بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سیول میں وزیر سربانند سونووال کی ایچ ڈی ہنڈائی کے چیئرمین چنگ کی سن سے ملاقات، تھوتوکوڈی میں بھارت کے میگا جہاز سازی کے کارخانے کے منصوبے میں تیزی


مشترکہ ورکنگ گروپ منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی کرے گا؛ مشترکہ منصوبے کی ساخت طے کی جائے گی، چھ ماہ کے اندر تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ متوقع

تھوتوکوڈی  منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی مہارتوں کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ؛ بھارتی صنعت اور تعلیمی اداروں کو بھی شامل کیا جائے گا

تھوتوکوڈی  جہاز سازی کے کارخانے کو بھارت اور جمہوریہ کوریا کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت ایک اہم منصوبے کے طور پر قائم کرنے کا منصوبہ

ایچ ڈی کے ایس او ای کے بھارت میں کردار کوسربانند سونووال نے اسٹریٹجک شراکت داری، ٹیکنالوجی میں تعاون اور مقامی سطح پر تیاری سےتعبیرکیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 2:33PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے آج سیول میں ایچ ڈی ہنڈائی کے چیئرمین چنگ کی سن سے ملاقات کی اور تمل ناڈو کے تھوتوکوڈی  میں مجوزہ نئے جہاز سازی کے کارخانے کے قیام کے سلسلے میں آئندہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔ سونووال کا جنوبی کوریا کا یہ چار روزہ دورہ جہاز سازی اور وسیع تر بحری صنعت میں بھارت اور کوریا کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر مرکوزرہا۔

اس ملاقات سے منصوبے کو نئی رفتار ملی اور دن بھر کی بات چیت کے نتیجے میں آگے بڑھنے کا واضح راستہ متعین ہوا۔ ایچ ڈی ہنڈائی کے جہاز سازی کے شعبے، ایچ ڈی کوریا شپ بلڈنگ اینڈ آف شور انجینئرنگ (ایچ ڈی کے ایس او ای) نے اس منصوبے میں ایک اہم اسٹریٹجک سرمایہ کار کے طور پر شراکت داری کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا، جبکہ منصوبے کے شراکت داروں نے بھی جہاز سازی کے کارخانے کے قیام کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ اب ایک مشترکہ ورکنگ گروپ منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی کرے گا، دونوں فریق مشترکہ منصوبے کی ساخت پر اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے کام کریں گے اور تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) چھ ماہ کے اندر مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔

مرکزی وزیر سربانند سونووال نے ایچ ڈی ہنڈائی کے چیئرمین چنگ کی سن سے کہا کہ سیول کے اس دورے کا بنیادی مقصد اس مشترکہ وژن کو جلد از جلد عملی شکل دینا ہے، جس کا اظہار چیئرمین نے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے کیا تھا۔ اس وژن کے مطابق، بھارت ایچ ڈی ہنڈائی کے عالمی مستقبل کا ایک بنیادی ستون ہے۔ رواں سال کے اوائل میں صدر لی جے میونگ کے نئی دہلی دورے کے بعد بھارت اور کوریا کے درمیان بحری شعبے کے تعلقات کو نئی توانائی ملی ہے۔

میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سربانند سونووال نے کہا، ’’ہمارے پاس باہمی تعاون کو وسعت دینے کا واضح مینڈیٹ ہے۔ 20 اپریل 2026 کو دستخط کیا گیا مفاہمت نامہ اس بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے جس پر ہم تمل ناڈو کے تھوتوکوڈی  میں مشترکہ طور پر کچھ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ چار ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے نئے جہاز سازی کے کارخانے کا قیام ایک بہت بڑی سنگ میل ہے اور ہم اس منصوبے کی بھرپور حمایت کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں۔ مقام کے جائزے کے دوران آپ کی ٹیم نے غیر معمولی کام کیا ہے اور وہ مرکزی و ریاستی حکومتوں، دونوں کی ٹیموں کے ساتھ مسلسل تعاون کر رہی ہے۔‘‘

نیشنل شپ بلڈنگ اینڈ ہیوی انڈسٹریز پارک، تمل ناڈو لمیٹڈ (این ایس ایچ آئی پی۔ٹی این) اور ایچ ڈی کوریا شپ بلڈنگ اینڈ آف شور انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ (ایچ ڈی کے ایس او ای) نے تمل ناڈو کے تھوتوکوڈی  میں مجوزہ نئے جہاز سازی کے کارخانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

ان مذاکرات میں جہاز سازی، جہاز رانی اور بحری رسد کے شعبوں میں شراکت داری کے لیے بھارت اور جمہوریہ کوریا کے جامع طریقہ کار کو آگے بڑھایا گیا، جسے اپریل 2026 میں اختیار کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، جمہوریہ کوریا کے صدر عزت مآب لی جے میونگ کے بھارت کے سرکاری دورے کے موقع پر 20 اپریل 2026 کو ایچ ڈی کے ایس او ای اور این ایس ایچ آئی پی۔ٹی این کے درمیان دستخط کیے گئے مفاہمت نامے پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔میٹنگ کے دوران ایچ ڈی کے ایس او ای نے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی خاطر حکومتِ ہند کی کوششوں کی ستائش کی۔

