پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 8:51PM by PIB Delhi
سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کے سکریٹری جناب سدھانش پنت نے آسام کے دارالحکومت گوہاٹی میں خانہ پارہ کے فارم گیٹ پر منعقدہ ’شِلپ سماگم میلے‘ کا دورہ کیا۔

سکریٹری نے میلے میں شریک دست کاروں کے اسٹالوں اور وزارت کے پویلین کا دورہ کیا اور ان کا معائنہ کیا۔

گوہاٹی میں جاری شِلپ سماگم میلہ (ایس ایس ایم) 2026 مسلسل لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے اور روایتی دست کاروں کو اپنی ہینڈلوم اور دست کاری کی مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے لیے ایک شاندار پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔

دورے کے دوران سکریٹری نے نمائش کے لیے رکھی گئی روایتی مصنوعات کی متنوع اقسام کا جائزہ لیا اور دست کاروں سے بات چیت کی۔ اس دوران انہیں دست کاروں کے ہنر، ان کی مصنوعات اور منڈی میں دستیاب مواقع کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔

انہوں نے وزارت کے پویلین کا بھی دورہ کیا، جہاں نمائشوں اور معلوماتی مواد کے ذریعے آنے والے افراد کو وزارت کی فلاحی، مالی امداد اور ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

حکومتِ ہند کی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے زیرِ اہتمام آٹھ روزہ میلے کا آغاز 21 اکتوبر کو ہوا تھا اور یہ کل، 28 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

یہ میلہ صبح 11 بجے سے رات 9 بجے تک زائرین کے لیے کھلا ہے۔ اس کے ذریعے دست کاروں کو صارفین سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے، آمدنی حاصل کرنے اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے نئے امکانات تلاش کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

گوہاٹی میں منعقد ہونے والا یہ میلہ مالی سال 2026-27 کے لیے شِلپ سماگم سیریز کا دوسرا میلہ ہے۔ اس سے قبل اس سیریز کے پہلے میلے کا کامیاب اختتام 19 اکتوبر 2026 کو کرناٹک کے میسورو میں دسہرہ نمائش گراؤنڈ میں ہوا تھا۔
اس موقع پر جناب پنت نے کہا کہ یہ پہل درج فہرست ذاتوں(ایس سیز) ، دیگر پسماندہ طبقات(او بی سیز) ، صفائی مترس اور غیر نوٹیفائیڈ قبائل (ڈی این ٹیز) سے تعلق رکھنے والے دست کاروں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ اقدام وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے، جس کی رہنمائی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے اصول سے ہوتی ہے۔

سکریٹری نے بتایا کہ گوہاٹی میلے میں 31 خواتین سمیت مجموعی طور پر 75 دست کار حصہ لے رہے ہیں، جو ہینڈلوم اور دست کاری کی تقریباً 40 اقسام کی مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نمائش میں رکھی گئی مصنوعات بھارت کی مالامال فنکارانہ روایات، مقامی ہنر اور علاقائی تنوع کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ اس میں شمال مشرقی ریاستوں اور ملک کے دیگر حصوں کے دست کار بھی شریک ہیں۔

جناب پنت نے کہا کہ یہ میلہ دست کاروں کو اپنی مصنوعات کی نمائش کرنے، صارفین کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے اور اپنی مصنوعات کے بارے میں ان کی رائے حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ میلے میں مقامی اور دیگر فنکاروں کے ثقافتی پروگرام، جن میں شمال مشرقی ریاستوں کی نمائندگی کرنے والے موسیقی اور رقص کے مظاہرے بھی شامل ہیں، اس کی کشش میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔



انہوں نے کہا کہ ان ثقافتی مظاہروں سے زائرین کو ملک کی متنوع دست کاری اور ہینڈلوم مصنوعات کے ساتھ ساتھ خطے کی ثقافتی روایات سے بھی روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان ثقافتی پروگراموں کی براہِ راست نشریات بھی کی جا رہی ہیں، تاکہ میلے کے مقام پر موجود لوگوں کے علاوہ دیگر افراد تک بھی ان کی رسائی ممکن ہو سکے۔

