پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 OCT 2026 3:48PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ایک مرکزی امداد یافتہ اسکیم، یعنی پردھان منتری وکست گرام سوراج یوجنا ( پی ایم وی جی ایس وائی ) کو منظوری دے دی ہے۔ یہ وکست بھارت کے قومی ویژن کے مطابق حکمرانی کے نظام میں تبدیلی لانے کی آئندی سلسلے کی ایک پہل ہے۔ اس اسکیم کو 2026-27 ء سے 2030-31 ء تک نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کی مدت سولہویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے ساتھ ہم آہنگ ہوگی۔
مالیاتی اثرات:
اس اسکیم کے لیے 7,395.55 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 4,869.48 کروڑ روپے اور ریاستی حکومتوں کا حصہ 2,526.07 کروڑ روپے ہے۔
مستفید ہونے والوں کی تعداد:
اس اسکیم سے 2.55 لاکھ سے زیادہ پنچایتوں اور روایتی مقامی اداروں کے تقریباً 32 لاکھ منتخب نمائندوں کے ساتھ پنچایتوں کے عہدیداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ بیداری پیدا کرنے کی ہر مہم کے ذریعے کم از کم ایک کروڑ شہریوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔
روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت سمیت اہم اثرات:
- ای گرام سوراج پورٹل پر ہر سال 2.55 لاکھ جامع گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے تیار کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ اس عمل میں گاؤں کی ترجیحات، متعلقہ مرکزی اور ریاستی محکموں کی سرگرمیوں اور دستیاب وسائل کو شمولیت اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کے ذریعے یکجا کیا جائے گا۔
- موجودہ ڈیجیٹل ذرائع اور عوام تک رسائی کے پلیٹ فارموں، گرام سبھاؤں اور پنچایت کے دیگر فورموں کے ذریعے بیداری پیدا کرنے کی ہر مربوط مہم میں کم از کم ایک کروڑ شہریوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔ اس کا مقصد ، متعلقہ سرکاری اسکیموں اور قومی اقدامات کے بارے میں لوگوں کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنانا اور ان کے مقامی اثرات پر باخبر تبادلۂ خیال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
- جامع منصوبہ بندی، شہریوں کے ساتھ رابطے، وسائل کے انتظام اور مقامی ضروریات کے مطابق پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت کو بہتر بنانے کے لیے ہر سال تقریباً 32 لاکھ منتخب نمائندوں کے ساتھ پنچایتوں کے عہدیداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی حکمرانی سے متعلق صلاحیتوں کو مضبوط کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے صلاحیت سازی اور ڈیجیٹل ذرائع سے مسلسل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
- آن لائن آڈٹ کے ذریعے ہر سال کم از کم 2.55 لاکھ آن لائن آڈٹ منصوبے تیار کرنے اور ان سے متعلق آڈٹ بروقت مکمل کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ حساب کتاب کے نظام میں بہتری، عوامی سطح پر معلومات کی تشہیر اور اپنے ذرائع سے آمدنی میں اضافے کے ساتھ یہ اقدام دستیاب فنڈز کے استعمال میں جواب دہی کو مضبوط بنائے گا اور پنچایتوں کو مالی طور پر زیادہ خود کفیل بنانے میں مدد دے گا۔
اس اسکیم کے تحت کوئی مستقل عہدہ قائم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، ادارہ جاتی نظام کے حصے کے طور پر تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور اسکیم کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ریاستی، ضلعی اور بلاک سطح پر ضرورت کے مطابق معاہدے کی بنیاد پر افرادی قوت کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
شامل ریاستیں اور اضلاع:
یہ اسکیم تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں تک توسیع پائے گی۔ اس میں ان علاقوں کے دیہی مقامی حکومتی ادارے ( روایتی مقامی ادارے ) بھی شامل ہوں گے ، جہاں آئین کے نویں حصے کا اطلاق نہیں ہوتا اور پنچایتیں موجود نہیں ہیں۔
تفصیلات:
- زمینی سطح پر قومی تبدیلیوں پر مبنی اصلاحات سے فائدہ حاصل کرنے کا موقع: گزشتہ بارہ برسوں کے دوران قومی اصلاحات اور حکومتی اقدامات نے گاؤں کی معیشت کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور دیہی ترقی کو آگے بڑھانے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ ان مواقع سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زمینی سطح پر لوگ باخبر انداز میں حصہ لیں اور مقامی منصوبہ بندی کرتے وقت ان اقدامات کے اثرات کو مدنظر رکھا جائے۔ سولہویں مالیاتی کمیشن نے 2026-27 ء سے 2030-31 ء کے دوران دیہی مقامی اداروں کے لیے تقریباً 4.35 لاکھ کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کی سفارش کی ہے۔ ایسے میں پنچایتوں کے لیے یہ صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ قومی ترجیحات، سرکاری اسکیموں، دستیاب وسائل اور مقامی امنگوں کو یکجا کر سکیں۔ پردھان منتری وکست گرام سوراج یوجنا جامع منصوبہ بندی، مختلف محکموں کے درمیان تال میل، صلاحیت سازی اور گرام سبھاؤں کے ذریعے باخبر تبادلۂ خیال کو فروغ دے کر اس طریقۂ کار میں مدد فراہم کرے گی۔ اس سے قومی سطح کے اقدامات اور بڑھتے ہوئے مالی وسائل کو مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی نتائج میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی اور وکست بھارت کے مقصد کو تقویت حاصل ہوگی۔
