پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 9:33PM by PIB Delhi
انتیس ویں انرجی ٹیکنالوجی میٹ (ای ٹی ایم-2026) کا افتتاح آج گوا میں واقع او این جی سی ایڈوانسڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں مرکزی وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی گیس جناب ہردیپ سنگھ پوری نے کیا۔ تین روزہ اس تقریب میں پالیسی ساز، صنعتی شعبے کے رہنما، محققین، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اور توانائی کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں، جہاں ہندوستان کے توانائی کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والی اختراعات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
اس میٹ کا اہتمام حکومت ہند کی وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس کے تحت سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی(سی ایچ ٹی) نے کیا ہے، جبکہ ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈّایچ پی سی ایل) اس کی شریک میزبان ہے۔ اس سال کی تقریب کا موضوع ‘توانائی کے شعبہ میں اختراع کو تیز کرنا: تحقیق سے تجارتی استعمال تک’ ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد توانائی کی پوری ویلیو چین میں تعاون کو مضبوط بنانا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور انہیں تجارتی طور پر اپنانے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
یہ اب تک کا سب سے بڑا انرجی ٹیکنالوجی میٹ ہے، جس میں2,500 سے زائد مندوبین250 سے زیادہ مقررین،44 تکنیکی اجلاس اور 220 سے زائد نمائشی اسٹالز شامل ہیں۔
تقریب کے دوران ایک خصوصی غیر رسمی مکالمہ میں جناب ہردیپ سنگھ پوری نے اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود ہندوستان نے صارفین کو اس بحران کے مکمل اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کس طرح اقدامات کیے۔ انہوں نے ملکی پیداوار، متبادل ذرائع سے درآمدات اور آخری مرحلہ تک ایندھن کی فراہمی کے حوالہ سے بیک وقت اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل پی جی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
اس گفتگو میں تیل و گیس کے سرکاری شعبہ کے اداروں، ریفائنریوں اور تقسیم کے نیٹ ورکس کے درمیان باہمی رابطہ کاری کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس نے ضروری ایندھن کی فراہمی کو بلاتعطل برقرار رکھنے میں مدد دی۔

اس گفتگو میں متنوع ذرائع سے توانائی کی فراہمی، ملکی پیداوار میں اضافے اور ایندھن کے وسیع تر امتزاج کے ذریعہ ہندوستان کی طویل مدتی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ وزیر موصوف نے کمپریسڈ بایو گیس(سی بی جی) کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے زرعی باقیات اور نامیاتی فضلے کو توانائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے کسانوں اور دیہی برادریوں کے لیے اضافی اقتصادی فوائد بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ پائیدار ایوی ایشن فیول اور نئی نسل کے دیگر حیاتیاتی ایندھن کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس ضمن میں ملکی تحقیق کو مضبوط بنانے، اسٹارٹ اپس کی معاونت کرنے اور ہندوستانی ٹیکنالوجیز کو ترقی اور آزمائشی مراحل سے نکال کر تجارتی استعمال تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیر موصوف نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے حوالہ سے ہندوستان کے ردعمل اور ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنے میں تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں(او ایم سیز) کے کردار پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ان کمپنیوں نے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران مؤثر حکمت عملی اپنائی اور ضروری ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ریفائنریوں، سپلائی نیٹ ورکس اور تقسیم کے ذرائع کے درمیان رابطہ کاری کی۔ گفتگو میں ملکی ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے، درآمدات کے ذرائع متنوع بنانے اور عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات سے صارفین کو محفوظ رکھنے کے اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیر موصوف نے زور دیا کہ ہندوستان کی جانب سے توانائی کی خریداری اور حصول سے متعلق فیصلے قومی مفادات اور توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایک لاکھ سے زیادہ رٹیل آؤٹ لیٹس( آر اوز) موجود ہیں، لیکن حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایک بھی رٹیل آؤٹ لیٹ پر ایندھن کی فراہمی بند نہ ہو۔
گفتگو میں ملکی پیداوار میں اضافے اور توانائی کے متنوع امتزاج کے ذریعے طویل مدتی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس میں کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کی صلاحیت، پائیدار ایوی ایشن فیول اور نئی نسل کے حیاتیاتی ایندھن کے امکانات، نیز مقامی توانائی ٹیکنالوجیز کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہندوستان کے تحقیق و ترقی کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت شامل تھی۔