عہدیدار نے بتایا کہ میلے میں وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی فلاحی، مالی امداد اور ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے وزارت کا ایک مخصوص پویلین قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پویلین میں وزارت کے تحت کام کرنے والی تین قومی کارپوریشنوں کے ذریعے نافذ کی جانے والی اسکیموں اور پروگراموں کو بھی پیش کیا گیا ہے، تاکہ زائرین مستحق افراد کے لیے دستیاب امداد اور معاونت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ پویلین میں ایل ای ڈی ڈسپلے نصب کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے وزارت کی اسکیموں اور پروگراموں سے متعلق معلوماتی مواد دکھایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سماجی اور اقتصادی بااختیاری، کاروبار کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں عوامی بیداری میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ پویلین سرکاری اسکیموں کی معلومات براہِ راست زائرین تک پہنچا کر میلے کی بازار پر مبنی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بناتا ہے۔ ان زائرین میں دست کاروں کے علاوہ متعلقہ اہل برادریوں کے افراد بھی شامل ہیں، جو ان اقدامات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
عہدیدار نے بتایا کہ شِلپ سماگم میلے کا ایک اہم مقصد بھارت-ٹولیپ یعنی روایتی دست کاروں کی ترقی اور ذریعۂ معاش کا پروگرام کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد مخصوص گروپوں سے تعلق رکھنے والے دست کاروں کی تیار کردہ مصنوعات کی مارکیٹنگ میں سہولت فراہم کرنا ہے، جس کے لیے روایتی دکانوں اور ای کامرس پلیٹ فارموں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وسیع تر منڈیوں تک رسائی اور ڈیجیٹل ذرائع سے فروخت کی سہولت فراہم کرکے اس اقدام کا مقصد صارفین تک دست کاروں کی رسائی بڑھانا، منڈیوں کے ساتھ روابط کو مستحکم کرنا اور دست کاروں کے لیے اپنی آمدنی میں اضافے کے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ یہ اقدام دست کاروں اور ان کی مصنوعات کو صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات اور منڈی کے رجحانات سے جوڑ کر روایتی فنون اور دست کاری کے مسلسل فروغ میں بھی معاون ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ براہِ راست فروخت، صارفین کے ساتھ تبادلۂ خیال اور وسیع تر حلقۂ صارفین تک رسائی کے ذریعے یہ میلہ دست کاروں کو اپنی کاروباری صلاحیتیں مستحکم کرنے اور کاروبار کو پائیدار انداز میں وسعت دینے کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

شِلپ سماگم میلہ، وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی ایک اہم پہل ہے، جس کا مقصد وزارت کے تحت کام کرنے والی تین قومی کارپوریشنوں سے وابستہ دست کاروں اور مستفیدین کو اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ یہ تین کارپوریشنیں ہیں: نیشنل شیڈیولڈ کاسٹس فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن(این ایس ایف ڈی سی)، نیشنل صفائی کرمچاریز فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس کے ایف ڈی سی) اور نیشنل بیک ورڈ کلاسز فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( این بی سی ایف ڈی سی)۔

منڈی تک رسائی، عوامی رابطے، ثقافتی فروغ اور معلومات کی فراہمی کو یکجا کرتے ہوئے شِلپ سماگم میلے کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کو تقویت دینا اور اہل برادریوں کے لیے ذریعۂ معاش کے پائیدار مواقع فراہم کرنا ہے۔ سکریٹری جناب سدھانش پنت کے اس دورے سے اس اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ دست کاروں کو ایسے پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں جہاں وہ اپنے ہنر کا مظاہرہ کر سکیں، صارفین سے براہِ راست رابطہ قائم کر سکیں اور معاشی ترقی کے مواقع تلاش کر سکیں۔

شِلپ سماگم میلے جیسی پہل کے ذریعے وزارت روایتی مصنوعات کو نمایاں کرنے، منڈیوں سے روابط کو فروغ دینے اور دست کاروں کی سماجی و اقتصادی بااختیاری میں معاونت فراہم کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بھارت کی مالامال ہینڈلوم، دست کاری اور ثقافتی روایات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
********
ش ح۔ع ح۔ ت ا
U N-6815