- گرام پنچایتیں مقامی حکمرانی کے مراکز کے طور پر: پردھان منتری وکست گرام سوراج یوجنا ( پی ایم وی جی ایس وائی ) میں گرام پنچایت کو جامع مقامی منصوبہ بندی اور ترقیاتی اقدامات کے درمیان تال میل کے مرکز میں رکھا جائے گا۔ پنچایتوں کو اس قابل بنانے میں مدد دی جائے گی کہ وہ گاؤں کی ترجیحات، متعلقہ سرکاری اقدامات اور دستیاب وسائل کو یکجا کر سکیں اور اس طرح نچلی سطح پر ترقی کے بنیادی مرکز کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ یہ اسکیم وکست بھارت کے ویژن کو دیہی برادریوں کی ضروریات اور امنگوں سے جوڑے گی۔
- گرام پنچایت کی سطح پر جامع منصوبہ بندی: اس اسکیم کے تحت تمام متعلقہ مرکزی وزارتوں، محکموں اور ریاستی حکومتوں کے منصوبہ بندی کے عمل کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے گا، تاکہ باہمی تعاون سے جامع گرام پنچایت ترقیاتی منصوبہ ( جی پی ڈی پی ) تیار کیا جا سکے۔ اس سے پنچایتوں اور محکموں کو ترقیاتی ضروریات میں موجود کمیوں کی نشاندہی کرنے، مختلف اقدامات میں تال میل پیدا کرنے اور دستیاب وسائل، بشمول مرکزی مالیاتی کمیشن کی گرانٹ، کو بہتر طور پر استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔ انفرادی اسکیموں پر عمل درآمد کے لیے محکموں کے موجودہ انتظامات بدستور جاری رہیں گے۔
- ہر گرام پنچایت میں ترقیاتی سرگرمیوں کی آسانی سے قابلِ فہم تصویر: ای گرام سوراج اور پنچایتوں کے موجودہ برقی نظاموں کی بنیاد پر اس اسکیم کے تحت سرکاری اسکیموں، مستفید ہونے والوں، انہیں حاصل ہونے والے فوائد، اجتماعی اثاثوں اور دستیاب وسائل سے متعلق معلومات کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے گا۔ اس سے پنچایتوں کو ترقیاتی ضروریات میں موجود کمیوں کی نشاندہی کرنے، مقامی ضروریات پوری کرنے اور منصوبہ بندی، تال میل اور نگرانی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
- قومی ترجیحات کو مقامی ضروریات سے جوڑنا: پی ایم وی جی ایس وائی سرکاری اسکیموں اور قومی اقدامات کو آسان اور قابلِ فہم زبان میں سمجھانے کے لیے تربیت، ڈیجیٹل رابطے اور عوام تک رسائی کے موجودہ ذرائع استعمال کرے گی۔ ان میں ’پنچم‘ بھی شامل ہے، جو مصنوعی ذہانت سے لیس، 17 بھارتی زبانوں میں دو طرفہ رابطے کا پلیٹ فارم ہے۔ گرام سبھاؤں اور پنچایتوں کے فورموں کے ذریعے اجتماعی تبادلۂ خیال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاکہ قومی ترجیحات کو مقامی ضروریات اور گاؤں کی ترقی کے اہداف سے جوڑا جا سکے۔
- اس طریقۂ کار پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت سازی: صلاحیت سازی کے ذریعے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے مؤثر استعمال، اسکیموں اور وسائل سے متعلق معلومات کو سمجھنے، جامع منصوبہ بندی اور شہریوں کے ساتھ رابطے کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ اس سے پنچایتیں دستیاب معلومات اور باخبر تبادلۂ خیال کی بنیاد پر مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبے تیار کر سکیں گی اور ان پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کر سکیں گی۔
- دستیاب وسائل کا شفاف اور مؤثر استعمال: اس اسکیم کے تحت مالیاتی کمیشن کی گرانٹ اور دیگر فنڈز کے مؤثر استعمال، اپنے ذرائع سے آمدنی ( او ایس آر ) میں اضافے اور آن لائن حساب کتاب، آڈٹ اور عوامی سطح پر معلومات کی تشہیر کے لیے پنچایتوں کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے گا۔ اس سے وسائل کے شفاف استعمال کو فروغ ملے گا، مقامی ترقیاتی ضروریات میں موجود کمیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی اور جواب دہی کے ساتھ خود کفیل پنچایتوں کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔
عمل درآمد کی حکمتِ عملی:
اس اسکیم پر متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا۔ ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اسکیم کے مقاصد اور رہنما اصولوں کے مطابق سرگرمیوں، ترجیحات اور ضروریات کی وضاحت کرتے ہوئے سالانہ عملی منصوبے پیش کریں گے۔ نامزد مرکزی بااختیار کمیٹی متعلقہ طریقۂ کار اور ضابطوں کے مطابق ان منصوبوں کا جائزہ لے کر انہیں منظوری دے گی۔ مرکزی حکومت اور ریاستیں نیز مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں سرگرمیاں انجام دیں گی، جن میں تال میل، تکنیکی معاونت، نگرانی اور جائزے کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی۔ زمینی سطح پر عمل درآمد کے لیے موجودہ ادارہ جاتی نظام، صلاحیت سازی کے انتظامات، ڈیجیٹل ذرائع اور مواصلاتی نظام سے مدد لی جائے گی۔
*****
(ش ح - ا ع خ - ع ا )
U. No. 6834