وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرتعلیم جناب پرلہاد جوشی نے نئی دہلی میں سی بی ایس ای تجرباتی مرکز کا افتتاح کیا


یہ تجرباتی مرکز  اسٹوڈنٹس میں عملی تجربات کے ذریعہ سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا

جناب پرلہاد جوشی نے کہا کہ 2047 تک ترقی یافتہ  ہندوستان کے ویژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے  اسٹوڈنٹس میں تجسس، تخلیقی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کو فروغ دینا ضروری ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 OCT 2026 8:30PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرتعلیم جناب پرلہاد جوشی نے آج نئی دہلی کے دوارکا میں واقع سی بی ایس ای انٹیگریٹڈ کمپلیکس میں سی بی ایس ای تجرباتی مرکز (سی بی ایس ای ایکسپیرینس سینٹر) کا افتتاح کیا۔سی بی ایس ای کے صدر دفتر میں قائم یہ مرکز  اسٹوڈنٹس کو درسی کتابوں سے آگے بڑھ کر سیکھنے کا ایک منفرد اور مؤثر ماحول فراہم کرتا ہے۔ یہاں  اسٹوڈنٹس کو تعلیمی نظام کے ارتقا کو سمجھنے، جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے واقف ہونے اور مستقبل میں کریئر کے مختلف مواقع کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261027203137_30d45a.jpg

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب پرلہاد جوشی نے رٹ کر یاد کرنے اور امتحانات میں زیادہ نمبر حاصل کرنے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کے بجائے ایسے تعلیمی نظام کی جانب پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا جو  اسٹوڈنٹس کی انفرادی دلچسپیوں، صلاحیتوں اور سیکھنے کی استعداد کو تسلیم کرے۔انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ تعلیم کا دائرہ درسی کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ طلبہ کو تصورات کو سمجھنے، اپنے علم کو عملی طور پر بروئے کار لانے اور حقیقی زندگی کے تجربات کے ذریعہ خود اعتمادی پیدا کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261027203150_c4214f.jpg

وزیر موصوف نے کہا کہ سی بی ایس ای تجرباتی مرکز قومی تعلیمی پالیسی(این ای پی)- 2020 کے مقاصد کی عکاسی کرتا ہے، جس میں تجرباتی اور جامع تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات  اسٹوڈنٹس میں تجسس کو پروان چڑھانے، آزادانہ سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں زیادہ خود اعتمادی کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

عملی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے زور دیا کہ  اسٹوڈنٹس کو صرف سائنسی تصورات کا مطالعہ ہی نہیں کرنا چاہیے، بلکہ انہیں مشاہدے، تجربات اور عملی سرگرمیوں کے ذریعہ سمجھنا بھی چاہیے۔ اختراع اور سائنسی مزاج کو فروغ دینے میں اٹل ٹنکرنگ لیبز کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 10,000 اٹل ٹنکرنگ لیبز پہلے ہی کام کر رہی ہیں، جبکہ حکومت نے مزید50,000 لیبز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261027203205_c77a64.jpg

جناب پرلہاد جوشی نے کہا کہ تعلیم کا مقصد نوجوانوں کو ایسا علم، ہنر اور اقدار فراہم کرنا ہونا چاہیے، جو انہیں معاشرے اور ملک کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔ ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور اختراع کے شعبوں میں  ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بدلتی ہوئی عالمی افرادی قوت کی ضروریات کے مطابق  اسٹوڈنٹس کو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔حال ہی میں شروع کیے گئے ‘سیوا فرسٹ انوویشن چیلنج’(ایس ایف آئی سی) کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ عملی تجربات اور مسائل کے حل کے مواقع فراہم کرکے نئی نسل کے اختراع کاروں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261027203219_c1b612.jpg

وزیر موصوف نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ تجرباتی مرکز اسکولی تعلیم کو مزید دلچسپ، عملی اور  اسٹوڈنٹس کی ضروریات پر مبنی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ  اسٹوڈنٹس میں تجسس، تخلیقی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کو فروغ دینا ضروری ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کو 2047 تک ترقی یافتہ  ہندوستان کے وژین کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جا سکے۔

