سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو 2026 کا افتتاح کیا


سائنسی برادری، محققین اور نوجوان اختراع کاروں سے ٹھوس، قابلِ پیمائش اور وسیع پیمانے پر قابلِ عمل تکنیکی نتائج پیش کرنے کی اپیل

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر بھارت کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھرنے کو اجاگر کیا اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبے میں صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا

پروفیسر اجے کے سُود نے ای ایس ٹی آئی سی  کے 12 ترجیحی شعبوں میں تحقیق، صنعت اور پالیسی کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا

نوبل انعام یافتگان جو آچم فرینک اور رچرڈ رابرٹس نے ای ایس ٹی آئی سی  2026 میں ساختی حیاتیات اور علومِ حیات کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر اظہارِ خیال کیا

متوازی اجلاسوں میں جدید مینوفیکچرنگ، جنریٹیو اور خود مختار مصنوعی ذہانت  نیز نظامی اور مصنوعی حیاتیات کے موضوعات پر غور و خوض کیا گیا

ای ایس ٹی آئی سی  2026 نے سائنس پر مبنی اختراعات کو فروغ دینے کے لیے تحقیق، صنعت اور پالیسی کے شعبوں سے وابستہ رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 10:01AM by PIB Delhi

ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو(ای ایس ٹی آئی سی) 2026 کے افتتاحی روز 27 اکتوبر کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں دنیا بھر سے 5,000 سے زائد مندوبین جمع ہوئے، جن میں سائنسی شعبے کی سرکردہ شخصیات، پالیسی ساز اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرگرم اسٹارٹ اَپس شامل تھے۔ دن بھر کے پروگرام میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے قومی رہنماؤں کے خطابات، نوبل انعام یافتگان کے دو مکمل اجلاس، تین متوازی تکنیکی اجلاس، اسٹارٹ اَپس کی نمائش، تحقیقی پوسٹروں کی پیش کش، شام میں ایک پینل مباحثہ اور افتتاحی اجلاس شامل تھے۔ ان تمام سرگرمیوں میں بنیادی تحقیق کو صنعتی سطح پر وسعت دینے، اسے عوامی مفاد سے جوڑنے اور ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے پر توجہ مرکوز رہی جو بھارت کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی فلاح و بہبود میں بھی معاون ثابت ہوں۔

افتتاحی خطاب میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے سائنسی برادری، محققین اور نوجوان اختراع کاروں سے اپیل کی کہ وہ تین سال کی عملی مدت کے اندر ٹھوس، قابلِ پیمائش اور وسیع پیمانے پر قابلِ عمل تکنیکی نتائج پیش کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی کامیابیاں تجربہ گاہوں تک محدود رہنے کے بجائے حقیقی زندگی کے مسائل حل کرنے، آتم نربھر بھارت کے تصور کے تحت ملک کو خود کفیل بنانے اور انسانی فلاح و بہبود کو آگے بڑھانے میں معاون ہونی چاہئیں۔ اس خطاب میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجیز، جدید مادّوں اور بایو ٹیکنالوجی سمیت جدید ترین سائنسی شعبوں میں عالمی معیار قائم کرنے کے بھارت کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی نیز ارضیاتی سائنسز (آزادانہ چارج) کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت کے رول میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب ٹیکنالوجیز کے محض استعمال کنندہ سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار، جدید ترین سائنسی حل مشترکہ طور پر تیار کرنے والے عالمی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے ملک کے اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کی توسیع کو نمایاں کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 میں اسٹارٹ اَپس کی تعداد تقریباً 400 تھی، جو آج بڑھ کر 2.3 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ان میں سے اندازاً 50 سے 60 فیصد اسٹارٹ اَپس درجۂ دوم اور درجۂ سوم کے شہروں میں قائم ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری سرگرمیاں اب وسیع تر علاقوں تک پھیل رہی ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے جینیاتی اور ظاہری حیاتیاتی تنوع کو بایو ٹیکنالوجی کے لیے ایک اہم وسیلہ قرار دیتے ہوئے جین کی ترکیب، نظامی حیاتیات اور نیوکلیائی طب کے شعبوں میں ملکی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ان شعبوں میں کام کو تیز کرنے کے تناظر میں حالیہ قانون سازی کی اصلاحات سمیت شانتی ایکٹ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے خطاب میں مقامی تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور بھارت کی سائنسی قوتوں کو عملی اطلاقات میں ڈھالنے کو ملک کے بایو ٹیکنالوجی نظام کی اہم ترجیحات قرار دیا گیا۔

حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کے سُود نے بنیادی سائنسی تحقیق، صنعتی سطح پر توسیع اور ضابطہ جاتی پالیسی کے درمیان قریبی تال میل کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ای ایس ٹی آئی سی  کے 12 بنیادی ترجیحی موضوعاتی شعبوں کا خاکہ پیش کیا اور کوانٹم مواصلات، جنریٹیو اور خود مختار مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر کی تیاری، جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیپ اوشن مشن جیسے شعبوں کی نشاندہی کی۔ ان کے خطاب میں اس کانکلیو کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا، جو تحقیق کو ان اداروں، صنعتی صلاحیتوں اور پالیسی فریم ورک سے جوڑتا ہے جو ملک کی خود مختار صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر  جو آچم فرینک، جنہیں 2017 میں کیمیا کے شعبے میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا، نے ہدف کی شناخت اور ادویات کی تیاری میں کرائیو الیکٹران مائیکروسکوپی (کرائیو-ای ایم) کے استعمال پر ایک مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ ان کی پیش کش میں اعلیٰ ریزولیوشن کے ساتھ انفرادی ذرات کی کرائیو الیکٹران مائیکروسکوپی اور بڑے سالماتی کمپلیکس کی سہ جہتی منظر نگاری میں استعمال ہونے والے کمپیوٹیشنل اور ریاضیاتی طریقۂ کار کا احاطہ کیا گیا۔ اس اجلاس میں بتایا گیا کہ ان کمپلیکس سے متعلق ساختی معلومات سائنسی اصولوں پر مبنی ادویات کی تیاری کے مراحل میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں اور محققین کو حیاتیاتی اہداف کا مطالعہ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

1993 میں فزیالوجی یا طب کے شعبے میں نوبل انعام حاصل کرنے والے رچرڈ جے رابرٹس نے جینز کی منقسم ساخت اور علومِ حیات کے نئے امکانات پر ایک الگ مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ ان کے خطاب میں جین کی اسپلائسنگ کے بنیادی طریقۂ کار، جرثومی جینومکس اور ریسٹرکشن-موڈیفیکیشن انزائمز کا احاطہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پائیدار زراعت، صحتِ عامہ اور تشخیص سے متعلق بایو ٹیکنالوجی کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا، جس میں علومِ حیات میں ہونے والی پیش رفت کو غذائی نظام اور صحت کی دیکھ بھال میں اس کے عملی استعمال سے مربوط کیا گیا۔

اس سے قبل ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسٹارٹ اَپ نمائش اور تحقیقی پوسٹروں کی پیش کش کا افتتاح کیا۔ اس نمائش میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تحقیق و ترقی کے مظاہرے، اسٹارٹ اَپس کے تیار کردہ ابتدائی نمونے اور پوسٹروں کے ذریعے تعاملی پیش کشیں شامل تھیں۔ اس نے صنعت سے وابستہ افراد، سرمایہ کاروں، علمی و تحقیقی شعبے کے ماہرین اور پالیسی سازوں کو کانکلیو کے ترجیحی شعبوں میں ہونے والی تحقیق اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا۔

جدید مینوفیکچرنگ کے اجلاس کی صدارت سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محترمہ این کلیسلیوی نے کی، جبکہ دفاعی تحقیق و ترقی کا ادارہ (ڈی آر ڈی او) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر جی۔ ستیش ریڈی نے کلیدی خطاب کیا۔ اجلاس کے مقررین میں جناب رجت ورما، محترمہ چھایا ننجپا، ڈاکٹر این۔ سی۔ مرمو، ڈاکٹر سی۔ آنندھارام کرشنن اور ڈاکٹر ناگاہنو مَیا شامل تھے۔ اجلاس میں ڈیجیٹل ٹوئنز، باہمی تعاون کرنے والے روبوٹس، ایڈیٹو مینوفیکچرنگ اور پیمائش و معیارات کے نظام کو عملی طور پر نافذ کرنے نیز بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے سپلائی چین کو مستحکم بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان موضوعات کے ذریعے اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ جدید مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں تحقیق اور انجینئرنگ کو صنعتی پیداوار سے کس طرح جوڑ سکتی ہیں اور ملک کے اندر مینوفیکچرنگ کی بنیاد کو کس طرح مضبوط بنا سکتی ہیں۔

