نظام تشکیل دے کر برکس کے رکن ممالک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
  15. ہم پارلیمانی امور کو مضبوط بنانے، جس میں پارلیمانی تحقیق، تجزیے، عوامی رابطے، شہریوں کے ساتھ تعامل اور ان کی آرا و تجاویز حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حل شامل ہیں، ان کے استعمال کے نمایاں امکانات کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔ ہم برکس کی پارلیمان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت سے لیس ذرائع کے استعمال سے متعلق کامیاب مثالوں اور بہترین طریقوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کریں، تاکہ قانون ساز ادارے جدت طرازی کر سکیں اور تکنیکی ترقی کے فوائد سے منصفانہ طور پر مستفید ہو سکیں۔
  16. ہم سب کے لیے ہمہ گیر اور بامعنی رابطے کے حصول کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور اقتصادی ترقی، سماجی شمولیت، عوامی خدمات کی بہتر فراہمی، نیز استحکام اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے سمیت ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تنصیب میں سہولت فراہم کرنے کی غرض سے مشترکہ کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں، ہم برکس ممالک کے لیے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے ذخیرۂ معلومات اور ان ممالک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے حل پر مبنی آزمائشی منصوبے شروع کرنے کی تجویز کا بھی اعادہ کرتے ہیں۔
  17. ہم وسیع تر مشاورت، مشترکہ تعاون اور مشترکہ فوائد کے جذبے کے تحت زیادہ منصفانہ، مساوی، مستعد، مؤثر، کارآمد، جواب دہ، نمائندہ، جائز، جمہوری اور جواب دہ بین الاقوامی و کثیرالجہتی نظام کو فروغ دے کر عالمی نظم و نسق میں اصلاحات لانے کے اپنے عزم کی توثیق کرتے ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ کثیر قطبیت اور کثیرجہتی، ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک (ای ایم ڈی سیز) کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور ایسی اقتصادی عالمگیریت و تعاون سے مستفید ہونے کے مواقع بڑھا سکتے ہیں جو عالمی سطح پر مفید، جامع، پائیدار اور منصفانہ ہوں۔ ہم مثبت تبدیلی کے محرک کے طور پر عالمی جنوب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور رضاکارانہ ترقیاتی تعاون اور صلاحیت سازی سمیت، اس کے خدشات اور ترجیحات کو اجاگر کرنے میں برکس کے کردار کی توثیق کرتے ہیں۔
  18. ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پارلیمانی سفارت کاری، بین پارلیمانی مکالمے اور تعاون، رکن پارلیمانوں کے متعلقہ آئینی اختیارات اور دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے، زیادہ نمائندہ اور جامع عالمی نظم و نسق کا ڈھانچہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
  1. ہم کثیرجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، جس میں اقوام متحدہ کے منشور میں درج مقاصد اور اصول بھی شامل ہیں، جو اس نظام کی ناگزیر بنیاد ہیں۔ ہم ایک ایسے بین الاقوامی نظام میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہیں، جہاں خودمختارممالک بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے، پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے، سب کے لیے جمہوریت، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ اور تحفظ کو یقینی بنانے اور یکجہتی، باہمی احترام، انصاف اور خودمختار مساوات کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کر۔ اس دوران قومی حالات، قومی نظام کے تنوع اور ترقی کی مختلف راہوں کا احترام کیا جاتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت ملکوں کی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے، تاکہ باہمی مفاد پر مبنی تعاون کی بنیاد پر عالمی برادری کے لیے ایک روشن مشترکہ مستقبل تعمیر کیا جا سکے۔
  2.  ہم موجودہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے نظام میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں، جس کے لیے کثیرجہتی نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ہم اقوام متحدہ، بشمول اقوام متحدہ سلامتی کونسل، میں جامع اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں۔ ان اصلاحات کے ذریعے اقوام متحدہ کو زیادہ منصفانہ، مساوی، جمہوری، نمائندہ، مؤثر اور کارآمد بنایا جانا چاہیے، تاکہ وہ موجودہ حقائق اور عالمی برادری کی ضروریات کی بہتر عکاسی کر سکے۔ اس سلسلے میں ہم برکس نئی دہلی اعلامیہ 2026 کے پیراگراف 13 میں درج بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
  3.  ہم بین الاقوامی انسانی قانون کی تمام خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، جن میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے، بشمول برکس کے رکن ممالک میں، پر دانستہ حملے، انسانی امداد تک رسائی سے انکار یا اس میں رکاوٹ ڈالنا اور انسانی امداد کے عملے کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ہم برکس نئی دہلی اعلامیہ 2026 کے پیراگراف 29 کا نوٹس لیتے ہیں۔ ہم بین الاقوامی انسانی قانون کی تمام خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ہم بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام، اس کی پابندی اور مؤثر نفاذ کو فروغ دینے کے لیے برکس کے رکن ممالک کی جانب سے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کا اعتراف کرتے ہیں۔