سی بی ایس ای تجرباتی مرکز زائرین کو  ہندوستان میں تعلیم کے بدلتے ہوئے منظرنامے سے روشناس کرائے گا۔ یہ مرکز قدیم تعلیمی روایات کو جدید طریقۂ تعلیم اور مستقبل میں کریئر کے نئے مواقع سے مربوط کرتا ہے۔ مرکز میں6,000 مربع فٹ کے رقبہ پر 12 وسیع زونز اور 21 نمائشیں قائم کی گئی ہیں۔ آر ایف آئی ڈی  سے لیس اسمارٹ کارڈز کے ذریعے زائرین نمائشوں کے ساتھ تعامل کر سکیں گے، مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے اور اپنے لیے مخصوص معلوماتی مواد اور کھیلوں پر مبنی لیڈر بورڈز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

مرکز میں تعلیمی سفر کا آغاز ‘شکشا کی کہانی’نامی فلم سے ہوتا ہے، جس میں دریائے سرسوتی کی نمائندگی کرنے والی ایک فرضی آواز کے ذریعے کہانی بیان کی گئی ہے۔ یہ فلم  ہندوستان میں علم اور تعلیم کے ارتقا کا جائزہ پیش کرتی ہے، جس میں قدیم گروکل نظام اور نالندہ جیسے تاریخی تعلیمی مراکز سے لے کر جدید اسکولوں اور ڈجیٹل کلاس رومز تک کا سفر دکھایا گیا ہے۔ اس میں آج کے  طلبا و طالبات کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ وہ اس ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے  وکست بھارت کے ویژن کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

ایک خصوصی سیکشن میں تاریخی تصاویر اور محفوظ شدہ دستاویزات کے ذریعے سی بی ایس ای کے ارتقا کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں1935 کے ریکارڈ بھی شامل ہیں، جو اسکولی تعلیمی نظام کی ترقی میں بورڈ کے کردار کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز میں  طلبا و طالبات کو زمین کی تاریخ سے متعارف کرانے کے لیے ایک بصری اور انٹرایکٹیو ارضیاتی ٹائم لائن بھی موجود ہے، جو لاکھوں سال پر محیط ارتقائی مراحل کو بیان کرتی ہے۔

یہ مرکز  طلبا و طالبات کو کریئر کے مختلف امکانات تلاش کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔‘کیریئر ایکسپلورر’)، ‘فیوچر آف پروفیشنز’ اور ‘میجک مرر: فیوچریو’ جیسی انٹرایکٹیو نمائشوں کے ذریعے یہاں آنے والے کریئر کے مختلف راستوں کو جان سکیں گے اور سمجھ سکیں گے کہ آنے والے برسوں میں کام کی نوعیت کس طرح تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس تجربے میں ممتاز شخصیات، بشمول ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، کے ساتھ ہولوگرافک انداز میں تعامل کی سہولت بھی شامل ہے۔

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی کتاب ‘ایگزام واریئرز’ کے لیے ایک مخصوص کیوسک بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا مقصد طلبا و طالبات کو امتحانات کے حوالے سے ایک صحت مند اور مثبت طرز فکر اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔ اس میں خود اعتمادی، ذہنی دباؤ سے نمٹنے اور مثبت رویہ اختیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

 سینٹر کا آخری تجربہ ‘ایڈیوورس’کہلاتا ہے، جس میں حرکت پر مبنی تعامل اور متعدد حسی عناصر کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے  یہاں آنے والوں  کو جنگلات، سمندروں اور ہمالیہ کے قدرتی مناظر سے لے کر چاند اور دیگر سیاروں تک کے مختلف ماحول کی سیر کرائی جائے گی۔ یہ سفر بالآخر زمین پر واپس آتا ہے اور ایک سادہ مگر اہم پیغام دیتا ہے کہ قدرتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر انسان اس زندہ سیارے کا حصہ ہے۔

****

ش ح-ظ الف- ع ن

UR No. 6809


(ریلیز آئی ڈی: 2329350) وزیٹر کاؤنٹر : 7