حکومتِ ہند کی جہاز سازی کے فروغ کی اسکیم کے تحت قائم کیے جانے والے مجوزہ جہاز سازی کے کارخانے کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 25 لاکھ مجموعی ٹن (جی ٹی) رکھنے کا منصوبہ ہے، جس کی حتمی تصدیق تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) کے ذریعے کی جائے گی۔ کارخانے کے فعال ہونے کے بعد اسے بھارت کا سب سے بڑا تجارتی جہاز سازی کا کارخانہ ہونے کی توقع ہے۔ اس سے ملک میں جہاز سازی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور عالمی بحری صنعت میں بھارت کی مسابقتی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔

میٹنگ کے دوران ایچ ڈی کوریا شپ بلڈنگ اینڈ آف شور انجینئرنگ (ایچ ڈی کے ایس او ای) نے ایک اہم اسٹریٹجک سرمایہ کار کے طور پر اس منصوبے میں حصہ لینے کے اپنے پختہ ارادے کا اعادہ کیا۔ اس سلسلے میں وہ جہاز سازی کے کارخانوں کے ڈیزائن، تعمیر، جدید مینوفیکچرنگ اور انتظام و انصرام کے شعبوں میں اپنی عالمی مہارت سے استفادہ کرے گی۔ اب بات چیت میں مجوزہ سرمایہ کاری کے ڈھانچے، حصص میں شراکت اور منصوبے پر عمل درآمد کے انتظامات کو حتمی شکل دینے پر توجہ دی جائے گی، تاہم یہ تمام امور ضروری جانچ پڑتال اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوں گے۔ اسی طرح، نیشنل شپ بلڈنگ اینڈ ہیوی انڈسٹریز پارک، تمل ناڈو لمیٹڈ (این ایس ایچ آئی پی۔ ٹی این) نے نئے جہاز سازی کے کارخانے کے قیام میں اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ مرکزی اور ریاستی سطح پر سرکاری حکام کے ساتھ تمام ضروری تال میل میں تعاون کرے گی۔

بھارت میں ملکی طلب کے حوالے سے سربانند سونووال نے کہا، ’’اس وقت بھارت کی داخلی منڈی میں تیزی سے وسعت آرہی ہے۔ ہمارے سرکاری ادارے آنے والے برسوں میں 400 سے زیادہ جہاز حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ برآمدی آرڈرز کے علاوہ تمل ناڈو کے تھوتوکوڈی  میں قائم ہونے والا یہ وسیع پیمانے کا نیا جہاز سازی کا کارخانہ ان میں سے بہت سے نشان زدہ جہازوں کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ہم اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایچ ڈی کے ایس او ای اسٹریٹجک شراکت داری، ٹیکنالوجی میں تعاون اور مقامی سطح پر تیاری کے ذریعے بھارت میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دے، جس سے عالمی جہاز سازی کے مرکز کے طور پر بھارت کے ابھرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار تیز کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے عہدیداروں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جو منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی اور اہم سرگرمیوں کے درمیان تال میل کا کام کرے گا۔ دونوں ادارے مشترکہ منصوبے کے لیے موزوں ڈھانچے پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور توقع ہے کہ چھ ماہ کے اندر تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ اس رپورٹ میں جہازوں کی اقسام، پیداواری صلاحیت، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات، منصوبے کی لاگت اور اس پر عمل درآمد کے نظام الاوقات کا احاطہ کیا جائے گا۔

این ایس ایچ آئی پی۔ ٹی این مناسب ساحلی زمین کی دستیابی، ضروری بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی ترقی، نیز متعلقہ قوانین اور طریقۂ کار کے مطابق بروقت قانونی منظوریوں کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تال میل میں تعاون کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، منصوبے کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے مقام کا جائزہ لینے، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور ابتدائی طور پر سمندر کی تہہ سے مٹی نکالنے اور زمین کو سمندر سے  ملاکریا دوبارہ حاصل کرکے وسعت دینے سے متعلق مطالعات سمیت ابتدائی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔

بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے آگے بڑھتے ہوئے، اس اشتراک کا مقصد بھارت میں عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والا جہاز سازی کا نظام قائم کرنا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی مہارتوں کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے تکنیکی تربیت، معلومات کے تبادلے اور بھارتی صنعت و تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اختتامی کلمات میں سربانند سونووال نے کہا، ’’یہ شراکت داری بھارت اور کوریا کے وسیع تر تعلقات میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن سنگِ میل ثابت ہوگی۔ جنوبی کوریا کی عالمی معیار کی تکنیکی مہارت کو بھارت کی اقتصادی توانائی اور وسیع منڈی کے ساتھ یکجا کرکے ہم ایسی شراکت داری قائم کر رہے ہیں جو عالمی بحری منظرنامے کو حقیقی معنوں میں نئی شکل دے گی۔ آئیے، اس غیر معمولی جہاز سازی کے کارخانے کو عملی طور پر حقیقت کا روپ دینے کے لیے مل کر کام کریں۔ میں اس سفر کو مشترکہ طور پر تیز کرنے کے طریقوں کے بارے میں آپ کی تجاویز کا منتظر ہوں۔‘‘

تھوتوکوڈی  میں مجوزہ جہاز سازی کے کارخانے کو بھارت اور جمہوریہ کوریا کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت ایک اہم اور نمایاں منصوبے کے طور پر قائم کرنے کا تصور ہے۔ اس منصوبے میں کوریا کی جدید جہاز سازی کی مہارت کو بھارت کی صنعتی صلاحیتوں اور بحری شعبے میں اس کے طویل مدتی عزائم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261028143559_29e93c.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261028143606_b55907.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261028143614_e6bfa0.jpg

******

 

ش ح ۔ ع و ۔ م ا

UR No-6824                       


(ریلیز آئی ڈی: 2329465) وزیٹر کاؤنٹر : 17