  4. ہم مشرقِ وسطیٰ/مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے اپنے قومی مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل برتنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہیں جو صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم زور دیتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے منشور کے تمام مقاصد اور اصولوں، ان کے باہمی تعلق  کے  مطابق شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جائے، جس میں  ملکوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بھی شامل ہے۔ ہم خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے قیام میں معاون طویل مدتی مفاہمت کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے کوششیں تیز کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہم قابلِ اطلاق بین الاقوامی قانون کے مطابق عالمی تجارت، سپلائی چین اور توانائی کی بلا رکاوٹ  فراہمی  برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
  5. ہم یکطرفہ جبری اقدامات کی مذمت کرتے ہیں جو بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں۔ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ایسے اقدامات، جن میں یکطرفہ اقتصادی پابندیاں اور ثانوی پابندیاں بھی شامل ہیں، ہدف بنائے گئے ملکوں  کی عام آبادی کے انسانی حقوق، بشمول ترقی کے حق، صحت اور غذائی تحفظ پر دور رس منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ہم ایسے غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
  6. ہم دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، کیونکہ یہ مجرمانہ اور ناقابل جواز ہیں، خواہ ان کے محرکات کچھ بھی ہوں اور انہیں کبھی بھی، کہیں بھی اور کسی کے ذریعے بھی انجام دیا گیا ہو۔ ہم 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جس میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ہم دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جدوجہد کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، جس میں سرحد پار دہشت گردوں کی نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد اور ان کی معاونت کرنے والوں کو متعلقہ قومی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ ہم دہشت گردی کو بالکل بھی برداشت نہ کرنے کی پالیسی یقینی بنانے کی اپیل کرتے ہیں اور دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی بنیادی ذمہ داری ملکوں پر عائد ہوتی ہے اور دہشت گردانہ خطرات کی روک تھام اور ان کا مقابلہ کرنے کی عالمی کوششوں میں بین الاقوامی قانون کے تحت ان کی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کی جانی چاہیے۔ ان میں اقوام متحدہ کے منشور، بالخصوص اس کے مقاصد اور اصولوں، متعلقہ بین الاقوامی کنونشنوں اور ضوابط، خصوصاً بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزین قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی  پاسداری  شامل ہے، جہاں ان کا اطلاق ہوتا ہو۔ ہم برکس انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی، برکس انسدادِ دہشت گردی ایکشن پلان اور انسدادِ دہشت گردی ورکنگ گروپ کے مؤقف سے متعلق دستاویز کی بنیاد پر برکس انسدادِ دہشت گردی ورکنگ گروپ(سی ٹی ڈبلیو جی)اور اس کے پانچ ذیلی گروپوں کی سرگرمیوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے  کے منتظر ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کے دائرۂ کار میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جامع کنونشن کو جلد حتمی شکل دینے اور اسے منظور کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد تمام دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مربوط کارروائیوں پر زور دیتے ہیں۔
  7. ہم دو مملکتی حل کی بنیاد پر اسرائیل-فلسطین تنازع کے پُرامن حل کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، جس کے تحت دونوں ریاستیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق امن و سلامتی کے ساتھ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہیں۔ ہم فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کے حق کی توثیق کرتے ہیں۔
  8.  ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مؤثر بین پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تربیت اور صلاحیت سازی نہایت اہم ہیں۔ لہٰذا، ہم صلاحیتوں کو فروغ دینے اور پیشہ ورانہ روابط استوار کرنے کے لیے ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے تکنیکی و قانون ساز مشیروں کے درمیان تجربات کے تبادلے، علم کی شراکت اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
  9. ہم 11 جولائی 2024 کو برکس پارلیمانی فورم سے متعلق مفاہمت نامے کے  پروٹوکول کے پیراگراف 8 کے مطابق، کھیلوں کے شعبے میں برکس کا بین پارلیمانی ورکنگ گروپ قائم کرنے کی روس کی تجویز پر غور کرنے کے حوالے سے نوٹس لیتے ہیں۔ یہ گروپ قومی قوانین اور ترجیحات کے مطابق کھیلوں اور جسمانی تعلیم کے شعبے میں تجربات اور بہترین طریقۂ کار کے رضاکارانہ تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔
  10.  برکس خواتین ارکانِ پارلیمنٹ فورم کے دس سال مکمل ہونے کے  موقع پر ہم 2016 کے جے پور اعلامیے کو یاد کرتے ہیں، جس میں زیادہ جامع بین پارلیمانی مشاورت کو فروغ دینے کے لیے اس اجلاس کو سالانہ تقریب کے طور پر ادارہ جاتی شکل دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ ہم برکس کی پارلیمانوں کی بین الاقوامی امور سے متعلق کمیٹیوں کے چیئرپرسنز کی میٹنگوں  کے ذریعے بین پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کیونکہ یہ باہمی افہام و تفہیم کو گہرا کرنے اور تجربات و قانون سازی کے بہترین طریقۂ کار کے تبادلے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
  11.  ہم 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی کامیاب میزبانی پر بھارت کی پارلیمنٹ کو مبارکباد دیتے ہیں اور پارلیمنٹ اور  بھارت کے عوام کی  جانب  پُرتپاک میزبانی کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
  12.  ہم 2027 میں عوامی جمہوریہ چین کی برکس صدارت کے تحت دوبارہ اجلاس منعقد ہونے کے منتظر ہیں۔

**

(ش ح۔ع و۔ م ع۔ م  ا۔م ذ)

U N-6780


(ریلیز آئی ڈی: 2329118) وزیٹر کاؤنٹر : 5