اس تقریب میں ایک اہم اعلان تفصیلی مشاورت کے بعد قومی تیل و گیس تحقیق و ترقی ویژن(این او جی آر اینڈ ڈی ویژن) تیار کرنے سے متعلق کیا گیا۔ اس ویژن پر عمل درآمد میں معاونت کے لیے حکومت نیشنل ہائیڈروکاربن ٹیکنالوجی ہب(این ایچ ٹی ایچ) قائم کر رہی ہے۔ یہ ایک وسیع تر ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہوگا، جس کا مقصد تیل و گیس کے پورے شعبے میں تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔
_20261027213426_92e9c7.jpeg)
نیشنل ہائیڈروکاربن ٹیکنالوجی ہب(این ایچ ٹی ایچ) میں موجودہ سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی( سی ایچ ٹی) کو ضم کر دیا جائے گا اور اسے وسیع تر ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ یہ ادارہ مرکزی سرکاری شعبہ کے اداروں، نجی شعبہ کے تحقیق و ترقی کے مراکز، اسٹارٹ اپس، مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز)، تعلیمی اداروں، مراکزامتیاز اور تحقیقی اداروں کو مشترکہ قومی ترجیحات کے تحت یکجا کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد باہمی رابطہ کاری کو مضبوط بنانا، تحقیق میں غیر ضروری تکرار کو کم کرنا اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل مقامی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور عملی نفاذ کو تیز کرنا ہے۔ اس طرح ‘ایک ویژن، ایک ایکو سسٹم’ کے تصور کے تحت توانائی کے شعبے میں تحقیق کا ایک زیادہ مربوط نظام تشکیل دیا جائے گا۔
وزیر موصوف نے نمائش کا بھی دورہ کیا، جہاں ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں، پروسیس لائسنس فراہم کرنے والے اداروں، انجینئرنگ کمپنیوں اور توانائی کے شعبہ سے وابستہ اداروں نے ہائیڈروکاربن کے ڈاؤن اسٹریم شعبہ کے لیے اپنی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور حل پیش کیے۔ اس نمائش نے متعلقہ فریقوں کو تکنیکی ترقیات کا مظاہرہ کرنے، علم کے تبادلے اور صنعت کو درپیش نئے چیلنجز کے حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا۔
افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور ملکی توانائی کی پیداوار کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ گوبردھن(جی او بی اے آردھن)، جو قومی سرکلر بایو انرجی اسکیم ہے، کے لیے مالی سال 2026-27 سے 2035-36 تک 23,731 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد کمپریسڈ بایو گیس کی پیداوار کو وسعت دینا اور سرکلر بایو اکانومی کو فروغ دینا ہے۔
ان کوششوں کی تکمیل کے لیے‘سمندر منتھن’یعنی قومی آف شور ایکسپلوریشن اسکیم کے لیے مالی سال 2030-31 تک 84,084 کروڑ روپے کے اخراجات کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد گہرے اور انتہائی گہرے سمندری علاقوں میں تیل اور گیس کی تلاش کو فروغ دینا اور ہندوستان کی طویل مدتی توانائی سلامتی میں تعاون کرنا ہے۔
وزیر موصوف نے پریس کانفرنس کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی بات چیت کی۔ اس موقع پر ہندوستان کے توانائی کے منظرنامے سے متعلق مختلف امور پر گفتگو ہوئی، جن میں ایندھن کی دستیابی، توانائی سلامتی، توانائی کی منتقلی اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے اقدامات شامل تھے۔
مورخہ 29 اکتوبر 2026تک جاری رہنے والے انرجی ٹیکنالوجی میٹ - 2026 میں تکنیکی پریزنٹیشنز، پینل مباحثے، پوسٹر سیشنز اور نمائش شامل ہیں۔ اس کے اہم موضوعات میں گرین ہائیڈروجن، پائیدار ایوی ایشن فیول، کاربن کیپچر، خام تیل سے کیمیکلز کی تیاری، حیاتیاتی ایندھن، گیس پر مبنی توانائی، ریفائننگ ٹیکنالوجیز اور ڈجیٹلائزیشن شامل ہیں۔ اس پروگرام میں ہندوستان اور بیرون ملک سے ماہرین شرکت کر رہے ہیں، جو تحقیقی نتائج اور صنعتی تجربات کا تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ تکنیکی ترقیات کو تجارتی طور پر قابل عمل حل میں تبدیل کرنے کے مواقع تلاش کریں گے۔
پروگرام میںایم سی2 اگنائٹ، ہندوستان میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی تعمیر سے متعلق اجلاس، اور اسٹارٹ اپ ایوارڈز کے علاوہ ریفائنری کارکردگی و اختراع ایوارڈز بھی شامل ہیں۔ ان ایوارڈز کے ذریعے توانائی کی صنعت میں تکنیکی ترقی اور اختراع کو تسلیم کیا جائے گا۔
فیڈریشن آف انڈین پیٹرولیم انڈسٹری( ایف آئی پی آئی) کے زیراہتمام ایک تحقیق و ترقی کانکلیو بھی منعقد ہوگا، جس میں نیٹ زیرو ریفائنریز، توانائی کی کارکردگی، گرین ہائیڈروجن، بایوماس سے قدر افزائی، پانی کے انتظام اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر توجہ دی جائے گی۔ اس کانکلیو کا مقصد ہندوستان کے توانائی کے شعبہ میں مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا بھی ہے۔
****
ش ح-ظ الف- ع ن
UR No. 6813