جنریٹیو اور خود مختار مصنوعی ذہانت  کے اجلاس کی صدارت انڈیا اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب سوربھ وجے نے کی، جبکہ آئی آئی ٹی مدراس کے پروفیسر متیش ایم۔ کھپرا نے کلیدی خطاب کیا۔ اجلاس میں اہم مقررین کی حیثیت سے پروفیسر چیتن اروڑہ، ڈاکٹر الپن راول، پروفیسر بالارمن رویندرن اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری جناب ایس۔ کرشنن نے شرکت کی۔ تبادلۂ خیال کے اہم موضوعات میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے بڑے لسانی ماڈلز، انڈیا اے آئی کے تحت اعلیٰ کارکردگی کی حامل کمپیوٹنگ تک رسائی، ایجنٹک مصنوعی ذہانت اور محفوظ استعمال کے لیے لائحۂ عمل شامل تھے۔ اس اجلاس میں ملک کے اندر مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ان ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے درکار شرائط پر غور کیا گیا۔

نظامی اور مصنوعی حیاتیات کے اجلاس میں انجینئرنگ کے ذریعے تیار کیے گئے حیاتیاتی نظاموں اور قومی حکمتِ عملی بایو ای تھری  پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کا بنیادی خاکہ حیاتیاتی ڈیزائن کے لیے ’’سمجھنا، ڈیزائن کرنا، تیار کرنا، جانچنا اور سیکھنا‘‘ کے دوری عمل پر مبنی تھا۔ اجلاس میں درست ہدف پر اثر انداز ہونے والے حیاتیاتی علاج، میٹابولک راستوں کے ڈیزائن، غذائیت سے بھرپور فصلوں اور فضلے کو مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے والی بایو مینوفیکچرنگ کو اس کے اہم اطلاقی شعبوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان موضوعات کے مجموعے نے مصنوعی حیاتیات کو حیاتیاتی نظاموں کو سمجھنے سے لے کر صحت، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں عملی استعمال کے لیے ان کے ڈیزائن اور جانچ تک پہنچنے کا ایک ذریعہ قرار دیا۔

شام کے پینل مباحثے ’’آتم نربھر بھارت کے لیے سائنس اور انقلابی ٹیکنالوجیز‘‘ کی صدارت پروفیسر اجے کے۔ سُود نے کی۔ پینل میں ڈاکٹر ٹیسی تھامس، جنرل این۔ ایس۔ راجا سبرامنیم، پروفیسر بھانو پی۔ جینا، ڈاکٹر سمیر سرن اور پروفیسر وی۔ کے۔ سنگھ شامل تھے۔ مباحثے میں دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری، دانشورانہ ملکیت کو تجارتی سطح پر بروئے کار لانے، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں کے لیے مالی وسائل اور مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے طریقۂ کار پر غور کیا گیا۔ ان موضوعات کے ذریعے تحقیقی نتائج کو عملی شکل دینے، اسٹریٹجک صلاحیتوں کو مستحکم کرنے اور تحقیقی اداروں سے صنعت تک ٹیکنالوجیز کی منتقلی سے متعلق امور کو یکجا کیا گیا۔

ای ایس ٹی آئی سی  2026 کا انعقاد 12 ترجیحی موضوعاتی شعبوں کے تحت کیا گیا ہے، جس میں محققین، حکومت، صنعت اور اسٹارٹ اَپس کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے۔ پہلے دن کی کارروائی میں بنیادی سائنس کو جدید مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت اور انجینئرنگ کے ذریعے تیار کردہ حیاتیاتی نظاموں کے عملی کام سے مربوط کیا گیا، جبکہ مکمل اجلاسوں میں ساختی حیاتیات اور علومِ حیات کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی گئی۔ پہلے دن کے اجلاسوں میں ایک لاکھ کروڑ روپے کے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن فنڈ اور اے این آر ایف (اے این آر ایف) کے طریقۂ کار کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں کی ترقی، ٹیکنالوجی کی تیاری کے مختلف مراحل سے آگے بڑھانے اور تجارتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے ذرائع کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کانکلیو کا بنیادی مقصد ان روابط کو مضبوط بنانا ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کو قومی ترقی اور وسیع تر انسانی فلاح و بہبود میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

********

 

ش ح۔ع ح۔ ت ا

U N-6800


(ریلیز آئی ڈی: 2329327) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil